مسئلہ ۲۸۰ تا ۲۸۲ : از ڈاکخانہ شیر پور ضلع پیلی بھیت مرسلہ شبیر الحسن صاحب ۱۲/ رمضان ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ان مسائل میں :
(۱) اہل ہنو دکی اشیاء خوردنی کا استعمال ایک مسلمان کے لئے کہاں تک جائز ہے؟
(۲) یونہی اہل ہنود کے ہمراہ کھانا کھانا۔
(۳)کیا اوپرکے مسائل کے جواب ہر غیر مسلم پر عائد ہوسکتے ہیں اگر نہ تو غیر مسلم کے بارے میں اوپر کے ہر دو مسائل کا کیا جواب ہوگا؟
الجواب
(۱)ایشائے خوردنی جو شریعت نے حلال فرمائی ہیں حلال ہیں ہنود کی کوئی تخصیص نہیں کہ وہ چیزیں خاص ہندوؤں کے کھانے کی ہیں ہاں ہندو کے یہاں کا کھانا اگر گوشت ہے حرام ہے اور اس کے سوا ار چیزیں مباح ہیں، جب تک ان کی حرمت یانجاست تحقیق نہ ہو، اوربچنااولٰی۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
(۲) ہندو کے ساتھ کھانا کھانے کا سوال بے معنی ہے۔ ہندو کب اسی کے ساتھ کھائے گا۔ اور ایسا ہو تو اسے نہ چاہئے۔ حدیث میں ہے:
(۳) غیر مسلم چار قسم ہیں : کتابی، مجوسی، مشرک، مرتد، کتابی اگر کتابی ہو ملحد نہ ہو تو اس کا ذبیحۃ اور اس کے یہاں کا گوشت بھی حلال ہے اور باقیوں کے یہاں کا گوشت حرام ۔ اور مرتد ان میں سب سے خبیث تر ہے اس کے پاس نشست برخاست مطلقا ناجائز ہے۔ اور ساتھ کھانا ہر کافر کے ساتھ برا ہے۔ پھر اگر اس میں بد مذہبی کی تہمت ہو جیسے نصرانی کے ساتھ کھانا مسلمانوں کے لئے زیادہ باعث نفرت ہو تو اس کاحکم اور سخت تر ہوگا ورنہ اس اصل حکم میں کہ ان کے ساتھ کھانا کھاؤ پانی نہ پیو سب برابر ہیں۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۸۳ : از آلہ باد مدرسہ سبحانیہ مولوی ابراہیم صاحب ۱۷/ رمضان ۱۳۳۸ھ
زید نے اپنی لڑکی کی شادی کی اور اس کا مہر لے کر لوگوں کوکھانا کھلایا کھانے تیار ہوجانے پر لڑکی سے اجازت لی یہ کھانا کھانا کیساہے۔ عمرو کہتاہے کہ یہ جائز نہیں کیونکہ بعد تیار ہونے کی اجازت لی ہے تو اس وقت لڑکی نے مجبورا اجازت دے دی پہلے اس سے اجازت نہ لی۔
الجواب : شرع مطہرظاہر کو دیکھتی ہے جب اس نے اجازت دی اجا زت ہوگئی،
فتاوٰی خیریہ میں ہے :
الاجازہ الاحقۃ کالوکالۃ السابقۃ ۱؎۔
پچھلی اجازت سابقہ وکالت کی طرح ہے۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی خیریہ کتاب النکاح باب اولیاء والاکفاء درالمعرفۃ بیروت ۱ /۲۵)
اوریہ احتمال کہ مجبوری سے اجازت دی پہلے سے اجازت لینے میں بھی قائم تھا بلادلیل اوہام کا اعتبار نہیں، اس کھانے میں کوئی حرج نہیں۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۸۴ : از چتور گڑھ میواڑ محلہ چھیپیاں برمکان قاضی اسمعیل محمد صاحب مسئولہ جمیع مسلمان کنگرار ۱۵ محرم ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہیجڑہ اگر دعوت کرے اس کا کھانا کیسا ہے؟
الجواب : ہیجڑے کے یہاں دعوت کھانے کو نہ جایا جائے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۸۵ و ۲۸۶ : از محلہ میاں ہٹے ضلع سارن ڈاک خانہ مانجن مسئولہ عبدالعزیز میاں مدرس مدرسہ ۱۴/ رمضان المبارک ۱۳۳۹ھ
(۱) کھڑئے ہو کر پانی پینا کیوں منع ہے؟ اس کا ثبوت مع حدیث
(۲) روٹی چار ٹکڑے کرکے کیوں کھاتے ہیں اور ایک ہاتھ سے روٹی پکڑ کر دوسرے ہاتھ سے توڑ کر کیوں کھاتے ہیں۔ اس کا ثبوت مع حدیث دیجئے، اور یہ بھی ارشاد فرمائیں کہ کس مذہب میں اما م اعظم کے نزدیک یا کس امام کے نزدیک جائز ہے؟ بینوا توجروا
الجواب:
(۱) سوائے زمزم شریف وبقیہ وضو کھڑے ہوکر پانی پینا مکروہ ہے۔ اس کی حدیثیں وفقہی بحث کتب علماء میں موجود ہے۔
(۲) روٹی کے چار ٹکڑے کرنا کوئی ضروری بات نہیں، بائیں ہاتھ میں لے کر دہنے ہاتھ سے نوالہ توڑنا دفع تکبر کے لئے ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۸۷ : از رچھا روڈ ضلع بریلی مسئولہ حکیم حمد احسن ۹ شوال ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسلمان دھوبی کے گھر کھانا جائز ہے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب : جائزہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۲۸۸ : از دانا پور کیمپ محلہ شاہ ٹوپی مکان جناب حکیم محمد کفیل صاحب مسئولہ حافظ محمد جعفر ۲ شوال ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک آنحضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے ساتھ دسترخوان پرصحابہ کرام یا او رکوئی مہمان طعام تناول فرماتے تھے تو آپ کو جو کچھ اشیائے خوردنی دسترخوان پر موجود تھیں تھوڑی تھوڑی سب چیز لوگوں کو تقسیم کرتے تھے۔ یا خود تناول فرماتے تھے مع حوالہ حدیث مطلع فرمائے۔ اس ہندوستان میں لوگوں نے دسترخوان میں فرسٹ سکینڈ بنا رکھا ہے۔ جیسے انگریزی کلاس ہیں۔ بینواتوجروا
الجواب : حضور اقدس صلی اللہ تعلٰی علیہ وسلم کے دسترخوان پر قسم قسم کے متعدد کھانے نہ ہوتے تھے کہ تھوڑا تھوڑا سب میں تقسیم ہوتا
ما اجتمع لو نان فی فَی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم
(حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے دہن اقدس میں کبھی دو رنگ کے کھانے جمع نہیں ہوئے۔ ت) دسترخوان میں فرسٹ سکینڈ سے کیا مقصود ہے۔ ظاہرا یہ کہ کوئی سنت نصارٰی کا اتباع ہوگا حاضرین میں تفریق بدعت ہے اور ایک فریق کی تذلیل ودل شکنی، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۸۹ و ۲۹۰ : از بنارس کچی باغ مسئولہ مولوی محمد ابراہیم صاحب ۱۸ ذی القعدہ ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں
عالم اہلسنت ناصر ملت علامہ زماں محقق دوراں رأس العلماء رئیس الفضلا حضرت مولانا الشیخ الحاج احمدرضاخاں صاحب مجدد المائۃ الحاضرہ ادامہ اللہ تعالٰی بفیوضہ الباطنۃ الظاھرۃ
(سنت اور اہل سنت کے عالم دین کے مدد گار، زمانے میں سب سے زیادہ جاننے والے، دورحاضر میں مسائل کی تحقیق کرنے والے، علماء کے سر تاج فاضلوں کے امام حضرت مولانا شیخ حاجی احمد رضاخاں صاحب موجودہ صدی کے مجدد، اللہ تعالٰی ظاہر اور باطنی فیض کے ساتھ انھیں ہمیشہ رکھے۔ ت)
(۱) دعوت ولیمہ اور طعام کے متعلق ظاہر الروایۃ کاصرف یہ حکم ہے :
رجل دعی الی ولیمۃ او طعام جدھناک لعبا اوغناء فلا باس بان یقعد ویاکل کما فی الجامع الصغیر۱؎۔
کسی شخص کو دعوت ولیمہ یا ویسے کھانے کی طرف مدعو کیا گیا پھر اس نے وہاں کھیل کود اور گانا بجانا پایا تو کوئی حرج نہیں کہ وہ وہاں بیٹھ جائے اور کھانا کھائے جیسے کہ جامع صغیر میں موجود ہے۔ (ت)
(۱؎ الجامع الصغیر کتاب الکراھیۃ مسائل من کتاب الکراھیۃ الخ مطبع یوسفی لکھنؤ ص۱۵۲)