| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۱(کتاب الحظر والاباحۃ ) |
مسئلہ ۲۳۸ : از نجیب آباد ضلع بجنور مسئولہ جناب محمد احمد حسین خاں صاحب ۷ ذی الحجہ ۱۳۲۹ھ کسی شخص کی ضیافت خواہ مسلمان ہو خواہ کافرنہ کرنی چاہئے اور کس شخص کی نامنظور کرنی چاہئے اور کیوں؟ بینوا توجروا
الجواب : مرتد کی نہ دعوت کرے نہ اس کی دعوت میں جائے نہ اس سے کوئی معاملہ میل جول کا رکھے، یونہی کفار خصوصا وہ جو ذمی یعنی سلطنت اسلامیہ میں رہ کر مطیع الاسلام نہ ہوں ان سے بھی کوئی برتاؤ محبت ودوستی کا نہ کرے ہاں مصلحت شرعیہ ہو تو اس کی دعوت کرے بھی اورکھائے بھی جس کی بد مذہبی حدکفر تک نہ پہنچی ہو اور بلا مصلحت اس سے کیا فاسق معلن بیباک سے بھی بچے خصوصا مضرت دینی کا خوف ہو جب تو احتراز سخت لازم ہوگا مثال یہ ہے کہ ایک شخص کے یہاں شادی میں ناچ یا ناجائز باجا ہے وہ اسے بلاتا ہے اور یہ جانتاہے کہ میں جاؤں گا تو اسے روک سکوں گا اسے میرا کہنا ضرور ماننا ہوگا تو بالقصد جائے اور اگر سمجھے کہ میں اپنا شریک ہونا ممنوعات کے نہ ہونے پر موقوف کردوں کہ اگر یہ باتیں نہ کروں تو آؤں گا تو اسے میری ایسی خاطر ہے کہ ان باتوں سے باز رہے گا توہرگز نہ جائے جب تک وہ منہیات ترک نہ کردے۔ دوسری مثال اس سے میل جول نرم برتاؤ رکھنے میں امید ہے کہ یہ راہ پر آجائے اس کا دل نرم ہے حق قبول کرلے گاتو حد جائز تک آشتی برتے اور جانے کی میل جول میں مجھے اندیشہ ہے کہ اس کی محبت اثر کر جا ئے تو آگ سمجھے دور بھاگے عام لوگوں کو اسی اخیر صورت کالحاظ چاہئے۔
ولہذا حدیث میں صاف فرمایا :
ایاکم وایاھم لایضلونکم ولا یفتنونکم ۱؎۔ والعیاذ باﷲ تعالٰی۔ واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
ان سے دور ہو اور ان کو اپنے سے دور رکھوں کہیں وہ تم کو بہکا نہ دیں کہیں وہ تم کو فتنہ میں نہ ڈال دیں۔ اور اللہ تعالٰی کی پناہ اور اللہ تعالٰی سب سے بڑا عالم ہے اور اس کا علم (جس کی بزرگی سب سے بڑھ کر ہے) سب سے زیادہ کامل اور سب سے زیادہ بختہ ہے۔ (ت)
(۱؎ صحیح مسلم باب النہی عن الروایۃ عن الضعفاء الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۰)
مسئلہ ۲۳۹: مرسلہ محمد بشیر الدین طالب عالم مدرسہ امداد العلوم محلہ بانسمنڈی کانپور ۲۵ صفر ۱۳۳۰ھ
چہ می فرمایند علمائے دین دریں مسئلہ کہ اگر ازمال حلال واز مال کسبے چاہے کندہ مال حرام زیادہ باشد آب آں چاہ حلال ست یا حرام وچاہ را چہ حکم ست ویراں کندند یانہ؟ بینوا توجروا۔
اہل علم اس مسئلہ میں کیا ارشاد فرماتے ہیں : اگر کوئی شخص حلال اورکمائی کے مال سے کنواں کھدوائے جبکہ حرام مال زیادہ نہ ہو تو ایسے کنویں کا پانی استعمال کرناجائز ہے یاحرام، او رکنویں کا کیاحکم ہے؟ کیا اسے ویران (غیر آباد) کردے یا نہ کردے ؟ بیان فرماؤ تاکہ اجر وثواب پاؤ۔ (ت)
الجواب : آب برحلال حلال ست لانہ مباح حتی لایملکہ مالک البئر کما ھو مصرح بہ فی عامۃ کتب المذھب وچاہ را ویران کردن ضرور نیست اگر آں مال حرام زر نقد بود فان اشتراء بہ لایورث خبثا فی المشتری علی مذھب الکرخی المعنی بہ مالم یجتمع علیہ العقد والنقد ولیس معہودا فی البیاعات ھنا بل اختار فی الطریقہ المحمدیۃ الفتوٰی علی القول الثالث ان الخبث لایسری الیہ اصلا ولو اجتمعا واگر نفس خشت وخشت کہ بآنہا تعمیر چاہ کردندمال حرام بود اگر مالک معلوم ست باذن او اباحت تو ان شد واگر مضائقہ کند قیمت تواں گرفت علی التفصیل المعلوم فی الساجۃ المذکور فی الدر وغیرہ واگر معلوم نیست لقطہ شد پس باذن قاضی وآنجا کہ قاضی نیست باجازت عالم سنی فقہ بلد وصوابدید عمائد مسلمین صرف چاہ تواں شد کمافی الخانیۃ وغیرھا۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
بہر حال اس کنویں کا پانی استعما ل کرنا جائز ہے اس لئے کہ وہ مباح ہے۔ یہاں تک کہ کنویں کا مالک بھی اس کا مالک نہیں۔ (یعنی اس میں تصرف اور پابندی کرنے کااختیار نہیں رکھتا) جیسا کہ مذہب کی عام کتابوں میں تصریح موجود ہے اور کنویں کوغیر آباد کرنا کوئی ضروری نہیں، اگر وہ مال حرام نقدی زرہو تو اس کے ساتھ اسے خریدنا امام کرخی کے مذہب میں خرید کردہ چیز میں خباثت نہیں پیدا کرتا، اوریہی قابل قبول فتوٰی مذہب ہے بشرطیکہ اس پر عقد اور نقد کا اجتماع نہ ہو پس خرید وفروخت کے باب میں یہاں یہ معہود (متعین) نہیں بلکہ طریقہ محمدیہ میں ایک تیسرے قول کو پسند فرمایا کہ بالکل خباثت اس تک سرایت ہی نہیں کرتی اگر چہ دونوں عقد ونقد کا اجتما ع ہو، اگر صرف اینٹ ، لکڑی کہ جس سے کنویں کی تعمیر کرتے ہیں حرام مال کی ہو، اگر مالک معلوم ہو تو اس سے اجازت اور اباحت ہوسکتی ہے (یعنی لی جاسکتی ہے) لیکن اگر تنگدل ہو تو قیمت وصول کرلے اس معلوم تفصیل کے مطابق جو درمختار وغیرہ میں مذکور ساگوان لکڑی کے متعلق گزر چکی ہے۔ اور اگر مالک اشیاء معلوم نہ ہو تو پھر وہ چیزیں لقطہ (یعنی گری پڑی چیز) کی طرح ہوگئیں، تو فتاوٰی قاضی خاں وغیرہ کی تصریح کے مطابق ان چیزوں کو کنویں پر خرچ کیا جاسکتاہے بشرطیکہ قاضی اجازت دے اگر وہاں قاضی موجود نہ ہو تو پھر وہاں کے بڑے فقیہ سنی عالم اور عام مسلمانوں کے اکابرین کا صوابدید پر ایسا کیا جاسکتاہے۔ اور اللہ تعالٰی سب سے بڑا عالم ہے۔ (ت)
مسئلہ ۲۴۰ : از مشہر محلہ بحاری پور متصل مسجد بی بی جی مرحومہ مسئولہ جناب سلطان احمد خاں صاحب ۲۸ ذی قعدہ ۱۳۳۰ھ خاکی انڈا کھانا جائز ہے یانہیں؟
الجواب : جائز ہے کہ وہ تنہامادہ کی منی منعقدہ مستحیل بطیب ہے جیسے اور انڈے نر ومادہ دونوں کی منی مستحیل۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۴۱ : ۱/جمادی الآخرہ ۱۳۳۲ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید جو کہ فی الحال امامت کرتاہے وہ جاکرنوروز کو رافضی کے یہاں کھانا کھا آیا جبکہ ہم لوگوں نے اس کے پیچھے نماز پڑھنا ترک کیا لوگوں نے اعتراض کرنا شروع کیاکہ امام کے پیچھے نماز کیوں نہیں پڑھتے۔ ہم نے کہا کہ روافض کے یہاں کھانا پینا مجالست شریعت مطہرہ میں قطعا حرام ہے ان میں سے بعض لوگوں نے یہ کہا کہ زمانہ حضور اقدس سرور عالم صلی اللہ تعالٰی علہ وسلم میں یہود ونصارٰی بھی تھے جبکہ انھوں نے حضور پر نور شافع یوم النشور کی دعوت کی حضور نے قبول فرمایا اور تناول بھی فرمایا ہم نے یہ کہا کہ حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے کبھی یہودی ونصرانی کے یہاں تناول نہ فرمایا، اس کے اوپر انھوں نے کہا کہ رنڈی وسود خوار وزانی کے یہاں بھی نہ کھانا چاہئے کیونکہ وہ بھی گناہ کبیرہ کے مرتکب ہیں، اس کے اوپر ہم نے کہاکہ رافضی ویہودی ونصرانی قطعی کافر ہے اس لحاظ سے ہم کو ان کے یہاں کھانا حرام اور رنڈی وزانی وسود خوار سب کے سب گناہ کبیرہ ہیں۔ آپ اس کا ثبوت دیجئے کہ کافرہیں، اس پر وہ کوئی ثبوت نہ لاسکے خاموش بیٹھے رہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کافر ان کے نزدیک بھی نہیں ہیں اب ہم کوبحکم شریعت زید کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے اور روافض وغیر کے یہاں کھانا کیساہے؟ اس کا جواب بالتشریح والتوضیح وحوالہ کتاب تحریر فرمائے۔ بینوا توجروا (بیان فرماؤ تراکہ اجروثواب پاؤ۔ ت)
الجواب : زانی، شرابی ، سود خوار کے یہاں کھانا خلاف اولٰی ہے مگر وہ کافرنہیں۔ اور یہود ونصرانی کافر ہیں پھر یہود ونصاری باوصف کفر کے کافراصلی میں مرتد نہیں ، اور رافضٰ ، وہابی، قادیانی، نیچری، چکڑالوی مرتد ہیں، احکام دنیا میں مرتد سب کافروں سے بدتر ہے۔ اورکافروں کو بادشاہ اسلام جزیہ لے کر اپنے ملک میں رکھے گا بشرطیکہ جزیہ ان کے جان ومال کی حفاظت کرے گا لیکن مرتد کو تین دن سے زیادہ زندہ نہ رکھے گا تین دن میں مسلمان ہوگیا تو بہتر ورنہ سلطان اسلام اسے قتل کردے گا۔ مرتد کے یہاں کھانا کھانے جانا اس سے میل جول سب حرام ہے۔ زید اگر جاہل ہے اور ناواقفی میں یہ حرکت اس سے ہوئی اور اب معلوم ہونے پر علانیہ توبہ کرے تو خیر ورنہ وہ امامت کے قابل نہیں۔ فورا معزول کیا جائے۔
قال اﷲ تعالٰی لاترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار ۱؎ oوقال تعالٰی واما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکرٰی مع القوم الظلمین ۲؎ o واﷲ تعالٰی اعلم۔
اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا : (لوگو!) ظالموں کی طر ف مت جھکو (یعنی ان سے میل نہ رکھو) ورنہ تمھیں آگ (دوزخ ) چھوئے گی (مرا دیہ کہ آتش دوزخ میں داخل ہوجاؤ گے) اور نیز ارشاد فرمایا: اگر تمھیں شیطان بھلادے تو پھر یاد آنے کے بعد ظالموں کے پاس مت بیٹھو۔ اور اللہ تعالٰی سب کچھ اچھی جانتاہے (ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۱۱/ ۱۱۳) (۲؎القرآن الکریم ۶ /۶۸)