Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۱(کتاب الحظر والاباحۃ )
135 - 144
مسئلہ ۲۱۷ تا ۲۲۳: ازاترولی ضلع اعظم گڑھ محلہ مغلاں مرسلہ اکرام اعظم صاحب ۱۸/ جمادی الاولٰی ۱۳۲۱ھ

(۱) کیا فرماتے ہیں علمائے دین متین ملت محمدی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم از روئے قرآن وحدیث وفقہ کے اس بارے میں کہ ایک فرقہ مسلمان گازروں یعنی دھوبیوں کا جو اپنا پیشہ پارچہ شوئی کا کرتے ہیں اور اس وقت تک بموجب رواج قدیم اس قصبہ اترولی کے مسلمانوں کے کھانے پینے میں شریک نہیں ہیں یعنی مسلمان یہاں کے ان کا کھانا پانی نہیں کھاتے پیتے ہیں اور اس کو سخت برا سمجھتے ہیں اب وہ فرقہ مسلمان دھوبیوں کا اس امر کا خواہشمند ہےکہ ہمارا کھانا پینا سب مسلمان کھائیں پئیں اور ہم کو مسلمانوں میں ملائیں اور ہم کو احکام شرع سکھائے جائیں اور اب ہم نماز پڑھیں گے اور اس کوترک نہ کرینگے چنانچہ وہ اکثر نمازی ہوگئے ہیں اور ہوتے جاتے ہیں اور مسجد میں آکرکلمہ ونماز وغیرہ یاد کرتے ہیں آیا ان مسلمانوں دھوبیوں کو مسلمانوں میں شامل نہ کیا جائے اور ان کو احکام شرع نہ سکھائے جائیں اور ان کا کھانا پانی مسلمان نہ کھائیں پئیں اور ان سے موافق رواج قدیم اس قصبہ کے متنفر رہیں اور ان کی دلجوئی نہ کریں، یا یہ سب امور ان کے ساتھ کئے جائیں؟
 (۲) جن مسلمانوں نے ان مسلمانوں دھوبیوں کے گھر کا کھانا پانی کھایا ہے بعد ان کے نمازی ہونے کے کیا وہ مسلمان کھانے والے کچھ گنہگار ہیں یانہیں؟

(۳) بے نمازی مسلمان دھوبیوں کے گھر کا جو اپنا پیشہ پارچہ شوئی کا کرتے ہیں پینا درست ہے یانہیں اور اس مسئلہ کا حکم شرعی کیا صرف دھوبیوں کی قوم سے خصوصیت رکھتا ہے یا سب اقوام اہل اسلام اس حکم میں شامل ہیں؟
 (۴)جومسلمان اس قصبہ کے بموجب رواج قدیم کہتے ہیں کہ مسلمانوں دھوبیوں کو مسلمانوں میں نہ ملایا جائے ان کا کھانا پانی نہ کھایا پیا جائے اور ان مسلمانوں کو بھی برا کہتے ہیں جو کہ نمازی مسلمان دھوبیوں کے گھر کا کھا آئے ہیں اور ان سے نفرت رکھتے ہیں۔ مسلمان تنفر کرنے والے اور برا کہنے والے گنہگارہیں یانہیں؟

(۵) جو مسلمان بے نمازی یا نمازی پیشہ ناجائز کھلم کھلا کرتے ہیں جیسے نقالی وقوالی وشراب فروشی و سود خواری وغیرہ ان کے گھروں کا کھانا پینا اور مسلمانوں کو جائز ہے یانہیں؟

(۶) جن اقوام مسلمان نمازی بے نمازی کی عورات بموجب روایت قدیم کے پردہ نشین نہیں ہیں ان کے گھروں کا کھانا پینا اور مسلمانوں کو درست ہے یانہیں؟

(۷) اہل ہنود کی دکان یا مکان یا ہاتھ کی اشیاء تر وخشک خوردنی یا نوشیدنی غذائی یا دوائی کھنا پینا چاہئے یانہیں؟
الجواب

(۱) انھیں مسلمانوں میں ملانا اور احکام دین سکھانا فرض ہے اور نفرت دینا دلانا باوصف درخواست تعلیم شریعت سے محروم رکھنا حرام ہے۔

 رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
بشروا ولاتفروا ۱؎
 (خوشخبری سناؤاور نفرت نہ دلاؤ۔ ت)
  (۱؎ صحیح البخاری کتاب العلم     باب ماکان النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم یتخذلہم بالموعظہ الخ  قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۶)
اللہ تعالٰی فرماتاہے :
لتبیننہ للناس ۲؎
 (تم اسے لوگوں کے لئے ضروریات بیان کرو۔ ت)
 (۲؎ القرآن الکریم    ۳ /۱۸۷)
 (۲) انھوں نے بہت اچھا کیا ان پر کچھ الزام نہیں۔

(۳) عوامِ ہندوستان نے چھوت کا مسئلہ کفار ہند سے سیکھا ہے۔ دھوبی ہر قسم کے کپڑے طاہر ونجس سب کچھ دھوتے ہیں اس لئے ہندو چھوت مانتے ہیں۔ جاہل مسلمان بھی انھیں کی پیروی کرتے ہیں اور خود ہندوؤں کے مکانوں اور دکانوں سے دودھ، دہی، پوری، کچوری، مٹھائی سب کچھ کھاتے ہیں حالانکہ تمام ہندو سخت گندے رہتے ہیں اور ان کے پانی برتن نہایت گھن کے قابل ہیں مسلمان دھوبیوں سے ظاہریہی ہے کہ وہ ضرور اپنے کھانے پانی میں طہارت کا خیال رکھتے ہونگے اور ہندوؤں سے اصلا اس کی امید نہیں جس قوم کے یہاں گوبر پوتر ہو یعنی پاک کرنے والا، انھیں طہارت سے کیا علاقہ۔ البتہ جو دھوبی یا کوئی قوم طہارت کا لحاظ نہ رکھے اس کے کھانے پینے سے احتراز بہتر ہے اور نہ کیا جائے تو کچھ گناہ نہیں جب تک کسی خاص کھانے کی نجاست تحقیق نہ ہو، اسی بناء پر ہنود کے یہاں کھانا پینا سوائے گوشت کے جائز رکھا گیا ہے۔ اگر چہ بہتر بچنا ہے۔
کمانص علیہ فی نصاب الاحتساب وغیرہ وبیناہ فی فتاوٰنا غیر مرۃ۔
   جیسا کہ نصاب الاحتساب میں اس کی تصریح کی گئی ہے اور ہم نے اس کو اپنے فتاوٰی میں میں متعددبار بیان کیا ہے۔ (ت)

(۴) ہاں یہ بے جاوبلاوجہ شرعی تنفرکرنے اور مسلمانوں کو برا کہنے والے گنہگارہوئے۔
 (۵) جس کا ذریعہ معاش صرف مال حرام ہے۔ اس کے یہاں سے بچنا ہی اولٰی ہے
تحرز اعن الخلاف
 (اختلاف سے بچتے ہوئے۔ ت) مگر کوئی کھانا حرام نہیں جب تک تحقیق نہ ہو کہ خاص یہ کھانا وجہ حرام سے ہے
عملا باصل الحل
 (حل کے اصل ہونے پر عمل کرتے ہوئے۔ ت) ہاں یہ جدام بات ہے کہ ایسے فاسقوں سے خلط ملط مناسب نہیں خصوصا ذی علم کو۔
 (۶) اگرہ وہ موٹے اور خوب گھیر دار کپڑے پہنے سرے سے پاؤ تک جسم ڈھانپنے نکلتی ہیں کہ سوا منہ کی ٹکلی اورہتھیلیوں کے بال یا گلایا بازو وکلائی یا پیٹ یا پنڈلی کچھ ظاہر نہیں ہوتا جب تو حرج نہیں ورنہ وہ عورتیں فاسقہ اور ان کے مرد دیوث ہیں ان سے احتراز کرنا چاہئے۔ اسی بناء پر کہ فاسقوں سے میل جول مناسب نہیں ورنہ اصل کھانے میں حرج نہیں۔

(۷) اس کا جواب نمبر ۳ میں آگیا۔     واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۲۴ : مرسلہ ڈاکٹر محمد واعظ الحق سعداللہ لودی ڈاکخانہ خسروپور ضلع پٹنہ     مولوی ضیاء الدین صاحب     ۱۵ ربیع لآخر ۱۳۲۲ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ عرق تاڑ جس کو اس ہندوستان میں تاڑی کہتے ہیں بذانہٖ حلال ہے یاحرام، تاڑی ایسی صورت میں کہ شب کو نیا برتن تاڑ میں لگایا جائے اور علی الصباح اتارلیا جائے اور اس میں کسی قسم کا سکہ نہ پید ہو تو حلال ہے یاحرام؟ بینوا توجروا (بیان فرماؤتاکہ اجر پاؤ۔ت)
الجواب

تاڑی فی نفسہٖ ایک درخت کاعرق ہے۔ جب تک اس میں جوش وسکر نہ آئے طیب وحلال ہے جیسے شیرہ ا نگور ، لوگوں کا بیان ہے کہ اگر کور اگھڑاوقت مغر ب باندھیں اور وقت طلوع اتار کر اسی وقت استعال کریں تو اس میں جوش نہیں آتا۔ اگر یہ امر ثابت ہو تو اس وقت تک وہ حلال وطاہر ہوتی ہے۔ جب جوش لائے ناپاک وحرام ہوئی، مگر اس میں تنقیح طلب یہ امر ہے کہ آیا حرارت ہوا بھی چند گھنٹے یا چند پہر ٹھہرنے کے بعد اس عرق میں جوش وتغیر لاتی ہے یانہیں، اگر ثابت ہو تو شام کے وقت تاڑی چند پیڑوں سے بقدر معتدبہ نکال کر کسی ظرف میں بند کرکے صبح تک رکھ چھوڑیں تو ہرگز متغیر نہ ہوگی جب تک آفتاب نکل کر دیر تک دھوپ سے اس میں فعل نہ کرے جوش نہیں لاتی تو اس صورت میں وہ بیان مذکور ضرور پایہ ثبوت کو پہنچے گا ورنہ صراحت معلوم ہے کہ شام کو جو گھڑا لگایا جائے گا تاڑی اس میں صبح تک بتدریج آیا کرے گی تو وہ اجزاء کہ اول شام آئے تھے طول مدت کے سبب حرارت ہو اسے ان کا تغیر منظنون ہے اور جوش وتغیر محسوس نہ ہونا اس وجہ سے ہے کہ وہ اجزاء جنھیں مدت اس قدر نہ گزرے کہ ہنوز تغیر کی حد تک نہ پہنچے کثیروغالب میں اس تقدیر پر اس سے احتراز میں سلامتی ہے۔
مسئلہ ۲۲۵ : مرسلہ شیخ ممتاز حسین صاحب از رمپورہ تھانہ بھوحی پورہ پرگنہ بریلی ۱۶ جمادی الاولٰی ۱۳۲۲ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ دو لڑکی اور ایک لڑکے نے خاکروب کی لڑکی سے روٹی چھین کر کھالی، ایک لڑکی کی عمر چودہ برس کی اور دوسری کی گیارہ برس کی، اور لڑکے کی عمر دس برس کی اب ان کے ساتھ کھانا کھانا یا ان کے ہاتھ کی کوئی چیز لینا اور کنویں سے پانی بھروانا درست ہے یانہیں؟ بینوا توجروا (بیان فرماؤاور اجر وثواب پاؤ۔ ت)بعض صاحبوں نے فرمایا ہے کہ روٹی کے کھانے سے یا خاکروب کے چھونے سے کوئی نقصان نہیں، اگر یہ بات درست ہے تو جس مسلمان کا جی چاہے وہ خاکروب کی روٹی کھائے اور پانی پئے، پھرعلیحدہ کیوں کیا ہے۔ خاکرو ب کوبھی اپنے کنویں سے پانی بھرنے دینااور اس کو کنویں سے آپ پینا جائز ہے لہذا بندہ امیدوار ہےکہ جناب جواب باصواب مع مہر اعلٰی کے مرحمت فرمائیں۔     آپ کا کفش بردار ممتاز حسین
الجواب : اول لڑکی لڑکوں کے مربیوں پر لازم ہےکہ انھیں پوری کافی تنبیہ کریں کہ آئندہ ایسی حرکت پھر نہ کریں اول تو روٹی چھین کر کھانا کیسی ناپاک حرکت ہے۔ نابالغ پر اگر چہ گناہ نہ ہو۔ مگر ایسی حرکات سے انھیں بچانا لازم ہے ورنہ ان کی یہی عادت رہے گی، اور پھر بدخصلت شرعا معصیت بھی ہوجائے گی، لہذا اگر چہ نماز بچوں پر فرض نہیں، حدیث میں ارشاد ہوا :
مروا صبیاننکم بالصلٰوۃ اذا بلغوا سبعا و اضربوھم علیہا اذا بلغوا عشرا ۱؎۔
اپنے بچوں کو نماز کاحکم دو جب وہ سات برس کے ہوں اور نماز پر انھیں مارو جب وہ دس برس کی ہوجائیں۔
 (۱؎مسند امام احمد   عن عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالٰی عنہ    المکتب الاسلامی بیروت    ۲ /۱۸۰)
دوسرے یہ کہ بھنگی کی روٹی کھانی ضرور شرعا ممنوع اورآدمی کی سخت بے قدری پردلیل ہے جس نے یہ کہا کہ بھنگی کی روٹی کھانے پینے میں حرج نہیں اس نے محض غلط کہا وہ شریعت مطہرہ کے مصالح سے آگاہ نہیں جو بات عام مسلمانوں کی نفرت کی موجوب ہو شرعا منع ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
بشروا ولاتنفروا ۲؎۔
خوشخبری سناؤ اور نفرت نہ دلاؤ۔ (ت)
 (۲؎ صحیح البخاری         کتاب العلم باب ماکان النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم یتخولھم بالموعۃ الخ     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۱۶)
جس بات میں آدمی متہم ہو مطعون ہو انگشت نماہو شرعا منع ہے۔

 رسول اللہ صلی االلہ تعالٰی علیہ وسلم سے حدیث ہے :
من کان یؤمن باﷲ والیوم الاخر فلا یقف مواقف التہم ۳؎۔
جوکوئی اللہ تعالٰی اور روز قیامت پرایمان رکھتاہے وہ تہمت والے مقامات پر ٹھہرنے سے پرہیز کرے۔ (ت)
 (۳؎ مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی  باب ادراک الفریضہ  نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی    ص۲۴۹)

(حاشیہ الطحطاوی علی مراقی الفلاح باب مایفسد الصوم     نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی   ص۳۷۱)
جو بات مسلمانوں پر فتح باب غیبت کرے انھیں فتنے میں ڈالے گی اور انھیں فتنے میں ڈالنا حرام ہے۔ 

اللہ تعالٰی فرماتاہے:
ان الذین فتنوا المؤمنین والمؤمنٰت ثم لم یتوبوا فلھم عذاب جہنم ولھم عذاب الحریق۱؎۔
بلا شبہ جن لوگوں نے مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو فتنے میں ڈالا (پھر اس جرم) سے توبہ نہ کی تو ان کے لئے عذاب دوزخ ہے اور جلا دینے والی آگ کا عذاب ہے۔ (ت)
 (۱؎ القرآن الکریم     ۸۵ /۱۰)
مسلمان کہ بھنگیوں سے احتراز کرتے ہیں شرعا منع نہیں۔ نہ شرعا اصل ہے، اور وہ عادت فاشیہ ہونے کے باعث طیبعت ثانیہ ہورہا ہے تو ضرور وہ ایسے شخص کے ساتھ کھانا پینا اور اپنے کنویں سے اس کا پانی بھرنا گوارہ نہ کریں گے اب اگر اس نے اس پر صبر کیا تو خود اپنے ہاتھوں بلا میں پڑا۔ اپنی عاقبت تنگ کی اور اس کے قریب رشتہ داروں نے بھی اسے برادری سے نکالا تو قطع رحم کا بھی باعث ہوا اور وہ سخت حرام ہے۔ اور اگر اس سے صبر نہ ہوا تو ضرور اس کے باعث فتنہ اٹھے فساد پھیلنے کا اندیشہ قوی ہے اور مسلمانوں میں فساد پیدا کرنا حرام ہے۔
اللہ عزوجل فرماتاہے:
والفتنۃ اشد من القتل ۲؎۔
فتنہ قتل سے بھی زیادہ سخت جرم ہے۔ (ت)
 (۲؎القرآن الکریم  ۲ /۱۹۱)
حدیث میں ہےـ
الفتنۃ نائمۃ لعن اﷲ من ایقظھا ۳؎۔
فتنہ سوئی ہوئی خرابی ہے لہذا جو کوئی اسے جگائے اس پر اللہ تعالٰی کی لعنت ہے۔ (ت)
 (۳؎ الجامع الصغیر بحوالہ الرافعی     عن انس حدیث ۵۹۷۶     دارلکتب العلمیہ بیروت    ۲ /۳۷۰)
غرض بہت وجوہ سے یہ فعل شرعا نادرست ہے اول لڑکی لڑکوں کو ان کے مربی تنبیہ کریں اور مسلمانوں کو ان سے توبہ کرائیں اس کے بعد ان کے ساتھ کھانا پینے، کنویں سے پانی بھرنے میں حرج نہیں، واللہ تعالٰی اعلم (اللہ تعالٰی سب سے بڑا عالم ہے۔ ت)
Flag Counter