Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۱(کتاب الحظر والاباحۃ )
134 - 144
مسئلہ ۲۱۲: ۲۰ ذیقعدہ ۱۳۱۷ھ از شہر کہنہ     مرسلہ سید عبدالواحد متھراوی

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اکثر عرق جو انگریزی دواخانوں میں فروخت ہوتے ہیں اور نہایت ہاضم مشتہی مبہی مسمن بدن ہیں مگر ہم کو ان کی ساخت کی کیفیت بالکل معلوم نہیں، اور ان میں نشہ بھی مطلق نہیں،نہ کچھ سرور اور کیفیت ہے۔ لیکن وہ شراب کے نام سے موسوم ہیں اور بیقیمت گراں فروخت ہوتے ہیں لیکن منشّی مطلق نہیں خواہ کئی گلاس پی لئے جائیں، تو ایسے عرق کے جواز میں کیاحکم ہے؟ بینوا توجروا (بیان فرماؤ تاکہ اجر پاؤ۔ ت)
الجواب : اصل یہ ہے کہ اصل اشیاء میں طہارت واباحت ہے۔ جب تک نجاست یا حرمت معلوم نہ ہو حکم جواز ہے۔
فی ردالمحتار ھذا الدودۃ ان کانت غیر مائیۃ المولد وکان لھا دم سائل فھی نجسۃ والافطاھرۃ فلایحکم بنجاستھا قبل العلم بحقیقتہا ۱؎ اھ و فیہ عن التتارخانیۃ من شک فی انائہ اوثوبہ اوبدنہ اصابتہ نجاسۃ اولافھو طاہر مالم یستیقن وکذا مایتخذہ اھل الشرک کالسمن و الخبزوالاطعمۃ والثیاب ۲؎ اھ ملخصا۔
ردالمحتار میں ہے۔ اگر کیڑے پانی میں پیدا نہ ہوں اور ان میں بہتا خون ہو تو نجس (ناپاک ) ہیں بصورت دیگر یہ پاک ہیں لہذا جب تک ان کی حقیقت معلوم نہ ہو ان پر نجاست کا حکم نہیں لگایا جاسکتا اھ اور اسی میں تتارخانیہ کے حوالے سے ہے کہ جس شخص کو اپنے جسم۔ لباس اور برتن کے پاک ہونے میں شک ہو تو جب تک شک یقین میں نہ بدل جائے وہ پاک ہی متصورہونگے۔ اسی طرح مشرکین کی تیار کردہ اشیاء خوردو نوش اور ملبوسات وغیرہ از قسم گھی، مٹھائی، کھانا اور کپڑے وغیرہ اس وقت تک پاک اور قابل استعمال سمجھی جائیں گی جب تک ان میں کسی ناپاک و نجس چیز کی ملاوٹ یا لگاوٹ کا یقین حاصل نہ ہو اھ ملخصا۔ (ت)
 (۱؎ ردالمحتار     کتاب الطہارۃ     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۱ /۲۲۰)

(۲؎ردالمحتار   باب الانجاس     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۱ /۱۰۲)
مگر ان عرقوں کا بنام شراب مشہور ہونا سخت شبہہ ڈالنے والا ہے۔ اور اس کا مؤید یہ ہے کہ نصارٰی کو شراب سے بے حد اشتغال ہے ان کے یہاں کی رقیق اشیاء میں کم کوئی چیز اس نجاست غلیظہ سے خالی ہوگی اور کچھ نہ ہو تو سپرٹ کی شرکت اکثر ہوتی ہی ہے کوئی ٹنچر اس سے پاک نہیں اور ایسی شرکت اگر چہ موجب سکر نہ ہو نجس وحرام کردیتی ہے اگر شراب کا کچھ میل نہ ہوتا تو اسے شراب کانام دینے کی کیا وجہ ہوتی، تو جب تک حال تحقیق نہ ہو اس سے احتراز ہی میں سلامت ہے۔ حدیث میں ہے :
ایاک ومایسؤ الاذن ۱؎۔
جو کچھ کانوں کو برا لگے اس سے بچو۔ (ت)
(۱؎ مسند احمد بن حنبل بقیہ حدیث ابی الغادیۃ     المکتب الاسلامی بیروت    ۴ /۷۶)
ہمیں شرع مطہر نے ج سطرح بےر کام سے بچنے کاحکم فرمایا برے نام سے بھی احتراز کی طرف بلایا، سیدنا امام مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ سے لوگوں نے دریائی سور کا حکم پوچھا، فرمایا : حرام ہے۔ عرض کی: وہ سورنہیں ہوتا۔ فرمایا : تمھیں نے اسے اس نام سے تعبیر کیا۔
واللہ سبحنہ وتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۱۲: حامدا ومصلیا۔

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید سود خوار کے یہاں کھانا کھانا مسلمانوں کو اور وعظ مولود شریف پڑھ کر اسے سود خوار سے کچھ لینا اور اس کا پیسہ مسجد میں لگانا گیارھویں مولود شریف میں مٹھائی تقسیم کرنا اور کپڑا وغیرہ خیرات کرناحالانکہ اسی زید سود خوار کے یہاں تجارت چمڑہ فروشی وغیرہ زمینداری مالگزاری بھی ہوتی ہے ان سب صورتوں میں کیا حکم ہے؟
الجواب : جب اس کے یہاں رزق حلال کے ذرائع تجارت زراعت بھی موجود ہیں تو امور مذکور میں کچھ حرج نہیں جب تک کسی خاص روپیہ کی نسبت معلوم نہ ہو کہ یہ وجہ حرام سے ہے۔ امام محمد رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں :
بہ ناخذ مالم نعرف شیئا حراما بعینہ کما فی الھندیۃ عن الذخیرۃ ۲؎۔
ہم اس کو لیتے ہیں جب تک کسی معین چیز کا حرام ہونا واضح نہ ہو جیساکہ فتاوٰی عالمگیری میں ذخیرہ سے نقل کیا گیا ہے۔ (ت)
(۲؎ الفتاوی الہندیہ     کتاب الکراھیۃ الباب الثانی عشر نورانی کتب خانہ پشاور    ۵ /۳۴۲)
ہاں بنظر مصالح شریعہ اس کی زجر وتوبیخ اورنگاہ مسلمانان میں اسی کے فعل کی تقبیح کے لئے اس کی دعوت سے احتراز خصوصا مقتداء عالم کو انسب واولٰی ہے واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۴ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس بارہ میں کہ زید نے ظاہر پیر کے نام پر بکرا یا مرغا چڑھایا اور رات بھرا گیاری کرائی یعنی بکرے کے گوشت کو آگ کے پاس رکھ کر اور جھنڈی گاڑ کر آگ میں لونگ جلائی اور گھی جلایا اور ڈبرو یعنی دف بجوا کر گانا کرایا اور اس نے اس گوشت کا کھانا پکوا کر مسلمانوں کی دعوت کی اور جس شخص نے نیاز کرائی ہے وہ مردہ بھی کھاتاہے۔ اس کے یہاں کا کھانا جائز ہے یانہیں؟ اور جو شخص اس قسم کا کھانا نہ کھائے اس کے واسطے کیا حکم ہے؟
الجواب : مسلمانوں کو اس کے یہاں کھانا کھانا اس سے بات چیت کلام سلام کرنا نہ چاہئے جب تک وہ توبہ نہ کرے اس پر توبہ فرض ہے اور از سر نو کلمہ اسلام پڑھے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۵ تا ۲۱۶ : از بنگالہ ضلع سلہٹ موضع قاسم نگر     مرسلہ مولوی اکرم یکم ربیع الاول شریف ۱۳۲۰ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں :

(۱) سود خوار کے گھر کا کھانا جائز ہے یانہیں؟ اگر جواز کی کوئی صورت ہے تو بیان فرمائیے۔

(۲) بے نمازی کے گھر کا کھانا جائز ہے یانہیں؟ اگر جواز کی کوئی صورت ہو تو ارشاد فرمائے۔ اور کبھی کبھی جو شخص نماز پڑھتاہے اس کو بے نمازی کہنا جائز ہے یانہیں؟ اور جو مطلقا نہیں پڑھتا ہے اور جو گاہے گاہے پڑھتا ہے ان دونوں شخصوں میں کیا فرق ہے۔
بینوا اللہ ، توجروا عنداللہ
 ( اللہ تعالٰی کی خوشنودی کے لئے بیان کرو تاکہ اس کے ہاں اجر وثواب پاؤ۔ ت)فقط۔
الجواب: 

(۱) جائز ہے جب تک خاص اس شیئ کا جواس کے سامنے لائی گئی حرام ہونا تحقیق نہ ہو۔
فی الہندیۃ عن الظہریۃ عن الفقیہ ابی اللیث قال قال محمد وبہ ناخذ مالک نعرف شیأا حراما بعینہ وھو قول ابی حنیفہ واصحابہ رضی اﷲ تعالٰی عنھم ۱؎۔
فتاوٰی ہندیہ بحوالہ فتاوٰی ظہیریہ، فقیر ابوللیث سے مروی ہے۔ فرمایا اما م محمد نے ارشاد فرمایا ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں جب تک کسی معین چیز کی صورت کو نہ جائیں، امام بوحنیفہ اور ان کے اصحاب رضی اللہ تعالٰی عنہم کا یہی مذہب ہے۔ (ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ         کتا ب الکراھیۃ الباب الثانی عشر     نورانی کتب خانہ پشاور    ۵ /۳۴۲)
ہاں عالم مقتدا کو بلا ضروت مطلقا احتراز کرنا چاہئے کہ اس کا گناہ عوام کی نظرمیں ہلکا نہ ہوجائے۔
فی الہندیۃ عن المحیط عن الملتقیط یکرہ للمشہور المقتدٰی بہ الاختلاط الی رجل من اھل الباطل والشرالابقدر الضرورۃ لانہ یعظم امر ہ بین ایدی الناس ۱؎ الخ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
فتاوٰی ہندیہ میں ملتقط سے نقل کیا ہے کہ کسی مشہور مقتداء اور پیشوا کو اہل باطل اور اہل شر سے میل جول اور آمد ورفت رکھنا مکروہ ہے مگر بقدر ضرورت، کیونکہ وہ لوگوں کے سامنے بڑے ہوجائینگے الخ واللہ تعالٰی اعلم (ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیۃ         کتاب الکراھیۃ الباب الرابع عشر     نورانی کتب خانہ پشاور        ۵ /۳۴۶)
 (۲) یہاں جواز  پہلی صورت سے بھی اظہر ہے کہ ترک نماز کا مال وطعام پر کیا اثر ہے اور عالم مقتدا کو بے ضرورت اس سے احتراز مؤکد تر ہے کہ ترک نماز کبیرہ اخبث واکبر ہے۔رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
 من ترک الصلٰوۃ متعمدا فقد کفر جہارا رواہ الطبرانی۲؎ فی الاوسط عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ بسند حسن۔
جس کسی نے جان بوجھ کر نماز چھوڑدی تو وہ کھلم کھلا کافر ہوگیا۔ (یعنی حد کفر تک پہنچ گیا کیونکہ مرتکب کبیرہ بغیر انکار کے کافر نہیں ہوتا جیساکہ اصول مقرر ہ ہے) امام طبرانی نے اس کو الاوسط میں حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ کے حوالے سے سند حسن کے ساتھ روایت کیا ہے۔ (ت)
 (۲؎ المعجم الکبیرالاوسط للبرانی     حدیث ۳۳۷۲   مکتبۃ المعارف الریاض        ۴ /۲۱۱)
اور نماز کبھی نہ پڑھنا یا بلاعذر شرعی ترک کردینا احکام میں دونون یکساں ہیں جب تک توبہ نہکریں دونوں سخت اشد فاسق مرتکب اخبث کبیرہ ہیں ہاں جتنی بار زیادہ ترک کریگا کبائر کا شمار اور گناہوں کا بار بڑھتا جائے گا۔
والعیاذ باللہ تعالٰی واللہ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم۔
Flag Counter