مسئلہ ۲۴۲: ۱/جمادی الاخرٰی ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین درمیان اس مسئلہ کے کہ زید خاندان قادریہ وچشتیہ میں خلیفہ ہے اور مولو دخواں بھی ہے، اورعلم فارسی میں دخل رکھتاہے۔ علاوہ ازیں کلام نعتیہ اس کی تصنیفات بھی موجود ہیں اور حاجی بھی ہے اور یہ زید کو علم تھا کہ بکرقادیانی ہے دانستہ اس کے مکان پر واسطے کھانا کھانے گیا لہذا اس کی نسبت ازروئے شرع شریف کاکیاحکم ہے؟ اورزید سے محفل مولود شریف پڑھوانا کیساہے؟ بینوا توجروا۔
الجواب
زید گنہگار ہوا اس نے حکم شریعت کے خلاف کیا۔ا س سے علانیہ توبہ لی جائے، اگر نہ مانے تو اس سے محفل شریف نہ پڑھوائی جائے، اللہ تعالٰی فرماتاہے:
واما ینسینک الشیطان فلا تقعد بعد الذکرٰی مع القوم الظلمین ۳؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اور اگر تمھیں شیطان بھلادے تو پھر یاد آنے کے بعد ظالموں کے پاس مت بیٹھو، اور اللہ تعالٰی سب کچھ اچھی طرح جانتاہے (ت)
(۳؎ القرآن الکریم ۶ /۶۸)
مسئلہ ۲۴۳: مرسلہ ہیڈماسٹر اسکول نمبر ۸ شہر تھانہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ شہر کی مارکیٹ جس میں گوشت بکتا ہے ا س میں ایک مجوسی نے سوئر کاٹا اور صاف کیا، لوگوں نے گوشت لینا بند کردیا، اور مسلمانوں کا خیال ہے کہ جب تک اس مارکیٹ کا فرش اور وہ مقام جس پر ہم کو شک ہے نکال نہ دیا جائے ہم گوشت اس مقام ہر گز نہ خریدیں گے۔ کیا آپ اجازت دیں گے کہ فرش وغیرہ مشکوک اشیاء کو خارج کردیا جائے یاکوئی دوسری صورت اختیار کی جائے تاکہ شک رفع ہواور وہ کیاہے۔ بینواتوجروا
الجواب : اسی ناپاک ملعون جانور کی نجاست مثل پاخانے کے ہے ہر نجاست دھو کر زائل کردینے سے پاک ہوجاتی ہے ا س کے لئے فروش وغیرہ بالکل نکال دینا ضروری نہیں اور نکال دیاجائے تو اور بہتر ہے مگر یہاں زیادہ قابل توجہ یہ ہے کہ مجوسی کے ہاتھ کی بکری ذبح کی ہوئی بھی سور کے مثل ہے۔ اور جہاں مجوسی ذابح ہویا مجوسی بھی ذابح ہواور اس کا کاٹاہوا اور مسلمان کا ذبیحہ دلیل صحیح شرعی سے متمیز نہ ہوں وہاں سے کسی حلال جانور کا گوشت خریدنا،کھانا، کھلانا سب حرام ہے۔ یونہی اگر مجوسی گوشت بیچتا ہواور حلفا کہے کہ یہ جانور مسلمان کے ہاتھ کا ذبح کیا ہوا ہے جب بھی اس کا خریدکرنا حرام ہے مگریہ کہ مسلمان نے ذبح کیا اور وہ یا اورمسلمان اس وقت سے خریداری کے وقت تک اس جانور کو دیکھتا رہا یا کسی وقت مسلمان کی نگاہ سے غائب نہ ہوا اور وہ مسلمان کہے کہ یہ میرا فلاں مسلمان کا ذبح کیاہوا ہے اس وقت خریداری جائز ہے،
حدیث میں مجوسی کی نسبت ہے :
سنوابھم سنۃ اھل الکتاب غیرناکحی نسائھم ولا اٰکل ذبائحھم ۱؎۔
ان (آتش پرستوں) سے اہل کتاب کے روش اورطریقہ اخیتار کرو سوائے اس کے کہ ان کی عورتوں سے نکاح نہ کرو اور نہ ان کا ذبیحہ کھاؤ۔ (ت)
فی التتارخانیہ عن جامع الجوامع لابی یوسف من اشترٰی لحما فعلم انہ مجوسی وارادالرد فقال ذبحہ مسلم یکرہ اکلہ اھ ومفادہ ان مجرد کون البائع مجوسیا یثبت الحرمۃ ۲؎ واﷲ تعالٰی اعلم۔
تتارخانیہ میں جامع الجوامع سے حضرت امام ابویوسف سے روایت ہے کہ جس شخص نے گوشت خریدا پھر اسے معلوم ہوا فروخت کرنے والا تو آتش پرست ہے تو اس نے واپس کرنے کا ارادہ کیا تو اس نے جھٹ کہہ دیا کہ مسلمان نے اس کو ذبح کیا ہے تو اس گوشت کا کھانا مکروہ ہے اھ پس اس کا حاصل یہ ہوا کہ صرف بیچنے والے کا آتش پرست ہونا (گوشت میں )حرمت پیدا کردیتاہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۲؎ ردالمحتار کتا ب الحظروالاباحۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۱۹)
مسئلہ ۲۴۴ تا ۲۴۶ : مرسلہ منشی حاجی محمد ظہور خان ۱۷ جمادی الآخرہ ۱۳۳۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں :
(۱)چند سوداگر مسلمان ایسئے ہیں کہ تجارت بھی کرتے ہیں اور سود بھی کھاتے ہیں اور زمیندار بھی ہیں ایسوں کے یہاں کا کھانا پینااور لڑکی لڑکوں کا بیاہنا جائزہے یانہیں؟
(۲) ہنود عام طو ر پر سود کھاتے اور زمینداری ودکانداری بھی کرتے ہیں ان کے یہاں کا کھانا جو بسبب رسم بھیجتے ہیں جائز ہے یانہیں؟ اگر ہر دو شخصوں کے یہاں کا کھانا آئے اورنہ کھایا جائے تو کس کو دیا جائے؟
(۳)ایک شخص بسبب اپنی ضرورتوں کے روپیہ لے کر سود دیتاہے اس کے یہاں کا کھانا کیسا ہے؟ بینوا توجروا
الجواب
(۱) اگر معلوم ہو کہ یہ کھانا جوہمارے سامنے آیا بعینہٖ سود کا ہے مثلا سود میں چاول لئے تھے یا چاولوں کی کٹوتی بغیر شرائط شرعی کی تھی وہی چاول پکائے ہیں تو اس کا کھانا جائز نہیں۔ اور اگر مال خریدا ہواہے اگر چہ سودی روپے سے تو اس کا کھانا حرام نہیں کہ اس کا وہ روپیہ حرام تھا خریدنا حرام نہ تھا اور کچھ معلوم نہ ہو جب بھی حکم حلت ہے۔ یہ تو اصل اس کھانے کاحکم تھا باقی ایسے لوگوں سے اتحاد میل جول خلا ملا نہ چاہئے۔
اللہ تعالٰی فرماتاہے :
واماینسینک الشیطن فل اتقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ۱؎۔
اگر تمھیں شیطان بھلاوے میں ڈال دے تو پھر یاد آنے کے بعد ظالموں کے پاس مت بیٹھو (ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۶ /۶۸)
اور یہیں سے ظاہر ہوا کہ ان سے شادی بیاہت کا رشتہ ہرگزنہ کیا جائے کہ اس سے بڑھ کر میل جول اور کیا ہوگا، واللہ تعالٰی اعلم۔
(۲) ہندو کے یہاں کا گوشت حرام ہے۔ یونہی اگر گھی میں چربی ملی ہوئی ہو تو ہندو سے خریدنا بھی حرام ہے اور اگر ان کی پوجا کا کھانا ہو تو مطلقا لینا منع ہے۔ اوراگرمفاسد سے خالی ہو تو لے لینے بھی حرج نہیں اور نہ لینا بہتر۔ اور اگر لینے میں اسلام کی طرف اس کی رغبت کی امید ہے تو لینا بہتر ، جو کھانا ان دونوں جوابوں میں ناجائز بتایا اس کا لینا ہی منع ہے لے لیا ہو تو واپس دے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
(۳) جو خود سود نہیں کھاتاصحیح ضرورت کے سبب سودی قرض لیتا ہے اس کے یہاں کھانے میں حرج نہیں ۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۴۷ و ۲۴۸ : از ضلع نینی تال کاشی پور ڈاکٹر اشتیاق علی بروز یکشنبہ ۱۸ / صفر المظفر ۱۳۳۴ھ
مخدومی مکرمی جناب مولانا صاحب دام اقبالہ، بعد آداب کے معلوم ہو کہ میں خیریت سے ہوں اور آپ کی خیریت وعافیت کاخواہاں، باعث تکلیف یہ ہے کہ برائے نوازش ذیل سوالوں کا جواب بھیج دیں گے تو بندہ بہت مشکور ہوگا۔
(۱) اہل کتاب کے ساتھ کھانا کھانا جائز ہے یانہیں؟ اہل کتاب عیسائی ہو یا انگریز، ان کا باورچی مسلمان ہو یا عیسائی یہ بات ضرور ہے کہ یہ لوگ شراب پیتے ہیں اور بد جناورکھاتے ہیں۔
(۲)اہل ہنود کے ہاتھ کا پکاہوا کھانا جائز ہے یانہیں؟
الجواب :
(۱) یہاں عیسائیوں کا خصوصا انگریزوں کے ساتھ کھانا کھاناجائزنہیں۔ حدیث میں ہے :
لاتوأکلو ھم ولاتشاربوھم ۱؎۔
نہ ان کے ساتھ کھانا کھاؤ نہ ان کے ساتھ پانی پیو۔
(۱؎ کنز العمال برمزعق عن انس حدیث ۳۲۴۶۸ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱/ ۵۲۹)
ان کے برتن نجاست سے خالی نہیں ہوتے، اور ان کا باورچی اگر چہ مسلمان ہو ناپاک گوشت پکاتاہے۔
ومن یرتع حول الحمی یوشک ان یقع فیہ ۲؎۔ وھو تعالٰی اعلم۔
جو کوئی چراگاہ کے آس پاس اپنے جانور چرائے تو قریب ہے کہ چراگاہ میں جاپڑے۔ وھو تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۲؎ صحیح البخاری کتاب البیوع باب الحلال بین والحرام بین الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۷۵)
(صحیح مسلم کتاب المسقات باب اخذ الحلال وترک الشہبات قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۱۸)
(۲) ہندوؤں کے ہاتھ پکاہوا گوشت حرام ہے مگر اس صورت میں کہ مسلمان نے ذبح کیا اور اپنی آنکھ سے غائب ہونے نہ دیا یا اس کے سامنے پکایا اور باقی کھانے اس کے پکائے ہوئے جائز ہیں۔ جبکہ پانی یا برتن میں خلط نجاست معلوم نہ ہو، واللہ تعالٰی اعلم۔