مسئلہ ۲۶۳ تا ۲۶۵ : از کمال پورہ علاقہ جیت پورہ بنارس مرسلہ خدابخش زردوز مالک فلور مل اسلامیہ ۲۰ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
تقریب طعام شادی کی تین صورتیں ہیں، ہر ایک کی شرکت کا علیحدہ حکم بیان فرمائیں :
(۱) بعض ایسا کرتے ہیں پہلے لوگوں کو دعوت کھلاکر اسی روز یا دوسرے روز بارات نکالتے ہیں اگر چہ جلسہ دعوت میں باجہ وغیرہ نہیں ہوتا مگردعوت کھانے والے کو معلوم ہے کہ دو ایک روز میں جو بارات یہاں سے نکلے گے اس میں باجہ وغیرہ سب ہوگا۔
(۲) بعض لوگ جب دلھن کو رخصت کرکے گھر لاتے ہیں تب کھانا کرتے ہیں اگر چہ جلسہ دوعوت میں کچھ نہیں ہے مگر بارات میں سب کچھ تھا۔
(۳) دلھن کے گھر دعوت ہے اور اس کے یہاں کچھ باجہ وغیرہ نہیں ہے مگر اس کے یہاں جو بارات آئی ہے اس میں باجہ وغیرہ سب کچھ ہے اور دلھن کے گھروالوں کی تین حالتیں ہیں ہر ایک کا علیحدہ حکم تحریر فرمائیں:
(۱)بعض تو دلھا والوں کو فرمائش دے کر باجہ وغیرہ منگاتے ہیں :
(۲) بعض نہ فرمائیش دیتے ہیں نہ منع کرتے ہیں۔
(۳) بعض منع کرتے ہیں مگر دولھا نہیں مانتا اور باجے کے ساتھ آتاہے۔
ان تینوں میں کس کے یہاں شرکت جائز ہے اور کیا اس تیسرے پر شرعا الزام ہوسکتاہے، کیوں نہ اس نے بارات واپس کردی اور کیوں نکاح کردیا، شرکت میں اگر عوام وخواص کا فرق ہو تحریر ہو۔
الجواب : پہلی دوصورتوں میں شرکت دعوت میں کوئی حرج خصوصا نہیں خصوصا دعوت ولیمہ کو سنت ہے اور اس میں بلاعذر شرعی نہ جانا مکروہ۔
ومن لم یجب الدعوۃ فقد عصی ابا القاسم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ۱؎۔
جس نے کسی کی دعوت قبول نہ کی اس نے اباالقاسم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔ (ت)
(۱؎ نصب الرایۃ لاحادیث الہدایہ کتاب الکراھیۃ الحدیث الثالث المکتبہ الاسلامیہ ۴ /۲۲۱)
اور تیسرے صورت میں وہی دو صورتیں ہیں جو اپر گزریں وہ منکرات مکان دعوت میں ہیں یا دوسرے مکان میں اور وہی احکام ہیں جو اوپر بیان ہوئے، وہ کہ فرمائش کرکے ممنوعات شرعیہ منگاتے ہیں سخت گنہ گار اور ان ممنوعات کے کرنےوالوں سننے والوں سب کے گناہوں کے ذمہ دارہیں ان سب پر گناہ ہوگا اور ان سب کی برابر ان پر۔
من دعٰی الی ضلالۃ فعلیہ وزرھا ووزر من عمل بہا الی یوم القیمۃ لاینقص من اوزارھم شیئا ۱؎۔
جس شخص نے کسی دوسرے شخص کو گمراہی کی طرف بلایا (اور گمراہی کی دعوت دی) تو اسی داعی پر اس کا گناہ ہے اور اس شخص کا بھی گناہ قیامت تک جس نے اس گمراہی پر عمل کیا لیکن ان کے گناہوں میں کچھ کمی نہ کی جائے گی (یعنی کاسب اور موجد دونوں کی سزا میں کچھ کمی نہ ہوگی)۔ (ت)
(۱؎ صحیح مسلم کتاب العلم باب من سن سنۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۳۴۱)
(جامع الترمذی ابواب العلم باب ماجاء من دعاالی ھذا الخ امین کمپنی دہلی ۲ /۹۲)
(سنن ابن ماجہ باب من سن سنۃ الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۹)
اور وہ جو نہ منگائیں نہ منع کریں وہ بھی گنہ گار ہیں کہ اپنے یہاں گناہ کرنے سے منع کرنا ہرشخص پر واجب ہے اور وہ کہ منع کریں اور ادھر والے نہ مانیں تو اس کا ان پر الزام نہیں۔
لاتزر وازرۃ وزرر اخرٰی۲؎۔
کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ نہ اٹھا ئیگی۔ (ت)
(۲؎القرآن الکریم ۶ /۱۶۵)
اوربرأت کا پھیردینا یہ مصالح پر موقوف ہے۔ اگ رکوئی ضرر نہیں ضرور پھیردے ورنہ اس ضرر اور اس مفسدہ میں موازنہ کیا جائے جو زیادہ مضر ہو اس سے بچیں۔
من ابتلٰی ببلیتین فاختار اھونھما ۳؎ واﷲ تعالٰی اعلم۔
جو کوئی دو مصیبتوں میں مبتلا ہوجائے تو وہ ان دونوں میں سے اسے اختیارکرے جو زیادہ آسان او رہلکی ہو، واللہ تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۲۶۶: از کمال پورہ علاقہ جیت پورہ بنارس مرسلہ خدا بخش زردوز مالک فلور مل اسلامیہ ۲۰/ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
تقریب ولادت یاختنہ یا گھر بھوج یعنی تیاری مکان میں اکثر لوگ کھانا کرتے ہیں یہ اسراف ہے یانہیں اور ان دعوتوں میں شریک ہونا چاہئے یا نہیں جبکہ اس تقریط میں عورتیں مکان کے اندر ڈھولک سے گاتی بجاتی ہیں اگر چہ مجلس دعوت میں کچھ نہ ہو۔
الجواب
مجلس دعوت میں ہو یا دوسرے مکان میں سب کے احکام مفصل اوپر گزرے، اور جبکہ منکرات شرعیہ نہ ہوں اور کھانا نیت محمودہ سے ہو تو اسراف نہیں۔ اور ریاء وتفاخر کے لئے ہو تو حرام ۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۶۷: از موضع کسگنجہ ڈاکخانہ گھونگچائی تحصیل پورنپور ضلع پیلی بھیت مرسلہ امانت اللہ محرر ۲۱/ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
زیدنے ہندوؤں کی کسی تقریب میں کھانا کھایااس میں گوشت مردار جھٹکے کا جس کو ہندو گردن مویشی کی مار کر کاٹتے ہیں زید کے کھانے کے واسطے نہیں دیا، زید نے گوشت مانگا تو ہندؤوں نے انکا رکیا کہ مسلمان جھٹکانہیں کھاتے ہیں زیدنے کہا ہمیں کھانے کودو ہم جھٹکا کھاتیں ہیں ہندؤوں نے زید کو بھی کھانے کے لئے دیا زید نے کھایا، جب اہل اسلام کو معلوم ہوا تو اسے ترک کر کے کھانا کھلانے اور کھانے سے علیحدہ کردیا ، جب زید تائب ہوا تو اہل اسلام نے اس کا قصور معاف کرکے زید کو از سر نو ایمان کی تلقین کی اور میلاد شریف پڑھوا کر اسے شریک کرلیا جس کو عرصہ پانچ برس کا ہوا ، اب زید مذکور نے بہمراہی بکر کے ایک چیتل مردار شیر کی ماری ہوئی کاٹ کر گاؤں میں فروخت کی، ایک سپاہی نے خریدنا چاہا توبوجہ خوف کے سپاہی کو گوشت دینے سے انکار کیااو ر کہا کہ یہ تمھارے کھانے کانہیں ہے مردار ہے۔ اس چپراسی نے زید کو زد وکوب کیا، اب شرع شریف کا زید کے واسطے کیاحکم ہے؟ بینوا توجروا
الجواب : زید بقیید مسخرہ شیطان ہے، اس کے دین ایمان کا کچھ ٹھیک نہیں، مسلمانوں کو اس سے پرہیز لازم ہے۔ اس سے سلام کلام میل جول سب ترک کردیں اس کے ہاتھ کا پانی تک کوئی نہ پئے کیا اعتبار ہےکہ وہ ناپاک پانی مسلمان کو پلائے، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۶۸ : ۲۲/ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
میلاد شریف جس کے یہاں پڑھنے والے کی دعوت کرے تو پڑھنے والے کو چاہئے یانہیں؟ اور اگر کھایا تو پڑھنے والے کو کچھ ثواب ملے گا یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب : پڑھنے کے عوض کھانا کھلاتاہے تو یہ کھانا نہ کھلانا چاہئے نہ کھانا چاہئے، اور اگر کھائے گا تو یہی کھانا اس کا ثواب ہوگیا اور ثواب کیا چاہتاہے بلکہ جاہل میں جو یہ دستور ہے کہ پڑھنے والوں کو عام حصوں سے دونا دیتے ہیں اور بعض احمق پڑھنے والے اگر ان کو اوروں سے دونا نہ دیا جائے تو اس پر جھگڑتے ہیں۔ یہ زیادہ لینا دینا بھی منع ہے اور یہی اس کا ثواب ہوگیا۔
اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا : (لوگو!) میری آیتوں کے بدلے تھوڑے دام نہ لو ۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۲ /۴۱)
مسئلہ ۲۶۹ : ۲۲ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
ایک شخص کے یہاں کچھ مویشی ہے اور کنبے کا کھانا ہے اس نے میلاد شریف پڑھنے والوں کو بھی کہا ہے کہ تمھاری دعوت ہے تو کھانا چاہئے یانہیں؟
الجواب : جب کسی کے یہاں شادی میں عام دوت ہے جیسے سب کو کھلایا جائے گا پڑھنے والوں کو بھی کھلایا جائے گا اس میں کوئی زیادت وتخصیص نہ ہوگی تو یہ کھانا پڑھنے کا معاوضہ نہیں۔ کھانا بھی جائز اور کھلانا بھی جائز۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۷۰ : از باگ ضلع امچہرہ ریاست گوالیاء مکان منشی اوصاف علی صاحب مرسلہ شیخ اشر ف علی صاحب سب انسپکٹر ۱۲ جمادی الاولٰی ۱۳۳۶ھ
زید کو کوئی خبر خوشی کی آئے اور زید اس کے شکریہ میں کھانا یا مٹھائی تقسیم کی تو کیا اس میں اغنیاء وفقراء دونوں شامل ہوسکتے ہیں یا صرف اغنیاء؟
الجواب : فقیر اور اغنیاء دونوں شامل ہوسکتے ہیں۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۷۱ و ۲۷۲ : از پودل سوپول ڈاکخانہ ہیرول ضلع (در بھنگہ بلگرام مرسلہ عبدالحکیم صاحب ۲۱ جمادی الاولٰی ۱۳۳۶ھ
(۱) ہندوکے یہاں کا پکا ہوا، شیرینی یا کوئی چیز مسلمان کو کھانا درست ہے یانہیں؟ اور میلا دشریف وغیرہ میں ہندو کے یہں کاپکا ہوا یا بنا ہوا تقسیم کرنا چاہئے یانہیں؟
(۲) میلاد شریف میں قوالی کی طرح پڑھنا کیسا ہے؟ بینوا توجروا
الجواب
(۱) ہندو کے یہاں کا گوشت اوراس کی جس شے کی نسبت معلوم ہو کہ اس میں کوئی چیز حرام یا نجس ملی ہے وہ ضرور حرام ہے اور جس شے کاحال معلوم نہیں وہ جائز ہے مجلس شریف میں بھی اسے خرچ کرسکتے ہیں اور بہتر بچنا۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
(۲) قوالی کی طرح پڑھنے سے اگر یہ مرا د کہ ڈھول ستار کے ساتھ جب تو حرام اور سخت حرام ہے۔ اوراگر صرف خوش الحانی مراد ہے تو کوئی امر مورث فتنہ نہ ہو تو جائز بلکہ محمود ہے اوراگر بے مزامیر گانے کے طور پر راگنی کی رعایت سے ہو تو ناپسند ہے کہ یہ امر ذکر شریف کے مناسب نہیں۔ واللہ تعالٰی اعلم۔