یکن شرح وفتاوٰی میں اس کے متعلق بہت سے قیدیں ہیں۔ چنانچہ عبارت ہدایہ یہ ہے کہ :
ولو کان ذٰلک علی المائدۃ لاینبغی ان یقعد ان لم یکن مقتدٰی لقولہٖ تعالٰی فلا تقعد الایۃ وھذا کلہ بعد الحضور ولم علم قبول الحضور ولایحضر الخ ملخصا ۱؎ وھکذا فی الدر والکنز والھدایۃ وقاضی خاں وغیرھا۔
اگریہ بدعات کھانے کے دسترخوان کے پاس موجو دہوں تو پھر مناسب نہیں کہ یہ بیٹھے اگر چہ یہ پیشوا نہ ہو، اللہ تعالٰی کے اس ارشاد کی وجہ سے کہ ''یاد آنے کے بعد ظالموں کے پاس نہ بیٹھو'' (الآیۃ) اور یہ سب کچھ حاضرہونے کے بعد ہے۔ اگر جانے سے پہلے ہی بدعات کا پایا جانا معلوم ہو تو پھر وہاں نہ جائے الخ مخصا۔ اور ایسے ہی در ، کنز، ہدایہ اور قاضی خاں وغیرہ میں ہے۔ (ت)
(۲؎ الہدایہ کتاب الکراھیۃ فصل الاکل والشرب مطبع یوسفی لکھنؤ ۴ /۴۵۳)
ظاہر الروایت میں ھنالک عام ہے منزل اور مائدہ دونوں کو شامل، مگر شروح فتاوٰی میں تفریق کرکے جدا گانہ حکم لکھا ہے۔ اسی طرح رجل عام ہے عالم وجاہل سب کو شامل ہے۔ مگر فتاوٰی تفصیل کرکے دونوں کاحکم علیحدہ لکھا
علی ھذا علم قبل الحضور
اور بعد الحضور سے احکام مختلف ہوجاتے ہیں اب دریافت طلب یہ امر ہے کہ ظاہر روایت میں شارحین کی یہ تقیدیدات معتبر ہوں گی یا نہیں اگر معتبر ہیں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شارحین علیہم الرحمۃ کی تقیید کے موافق جب یہ مسئلہ ہے کہ اگر عامی دعوت میں جائے اور وہاں لعب وغنا پائے اگر مائدہ کے پاس ہوتو چلا آئے اور اگر منزل میں ہو تو کھالے حلانکہ حرمت استماع ملاہی دونوں صورتوں پائی جاتی ہے پھر تشقیق کا حاصل کیاہے اسی طرح علم قبل الحضور کی صورت میں عام وخاص سب کے لئے ممانعت ہے کہ نہ جائے، اس صورت میں یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ آیا شرکت کی ممانعت عام ہے کہ نہ جائے، اس صورت میں یہ سوال پید اہوتا ہےکہ آیا شرکت کی ممانعت اسی وقت ہے جبکہ کھانے کے وقت لعب وغنا کا وجود ہو اور اگر کھانے کا وقت کزار کر دوسرے وقت لعب وغنا کا وجود ہو مگر کھانے کے وقت نہ ہو تو جائز ہے اگر یہ صحیح ہے تو سوال یہ ہے کہ نفس ارتکاب مناہی وملاہی میں دونوں برابر ہیں وجہ تفریق کیا ہے بعض لوگ دوپہر کو کھانا کرتے ہیں اور شام کو برات میں تمامی خرافات باجے وغیرہ رکھتے ہیں تو کیا اس کے یہاں علم قبل الحضور کی صورت میں جائز ہوگا؟
(۲) زید کہتاہے کہ فی زماننا جو دعوتیں دی جاتی ہیں ان میں عموما فخر وتطاول وانشاء الحمد کا خیال ہوتاہے اور فقہاء اس قسم کی دعوتوں کو منع فرماتے ہیں لہذا وہ کسی دعوت میں نہیں جانا اس کا یہ فعل کیساہے اور یہ بھی کہتاہے کہ آج کل حبوب طعام کی بہت بے قدری ہوتی ہے بینوا توجروا (بیان فرماؤ اور اجر وثواب پاؤ۔ت )
الجواب
(۱) تقیید مطلق وتخصیص عمومات وتفصیل مجمل وتوضیع مبہامات منصب شراح ہے اسی غرض کے لئے وضع شروح ہے وہ اس سے مبائن نہ سمجھے جائیں گے بلکہ مبین
کما فی ردالمختار وغیرہ من معتمدات الاسفار
(جیسا کہ ردالمحتار (فتاوٰی شامی) وغیرہ قابل اعتماد بڑی کتابوں میں مذکور ہے۔ ت) استماع یعنی قصد سننا یہ تو اس کا فعل ہے اور اس میں منزل بھی شرط نہیں کہیں ہواور کتنی ہی دور ہو جہاں سے آواز آئے، یہاں نظر علماء اس عاصی بالقصد کی طرف نہیں بلکہ متقی کی جانب جواتباع شرع چاہتاہے اس کے لئے مائدہ ومنزل کا فرق ظاہر ہے مائدہ پر ہو تو فساق کے ساتھ بیٹھنا ہوگا اور آیہ کریمہ
لاتقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین
(یاد آنے کے بعد ظالموں کے پاس مت بیٹھو۔ ت) کا خلاف، بخلاف منزل۔
(۱؎ القرآن الکریم ۶ /۶۸)
جب یہ شرکت دعوت کے لئے جاتا ہے اوردعوت کے وقت ملاہی نہیں تو یہ شریک اثم نہ ہوبعد کو وہ جو کچھ کریں ان کا فعل ہے فافترقا (پس دونوں فرق ظاہر ہوگیا۔ ت) اوریہ حکم شراح ہنوز محل وطالب تفصیل ہے جسے فقیر نے اپنے فتاوٰی میں بیان کیا اس کا خلاصہ یہ کہ اس کا ان پر ایسا رعب ہے کہ اس کے سامنے نہ کرسکیں گے تو ضرور جائے کہ اس کا جانا نہی عن المنکر ہے۔ اور اگر انھیں اس سے ایسا علاقہ محبت ہے کہ اس کا شریک نہ ہونا کسی طرح گوارہ نہ کریں گے تو ضرور شرکت سے انکار کرے جب تک وہ ترک ملاہی کا عہد وپیمان نہ دیں، اور اگر یہ دونوں صورتیں نہیں تو تفصیل وہ ہے کہ شراح نے ذکر فرمائی۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
(۲) قبول دعوت سنت ہے فقہاء کرام کا حکم غیر معین پر ہے اورنہ ہر گز ان کے یہاں تعمیم، نہ اصلا اس پر دلیل قویم۔ وہ تو یہ فرماتے ہیں کہ جہاں ایسا ہو وہاں نہ جانا چاہئے۔ غیر معین پر حکم کسی معین مسلمان کے لئے سمجھ لینابد گمانی ہے جب تک اس کے قرائن واضحہ نہ ہو اور بدگمانی حرام۔
قال اﷲ تعالٰی یایھا الذین اٰمنوا اجتنبوا کثیر امن الظن ان بعض الظن اثم ۱؎۔
وقال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ایاکم الظن فان فان الظن اکذب ۲؎ الحدیث۔
اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا : اے ایمان والو! ا بہت سے گمانوں سے بچتے رہو کیونکہ بعض گمان گناہ ہیں۔ اور حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : لوگو! بدگمانی سے بچو کیونکہ بدگماانی سب سے جھوٹی بات ہے۔ الحدیث۔ (ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۴۹ /۱۲)
(۲؎ صحیح بخاری کتاب الوصایا باب قول اللہ عزوجل من بعد وصیۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۸۴)
بحال قصد تفاخر اگر یہ جاتا تو ایک نامناسب ہی بات ہوتی۔ بنایہ امام عینی میں ہے :
دعوت قبول کرنا سنت ہے خواہ دعوت ولیمہ ہو یا کوئی اور، لیکن جس دعوت میں تفاخر اور مدح سرائی یا اس قسم کی باتیں ہوں تو پھر ایسی دعوت قبول کرنا مناسب نہیں خصوصا علم وفضل رکھنے والوں کے لئے، کیونکہ یہ کہا گیا ہے کہ کسی نے ہاتھ دوسرے کے پیالے میں رکھا تویہ اس کے لئے ذلت اختیار کرے گا۔ ملخصا۔ (ت)
(۳؎ البنایہ فی شرح الہدایہ کتاب الکراھیۃ فصل فی الاکل والشرب المکتبۃ الامدادیہ مکۃ المکرمہ ۴ /۲۰۴)
اور اب کہ ایک مسلمان پر بلاد لیل یہ گمان کیا کہ اس کی نیت ریا وتفاخر وناموری ہے تویہ حرام قطعی ہوا، حبوب طعام کی اگر بے ادبی ہوتی ہے تو جائے اور اس سے منع کرے اگر نہ مانے تو وبال ان پرہے۔ امام ابوالقاسم صفار رحمۃ اللہ تعالٰی فرماتے ہیں میں آج کل دعوت میں جانے کی کوئی نیت نہیں پاتاہوں سوا اس کے کہ نمک دانی روٹی پر سے اٹھاؤں۔ ہندیہ میں ہے :
لایجوز وضع القصاص علی الخبز و السکرجۃ کذا فی القنیۃ قال الامام الصفار لااجد فی نیۃ الذھاب الی الضیافۃ سو ی ان ارفع المملحۃ عن الخبز کذا فی الخلاصۃ ۱؎۔
روٹی اور چپاتی پر پیالوں کا رکھنا درست نہیں۔ اسی طرح قنیہ میں مذکور ہے۔ امام صفار نے فرمایامیرا دعوت میں جانے کا سوائے اس کے کوئی مقصدنہیں کہ میں نمک دانی روٹی پر سے اٹھالوں ایسے ہی خلاصہ میں ہے۔ (ت)
جب یہ نہی عن المنکر کی نیت سے جائے گا ثواب پائے گا۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
(۱؎ فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراھیۃ الباب الحادی عشرۃ فی الکراھیۃ فی الاکل نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۲۴۱)
مسئلہ ٍ۲۹۱: از ڈاکخانہ گریفہ مقام چٹکل گوری پور ضلع ۲۴ پرگنہ مسئولہ تبارک حسین ۱۹ ذی القعدہ ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ سود خوار، بے نمازی، شرابی، ہیجڑا، مخنث اور جس کی بی بی سر بازار باہر نکلتی ہوں ان کے ساتھ کھانا کیسا ہے ایک شخص دوسرے کی بی بی کو زبردستی لے آیا ہے تین برس بعد نکاح کیا پہلے شوہر نے اب تک طلاق نہ دی یہ نکاح اور اس کے ساتھ کھانا کیسا ہے؟ بینوا توجروا
الجواب : سود خوار، بے نمازی، شرابی، مخنث کسی کے ساتھ کھانا نہ چاہئے خصوصا شرابی کہ اس کے ہاتھ اور منہ پاک ہونے کا کچھ اعتبار نہیں جس کی بی بی سر عام بے پر دہ پھرتی ہو اگر ستر کا مل نہیں کرتی مثلا سر کے بالوں یا گردن یا پیٹ یا بازوں یا کلائی یاپنڈلی کا کوئی حصہ کھلا ہوا یا باریک کپڑے سے چمکتا ہو اور وہ اس پرمطلع ہے اور منع نہیں کرتا تو دیوث ہے اس کے ساتھ بھی کھانا نہ چاہئے، جو پرائی عورت کو بھگا لا یا ہے اور شوہر زندہ ہے اور طلاق نہ دی اور نکاح کرلیا وہ اس نکاح کے بعد بھی زانی ہے۔ اوریہ نکاح باطل محض ہوا ایسے شخص سے میل جول اصلا نہ کیا جائے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
نوٹ
جلد ۲۱ شرب وطعام کے عنوان پر ختم ہوگئی
جلد ۲۲ ان شاء اللہ ظروف کے عنوان سے شروع ہوگی۔