Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۱(کتاب الحظر والاباحۃ )
139 - 144
مسئلہ ۲۴۹ تا ۲۵۱ :  از بنارس چھاؤنی محلہ دبٹوری  محال تھانہ سکرور رسیدہ مومولوی عبدالوہاب بروز چہارشنبہ بتاریخ ۲۱ صفر المظفر ۱۳۳۴ھ

(۱) یہ کہ اگر کسی شخص کو دعوت دے کر بلائے اور وہ شخص دعوت کھا کر کھانے میں عیب نکالے تو وہ شخص گنہگارشرعا ہے یانہیں۔ جائز کہ نہیں۔ مثلا کہے کہ گھی کم ہے مرچ زیادہ ہے۔

(۲) یہ کہ کسی مر دمسلمان کا سر برہنہ ہوکر کھانا کھانا ازروئے شرع شریف درست ہے یانہیں؟ اور اس شخص کے ساتھ جو سر برہنہ کھاتاہو شیطان کھاتاہے یانہیں؟ اور خلاف سنت ہے یانہیں؟

(۳) یہ کہ اگر کوئی شخص کسی ایک شخص کی دعوت کرے تو چند آدمیوں کو لے کر اس شخص کادعوت میں جانا اور ان لوگوں کو بھی مجبور کرکے دعوت کھلانا جائز ہے یا نہیں حالانکہ یہ لوگ بلادعوت ہیں؟
الجواب: 

(۱) کھانے میں عیب نکالنا اپنے گھر پر بھی نہ چاہئے مکروہ وخلاف سنت ہے عادت کریمہ یہ تھی کہ پسند آیا تو تناول فرمایا ورنہ نہیں اور پرائے گھر عیب نکالنا تو مسلمانوں کی دل شکنی ہے اور کمال حرص و بے مروتی پر دلیل ہے۔ گھی کم ہے یا مزہ کا نہیں یہ عیب نکالنا ہے اور اگر کوئی شے اسے مضر ہے اسے نہ کھانے کے عذر کے لئے اس کا اظہار کیا نہ کہ بطور طعن وعیب، مثلا اس میں مرچ زائد ہے میں اتنی مرچ کا عادی نہیں تو یہ عیب نکالنا نہیں اور اتنا بھی بے تکلفی خاص کی جگہ ہو اور اس کے سبب دعوت کنندہ کو اور تکلیف نہ کرنی پڑے مثلا دو قسم کا سالن ہے ایک میں مرچ زائد ہے اور یہ عادی نہیں تو اسے نہ کھائے اور وجہ پوچھی جائے بتادے، اور اگر ایک ہی قسم کا کھانا ہے اب اگر نہیں کھاتا تو دعوت کنندہ کو اس کے لئے کچھ اور منگانا پڑے گا اسے ندامت ہوگی اور تنگدست ہے تو تکلیف ہوگی، ایسی حالت میں مروت یہ ہے کہ صبر کرے اور کھائے اور اپنی اذیت ظاہرنہ کرے، واللہ تعالٰی اعلم۔
 (۲) جو بسم اللہ کہہ کر کھانا کھاتاہے شیطان اس کے ساتھ نہیں کھا سکتا اور جو بغیر بسم اللہ کھائے شیطان اس کے ساتھ کھائے گا اگر چہ سر پر سوکپڑے ہوں، ننگے سر کھانا، ہنود کی رسم ہے اور خلاف سنت ہے ہاں کوئی عذر ہو تو حرج نہیں۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
 (۳) بلا دعوت جو دعوت میں جائے اسے صحیح حدیث میں فرمایا :
دخل سارقا وخرج معیرا  ۱ ؎
چور بن کر گیااور لٹیرا ہوکرنکلا۔
 (۱؎ سنن ابی داؤد     کتاب الاطعمۃ باب ماجاء فی اجابۃ الدعوۃ     امین کمپنی کراچی     ۲ /۱۶۹)
خصوصا جبکہ دعوت عام نہ ہو تو معہود ومعروف سے زائد آدمی لے جانا سخت ناجائز ہے مثلا جو لوگ عادی ہیں کہ بے آدمی کے ساتھ لئے ہوئے کہیں نہیں جاتے ان کی جو دعوت کرے گا آپ جانے گا کہ ساتھ آدمی ہوگا
  المعروف کالمشروط
 (جو بات لوگوں کے عرف اور واج میں مشہور ہے وہ طے شدہ شرط کی طرح ہے۔ ت)
ہاں اگر کسی بے تکلفی والے نے دعوت کی اور کچھ حاجتمندہیں کہ یہ ان کا ساتھ لے گیااور ان کا بار اس پر نہ پڑے گا خواہ یوں کہ دسترخوان وسیع ہے اور دل فراخ یا یوں کہ ان کی کفالت یہ خود کرے گا اور اسے ناگوار نہ ہوگا تو حرج نہیں جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ تعالی عنہما نے غزوہ خندق میں حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی دعوت کی اور دو صاحبوں کے قابل کھانا پکایا، جب یہ دعوت کو عرض کرنے گئے ہیں حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے بآواز بلند ارشاد فرمایا کہ اہل خندق ! جابر تمھاری ضیافت کرتاہے، وہ ایک ہزار صحابہ کرام تھے رضی اللہ تعالی عنہم، اور جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے فرمایا : جب تک ہم تشریف نہ لائیں کھانا نہ اتار ا جائے ا
و کما قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم
 (جیساکہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ گھبرائے ہوئے اپنے گھر تشریف لائے اور اپنی زوجہ مقدسہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے حال بیان کیا کہ یہاں دو ہی آدمیوں کے قابل کھانا ہے اور حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم مع ایک ہزار صحابہ کے تشریف لا تے ہیں، ان بی بی نے کہا : آپ کو اس کی کیا فکر ہے جو لاتے ہیں وہی سامان فرمانے والے ہیں۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم تشریف فرما ہوئے  آٹے اور ہانڈی میں لعاب دہن اقدس ڈالا اور ارشاد فرمایا کہ روٹی پکانے والی بلالو اور ہانڈی چولھے پر رہنے دو۔ اس قلیل آٹے اور گوشت سے ایک ہزار صحابہ کو پیٹ بھر کر کھلادیا اور ہانڈی ویسا ہی جوش مارتی رہی اور آٹا ذرا کم نہ ہوا  ۱؎۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
 (۱؎ صحیح البخاری         کتاب المغازی باب غزوۃ الخندق     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲ /۲۸۹)
مسئلہ ۲۵۲: مرسلہ شیخ احمد از بمبئی معرفت حکمت یار خاں بریلی بروز دوشنبہ ۱۱/ ربیع الاول شریف ۱۳۳۴ھ ملفوظ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص قمار باز جس کا پیشہ سوائے جوا کے اور کچھ نہ ہو، یا کوئی طوائف ناچنے گانے والی یا کوئی کسبی حرام پیشہ بارھویں شریف یا گیارھویں شریف میں آنحضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اور حضرت غوث اعظم قدس سرہ، کی نیاز کرے اس کا کھانا شرعا جائز ہے یانہیں؟ بحوالہ کتب معتبرہ ارشاد فرمائیں، بینوا توجروا (بیان فرمائیے اجر پائیے۔ ت)
الجواب : جس کا پیشہ محض حرام کا ہو اس سے مخالطت ویسے ہی نہ چاہئے۔
قال اﷲ تعالٰی واما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکرٰی مع القوم الظلمین ۱؎۔
اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا: اگر شیطان تمھیں بھلاوے میں ڈال دے تو پھر یاد آنے کے بعد ہر گز ظالموں کے پاس مت بیٹھو۔ (ت)
 (۱؎ القرآن الکریم      ۶ /۶۸)
اس کے یہاں کھانا اور زیادہ معیوب ہے مگر مذہب صحیح میں نفس طعام حرام نہیں سوا اس صورت کے کہ وہ خود اسے وجہ حرام میں ملاہو مثلا اجرت غنایا زنا یا رشوت زانیہ میں ناج دیا گیا وہ ناج اس کھانے میں ہے یا اس نے اسے زر حرام سے خریدا اور خریداری میں عقد ونقد اسی مال حرام پر جمع ہوئے مثلا وہ زر حرام دکھا کر کہا اس کے عوض دے دو یہ تو حرام پر عقد ہو اپھر جب اس نے دے دیا وہی زر حرام ثمن میں دیا یہ حرام کانفد ہوا ان دونوں صورتوں میں وہ کھانا حرام ہے ورنہ نہیں۔
بہ ناخذ مالم نعرف شیئا حرام بعینہ ھندیۃ ۲؎ عن الذخیرۃ عن محمد رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
ہم اس کو اختیار کرتے ہیں جب تک کسی معین شے کے متلعق حرام ہونے کو نہ جانیں، فتاوٰی ہندیہ بحوالہ ذخیرہ، حضرت امام محمد رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے۔ (ت)
  (۲؎ فتاوٰی ہندیۃ     کتاب الکراھیۃ الباب الثانی عشر     نورانی کتب خانہ پشاور    ۵ /۳۴۲۹)
مسئلہ ۲۵۳: مسئولہ اشرف علی طالب علم بنگالی مدرسہ اہلسنت وجماعت بروز پنچشنبہ ربیع الآخر ۱۳۳۴ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے ایک رنڈی سے نکاح کرلیا ہے اور اس رنڈی کا مال اسباب بھی اپنے مکان پر لے آیا ہے اب وہ مال طیب ہوسکتاہے یا نہیں اور اس کے گھر میں کھانا پینا کیساہے اور اس شخص نے اپنا مال بھی اس رنڈی کے مال میں ملادیا ہے۔ بیان کرو ثواب پاؤ گے۔
الجواب : وہ مال یوں ہر گز طیب نہیں ہوسکتا اور اس نے اپنا مال اس سے ملاکر یہ بھی خبیث کردیا اس کے یہاں کھانا پینا نہ چاہئے جبکہ رنڈی کا مال غالب ہو اور اگر معلوم ہو کہ یہ مال جو سامنے آیا ہے رنڈی کا مال ہے جب تو اس کا کھالینا عین حرام ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۴ : بروز شنبہ بتاریخ ۲/ جمادی الاولٰی شریف ۱۳۳۴ھ

کیا حکم ہے شرع مطہرہ کا اس میں کہ دعوت طعام کون سی سنت ہے کہ کس دعوت طعام سے انکار کرنا اور قبول نہ کرنا گناہ ہے ؟ بالتفصیل ارشاد ہو، بینوا توجروا (بیان فرمائے اجر پائے۔ ت)
الجواب : دعوت ولیمہ کا قبول کرناسنت مؤکدہ ہے جبکہ وہاں کوئی معصیت مثل مزامیر وغیرہا نہ ہو نہ اور کوئی مانع شرعی ہو، اور اس کا قبول وہاں جانے میں ہے، کھانے نہ کھانے کا اختیار ہے باقی عام دعوتوں کا قبول افضل ہے جبکہ نہ کوئی مانع ہو نہ کوئی ا س سے زیادہ اہم کام ہو، اور خاص اس کی کوئی دعوت کرے تو قبول کرنے نہ کرنے کا اسے مطلقااختیار ہے۔
ردالمحتارمیں ہے :
دعی الی الولیمۃ ھی طعام العرس وقیل الولیمۃ اسم لکل طعام وفی الہندیۃ عن التمرتاشی اختلف فی اجابۃ الدعوۃ وقال بعضھم واجبۃ لایسع ترکھا و قال العامۃ ھی سنۃ والا فضل ان یجیب اذا کانت ولیمۃ و الا فھو مخیر والاجابہ افضل لان فیھا ادخال السرور فی قلب المؤمن واذا اجاب فعل ما علیہ اکل اولا والافضل ان یأکل لو غیر صائم وفی البنایۃ اجابۃ الدعوۃ سنۃ ولیمۃ اوغیرہا و امادعوۃ یقصد بہا التطاول وانشاء الحمد او ما اشبہہ فلا ینبغی اجابتھا لاسیما اھل العلم اھ ومقتضاہ انھا سنۃ مؤکدۃ بخلاف غیرھا وصرح شراح الہدایۃ بانھا قریبۃ من الواجب وفی التاتارخانیۃ عن الینابیع لو دعی الی دعوۃ فالواجب الاجابۃ ان لم یکن ھنالک معصیۃ ولا بدعۃ والامتناع اسلم فی زماننا الا اذا اعلم یقینا ان لا بدعۃ ولا معصیۃ اھ والظاھر حملہ علی غیر الولیمۃ لما مر تأمل اھ ۱؎ واﷲ تعالٰی اعلم۔
کسی کو ولیمہ میں شمولیت کی دعوت دی گئی، اور ولیمہ شادی کی دعوت کا نام ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا کہ ہر دعوت طعام ولیمہ کہلاتی ہے۔ فتاوی عالمگیری میں اما م تمرتاشی سے روایت ہے کہ دعوت قبول کرنے میں اختلاف کیا گیا (یعنی اس کی شرعی حیثیت ونوعیت میں ماہرین قانون فقہ کا اختلاف ہے) چنانچہ بعض ائمہ کے نزدیک دعوت قبول کرنا شرعا واجب ہے، لہذا اس کے ترک کی کوئی گنجائش نہیں لیکن علماء کرام نے فرمایا کہ وہ سنت ہے ۔ اور افضل (اور عمدہ) یہ ہے کہ دعوت طعام ضرور قبول کرے بشرطیکہ دعوت ولیمہ ہو ورنہ اسے اختیار ہے کہ (یعنی دعوت قبول کرنے نہ کرنے میں وہ خود مختار ہے) لیکن اجابت بہتر ہے۔ کیونکہ اس میں ایک مسلمان کے دل کی خوشنودی ہے (کہ اس طرح کرنے سے اس کودلی مسرت ہوگی جو کہ اسلام میں مطلوب ہے) اور جب دعوت قبول کرلے تو پھر جو کچھ ااس کی ذمہ داری ہے اسے نبھائے کھانا خواہ کھائے یا نہ کھائے، لیکن زیادہ بہتر یہ ہے کہ اگر روزہ دارنہ ہو تو کھانا ضرور کھائے، اور البنایۃ شرح الہدایۃ میں ہے کہ اجابت دعوت طعام سنت ہے خواہ دوعوت ولیمہ ہو یا کوئی اور دعوت ہو، رہی وہ دعوت کہ جس سے نام ونمود، نمائش اور فخر وریا اور قصیدہ گوئی وغیرہ مقصود ہو، تو پھر اس قسم کی دعوت کو قبول نہ کرنا اور مسترد کردینا ہی زیادہ مناسب ہےخصوصا اہل علم حضرات کے لئے (یہی زیادہ موزوں ہے) اھ اور اس کا مقتضا یہ ہے کہ دعوت ولیمہ سنت مؤکدہ ہے جس کے علاوہ یہ حکم نہیں البتہ شارحین ہدایہ نے یہ تصریح فرمائی کہ دعوت کا حکم واجب کے قریب ہے۔ تاتارخانیہ میں ینابیع کے حوالے سے منقول ہے کہ اگر کسی کو شمولیت دعوت کے لئے مدعو کیا جائے تو اسے قبول کرنا واجب ہے بشرطیکہ وہاں کوئی گناہ اور بدعت کا کام نہ ہو، اور ہمارے زمانے میں زیادہ سلامتی اسی میں ہے کہ دعوت میں شمولیت سے بازرہے۔ ہاں البتہ اگر اسے قوی یقین ہو کہ وہاں کوئی گناہ اور بدعت نہیں (توپھر ضرور شریک ہو) اور ظاہر یہ ہے کہ اسے غیر ولیمہ پر حمل کیا جائے۔ اس وجہ سے جو بات گزر چکی ۔ غور وفکر کیجئے اھ واللہ تعالٰی اعلم۔
 (۱؎ردالمحتار     کتاب الحظروالاباحۃ     دار احیاء التراث العربی بیروت    ۵ /۲۲۱)
Flag Counter