Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۱(کتاب الحظر والاباحۃ )
136 - 144
مسئلہ ۲۲۶ تا ۲۲۸ :  بہیڑی ضلع بریلی مرسلہ طالب حسین خاں     ۲۷ذی الحجہ ۱۳۲۲ھ

(۱) کیا فرماتے ہیں علمائے دی ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اکثر موضع میں بدجانور کا گوشت کھاتے ہیں ان کے یہاں کا کھانا کھانا جائز ہے یانہیں؟ (ت)

(۲) مسلمانوں کو قصدا شکار سور کا کرنا اوربلم سے مارنا اور کتے سے اور اہل ہنود کو کھلانا جائز ہے یانہیں؟

(۳) سود لینے والے کے یہاں کھانا کھانا جائز ہے یانہیں؟ ایک مولوی صاحب نے کہا کہ اگر اس کی آمدنی اور جگہ سے بھی ہے تو اس کے یہاں کھانا کھانا جائز ہے۔ بینوا توجروا (بیان فرماؤ اور اجروثواب پاؤ۔ت )
الجواب

(۱) جو کفار اس بدجانور کو کھاتے ہیں جیسے ٹھاکر وغیرہ، بہتر یہ ہے کہ ان کے یہاں کی روٹی سے بھی احتراز کیا جا ئے کہ ظاہر یہی ہے کہ ان کے برتن اوربدن سب نجس ہوتے ہیں، اور یہی حال ان کے بامنوں وغیرہ اقوام کا بھی ہے کہ وہ سوئر نہ کھائیں تو گوبر اور بچھیا کاموت تو ان سب کے نزدیک پاک بلکہ پبتر ہے وہ سب نجس ہیں مگر شریعت آسان ہے جب تک کسی خاص شے میں حرمت یا نجاست کا حال معلوم نہ ہوہمارے لئے پاک وحلال ہے ورنہ بازار کا دودھ، گھی، مٹھائی سب کایہی حال ہے۔
امام محمد رحمہ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں :
بہ ناخذ مالم نعرف شیئا حراما بیعینہ ۱؎۔
ہم اسی کو لیتے ہیں (یعنی عمل کرتے ہیں) جب تک کسی شئی کے حرام ہونے کو پہچان نہ لیں۔(ت)
 (۱؎ الفتاوی الہندیہ     کتاب الکراھیۃ الباب الثانی عشر     نورانی کتب خانہ پشاور    ۵ /۳۴۲)
 (۲) سوئر اگر کھیتی وغیرہ کو ضرر دے یا اس سے انسان یا مویشی پر حملہ آوری کااندیشہ ہو تو اسے کتے سے شکار کرنا خواہ بلم یا بندوق سے مارنا جائز بلکہ مستحب ، بلکہ بعض اوقات میں فرض وواجب ہے۔ مگر ہندو وغیرہ کسی کافر کو اس کا کھلانا یا اس کے پاس بھجوانا سخت حرام ہے۔ کہ کھانے اور کھلانا ایک حکم ہے۔
اشباہ میں ہے :
ماحرم اخذہ حرم اعطاؤہ ۲؎۔
جس چیز کالینا حرام ہے اس کا دینا بھی حرام ہے۔ (ت)
 (۲؎ الاشباہ والنظائر     الفن الاول القاعدۃ الرابعہ عشر     ادارۃ القرآن کراچی    ۱ /۱۸۹)
 (۳) سود خوار کے یہاں نہ کھانا بہتر ہے خصوصا عالم ومقتداء کو اورفتوٰی وہی ہے کہ جب تک کسی خاص مال کی حرمت معلوم نہ ہو منع نہیں ۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۲۹: از شہر محلہ جامع مسجد    ۱۴جمادی الاولٰی

حلال جانور مادہ سے نر جانور حرام جفتی کرے جو بچہ اس سے پیدا ہو خواہ بشکل مادہ یا نر یا دونوں کی شکل ہو وہ بچہ حرام ہوگا یاحلال؟
الجواب : مادہ جب حلال ہے تو بچہ حلال ہے کہ جانور میں نسب ماں سے ہے نہ کہ باپ سے،
وھو الصحیح کما فی الہدایۃ ۱ ؎ وغیرھا
 (اوریہی صحیح ہے جیسا کہ ہدایہ وغیرہ (کتب فقہ احناف) میں مذکور ہے۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم۔
 (۱؎ الہدایۃ)
مسئلہ ۲۳۰ : حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی فاتحہ کا کھانا مردوں کو کھانا چاہئے یانہیں؟

الجواب : چاہئے، کوئی ممانعت نہیں۔ واللہ تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۲۳۱ : ضرورت کوحرام چیز کھانا یا استعمال میں لانا جائز ہے یانہیں؟

الجواب : اگر بھوک پیاس سے مرتاہو اور کوئی شے پا س نہیں اور جانے کہ اس وقت کھائے پیئے گا نہیں تو مرجائے گا ایسی صورت حرام شے کھانا پینا اس قدر جس سے اس وقت جان بچ جائے جائز ہے۔ یوہیں اگر سردی سخت ہے اور پہننے کو حرام کے سوا کچھ پاس نہیں اور نہ پہنے تو مرجائے گا یا ضرر پائے گا تو اتنی دیر پہن لینا جائز ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۲ : شراب پینا خدا کے راستے کو روکتی ہے یانہیں؟ بینوا توجروا (بیان فرماؤ اور اجر وثواب پاؤ۔ ت)

الجواب : بیشک ضرور روکتاہے اور اس کے پینے والے پر اللہ تعالٰی نے لعنت فرمائی ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۲۳۳ تا ۲۳۷ :  از بمبئی محلہ چوٹا بھٹی     مسئولہ مولوی عبدالقادر صاحب مدرس اول مدرسہ کمون سیٹھ ۵ رجب المرجب ۱۳۲۹ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفیان شرع متین ان مسائل میں :

(۱) اولیائے کرام کے مزا رپر واسطے فاتحہ وامداد مردوں اور عورتوں کو جانا درست ہے یانہیں؟

(۲) شادی میں دف تاشہ بجانا درست ہے یانہیں؟

(۳) شادی میں لڑکیوں کا گانا درست ہے یانہیں؟

(۴) تیجہ، دسواں، چہلم کا کھانا درست ہے یانہیں؟

(۵) مسائل بالا کو نادرست کہنے والا کیا سمجھا جائے ازروئے شرع شریف کیا حکم ہے؟ بینو توجروا (بیان فرماؤ اور اجر وثواب پاؤ۔ ت)
الجواب :

(۱) مزارات اولیاء کرام پر بلحاظ آداب ومراعات احکام شرعیہ فاتحہ واستمداد واستفادہ کے لئے مردوں کا جانا جائز ومندوب ومحبوب ومرغوب ہے۔
شاہ عبدالعزیز صاحب تفسیر عزیزی میں لکھتے ہیں :
ازاولیاء مدفونین انتفاع واستفادہ جاری ست ۱؎۔
اہل قبور اولیاء سے فائدہ اور استعفادہ جاری ہے یعنی ہر دورمیں لوگوں کا معمول ہے۔ (ت)
 (۱؎ تفسیر عزیزی پارہ عم     استفادہ از اولیاء مدفونین سورۃ عبس     مسلم بک ڈپو لال کنواں دہلی    ص۱۴۳)
مگر عورتوں کو حاضری سے روکنا ہی انسب واسلم ہے ،
کما افادہ فی الغنیۃ وبیناہ فی فتاوٰنا واللہ سبحنہ وتعالٰی اعلم۔
جیسا کہ الغنیہ میں اس کا افادہ پیش کیا اور ہم نے اسے اپنے فتاوٰی میں بیان کیا
واللہ سبحنہ وتعالٰی اعلم ۔
 (۲) دف کہ بے جلا جل یعنی بغیر جھانجھ کا ہو اور تال سم کی رعایت سے نہ بجایاجائے اور بجانے والے نہ مرد ہوں نہ ذی عزت عورتیں، بلکہ کنیزیں یاایسی کم حیثیت عورتیں اور وہ غیر محل فتنہ میں بجائیں تو نہ صرف جائز بلکہ مستحب ومندوب ہے۔
للامر بہ فی الحدیث والقیود مذکورۃ فی ردالمحتار وغیرہ شرحناھافی فتاوٰنا ۔
حدیث میں مشروط دف کے بجانے کاحکم دیا گیا اور اس کی تمام قیود کو فتاوٰی شامی وغیرہ میں ذکرکردیا گیا اور ہم نے اپنے فتاوٰی میں اس کی تشریح کردی ہے۔ (ت)   اس کے سوا اور باجوں سے احترز کیا جائے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
 (۳)جواری کا اطلاق لڑکوں اور چھوکریوں دونوں پر آتاہے کنیزوں کا گانا کہ محض طبعی طور پر ہو، نہ قواعد موسیقی پرتعلیم کیا ہوا اور اس میں فحش وغیرہ کوئی امر خلاف شرع نہ ہو، نہ اس میں فی الحال فتنہ ہو نہ آئندہ فتنے کا اندیشہ ہو، محل سرور مثل نکاح وعیدین میں مضائقہ نہیں رکھتا اور بہت چھوٹی چھوٹی لڑکیاں اگر بطور خود کچھ آوازیں نکالیں جو غیر مردوں کو نہ پہنچے تویہ بھی فی نفسہٖ ایسا منکر نہیں جس پر شرعا مواخذہ ہو اور اپنی حیثیت وعزت وعرف وعادت کے اختلاف سے یہاں اختلاف ہوجائے گا۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
 (۴) تیجہ، دسواں، چہلم سب جائز ہیں جب بہ نیت محمودوبطور محمود ہو اور ان کا کھانا مساکین و فقراء کے لئے چاہئے برادری کی دعوت کے طور پر نہ ہو۔
فان الدعوۃ انما اشرعت فی السرور لا فی الشرور فتح  ۱؎ وغیرہ۔
دعوت کا جواز خوشی میں ہوتاہے نہ کہ مواقع غم میں، فتح القدیر وغیرہ (ت)
 (۱؎ فتح القدیر     کتا ب الصلٰوۃ باب الشہید     مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۲ /۱۰۲)
 (۵) یہ مسائل محض فرعیہ ہیں مگر اول وچہارم میں مطلقا کلام ان بلاد میں شعار وہابیہ ہے اور وہابی ایک سخت گمراہ بددین فرقہ ہے جس کا حال
الکوکبۃ الشہابیہ وسل السیوف الہندیہ والنہی الاکید وفتاوٰی الحرمین وحسام الحرمین وغیرہا
تصانیف فقیر سے ظاہر، واللہ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter