Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۱(کتاب الحظر والاباحۃ )
18 - 144
مسئلہ ۴۴ تا ۵۲: مرسلہ محمد سوداگر پارچہ الموڑہ متصل مسجد کارخانہ بازار ۱۵/ ربیع الاول شریف ۱۳۳۵ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس باب میں کہ :

(۱) زید خاکروب نے مع اپنی ایک بی بی اور جوان لڑکی کے قبول اسلام کی درخواست کی چنانچہ ان کو فورا مسلمان کرلیا گیا، کیا فورا ہی ان کو اپنا حقہ دینا اور ان کے ساتھ کھانا پینا وغیرہ درست ہے یانہیں؟

(۲) مسماۃ ہندہ جو اس خاکروب نومسلم کی جوان نومسلمہ لڑکی ہے اس کو مسلمان کرنے والے عالم کے پیچھے کیا نماز درست ہے حالانکہ اس کے پیچھے اب تک نماز پڑھتے تھے؟

(۳) کسی عالم باعمل اور صالح پر جس نے خاکروب کی جوان لڑکی کو مسلمان کیا ہوکیا یہ اتہام کر نا گناہ نہیں کہ تونے اپنے نفس کے لئے اس کو مسلمان کیا ہے اور تو اس سے آشنائی کرے گا۔

(۴) اگر ایک بار قبول اسلام کرنے کے بعد وہ خاکروب پھر اپنی قوم میں مل گیا ہو اور دوبارہ قبول اسلام کی درخواست کرے تو کیا اس کے مسلمان کرنے میں کچھ تامل کرنا چاہئے حالانکہ خوف ہے کہ آریہ اور عیسائی فورا اس کو لے لیں گے۔

(۵) اگر خاکروب کو مسلمان کرنے اور اس کے ساتھ کھانے پینے سے اس خوف سے پرہیز کرےکہ اس کے ہمسایہ ہنوداس پر ہنسیں گے اور اعتراض کریں گے تویہ اس مسلمان کی مذہبی کمزوری ہے یا اس کو کیا کہیں گے؟

(۶)کیا شریعت اسلام کے نزدیک ایک برہمن سےایک  خاکروب ناپاک اور نجس تر سمجھا جاتاہے، حالانکہ برہمن کو سخت شرک کی وجہ سے زیادہ ناپاک سمجھنا چاہئے۔

(۷) مستند علمائے دین کے فتاوٰی کو جو شخص ہیچ وپوچ سمجھ کر اس پر عمل نہ کرے اور کہے کہ فتوٰی وہی ہے جو ہمارا دل گواہی دے ، ایسا شخص شریعت کے نزدیک کیساہے؟

(۸) اگر کوئی مسلمان نو مسلم خاکروب کے ساتھ حقہ پینے،کھانا کھانے پر ایک مسلمان کی ہنسی اڑائے وہ مسلمان کیساہے؟

(۹)خاکروب کی بالغہ لڑکی جو مسلمان ہوگئی ہے کیا اس کے پانے کا اس کا شوہر خاکروب مستحق ہے یا قبول اسلام سے پیشتر باقاعدہ طور پراس کے ماں باپ کے یہاں سے اس کی رسم رخصت عمل میں نہ آئی ہو اور دور ان مقدمہ میں (جو اس کے شوہر نے اس کے نام دائر کیا ہے) مسلمان ہوگئی ہو، بینوا توجروا (بیان فرماؤ تاکہ اجر وثواب پاؤ۔ ت)
الجواب

(۱) اسلام لاتے ہی معاہر قوم والے کو غسل کرنا چاہئے خصوصا وہ قوم کہ نجاست سے تلوث جن کا پیشہ ہو مسلمان کرتے ہی ان کو خوب پاک کرکے نہلادیں اس کے بعد معاً ان کے ساتھ کھائیں پئیں۔

(۲) جو کافر تلقین اسلام چاہے اسے تلقین فرض ہے اور اس میں دیر لگانا اشد کبیرہ بلکہ اس میں تاخیر کو علماء نے کفر لکھا اگر بلا وجہ شرعی دیرکرتاہے تو اس کے پیچھے نماز ناجائز ہوتی نہ کہ وہ فرض بجالایا اس بناء پر اس کے پیچھے نماز میں تامل کریں۔
 (۳) مسلمان پر بدگمانی حرام ہے۔ اللہ عزوجل فرماتاہے:
یا یھا الذین اٰمنوا اجتنبوا کثیرا من الظن ان بعض الظن اثم ۱؎۔
اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچو بے شک کچھ گمان گناہ ہے۔
(۱؎ القرآن الکریم       ۴۹/ ۱۲)
اور فرماتاہے :
ولا تقف مالیس لک بہ علم ان السمع والبصر والفواد کل اولئک کان مسئولا ۱؎۔
غیر یقینی بات کے پیچھے نہ جا بیشک کان اور آنکھ اور دل سب سے پرسش ہونی ہے۔
 (۱؎ القرآن الکریم    ۱۷ /۳۶)
نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیںـ:
ایاکم والظن فان الظن اکذب  الحدیث۲؎
بدگمانی سے دور بھاگو بدگمانی سب سے بڑھ کر جھوٹی بات ہے۔
 (۲؎ جامع الترمذی     ابوا ب البروالصلۃ باب ماجاء فی ظن السوء امین کمپنی دہلی  ۲/ ۲۰)
 (۴) ہر گز تامل جائز نہیں، بارگا ہ عزت وہ بار گاہ کرم ہے کہ ع
باز آباز آہر آنچہ ہستی بازآ         گر کافر ورند وبت پرستی باز آ

ایں درکہ مادر گہ ناامیدی نیست    صد بار اگر توبہ شکستی بازآ
 (جو کچھ بھی تو ہے اس کام سے مکرر سہ کرر رک جا یعنی اسے چھوڑ دے، اگر تو کافر ہے اوباش اور بت کا پجاری ہے تاہم اس کو چھوڑ دے، یہ دروازہ (یعنی اللہ تعالٰی کی بارگاہ) ہمارے ناامید ہوکر لوٹ جانے کا دروازہ نہیں، اگر تو نے سو مرتبہ بھی توبہ کرکے توڑ دی تو پھر بھی (اس بارگاہ کی طرف ) لوٹ آؤ۔ ت)
 (۵) کافروں کے غلط طعنہ کا لحاظ کرنا اور اس کا خیال نہ کرنا کہ اس مسلمان کی دل شکنی ہوگی کسی ایسے ہی کا کام ہے جو نرا جاہل ہے۔ یا معاذاللہ کافروں کی طرف مائل ہے۔

(۶) کفر کی نجاست میں برہمن خاکروب سے نجس تر ہیں مگر ظاہر ی نجاست سے تلوث اس کو زائد رہتاہے ولہذا مسلمانوں میں رائج ہے کہ خاکروب کی چھوئی چیز سے جیسا احترا ز کرتے ہیں برہمن کی چھوئی ہوئی سے نہیں کرتے لیکن یہ اسی وقت ہے جب تک وہ مسلمان نہ ہوا جب اسلام لے آیا اور طہارت کرلی اب وہ اپنا بھائی ہے۔
 (۷) یہ شخص اگر خود عالم کامل نہیں تو مستند علمائے دین کے فتوے نہ ماننے کے سبب ضال وگمراہ ہے ،قرآن عظیم نے غیر عالم کےلئے یہ حکم دیا کہ عالم سے پوچھو نہ یہ کہ جس پر تمھارا دل گواہی دے عمل کرو۔
قال اللہ تعالٰی: فاسئلوا اہل الذکر ان کنتم لا تعلمون ۳؎۔
علم والوں سے پوچھ لیا کرو اگر تمھیں علم نہ ہو۔ (ت)
(۳؎القرآن الکریم      ۱۶/ ۴۳)
جاہل کیا اور جاہل کا دل کیا :
نعم من کان عالما فقیہا مبصرا ماھرا متبحرا فہو مامور بقولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم استفت قلبک وان افتاک المفتون ۱؎۔
ہاں اگر وہ عالم، فقیہ (یعنی قانون فقہ جاننے والا) بصیرت رکھنے والا علم میں مہارت اور تجربہ رکھنے والا اور علم کا سمندر ہو تو اسے حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے اس ارشادگرامی کی وجہ سے یہ حکم دیا گیا کہ اپنے دل سے فتوٰی پوچھئے اگر چہ تمھیں مفتیان کرام کچھ فتوٰی دیں (ت)
 (۱؎ اتحاف السادۃ المتقین     کتاب عجائب القلب بیان مایؤاخذ بہ العبد من وساوس القلوب الخ    دارالفکر بیروت    ۷/ ۲۹۸)

(کنز العمال برمز تخ عن وابعۃ   حدیث ۲۹۳۲۹   مؤسسۃ الرسالہ بیروت    ۱۰/ ۲۵۰)
 (۸) یہ ہنسی اڑانے والا سخت گنہ گا ر ہوگا، قال اﷲ تعالٰی :
یایھا الذین اٰمنوا لایسخرقوم من قوم عسی ان یکونوا خیرا منہم ولا نساء من نساء عسٰی ان یکن خیر امنہن ۲؎۔
اے ایمان والو! کوئی قوم کسی دوسری قوم سے ہنسی مذاق نہ کرے، کیا خبر ، شاید وہ (جن سے ہنسی مذاق کیا گیا) ہنسی کرنے والوں سے بہتر ہوں، اور نہ عورتیں عورتوں سے ہنسی مذاق کریں شاید وہ ہنسی مذاق کی جانے والی عورتیں ان سے بہتر ہوں (مقصد یہ کہ کوئی کسی دوسرے کو کہتر اورکمتر نہ سمجھے ہوسکتاہے کہ انجام کے لحاظ سے وہ کمتر اس بالاتر سے اچھا اور افضل ہو)۔ (ت) کیا معلوم کہ اللہ تعالی کے نزدیک اس ہنسنے والے سے وہ خاکروب ہی بہتر ہو۔
 (۲؎ القرآن الکریم  ۴۹/ ۱۱)
 (۹) عورت جب مسلمان ہوجائے حکم یہ ہے کہ اس کے شوہر سے اسلام کے لئے کہا جائے اگر مان لے فبہا وہ اس کی عورت ہے اور نہ مانے تو اس کایہ انکار کرنا اس نکاح کو ساقط کرتاہے یہ حکم اس وقت ہے کہ حاکم اسلام اس پر اسلام پیش کرے اور وہ نہ مانے جہاں حاکم اسلام نہیں عورت تین حیض کا انتظارکرے، اس مدت میں اگروہ مسلمان نہ ہو نکاح زائل ہوجائے گا، بہر حال مسلمہ عور ت پر کافر کو شرعا کوئی دعوٰی نہیں پہنچتا، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۵۳: مسئولہ مولوی محمد واحد صاحب ۳/ جمادی الآخرہ ۱۳۳۵ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مستحبات کو بدعت سیئہ کہہ کر روکنے والے یا (قرون ثلثہ میں نہ تھے) کہہ کر منع کرنے والے کے پیچھے نماز  ہوتی ہے یانہیں؟ اور ایسے لوگوں کو کسی مسجد کا امام مستقل بنانا یا مدرس مقرر کرناجائزہے یانہیں؟
الجواب

کتب عقائد میں تصریح ہے کہ تحلیل حرام وتحریم حلال دونوں کفرہیں یعنی جو شے مباح ہو جیسے اللہ ورسول نے منع نہ فرمایا اسے ممنوع جاننے والا کافر ہے جبکہ اس کی اباحت وحلت ضروریات دین سے ہو یا کم از کم حنفیہ کے طور پر قطعی ہو ورنہ اس میں شک نہیں کہ بے منع خدا و رسول منع کرنے والا شریعت مطہرہ پر افتراء کرتاہے اور اللہ عزوجل پر بہتان اٹھاتاہے اور اس کا ادنٰی درجہ فسق شدید وکبیرہ وخبیثہ ہے ۔
قال اللہ تعالٰی :
ولا تقولوا لما تصف السنتکم ھذا حلال وھذا حرام لتفتروا علی اﷲ الکذب ان الذین یفترون علی اﷲ الکذب لایفلحون ۱؎۔
اور جو کچھ تمھاری زبانیں جھوٹ بیان کرتی ہیں (اس کے متعلق یہ نہ کہا کرو کہ یہ حلال او ریہ حرام ہے تاکہ تم اللہ تعالٰی پر جھوٹ باندھو (یا در کھو) جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں وہ کامیاب نہیں ہوتے۔ (ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۱۶/ ۱۱۶)
وقال اﷲ تعالٰی
 (نیز اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا۔ ت)
انما یفتری الکذب الذین لایؤمنون ۲؎۔
اللہ تعالٰی کے ذمے وہی لوگ جھوٹا الزام لگاتے ہیں (جو درحقیقت) ایمان نہیں رکھتے (ت)
 (۲؎القرآن الکریم ۱۶/ ۱۰۵)
فاسق ومرتکب کبیرہ ومفتری علی اللہ ہونا ہی اس کے پیچھے نماز ممنوع اور اسے امام بنانا ناجائز ہونے کے لئے بس تھا، فتاوٰی الحجہ وغنیہ میں ہے:
لوقدموا فاسقا یاثمون ۳؎۔
اگر لوگوں نے کسی فاسق (مرتکب گناہ کبیرہ) کو امام بناکر آگے کیا تو لوگ گنہ گار ہونگے (ت)
 (۳؎ غنیہ المستملی شرح منیہ المصلی  فصل فی الامامۃ   سہیل اکیڈمی لاہور  ص۵۱۳)
Flag Counter