Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۱(کتاب الحظر والاباحۃ )
17 - 144
مسئلہ ۴۲: مرسلہ صالح محمد خاں سابق مدرس ساکن قصبہ بالکہ ضلع بلند شہر ۵/ صفر ۱۳۳۵ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس بارہ میں کہ کیا حال ہے ایسے شخص کا جو گناہان مندرجہ ذیل کا مرتکب ہوا وہ شخص مسلمان رہا یا نہیں اور نماز اس کے پیچھے جائز ہے یانہیں؟
 (۱) ایک شخص نے جان بوجھ کر بسبب دنیوی رنجش کے قصدا فعل حلال شرعی کو حرام کردیا۔

(۲) غیر مقلدین کو جو اپنےکو عامل بالحدیث مشہور کرتے ہیں اور امامان مجتہدین رحمہم اللہ تعالٰی کو بدعتی اور اصحاب الرائے کہتے ہیں ان کو درباہ شخصے خلاف شرع مدد دی۔

(۳) شرعی معاملہ میں عمدا بحلف جھوٹی شہادت دی۔
 (۴) چار مسلمانان اہلسنت وجماعت حنفی مذہب واقف مسائل شرعی کے روبرو شرعی فعل حلال و جائز کو برحق اور سچا تسلیم کرکے پھر اس کلمہ حق سے منحرف ہوکر ناجواز کا قائل ہوا اور یہ شخص پیش امام مسجد بھی ہے  آیا نماز اس کے پیچھے جائز ہے یانہیں؟ مع دلیل وحوالہ کتاب اللہ وحدیث رسول اللہ یاعبارت فقہیہ مرتب فرمایا کر مزین بمہر خاص فرمائیں۔
 (۵) اگر قاضی شہر کے علاوہ دوسرا کوئی شخص مطابق شرع شریف نکاح پڑھادے لیکن اندراج اس کا رجسٹر قاضی شہر مذکور میں نہ ہو تو وہ نکاح جائز وصحیح ہے یانہیں؟ جواب مرحمت ہو۔ بینوا توجروا (بیان کروتاکہ اجر پاؤ۔ ت)
الجواب

ایسے لوگ سخت گنہگار بلکہ گمراہ ہیں کہ حق کے مقابل باطل کی اعانت کرتے ہیں، ایسے شخص کے پیچھے نماز ناجائز ہے بلکہ جب تک توبہ نہ کریں مسلمانوں کو ان سے بالکل قطع علاقہ کردینا چاہئے کہ وہ ظالم ہیں اور ظالم بھی کس پر دین پر،    اور اللہ تعالٰی عزوجل فرماتا ہے:
واما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ۱؎۔
اگر تمھیں شیطان بھلادے تو یا د آنے کے بعد ظالموں کے ساتھ مت بیٹھو۔ (ت)
(۱؎ القرآن الکریم  ۶ / ۶۸)
قاضی کا رجسٹر شرعاکوئی شرط نکاح نہیں، رجسٹر آج سے نکلے ہیں، پہلے نکاح کیونکر ہوتے تھے ہاں  یادداشت کے لئے درج ہونا بہتر ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۴۳ : مرسلہ حافظ عبدالمجید خاں حنفی از قصبہ بالکہ ضلع بلند شہر ۵ صفر ۱۳۳۵ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اہل ہنود میں کم زیادہ ایک ہفتہ تک شام سے آدھی رات تک یا بعد تک ایسی مجلس ہوتی رہے کہ جس میں رام ولچھمن وراون وسیتا وغیرہ عورت ومرد کے قسم قسم کی تصویریں دکھائی جائیں اورساتھ ہی ان کے طرح طرح کاباجابجا کر بھجن وغیرہ گانا گایا جائے اور ان تصویروں کو نعوذ باللہ معبود حقیقی سمجھیں اور ہر طرح کے فحش ولغویات پیدا ہوتے ہوں تو ایسی مجلسوں میں ان مسلمانوں کو جو ازروئے تحقیق مذہب اسلام ایسی تقاریب کی برائیوں سے بھی فی الجملہ واقف ہوں اور نمازی بھی ہوں شریک مجلس ہونا اور دلچسپی حظ نفس اٹھانا وبعض بعض شبیہ ناپاک پر  نظر ڈالنا وبعض شبیہ عورات پرشہوت کی نظر ڈالنا اور مثل عقائد باطلہ اہل ہنود تعریف و توصیف سوانگ وتماشہ میں بتا لیف قلوب مشرکین تائید یا ہوں ہاں کرنا اور عشاء وفجر کی نمازیں بایں نمط کہ عشاء بمصروفی تماشہ وفجر کی نماز غلبہ نیند سے قضا کرنا وباعتراض بعض مانعین یہ کہنا کہ ہم تو حق و باطل میں امتیاز ہوجانے کی غرض سے شامل ہوتے ہیں اور ایسی ہی بے سود تاویلات کرنا اور زینت مجلس کے واسطے اپنے گھروں سے جاجم ودیگر فرش وچوکیات وپارچہ وزیورات دینا اور بوقت اختتام جلسہ اپنی نام آوری یا فخر یا شخصیت یا اہل ہنود میں اپنی وقعت ہونے یا بصورت نہ دینے کے اپنی ذلت وحقارت جان کر ہمراہ اہل ہنود روپیہ روپیہ دینا بالخصوص وہ مسلمان جو کسی مسافر مسکین کو باوجود مقدرت آنہ دو آنہ نہ دے سکتے ہوں اور اس مجلس کی شیرینی جو بنام نہاد پرشاد تقسیم ہوتی ہے کھانا تو ایسے مسلمانوں کے واسطے ازروئے احکام شرع شریف کیا کیا حکم ہے صاف صاف مع عبارت قرآن مجید وحدیث شریف وفقہ مبارک جداگانہ ہر امور مستفسرہ صدر کا جواب مفصل ارقام فرمائیں اللہ تعالٰی اجر دے گا
فقط والسلام علی ختم الکلام
 (کلام کے اختتام پر سلام ہو۔ ت) (یعنی آپ کو الوداعی سلام ہو)۔
الجواب

ایسے لوگ فساق فجار کبائر مستحق عذاب نار وغضب جبار ہیں، مسلمان کو حکم ہے راہ چلتاہوا کفار کے محلہ سے گزرے تو جلد نکل جائے کہ وہ محل لعنت ہے نہ کہ خاص ان کی عبادت کی جگہ، جس وقت وہ غیر خدا کو پوج رہے ہوں قطعا اس وقت لعنت اترتی ہے اور بلا شبہ اس میں تماشائیوں کا بھی حصہ ہے۔ یہ اس وقت ہے کہ محض تماشا مقصود ہو اور اسی غرض سے نقد واسباب دے کر اعانت کی جاتی ہو اور اگر ان افعال ملعونہ کو اچھا جانا یا ان تصاویر باطلہ کو وقعت کی نگاہ سے دیکھا یا ان کےکسی حکم کفر پر ہوں ہاں کہا جیسا کہ سوال میں مذکور، جب تو صریح کفر ہے۔
غمز العیون میں ہے:
من استحسن فعلا من افعال الکفار کفر باتفاق المشائخ ۱؎۔
جس شخص نے کافروں کے افعال میں سے کسی فعل کو اچھاسمجھاتومشائخ کرام کا اس پر اتفاق ہے کہ وہ بلا شک وشبہ کافر ہوگیا ہے۔ (ت)
(۱؎غمزالعیون البصائر شرح الاشباہ والنظائر     الفن الثانی کتاب السیر والردۃ     ادارۃالقرآن کراچی    ۱/ ۲۹۵)
ان لوگوں کواگر اسلام عزیز ہے اور یہ جانتے ہیں کہ قیامت کبھی آئے گی اور واحد قہار کے حضور جانا ہوگا تو ان پر فرض ہے کہ توبہ کریں اور ایسی ناپاک مجلسوں سے دور بھاگیں نئے سرے سے کلمہ اسلام اور اپنی عورتوں سے نکاح جدید کریں ورنہ عذاب الٰہی کے منتظر رہیں،
قال اللہ تعالٰی : یایھا الذین اٰمنوا ادخلوا فی السلم کافۃ ولا تتبعوا خطوٰت الشیطن ان الشیطن للانسان عدومبین ۲؎۔
اے ایمان والو! اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ، اور شیطان کے قدموں پر نہ چلو، کیونکہ وہ انسان کا کھلا اور واضح دشمن ہے۔ (ت)
(۲؎ القرآن الکریم       ۲/ ۲۰۸)
Flag Counter