Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۱(کتاب الحظر والاباحۃ )
140 - 144
مسئلہ ۲۵۵: از بمبئی سندھر سٹ روڈ نمبر ۹ شیخ امام علی صاحب اسکریم والے روز شنبہ ۶ رمضان المبارک ۱۳۳۴ھ جھینگا مچھلی کا شمار مچھلیوں میں ہے یانہیں اوراس کاکھانا ہمارے مذہب میں جائز ہے یامکروہ یا کیا؟ فقط۔

الجواب : جھینگےمیں اختلاف ہے کہ وہ مچھلی ہے یانہیں۔ اگر مچھلی ہے حلال ورنہ حرام۔ لہذا اس سے بچنے میں احتیاط ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۶ : از ملک کاٹھیا واڑ مقام اڑتیان امین احمد پنجشنبہ ۱۹ ذی الحجہ ۱۳۳۴ھ

گوشت ہمیشہ کے واسطے کھانا بعض بولتے ہیں کہ یہ قرآن شریف سے ثابت نہیں اس کا  خلاصہ لکھنا۔

الجواب : قرآن مجید میں گوشت ہمیشہ کھانے کی کہیں ممانعت نہیں ۔ یہ غلط بات ہے ہاں نفس پروری کو قرآن مجید نے منع فرمایا ہے۔
مسئلہ ۲۵۷ :  بریلی نو محلہ ۷/صفر ۱۳۳۵ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیا ن شرع متین بیچ اس امر کے، عشرہ محرم الحرام میں شکار کھیلنا مسلمانوں کو درست ہے یانادرست؟ بینوا توجروا
الجواب : جسے کھانے یا دوا کے لئے کسی جانور کی حاجت ہے وہ اگر بقدر حاجت وہ ایک جانور مار لائے تو یہ کسی کھیل یا تفریح کا فعل نہ ہوگا آیہ کریمہ
اذا حللتم فاصطادوا ۱؎
 (لوگو! جب تم (احرام سے فارغ ہوکر) حلال ہوجاؤ تو پھر شکار کرنا چاہو تو کرسکتے ہو۔ت)اسی کا ذکر ہے مگر بے حاجت مذکورہ تفریح طبع کے لئے جو شکار کیا جاتاہے وہ خود ناجائز ہے کہ ایک لہو ولعب لوگ خود اسے شکار کھیلنا کہتے ہیں، اور کھیل کے لئے بے زبانوں کی جان ہلاک کرناظلم وبے دردی ہے۔
 (۱؎ القرآن الکریم   ۵ /۲)
اشباہ والنظائر میں ہے :
الصید مباح الا للتلھی ۲؎۔
 (یاد رکھو) شکار کرنا مباح ہے مگر جب کہ بطور کھیل ہو ( تو اس کی اجازت نہیں)۔ (ت)
(۲؎ الاشباہ والنظائر     الفن الثانی     کتاب الصید         ادارۃ القرآن کراچی    ۲ /۱۰۴)
اسی طرح وجیز کردری وتنویر الابصار میں ہے تو کھیل اور ناجائز کھیل اور عشرہ محرم۔
اناﷲ وانا الیہ راجعون وحسبنا اﷲ و نعم الوکیل۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
بے شک ہم اللہ تعالٰی کا مال ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جائیں گے، او ر اللہ تعالٰی ہمیں کافی ہے اور وہ کیا ہی اچھا کار ساز ہے۔ اور اللہ تعالٰی سب کچھ اچھی طرح جانتاہے۔ (ت)
مسئلہ ۲۵۸ :  مرسلہ محمد حسن صاحب فاروقی ضلع پورینہ ڈاکخانہ اسلام پور     ۲۲ صفر  ۱۳۳۵ھ

سود خوار کے مکان کا کھانا درست ہے یانہیں ؟ اور جس مال میں کہ سود کا شبہہ ہو اس کا کھانا کیسا ہے؟ اوراگر زید تمام عمر سود کا مال جمع کرتا رہا اور اس کے بیٹے عمرو کو بخوبی معلوم کہ یہ مال تمام سود کا ہےتو اس صورت میں بعد مرنے زیدکے وہ مال عمرو کے حق میں حلال ہوسکتا ہے یا نہیں؟ اور در صورت نہ معلوم ہونے عمرو کے کہ یہ مال سود کا ہے یا کہ تجارت کا یا اور کوئی کمال حلال کا، مگر درحقیقت وہ مال سو د کا تھا، اگر وہ مال حلال سمجھ کر کھائے تو کون گنہگار ہوگا؟ فقط۔
الجواب : جو چیز بعینہٖ سود میں آئی ہو مثلا گیہوں یا چاول، اس کا کھانا بلا شبہہ حرام ہے۔ او ر اگر سود کے روپے سے خریدی گئی یوں کہ وہ روپیہ دکھا کر کہا گیا کہ اس کے بدلے دے دے اور پھر وہی روپیہ قیمت میں دے دیا تو یہ چیز بھی ناجائز ہوگئی، اور اگر ایسا نہیں تو حرمت نہیں، مگر سود خوار کے یہاں کھانے سے احترازمناسب ہے۔ اور شبہہ کے مال سے زیادہ احتراز چاہئے مگر حرمت نہیں جب تک معلوم نہ ہو،
بہ ناخذ مالم نعرف شیئا حراما بعینہ ہندیۃ ۱؎ عن الذخیریۃ عن محمد رحمہ اﷲ تعالٰی۔
  ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں جب تک کسی معین چیز کے حرام ہونے کو نہ پہچانیں، ہندیہ (فتاوٰی عالمگیری) میں ذخیرہ کے حوالے سے امام محمد رحمہ اللہ تعالٰی سے مروی ہے۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ  کتاب الکراھیۃ   الباب الثانی عشر   نورانی کتب خانہ پشاور   ۵ /۳۴۲)
وارث اگر جانتا ہے کہ فلاں روپیہ سود کاہے تو اسے لینا جائز نہیں مورث نے جس سے لیا تھا اسے واپس دے یا تصدق کرے اوراگر کسی معین روپے کی نسبت علم نہیں اتنا جانتاہے کہ اس میں اس قدر روپے حرام کے ہیں تو اتنا روپیہ مستحق کو پہنچائے، اوراگریہ بھی نہیں معلوم تو لینے والے پر وبال اور اس کے لئے حلال۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۹ : مرسلہ محمد تقی مقام بکسر متصل اسٹیشن ریلوے بتوسط حاجی رحیم بخش ۳۰ ربیع الاول شریف ۱۳۳۵ھ

پیشہ تصویر سے اکل وشرب کیسا ہے؟ فقط۔

الجواب :  تصویر حرام کے پیشہ سے اکل وشرب جائز نہیں کہ وہ کسب خبیث ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۶۰ و ۲۶۱ :  ازپیلی بھیت محلہ محمد شیر محمد متصل مارکیٹ گوشت مرسلہ حبیب احمد صاحب ۲۲/ ربیع الاول ۱۳۳۶ھ

(۱) ہندو کے ہاتھ کا بنایا ہوا کھانا یا شرینی وغیرہ کھانا یا پانی شربت وغیرہ پینا کیسا ہے؟ اور گڑ اور تیل اور گھی وغیرہ جن میں پانی نہیں جذب ہوتا ہے ان کا کھانا جائز ہے یا ناجائز ہے؟ کسی گاؤں میں جہاں مسلمان نہ ہو یا ریل کے اسٹیشن پر جہاں مسلمان نہ ہو کیا کرنا چاہئے، ایک واعظ نے کہا تھا کہ ہندو کے یہاں کھانے سے دل میں اندھیرا ہوتاہے اور ایک مرتبہ کھانے سے چالیس یوم تک دعا قبول نہیں ہوتی ، جب ایک دفعہ کھانے سے چالیس یوم دعا قبول نہیں ہوتی تو روز مرہ کھانے سے قلب بالکل سیاہ ہوجائے گا تو اس کھانے پر حرام قطعی ہونے کا فتوٰی ہونا چاہئے، امید کہ جواب مشرح تحریر فرمایا جائے۔ 

(۲) بے نمازی قطعی جسے کلمہ تک اچھی تک یاد نہ ہو اس کے ہمراہ کھانا جائز ہے یانہیں؟ اور گاؤں والے جو رشتہ دارہوں اور صفت مذکور سے موصوف ہوں ان سے کس طرح سلوک کیا جائے؟
الجواب

(۱)ہندو کے یہاں گوشت کھانا حرام ہے اور اور چیز میں فتوٰی جواز اور تقوٰی احتراز، امام محمد رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں :
بہ ناخذ مالم نعرف شیئا حراما بعینہ ۱؎۔
ہم اسی کواختیار کرتے ہیں جب تک کسی معین چیز کی حرمت کو نہ پہچانیں (ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ     کتاب الکراھیۃ   الباب الثانی عشر     نورانی کتب خانہ پشاور    ۵ /۳۴۲)
چالیس دن دعا قبول نہ ہونا محض غلط ہے اور ہندوستان میں رہ کر احتراز دشوار۔
ماجعل علیکم فی الدین من حرج ۲؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اللہ تعالٰی نے دین(اسلام) میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی، واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
 (۲؎ القرآن الکریم     ۲۲/ ۷۸)
 (۲) فاسقوں کے ساتھ سلوک میں سلف صالح کا عمل مختلف رہا ہے اور اس کامبنی مصلحت شرعیہ ہے جسے یہ جانے کہ نرمی سے راہ پر آئے گا اس سے ہدایت کے لئے میل جول کرے اور جسے یہ جانے کہ میرے قطع تعلق سے اس پر اثر پڑے گا اور گناہ چھوڑ ے گا اس سے ہدایت کے لئے قطع کرے مگر ماں باپ سے کہ ان سے قطع کی کسی طرح اجازت نہیں ۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۶۲: ا ز رائے پور چھتی گڑھ مرسلہ گوہر علی عرائض نویس نیاپارہ اکھاڑا 

شراب خواری کی نسبت کیا مسئلہ ہے؟

الجواب : شراب حرام ہے اور سب نجاستوں گندگیوں کی ماں ہے اس کے پینے والے کو دوزخ میں دوزخیوں کا جلتا لہو اور پیپ پلایا جائے گا۔ واللہ تعالی اعلم۔
Flag Counter