مسئلہ ۳۶ تا ۴۱: مسئولہ سید منظور حسین بتوسط احمد حسن خاں رضوی نجیب آباد محلہ بوعلیخان مرحوم ضلع بجنور ۲۵ جمادی الاولٰی ۱۳۳۴ھ
اعلیحضرت عظیم البرکت مجدد دین وملت صاحب حجت قاہرہ، مؤید ملت طاہرہ جناب مولانا صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،!
حضورکاکیا ارشاد ہے حضور کا فضل ہمیشہ رہے درباہ مسئلہ ذیل : کل یہاں نجیب آباد کے بازاروں گلی کوچوں میں مسلمانوں کی ایک جماعت (جس میں پرھے لکھے بلکہ متعدد ذی اثر ومقتدرشرفاء قصبہ بھی شامل تھے اور جن میں سے بعض تو عوامی کی زبانوں پر معااللہ دین کا جھنڈا ، اسلام کا رکن واسلام کا پایہ وغیرہ وغیرہ ناموں سے مشہور ہیں) بہ معیت ایک ہجوم کفار ہنود رنگ پاشی کرتی مغلظ وشرمناک ہولیاں گاتی، جے جے کے نعرے بلند کرتی، دکانوں پر سے مسلمانوں کو ہولی بازی میں حصہ لینے کے لئے بالجبر کھینچتی اور ہر سامنے آنے والے ہندو مسلمان پر رنگ برساتی ہوئی گزری، والعیاذ باللہ تعالٰی، مسلمانوں کی داڑھیاں (جن کے تھیں) چہرے کپڑے گلال ورنگ میں شہڈوب تھے باؤلوں دیوانوں کی طرح بےہوش، آبے سے باہر کودتے پھاندتے چیختے چلاتے پھرتے تھے، غرض ہر باغیرت مسلمان کے پیش نظر ایک ہولناک وحشت خیز منظر جماعت مذکورہ نے بعض غیور مسلمانوں کے مطالبہ کرنے پر یہ جواب دیا کہ یہ حرکت شنیعہ بدیں وجہ کی گئی ہے کہ اس طرح (ان کے زعم میں) ہندو مسلم باہم متحد ومتفق ہوجائیں اور کہ ایسا کرنے میں کوئی دینی مضرت نہیں ہے مسلمان پہلے بھی کھیلاکرتے تھے، بلکہ ایک مقام پر کسی مولوی صاحب نے بھی شرکت کی تھی ہم ہنود کے کندھوں پر تعزیے رکھا کر بدلہ لیں گے جو (ان کے زعم میں) دینکا نفع عظیم ہے اب دریافت طلب امور ذیل ہیں :
(۱) معاذاللہ اگر کسی نے حرکت مذکورہ جائز جان کی کی،
(۲) یا قصدا برضا ورغبت ا س کا ارتکاب کیا (جیسا کہ ظاہر ہے کہ جماعت مذکورہ نے کیا اگر وہ نہ چاہتے تو کفار مذکور ہر گز ایسا نہ کرتے، نہ پیشتر کبھی یہاں ایسا ہوا چنانچہ امسال بھی شہرکے اکثر باحمیت مسلامان بحمدہ تعالٰی اس ناپاک وخفیف حرکت سے مجتنب ومحفوظ رہے)
(۳) یا اگر کسی مسلمان نے جماعت مذکورہ کے فعل کو بجائے رنج ونفرت وحقارت کی نگاہ سے دیکھنے کے بنظر مسرت وعظمت واستحسان دیکھا بلکہ غیور معترضین سے الٹا معارضہ کیا اگرچہ خود شریک نہیں ہوا۔
(۴) یا اگر کوئی مسلمان باجماعت مذکورہ کو قبل از اعلانیہ توبہ رکن اسلام سمجھے یا حرکت مذکورہ کی تعریف
کرے یاکسی طرح اس کا ساتھ دے تو ہر چہار اشخاص کے ایمان ونکاح وبیعت پر کسی قسم کا ناقص اثر تو نہیں پڑتاہے۔ اگر ناقص اثر پڑتا ہے تو ان سے کسی طرح توبہ کرائی جائے۔
(۵) اور کیا ایسا اتحاد جائز ہے، جواب مدلل ومفصل وآسان عبارت میں اور حتی الامکان جلد عطا ہو تاکہ ہر مسلمان سمجھ سکے اور جو بروز جمعہ مساجد میں اعلان کرکے مسلمانوں کو اس قبیح حرکت سے ڈرایا اور بچایا جانے ورنہ معاذا للہ ممکن ہے کہ رسم ناپاک نجیب آباد میں ہمیشہ کے لئے قائم ہوجائے اور نمونہ ملعونہ کی تقلید تمام ضلع بلکہ دور دور شہروں میں کی جائے۔
(۶) نیز ارشاد فرمائے کہ اگر جماعت مذکورہ جناب کے حکم شرعی پر عمل کرکے تائب نہ ہو تو عام مسلمان ان سے سلام کلام کریں یا نہیں؟ جواب دستخط اقدس ومہر شریف سے مزین ہو۔
ہم مستفیان اچھی طرح جانتے ہیں کہ حضور بباعث ہجوم کام نہایت عدیم الفرصت ہیں لیکن امرہذا اگر حضور سے (کہ صدی موجود میں واحد ناخدا اسلام ہیں) نہ عرض کیا جائے اور کہا جائیں اللہ تعالٰی حضور کو ہم غریبوں کے سروں پر تاعرصہ دراز باعافیت وعزت صحت سلامت باکرامت اعداء دین اللہ پر نمایاں طور پر مظفر ومنصور مع جمیع متبعین قائم رکھے اور شب وروز اپنی بے انتہاء برکات نازل فرماتا رہے بطفیل حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلم واصحابہ اجمعین برحمتک یا ارحم الراحمین۔
الجواب
ظاہر ہے کہ افعال شنیعہ مذکورہ سخت ملعون ہیں جس نے انھیں مستحسن جانا باتفاق ائمہ کرام کافرہے۔
غمز العیون البصائر میں ہے:
من استحسن فعلا من افعلال الکفار کفر باتفاق المشائخ ۱؎۔
جس (بدنصیب) نے کفار کے افعال میں سے کسی فعل کو اچھاسمجھا (اور اس کی تحسین کی) تو وہ مشائخ کے اتفاق سے کافرہوگیا۔ (ت)
(۱؎ غمز عیون البصائر الفن الثانی کتا ب السیر والردۃ ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۲۹۵)
یہ لوگ تو اسلام سے خارج ہوگئے ان کی عورتیں نکاح سے نکل گئیں ان کی بیعتیں جاتی رہیں نیز جس نے ان افعال کو جائز وحلال جانا اور ان پر راضی ہوا اور ان پر معترضین سے معارضہ کیا یہ لوگ بھی اسی حکم میں ہیں کہ مشرکین کے تہوار کی خوشی منانا ان کے ایسے افعال ملعونہ میں شرکت کرنا معصیت قطعیہ ہے۔ اور معصیت قطعیہ کا استحلال کفر ہے۔ اور جنھوں نے ان افعال ملعونہ کو ملعون وشنیع ہی جانا اور انھیں برا جان کر اپنی شیطانی مصلحت کے خیال سے شرکت کی ان کے قلب کا حال اللہ عزوجل جانتا ہے مرتکب کبائر ہوئے مستحق عذاب نار ہوئے سزوار لعنت ہوئے مگر عنداللہ کافر نہ ہوئے، لیکن شرع ظاہر پر حکم فرماتی ہے،
حدیث میں ہے حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
من تشبہ بقوم فہو منہم ۱؎۔
جو کسی قوم کے سے مشابہت پیدا کرے گا وہ انھیں میں سے ہوگا۔
(۱؎ سنن ابی داؤد کتاب اللباس باب لبس الشہرۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۲۰۳)
دوسری حدیث میں ہے حضورصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
من کثر سواد قوم فہو منہم۔ ۲؎۔
جو کسی قوم کی جماعت بڑھائے وہ انھیں میں سے ہے۔
(۲؎ تاریخ بغداد ترجمہ عبداللہ بن عتاب ۵۱۶۷ دارالکتاب العربی بیروت ۱۰ /۴۰)
(اتحاف السادۃ المتقین کتاب الحلال والحرام الباب السادس دارالفکر بیروت ۶ /۱۲۸)
ان پر بھی توبہ اور تجدید اسلام فرض ہے تائب ہوں اور نئے سرے سے کلمہ پڑھ کر اپنی عورتوں سے نکاح دوبارہ کریں اور وہ مصلحت ملعونہ اتحاد کہ ان کے قلب میں ابلیس نے القاء کی، وہ خود کب حلال ہے۔ کافرومومن میں اتحاد کیسا،
اللہ عزوجل فرماتاہے:
یایھاالذین اٰمنوا لا تتخذواعدوی وعدوکم اولیاء ۳؎۔
اے ایمان والو! میرے اور اپنے دشمن کو دوست نہ ٹھہراؤ۔
(۳؎ القرآن الکریم ۶۰ /۱)
اور فرماتاہے :
لا یتخذاالمؤمنین الکفرین اولیاء من دون المؤمنین ۴؎۔
ایمان والے ایمان والوں کے سوا کافروں کو اپنا دوست نہ بنائیں۔
(۴؎القرآن الکریم ۳ /۲۸)
اور فرماتاہے :
لاتجد قوما یؤمنون باﷲ والیوم الاخر یوادون من حاداﷲ ورسولہ ولو کانوا اٰباء ھم اوابناء ھم اواخوانہم اوعشیرتہم ۱؎۔
تم نہ پاؤ گے انھیں جو ایمان رکھتے ہیں اللہ اور قیامت کے دن پر کہ دوستی کریں ان سے جنھوں نے مخالفت کی اللہ ورسول کی اگر چہ وہ ان کے باپ ہوں یابیٹے ہوں یا بھائی ہوں یا کنبے والے ہوں۔
(۱؎؎ القرآن الکریم ۵۸ /۲۲)
اور فرماتاہے:
ومن یتولہم منکم فانہ منہم ۲؎۔
تم میں جو ان سے دوستی رکھے گا وہ انھیں میں سے ہے۔
(۲؎ القرآن الکریم ۵۷/ ۵۱)
کفار میں امور دنیوی مثل تجارت وغیرہا میں موافقت کی جاسکتی ہے جہاں تک مخالفت شرع نہ ہو مگر ان کے امور مذہبی میں موافقت اور وہ بھی معاذاللہ اس حد تک ضرور لعنت الٰہی اترنے کی باعث ہے اور وہ بیہودہ خیال کہ ہم ان سے تعزیہ مسلمانوں کی کوئی عید نہیں بلکہ جُہال نے اسے موسم ماتم بنا رکھا ہے مسلمانوں کا کوئی امر مذہبی نہیں بلکہ مذہب میں ممنوع وناروا ہے۔ ہندؤوں کے مذہب میں ان کی ممانعت نہیں، اودھ میں بہتیرے ہندو آپ ہی تعزیہ بناتے اور اٹھاتے ہیں بخلاف ہولی کہ عید کفار ہے اور ان کا مذہبی شعار ہے اور دین اسلام میں سخت حرام ہے تو یہ اس کا معاوضہ کیسے ہوسکتاہے، ایسا ملعون اتحاد منانے والے کیا ہنود سے یہ قرار داد لے سکتے ہیں کہ وہ عید الضحی میں ان کا ساتھ دیں گے گائے یہ پچھاڑٰن چھوٹی سی بچھیا وہ بھی لٹائیں گے سیر بھر یہ کھائیں تو پاؤ بھر وہ بھی کھالیں گے،ایسا ہوتا تو کچھ جاہلانہ معاوضہ کا گمان ممکن تھا کہ عید الضحٰی مسلمانوں کی عید ہے اور گاؤ کشی ان کا مذہبی مسئلہ اور ہندؤوں کے یہاں حرام ہے ان سے کہہ کر دیکھیں کیا جواب ملتاہے اس وقت کھل جائے گا کہ اس ملعون اتحاد کی تالی ایک ہی ہاتھ سے بجی ہندؤوں اپنے مذہب پر قائم ہیں اور تم مسلمان اپنے دین سے نکل گئے ایسوں کو رکن اسلام کہنا اسلام کی توہین کرنا ہے اللہ تعالٰی مسلمانوں کو ہدایت دے اور شیطان ملعون کے دھوکوں سے بچائے اگریہ لوگ نہ مانیں اور ایسے ہی اعلان کے ساتھ توبہ نہ کریں جس اعلان کے ساتھ وہ کفریات کئے تھے تو مسلمانوں پر لازم ہے کہ ان کو چھوڑ دیں ان سے میل جول سلام کلام سب ترک کردیں،
قال اللہ تعالٰی:
واما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ۳؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اگر کہیں تمھیں شیطان بھلاوے میں ڈال دے تو پھر یاد آنے کے بعد ہر گزظالموں کے ساتھ نہ بیٹھوں واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)