مسئلہ ۳۲: مسئولہ اکبر یار خاں محصل چندہ مدرسہ اہلسنت باشندہ شہر کہنہ روز پنچشنبہ ۲۵ ذی الحجہ ۱۳۳۳ھ
اس مسئلہ میں کہ حرام اور کفر اور سود کھانے میں کون سا گناہ صغیرہ ہے اور کون سا کبیرہ ہے؟ مہربانی فرماکر کے جواب بالتفصیل وار دہونا چاہئے؟
الجواب
لا الہ الا اللہ،
کفر ہر کبیرہ سے بد ترکبیرہ ہے اور سود بھی کبیرہ ہے
الا اللمم ان ربک واسع المغفرۃ ۲؎
(جو لوگ بڑے بڑے گناہون اور بیحیائی کے کاموں سے بچتے رہتے ہیں مگر یہ کبھی (شاذونادر) ان سے کوئی غلطی سرزد ہوجائے یقینا تمھارا پرودگار وسیع بخشش والا ہے۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم۔ (اور اللہ سب کچھ طرح اچھی جانتا ہے۔ ت)
(۲؎ القرآن الکریم ۵۳ /۳۲)
مسئلہ ۳۳ و ۳۴: ازبناس محلہ کچی باغ مدرسہ مظہر العلوم حافظ نور محمد طالب علم ساکن مئوی روز پنچشنبہ تاریخ ۹ محرم ۱۳۳۴ھ
(۱) بدعت سیئہ کا عامل ومعتقد گناہ کبیرہ کے عامل سے زیادہ فاسق ہے یا کم یا برابر؟
(۲) غیبت کرنا، جھوٹ بولنا، کاص کر وہ جھوٹ جن سے خلق خدا میں فتنہہو، دو دوست میں یا شوہر بی بی میں یا باپ بیٹے میں یا بھائی بھائی میں اُس جھوٹ سے رنجش ہوجائے باہم جدائی ہوکے گھر کی خرابی کی نوبت آجائے، اور مسلمان کے عیب کی تلاش وتجسس میں رہنا، کوئی مسلمان اگر پوشیدگی سے کوئی گناہ کرتاہو تو اس کی تجسس میں لگے رہنا اور پتا پاتے پر یا محض اپنی شبہ وقیاس سے اس کو فاش کرنا شہرت دینا کس درجہ کا گناہ ہے اور گناہان مذکورہ بالا کا مرتکب فاسق ومستحق لعنت خدا اور رسول ہے یانہیں؟ اور یہ سب گناہ شرعا درجہ فسق میں زنا سے کم ہے یا زیادہ یا برابر؟ جواب مفصل اور مدلل درکارہے۔ بینوا توجروا (بیان کرو اور اجر وثواب پاؤ۔ت)
الجواب
(۱) عمل بدعت سیئہ مکروہ وحرام وصغیرہ وکبیرہ ہر قسم ہے تو اس کا مرتکب مطلقا فاسق بھی نہیں ہوسکتا جب تک اصرار نہ کرے اور اعتقاد بالبدعۃ السیئہ یعنی کسی عقیدہ قطعیہ اجماعیہ اہلسنت کے خلاف اعتقاد رکھنے والا ضرور ہر کبیرہ عمل سے بدتر کبیرہ کا مرتکب اور فاسق عملی سے بد تر فاسق ہے
غنیہ میں ہے :
فسق الاعتقاد اشد من فسق العمل ۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اعتقاد میں فسق، عمل کے فسق سے بدترہے، اور اللہ تعالٰی سب سے بڑا عالم ہے۔ (ت)
(۱؎ غنیہ المستملی شرح منیہ المصلی فصل فی الامامۃ سہیل اکیڈمی لاہور ص۵۱۴)
(۲) یہ سب گناہان کبیرہ ہیں اور ان کا مرتکب فاسق ومستحق لعنت، حدیث میں فرمایا :
الغیبۃ اشد من الزنا ۲؎۔
غیبت سخت ہے زنا سے۔
(۲؎ شعب الایمان حدیث ۶۷۴۱ ، ۶۷۴۲ دارالکتب العلمیہ بیروت ۵ /۳۰۶)
(مجع الزوائد باب ماجاء فی الغبیۃ الی آخرہ دارالکتاب بیروت ۸ /۹۱)
اور ظاہر ہے کہ قتل مومن غیبت سے اشد ہے۔ اور اللہ تعالٰی فرماتاہے :
والفتنۃ اشد من القتل ۳؎۔
فتنہ قتل سے سخت ترہے۔
(۳؎ القرآن الکریم ۲ /۱۹۱)
اور ان سب میں حق العباد ہے تو اس زنا سے ضرور بدتر ہے۔ جس میں حق العباد نہ ہو مگر وہ جھوٹ جس سے کسی کا ضرر نہ ہو کہ بے مصلحت شرعی ہو تو گناہ وضرور ہے مگر اسے زنا کے برابر نہیں کہہ سکتے کہ یہ صغیرہ ہے بعد اصرار کبیرہ ہوگا۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۵: از موضع سوہاوہ ضلع بجنور محلہ مولویاں مسئولہ حفظ الرحمن روز شنبہ ۱۷/ صفر المظفر ۱۳۳۴ھ
جو مسلمان نماز پڑھتے ہے قبلہ کی طرف، لیکن تصویر کو سجدہ کرتا ہے۔ اس کو کافر کہنا چاہئے یانہیں؟ اگر کافر کہا جائے تو قول امام
لایکفر اھل القبلۃ
(امام اعظم کے نزدیک) اہل قبلہ کی تکفیر نہ کی جائے گی۔ت) کی کیا توجیہ ہے؟ نیز بخاری میں ہے حضرت انس سے روایت ہے کہ فرمایا حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام نے :''جوہماری طرح نماز پڑھے، ہمارے قبلہ کی طرف متوجہ ہو، ہمارا ذبیحہ کھائے، وہ مسلمان ہے، اس کے لئے اللہ ورسول کا ذمہ ہے اس کے ذمہ میں اللہ کا عہد نہ توڑو''۔ اس کا کیا مطلب ہے؟ فقط
الجواب
سجدہ تحیت اگر بت یا چاند یا سورج کو کرتاہے ضرور اس پر حکم کفر ہے، کفر اگر چہ عقد قلبی ہے مگر جس طرح اقوال زبان اس پر دلیل ہوتے ہیں یوہیں بعض افعال جن کو شریعت نے ٹھہرادیا ہے کہ یہ صادر نہیں ہوتے مگر کافر سے انھیں سے اشیاء مذکورہ کو سجدہ ہے یا معاذاللہ مصحف شریف کو نجاست میں پھینک دینا یا کسی نبی کی شان میں گستاخی،
جیسا کہ اس کی تصریح ہمارے متکلمین علماء نے (متعدد کتب عقائد) مثلا المسایرہ، شروح، مقاصد، المواقف اور فقہ اکبر وغیرہ میں (اچھے انداز سے) فرمائی ہے۔ (ت)
یوہیں تصویر اگر مشرکین کے معبودان باطل کی ہو تو اسے سجدہ کرنے پر بھی مطلقا حکم کفر ہے۔
لاشتراک العلۃ بل لافرق بینہا وبین الوثن الا بالتسطیح بالتجسیم۔
اس لئے کہ علت مشترک ہے (لہذا حکم بھی ایک ہے) بلکہ اس میں (یعنی تصویر) اور بت میں سوائے جسمانیت اور کوئی فرق نہیں (مراد یہ کہ وثن(بت) میں جسم ہے جبکہ عکسی اور نقشی تصویر میں جسم نہیں)۔ (ت)
اور اگر ایسی نہیں تو اسے سجدہ کرنا مطلقا حرام وکبیرہ ہے مگر کفر نہیں جب تک بہ نیت عبادت
نہ ہو ، جس صورت پر حکم کفر نہیں اس پر تو حدیث فقہ اکبر سے کوئی اشتباہ ہی نہیں اور جن صورتوں پر حکم کفر ہے ان پر جواب ظاہر ہے اہل قبلہ وہی ہے کہ ضروریات دین پر ایمان لاتاہو ا ورکوئی قول وفعل قاطع ایمان اس سے صادر نہ ہو ورنہ صرف قبلہ کی طرف ہماری کی سی نماز پڑھنا اور ہمارا ذبیحہ کھانا بنصوص قطعیہ قرآن ایمان کے لئے کافی نہیں، منافقین یہ سب کچھ کرتے تھے اور یقینا کافر تھے۔
قال تعالٰی لایاتون الصلٰوۃ الا وھم کسالٰی ۱؎ وقال تعالٰی اذا جاءک المنفقون قالوا نشھد انک لرسول اﷲ واﷲ یعلم انک لرسولہ واﷲ یشھد ان المنفقین لکاذبون ۲؎ الی اٰخر الرکوع الشریف، قال تعالٰی ولئن سألتہم لیقولن انما کنا نخوض و نلعب قل اباﷲ واٰیتہ ورسولہ کنتم تستہزؤون لا تعتذروا قد کفر تم بعد ایمانکم ۳؎۔
اللہ تعالٰی نے فرمایا : وہ (اہل نفاق) نماز ادا نہیں کرتے مگر جی ہارے سستی سے، اور اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا : جب منافق آپ کے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں ہم گواہی دیتے ہیں کہ یقیناآپ اللہ تعالٰی کے رسول ہیں، اور اللہ تعالٰی جانتاہے کہ آپ اس کے رسول ہیں لیکن اللہ گواہی دیتاہے کہ منافق نرے جھوٹے ہیں، آخر رکوع شریف تک (یہی ذکر ہے)۔ اور اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا : اگر ااپ ان سے پوچھیں (کہ یہ تم کیا کہہ رہے ہو) تو جھوٹ کہہ دین گے یہ تو ہم ہنسی کھیل کررہے ہیں، (ان سے) فرمادیجئے کیا اللہ تعالٰی، اس کی آیتوں اور اس کے رسول (گرامی) سے ہنسی مذاق کررہے ہو( یعنی کیا تم نے اتنا بھی نہ سوچا کہ اپنے مذاق کا محل کسی کو بنارہے ہو) لہذا اب بے جابہانے نہ بناؤ کیونکہ اب تم اپنے ایمان کے بعد(کھلے) کافرہوگئے ہو۔ (ت)