مسئلہ ۳۰:
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں اطاعت والدین وبرداران واجب ہے یا فرض؟ اور درصورت ارتکاب ان کے یہ گناہ کبیرہ مثلا زنا کرنا، چوری کرنا، داڑھی منڈانا،یاکتروانا، ترک اطاعت ہے یا اب بھی اطاعت کرنا چاہئے، اور اگر بعد ارتکاب کے لڑکا اپنے باپ سے یا چھوٹا بھائی بڑے بھائی سے کہے کہ داڑھی منڈانا یا زنا کرنا یاچوری کرنا چھوڑ دو ، اور اس کے جواب میں وہ کہے کہ یہ تو ضرور کروں گا۔ اس حالت میں طاعت کرے یانہیں؟ اور اگر وہ شخص تو بہ سے انکار کرے تو کافر ہوایانہیں؟ بینوا توجروا (بیان فرماؤ تاکہ اجر پاؤ۔ ت)
الجواب
اطاعت والدین جائز باتوں میں فرض ہے اگر چہ وہ خود مرتکب کبیرہ ہوں، ان کے کبیرہ کاوبال ان پر ہے مگر اس کے سبب یہ امور جائزہ میں ان کی اطاعت سے باہر نہیں ہوسکتا، ہاں اگر وہ کسی ناجائز بات کا حکم کریں تو اس میں ان کی اطاعت جائز نہیں۔
لاطاعۃ لاحد فی معصیۃ اﷲ تعالٰی ۱؎.
اللہ تعالٰی کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت (فرمانبرداری) نہیں۔ (ت)
(۱؎مسندامام احمد بن حنبل بقیہ حدیث الحکم بن عمرو الغفاری المکتب الاسلامی بیروت ۵ /۶۶)
ماں باپ اگر گناہ کرتے ہوں تو ان سے بہ نرمی وادب گزارش کرے اگر مان لیں بہتر ورنہ سختی نہیں کرسکتا بلکہ غیبت میں ان کے لئے دعا کرے، اور ان کا یہ جاہلانہ جواب دینا کہ یہ تو ضرور کروں گا یا توبہ سے انکار کرنا دوسرا سخت کبیرہ ہے مگر مطلقا کفر نہیں جب تک حرام قطعی کو حلال جاننا یا حکم شرعی کی توہین کے طو رپر نہ ہو اس سے بھی جائز باتوں میں ان کی اطاعت منع نہ کی جائے گی ہاں اگر معاذاللہ یہ انکار بروجہ کفر ہو تو وہ مرتد ہوجائیں گے اور مرتد کے لئے مسلمان پر کوئی حق نہیں رہا بڑا بھائی وہ ان احکام میں ماں باپ کا ہمسر نہیں، ہاں اسے بھی حق تعظیم حاصل ہے۔ اور بلاوجہ شرعی ایذا رسانی تو کسی مسلمان کی حلال نہیں، اور اللہ تعالٰی سب مخلوق سے زیادہ جانتاہے۔ (ت)
مسئلہ ۳۱: از پیلی بھیت کچہری کلکٹری مرسلہ جناب مولوی عرفان علی صاحب رضوی برکاتی بیسلپوری
۱۰ ذی الحجہ ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ :
اہل ہنود کے میلوں میں مثل دسہرہ وغیرہ میں جو مسلمان دیکھنے کی غرض سے جاتے ہیں کیا ان کی عورتیں نکاح سے باہر ہوجاتی ہیں؟ کیا تجارت پیشہ لوگوں کو بھی جانا ممنوع ہے؟
الجواب
ان کا میلہ دیکھنے کے لئے جانا مطلقا ناجائز ہے۔ اگر ان کا مذہبی میلہ ہے جس میں وہ اپناکفر وشرک کریں گے کفر کی آواز وں سے چلائیں گے جب تو ظاہر ہے اوریہ صورت سخت حرام منجملہ کبائر ہے پھر یہ بھی کفرنہیں اگر کفری باتوں سے نافر ہے ہاں معاذاللہ ان میں سے کسی بات کو پسند کرے یا ہلکا جانے تو آپ ہی کافر ہے اس صورت میں عورت نکاح سے نکل جائے گی اور یہ اسلام سے ورنہ فاسق ہے۔ اور فسق سے نکاح نہیں جاتا، پھر بھی وعید شدید ہے او ر کفریات کو تماشا بنانا ضلال بعید ہے۔
حدیث میں ہے :
من کثر سواد قوم فہومنہم ومن رضی عمل قوم کان شریک من عمل بہ، رواہ ابویعلی ۱؎ فی مسندہ وعلی بن معبدفی کتاب الطاعۃ والمعصیۃ عن عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ورواہ الامام عبداﷲ بن المبارک فی کتاب الزھد عن ابی ذر رضی اﷲ تعالٰی عنہ من قولہ وھو عند الخطیب عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بلفظ من سود مع قوم فہو منہم ۲؎۔
جو کسی قوم کا جتھا بڑھائے وہ انھیں میں سے ہے اور جو کسی قوم کا کوئی کام پسند کرے وہ اس کام کرنے والوں کا شریک ہے (امام ابویعلی نے اپنی مسند میں اس کو روایت فرمایا اور علی بن معبد نے کتاب الطاعۃ والمعصیۃ میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ کی سند سے حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام سے اسے روایت کیا اور امام عبداللہ بن مبارک علیہ الرحمۃ نے کتاب الزہد میں حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے قول سے اس کو روایت کیا جبکہ وہ خطیب کےنزدیک حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ کےحوالے سےحضور علیہ الصلٰوۃ والسلام سے ان الفاظ کے ساتھ مروی ہے جو کسی قوم کے ساتھ ہوکر ان کا جتھا بڑھائے تو وہ انہی میں شمار ہے۔ ت)
(۱؎ نصب الرایۃ لاحدیث الہدایۃ بحوالہ ابی یعلی وعلی بن معبد کتاب الجنایات المکتبہ الاسلامیہ ۳ /۳۴۶)
(۲؎ کنزالعمال بحوالہ حن عن انس حدیث ۲۴۶۸۱ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۹ /۱۰)
(تاریخ بغداد ترجمہ عبداللہ بن عتاب ۴۱۶۷ دارالکتاب العربی بیروت ۱۰ /۴۰)
اور اگر مذہبی میلہ نہیں لہو ولعب کا ہے جب بھی ناممکن کہ منکرات وقبائح سے خالی ہو اور منکرات کاتماشا بنانا جائز نہیں۔
ردالمحتارمیں ہے :
کرہ کل لہو والاطلاق شامل لنفس الفعل واستماعہ ۱؎۔
ہرکھیل مکروہ یعنی ناپسندیدہ کام ہے اور اس کو مطلق (بغیر کسی قید) ذکر کرنا اس کے کرنے اور سننے دونوں کو شامل ہے۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الحظر والاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۵۳)
طحطاوی صدر کتاب بیان علوم محرمہ ذکر شعبدہ میں ہے :
یظہر من ذٰلک حرمۃ التفرج علیہم لان الفرجۃ علی المحرم حرام۔ ۱؎۔
اس سے کھیل (تماشا) پر خوشی منانے کی حرمت ظاہر ہوتی ہے کیونکہ کسی حرام کام پر خوشی منانا بھی حرام ہے۔ (ت)
یعنی شعبدہ باز بھان متی بازیگر کے افعال حرام ہے اور اس کا تماشا دیکھنا بھی حرام ہے کہ حرام کو تماشا بنانا حرام ہے خصوصا اگر کافروں کی کسی شیطانی خرافات کو اچھا جانا تو آفت اشد ہے اور اس وقت تجدید اسلام وتجدید نکاح کا حکم کیا جائے گا۔
غمز العیون میں ہے :
اتفق مشائخنا ان من رأی امر الکفار حسنا فقد کفر حتی قالوا فی رجل قال ترک الکلام عنداکل الطعام حسن من المجوس اوترک المضاجعۃ عندھم حال الحیض حسن فہو کافر ۳؎۔
ہمارے مشائخ کرام کا اس پر اتفاق ہے کہ جس نے کافروں کے کسی کام کو اچھا سمجھا تو وہ کافر ہوگیا انھوں نے یہاں تک شدت اختیار فرمائی کہ اگر کسی شخص نے (آتش پرستوں کے بارے میں کہا کہ ان کا طعام کھانے کے وقت خاموش رہنا اچھی بات ہے اور اسی طرح ایام ماہواری میں عورت کے پاس نہ لیٹنا عمدہ بات ہے تو وہ کافر ہے، (یعنی اہل کفر کی بات کو بھی اچھا کہنا یا سمجھنا خالص اسلام میں موجب کفر ہے) ۔ (ت)
(۳؎ غمز العیون البصائر مع الاشباہ والنظائر الفن الثانی اداراۃ القرآن والعلوم الاسلامی کراچی ۱/ ۲۹۵)
اوراگر تجارت کے لئے جائے تو اگر میلہ ان کے کفروشرک کاہے جانا ناجائزوممنوع ہے کہ اب وہ جگہ ان کا معبد ہے اور معبدکفار میں جانا گناہ ۔ تیمیہ پھر تتارخانیہ پھر ہندیہ میں ہے :
یکرہ للمسلم الدخول فی البیعۃ والکنسیۃ وانما یکرہ من حیث انہ مجمع الشیاطین ۴؎۔
یہودیوں کی عبادت گاہ اور عیسائیوں کے گرجے (چرچ) میں کسی مسلمان کا داخل ہونا مکروہ ہے اس لئے کہ وہ شیاطین کے جمع ہونے کی جگہ ہے۔ (ت)
(۴؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب الرابع عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۴۶)
بحرالرائق میں ہے :
والظاھر اٰنہا تحریمیۃ لانہا المرادۃ عند اطلاقہم ۱؎۔
ظاہر یہ ہے کہ کراہت سے کراہۃ تحریمی مرا دہے کیونکہ ''عندالاطلاق'' وہی مراد ہواکرتی ہے۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار بحوالہ بحرالرائق کتاب الصلٰوۃ مطلب تکرہ الصلٰوۃ فی الکنسیۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۲۵۴)
بلکہ ردالمحتار میں ہے :
فاذا حرم الدخول فالصلٰوۃ اولی ۲؎۔
جب وہاں جانا اور داخل ہونا حرام ہے تو نما پڑھنا بدرجہ اولٰی حرام ہے۔ (ت)
(۲؎ردالمحتار بحوالہ بحرالرائق کتاب الصلٰوۃ مطلب تکرہ الصلٰوۃ فی الکنسیۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۲۵۴)
اوراگر لہو ولعب کا ہے اور خود اس سے بچے نہ اس میں شریک ہو نہ اسے دیکھے نہ وہ چیزیں بیچے جو ان کے لہو ولعب ممنوع کی ہوں تو جائز ہے پھر بھی مناسب نہیں کہ ان کا مجمع ہر وقت محل لعنت ہے تو اس سے دوری ہی میں خیر وسلامت ہے ولہذا علماء نے فرمایا کہ ان کے محلہ میں ہو کر نکلے تو جلد لمکتا ہوا گزر جائے،
غنیہ ذوی الاحکام پھر فتح اللہ المعین ، پھر طحطاوی میں ہے :
ھم محل نزول اللعنۃ فی کل وقت ولا شک انہ یکرہ السکون فی جمیع یکون کذٰلک بل وان یمر فی امکنتہم الا ان یھرول ویسرع وقدردت بذٰلک اٰثار ۳؎۔
اس لئے کہ ہر وقت مقامات کفار پر خدا کی لعنت برستی ہے۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ایسی مجلس (اور جگہ) میں ٹھہرنا مکروہ ہے (ناپسندیدہ امر) ہے بلکہ ان کے مقامات کے قریب جب کبھی گزرنا پڑے تو جلدی سے دوڑ کر گزرے ، چنانچہ آثار یہی وارد ہواہے۔ (ت)
اوراگر خود شریک ہویا تماشا دیکھے یا ان کے لہو وممنوع کی چیز بیچے تو آپ ہی گناہ وناجائز ہے،
درمختارمیں ہے :
ہم نے ''النہر الفائق'' کی طرف نسبت کرتے ہوئے پہلے بیان کردیا ہے جس کے ساتھ ''بعینہٖ'' گناہ قائم ہو اس کا فروخت کرنا مکروہ تحریمی ہے لیکن اگر ایسا نہ ہو تو پھر کراہۃ تنزیہی ہوگی (ت)
(۴؎ درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۴۷)
فتاوی عالمگیری میں ہے :
اذا ارا دالمسلم ان یدخل دارالحرب بامان للتجارۃ ومعہ فرسہ وسلاحہ وھو لایرید بیعہ منہم لم یمنع ذٰلک منہ ۱؎۔
جب کوئی مسلمان دارحرب (دار کفر) میں کاروبار کے لئے جاناچاہے اور اس کے ساتھ گھوڑا اور ہتھیار وغیرہ ہوں او روہ انھیں (وہاں) بیچنے کا ارادہ نہ رکھتاہو تو اسے نہ روکا جائے۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب السیر الباب السادس نورانی کتب خانہ پشاور ۲ /۲۳۳)
ہاں ایک صورت جواز مطلق کی ہے وہ یہ کہ عالم انھیں ہدایت اور اسلام کی طرف دعوت کے لئے جائے جبکہ اس پر قادر ہو یہ جانا حسن ومحمود ہے اگر چہ ان کامذہبی میلہ ہو ایسا تشریف لے جانا خود حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے بارہا ثابت ہے مشرکین کا موسم بھی اعلان شرک ہوتا لبیک میں کہتے :
لاشریک لک الا شریکا ل ھو ک تملکہ وماملک۔
تیرا کوئی شریک نہیں مگر وہ شریک جس کاتو مالک ہے مگر وہ تیرا مالک نہیں۔ (ت)
جب وہ سفہاء لاشریک تک پہنچے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے :
ویلکم قط قط
خرابی ہو تمھارے لئے بس بس یعنی آگے استثنا نہ بڑھاؤ، واﷲ تعالٰی اعلم۔ (اور اللہ تعالٰی سب سے زیادہ علم رکھتاہے۔ ت)