Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۱(کتاب الحظر والاباحۃ )
142 - 144
مسئلہ ۲۷۳ : از مدرسہ منظر الاسلام مرسلہ عبدالقوی صاحب بنگالی متعلم مدرسہ مذکور  ۱  رجب المرجب

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ صدف کو بجائے چامیس یعنی چمچے کے استعمال کرنا جائز ہے یانہیں؟

الجواب : جائز ہے۔ سیپ کا کھانا حرام ہے سیپ کے چمچے سے کھانے میں کچھ حرج نہیں۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۷۴: از اروہ نگلہ ڈاکخانہ اچھنیرا ضلع آگرہ     مرسلہ صادق علی خاں صاحب ۲۵ شوال ۱۳۳۶ھ

ایک شخص کہتاہے کہ عیسائیوں کے ساتھ کھانا پینا، اپنے برتنوں میں کھلانا، ان کے برتنوں میں کھانا اور ان کا حقہ پینا اور ان کو اپنا پلانا جائز ہے۔ دلیل جواز میں یہ آیت پیش کرتاہے :
احل لکم الطیبت وطعام الذین اوتو الکتب حل لکم وطعامکم حل لھم ۱؎۔
(لوگو!) تمھارے لئے ستھری اشیاء حلال کردی گئی اور ان لوگوں کا کھانا جنھیں کتاب دی گئی تمھارے لئے حلال ہے اور تمھارا کھانا انکے لئے حلال ہے۔ (ت)
 (۱؎ القرآن الکریم       ۵/۵)
الجواب : امور مذکور ممنوع ہیں۔ اس میں ان کے ساتھ مجالست ہے اور اللہ عزوجل فرماتاہے :
واما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکرٰی مع القوم الظلمین ۲؎۔
اگر تجھے شیطان بھلادے تو یاد آنے پر پاس نہ بیٹھ بے انصافوں کے۔
(۲؎ القرآن الکریم          ۶/ ۶۸)
علماء فرماتے ہیں۔ اس میں قباحت تک ہر کافر وبدمذہب داخل ہے والقعود مع کلھم ممتنع (ہر کافر کے ساتھ بیٹھنا ممنوع ہے۔ ت) یہ ان کی طرف میل کا موجب ہے۔ اور اللہ عزوجل فرماتاہے:
ولا ترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار ۱؎۔
بے انصافوں کی طرف میل نہ کرو کہ تمھیں جہنم کی آگ چھوئے گی۔
(۱؎ القرآن الکریم   ۱۱/ ۱۱۳)
بد مذہب کے لئے حدیث میں ارشاد ہے  :
لا تؤاکلوھم ولا تشاربوھم ۲؎۔
نہ ان کے ساتھ کھانا کھاؤ نہ پیو۔
(۲؎ کنز العمال    حدیث ۳۲۴۶۸     مؤسسۃ الرسالہ بیروت    ۱۱ /۵۶۹)
نہ کہ جو مسلمان ہی نہیں اس میں مسلمانوں کو اپنے سے نفرت دلانا ہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
بشروا ولاتنفروا ۳؎۔
بشارت دو اور نفرت نہ دلاؤ۔
(۳؎ صحیح البخاری    کتاب العلم با ب ماکان النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم یتخولھم     قدیمی کتب خانہ کراچی  ۱ /۱۶)
آیہ کریمہ میں طعام سے مراد ذبیحہ ہے گیہوں ، چاول، دودھ، دہی تو مشرک کے یہاں کا بھی حلال ہے جبکہ نجس نہ ہو، اہل کتاب کی کیا تخصیص ، ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم تفاسیر اور بیہقی سنن میں حضرت عبداللہ بن عباس اور عبداللہ ابن حمید حضرت مجاہد اور عبدالرزاق مصنف میں حضرت ابراہیم نخعی رضی اللہ تعالٰی عنہم سے راوی  فرماتے ہیں :
طعام الذین اوتوا الکتٰب ذبائحھم ۴؎۔
طعام اہل کتاب سے ان کے ذبیحہ حرام مراد ہے۔
(۴؎ الدرالمنثور    بحوالہ ابن المنذر وابن ابی حاتم والبیہقی فی النن وعبد بن عن مجاہد وعبدالرزاق عن ابراہیم النخعی    ۲ /۲۶۱)
شرع مطہر میں ہر غیر مسلم کافر ہے  یہودی ہو یانصرانی یا مجوسی یا مشرک، جو اہل کتاب کو کافرنہ جانے خود کافر ہے۔ 

اللہ تعالٰی عزوجل فرماتاہے :
ان الذین کفروا من اھل الکتب والمشرکین فی نارجھنم خلدین فیہا ۵؎۔
بیشک وہ جو کافر ہیں کتابی اور مشرک، سب جہنم کی آگ میں ہیں ہمیشہ اس میںرہیں گے۔
(۵؎ القرآن الکریم   ۹۸ /۶)
 اور فرماتاہے :
لقد کفرالذین قالوا ان اﷲ ھو المسیح بن مریم ۱؎۔
بیشک کافر ہیں وہ جو مسیح ابن مریم کو خدا کہتے ہیں۔
 (۱؎ القرآن الکریم      ۵ /۷۲)
مسئلہ ۲۷۵ : ا زموضع سران ڈاکخانہ بشندور تحصیل وضلع جہلم مرسلہ حافظ سجاد شاہ ۱۸/ شعبان المعظم ۱۳۳۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ طعام کو حاضر رکھ کر کھانا سے پہلے دعا کا کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا
الجواب : جائزہے بلکہ مطلق دعا مسنون ہے کہ حدیث میں ہے ، جب کھانا لا کر رکھا جائے کہو:
بسم اﷲ وباﷲ بسم اﷲ خیرالاسماء فی الارض وفی السماء لایضر مع اسمہ داء اجعل فیہ رحمۃ وشفاء ۲؎۔
اللہ تعالٰی کے بابرکت نام سے اور اس کی مقدس ذات سے۔ اللہ تعالٰی کے نام سے کہ زمین وآسمان میں جس کے سب سے اچھے نام ہیں، اس کے نام کے ساتھ کوئی بیماری تکلیف نہیں دیتی۔ اللہ تعالٰی اس میں شفاء اور رحمت فرمائے۔ (ت) یہ دعا نہیں تو کیا ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
 (۲؎ کنز العماال     حدیث ۴۰۷۹۹     مؤسستہ الرسالہ بیروت    ۱۵ /۲۴۹)
مسئلہ ۲۷۶ و ۲۷۷ : از بھیرہ ضلع شاہ پور محلہ پرا چگان مسئولہ محمد رحیم پراچہ بابلی ۷/ رمضان ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ:

(۱)  شہد کا اتارنا جائز ہے یا ممنوع؟   (۲) اگر جائز ہے تو شرعا کچھ بیت النحل میں چھوڑنا لابدی ہے یانہ؟
الجواب

(۱) و (۲) شہد کااتارنا بلا شبہ جائز ہے :
قال اﷲ تعالٰی یخرج من بطونہا شراب مختلف الوانہ فیہ شفاء للناس ۳؎۔
اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا : شہد کی مکھیوں کے پیٹوں سے ایک مشروب (پینے کی چیز) نکلتاہے کہ جس کے رنگ الگ الگ (اور جدا) ہیں اس میں لوگوں کے لئے شفا (تندرستی ) ہے۔ (ت)
 (۳؎ القرآن الکریم      ۱۶ /۶۹)
اور بیت النحل میں اس کا کچھ حصہ چھوڑنا ضروری نہیں کہ وہ ان کی غذا نہیں ان کی غذا پھل پھول ہیں۔
قال تعالٰی ثم کلی من کل الثمرات ۱؎۔
اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا  :  پھر تو ہر قسم کے پھلوں سے کھالیجئے۔ (ت)
(۱؎القرآن الکریم  ۱۶ /۶۹)
شہد تمام وکمال ہمارے لئے ہے :
قال تعالٰی خلق لکم مافی الارض جمیعا ۲؎۔
اللہ تعالٰی نے فرمایا: (لوگوں!) اللہ تعالٰی نے تمھارے لئے پیدا فرمایا وہ سب کچھ جو زمین میں موجود ہے۔ (ت)

واللہ تعالٰی اعلم۔
 (۲؎ القرآن الکریم   ۲ /۲۹)
مسئلہ ۲۷۸ :  از بریلی مدرسہ منظر الاسلام مسئولہ مولوی عبید اللہ صاحب بنگالی ۱۴/ صفر ۱۳۳۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی کافر ایک برتن میں کھانا کھائے اور برتن میں کچھ کھانا باقی رہے تو باقی کھانا مسلمان کھاسکتاہے یانہیں؟
الجواب

اللہ تعالٰی کی بے شمار رحمتیں حضرت شیخ سعدی قدس سرہ پر کہ فرماتے ہیں :
نیم خوردہ سگ ہم سگ راشاید
 (کتے کا جھوٹاکتے ہی کے لائق ہے یعنی وہی کھائے۔ ت)
 نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
بشروا ولاتنفروا ۳؎
 (خوشخبری سناؤ اور نفرت نہ دلاؤ۔ ت واللہ تعالٰی اعلم۔
 (۳؎ سنن ابی داؤد    باب کراھیۃ المراء     آفتاب عالم پریس لاہور    ۲ /۳۰۹)
مسئلہ ۲۷۹: از جبلپور بازار لارڈ گنج مرسلہ احمد علی محمد کچھی     ۱۴/ جمادی الآخر ۱۳۳۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک عالم صاحب اپنی ایک گجراتی تصنیف میں تحریر فرماتے ہیں کہ کچا انڈا حرام ہے اور پکا ہوا جائز ہے۔ تو ظاہر فرمائیے کہ اس میں شریعت مطہر کا کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا

الجواب: حلال جانور کا کچا پکا انڈہ سب حلال ہے۔ ہاں وہ کہ خون ہوجائے نجس وحرام ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter