مسئلہ ۲۰۹: ا ز ملک بنگالہ شہر نصیر آباد قصہ لاما پڑا مرسلہ محمد علیم الدین صاحب ۵ جمادی الاولٰی ۱۳۱۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں: ایک شخص مسلمان سود ورشوت وغیرہ حرام کھاتاہے اور تجارتی وغیرہ حلال پیشہ بھی اس کا ہے یعنی مال مختلط حرام وحلال شے ہے۔ اور وہ نماز پڑھتانہیں اس کے مکان پر کھانا کھانا جائز ہے یانہیں؟ بینوا توجروا (بیان فرماؤ تاکہ اجر پاؤ۔ت)
الجواب : جائز بایں معنی تو ہے کہ کھائے گا تو کوئی شے حرام نہ کھائی جب تک معلوم نہ ہو کہ یہ شے جو میرے سامنے آئی بعینہٖ حرام ہے۔
بہ ناخذ مالم تعرف شیئا حراما بعینہ نص علیہ محرم المذھب الامام محمد رحمہ اﷲ تعالٰی کما فی الذخیرۃ۲؎ وغیرھا۔
ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں جب تک کسی معین شے کے حرام ہونے کو پہچان نہ لیں چنانچہ مذہب قلمبند کرنے والے امام محمدر حمہ اللہ تعالٰی نے اس کی صراحت فرمائی ہے جیسا کہ ذخیرہ وغیرہ کتب میں مذکورہے۔ (ت)
(۲؎فتاوٰی ہندیہ بحوالہ الظہیریۃ کتاب الکراھیۃ الباب الثانی عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۴۲)
مگر احتراز اولٰی خصوصا جب کہ غالب حرام ہو۔
خروجا عن الخلاف وکما فی ردالمحتار عن الذخیرۃ عن الامام ابی جعفر احب الی فی دینہ ان لایأکل ویسعہ حکما ان لم یکن (ذٰلک الطعام) غصبا ورشوۃ ۱؎ الخ۔
تاکہ اختلاف سے نکل جائیں جیسا کہ فتاوٰی شامی میں ذخیرہ کے حوالے سے امام ابوجعفر سے روایت کیا ہے کہ آدمی کے دین کے معاملے میں یہ بات مجھے زیادہ پسند ہے کہ وہ نہ کھائے جبکہ حکم میں اس کی گنجائش ہے بشرطیکہ طعام مال غصب شدہ اور شوت وغیرہ سے نہ ہو الخ۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الحظرولاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۴۷)
خصوصا جب کہ یہ شخص سود اور رشوت لینے کے باعث نہ صرف فاسق بلکہ عباداللہ پرظالم ہے ایسے فساق سے اظہار بغض ونفرت پر سلمف صالح اجماع قائم ہے۔ امام حجۃ الاسلام محمد محمد محمد غزالی قدس سرہ العالی احیاء العلوم شریف میں فرماتے ہیں :
طرق السلف قد اختلف فی اظہار البغض مع اھل المعاصی وکلھم اتفقوا علی الظہار البغض للظلمۃ والمبتدعۃ وکل من عصی اﷲ تعالٰی بمعصیۃ متعدیۃ منہ الی غیرہ ۲؎ الخ۔
علمائے سلف کی روشن گناہ کرنے والے کے ساتھ اظہار بغض میں مختلف رہی ہے لیکن ظالموں اور بدعتیوں کے خلاف بغض کرنے پر سب کااتفاق ہے۔ اور جو کوئی گناہ کرکے اللہ تعالٰی کی نافرمانی کرتاہے اس کی یہ کاروائی دوسروں تک متجاوز ہوتی ہے۔ الخ(ت)
(۲؎ احیاء العلوم کتاب آداب الالفۃ واخوۃ بیان البغض فی اللہ مطبعۃ المشہد الحسینی ۲ /۱۶۸)
تو اس کے یہاں کھانے سے اور زیادہ احتراز چاہئے خصوصا اس کے ساتھ کھانے سے، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۰: از بلگرام شریف مرسلہ حضرت سید محمد زاہدصاحب دوم رجب ۱۳۱۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ میز پر اورٹیک لگاکر کھانا کیسا ہے؟
الجواب : ٹیک لگا کر کھانااگر بہ نیت تکبر ہو تو کراہت کیسی حرام ہے۔
قال تعالٰی الیس فی جھنم مثوی المتکبرین ۳؎ ۔
اللہ تعالٰی نے فرمایا : کیا دوزخ تکبر کرنے والوں کا ٹھکانا نہیں (یعنی یقینا ہے)۔ (ت)
(۳؎ القرآن الکریم ۳۹/ ۶۰)
ورنہ بلا کراہت درست بعض اوقات حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے بھی اس کا فعل مروی،
فقد اخرج ابونعیم عن عبداﷲ بن السائب عن ابیہ عن جدہ وقال ھو وھم والصواب ابن عبداﷲ بن السائب عن ابیہ عن جدہ رضی اﷲ تعالٰی عنہما قال رأیت النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یأکل ثریدا متکئا علی سریر ثم یشرب من فخارۃ ۱؎۔
بیشک عبداللہ بن سائب سے بواسطہ اپنے باپ اپنے دادا، محدث ابونعیم نے اس کو تخریج کیا اور فرمایا۔ یہ وہم ہے ٹھیک یوں ہے ابن عبداللہ بن سائب عن ابیہ عن جدہ (رضی الہ تعالٰی عنہما) فرمایا میں نے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو تخت پر تکیہ لگائے کھانا (ثرید) کھاتے ہوئے دیکھا پھر پختہ مٹی کے برتن سے پانی پیتے ہوئے بھی دیکھا (ت)
(۱؎ابونعیم)
ہاں عادت کریمہ زمین پر دسترخوان بچھا کر کھانا تناول فرمانا تھی اور یہی افضل ،
اخرج الالمام احمد فی کتاب الزھد عن الحسن مرسلا والبزار نحوہ عن ابن ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اذا اتی بطعام وضعہ علی الارض ۲؎، واخرج الدیلمی فی مسند الفردوس عنہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ یرفعہ الی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم صنعہا علی الحضیض ثم قال انما انا عبداٰکل کما یاکل العبد واشرب کما یشرب العبد ۳؎، واخرج الدارمی و الحاکم وصححہ واقروہ عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال قال النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اذوضع الطعام فاخلعوانعالکم فانہ اروح لاقد امکم ۱؎ واخرجہ ابویعلی بمعناہ وزادوھو السنۃ۔
امام احمد نے کتاب الزہد میں امام حسن سے بغیر سند (یعنی مرسلا) تخریج فرمائی، محدث بزار نے اسی کی مثل ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عن سے تخریج فرمائی، جب حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا لایا جاتا تو آپ اسے زمین پر خود رکھ دیتے، محدث ویلمی نے مسند الفردوس میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مرفوعا تخریج فرمائی یعنی حضرت ابوہریرہ نے حضور اقدس سے روایت کی حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کا طریقہ کار یہ تھا کہ کھانا زمین پر رکھ کر خود زمین پر بیٹھ جاتے اور فرماتے میں ایک بندہ ہوں اس لئے اس طریقے سے کھاتا اور پیتاہوں جس طریقے سے ایک غلام یعنی بندہ کھاتا اور پیتا ہے۔ نیز دارمی اور حاکم نے تخریج کی اور اسے صحیح قرار دیا، اور انھوں نے اسے ثابت رکھااور حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب کھانا رکھا جائے تو اپنے جوتے اتاردو کیونکہ ایسا کرنا تمھارے قدموں کے لئے زیادہ باعث راحت ہے اور ابویعلٰی نے اس مفھوم کی تخریج کی البتہ اس میں یہ اضافہ کیا کہ یہ سنت ہے۔ (ت)
(۲؎ الزھد الاحمد بن حنبل درالدیان للتراث القاہرہ ص۱۱)
(۳؎ اتحاف السادۃ بحوالہ الدیلمی عن ابی ھریرۃ ۸ /۳۹۳ وا بن عدی فی الکامل دارالفکر بیروت ۵ /۱۹۷۱)
(۱؎ سنن الدارمی کتاب الاطعمۃ باب خلع النعال عند الاکل دارالمحاسن القاہرۃ ۲ /۳۴)
شرعۃ الاسلام اور اس کی شرح میں ہے :ـ
(وضع الطعام علی الارض احب الی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم علی السفرۃ وھی) ای والحال ان السفرۃ (علی الارض) لاعلی شیئ اٰخر فوق الارض۲؎۔
دسترخوان پر کھانارکھ کر کھانا آنحضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو زیادہ پسند تھا اور حالت یہ ہوتی تھی کہ دسترخوان زمین پر بچھاہوتا تھا نہ کہ کسی اور چیز پر جوزمین کے اوپر ہو۔
(۲؎ شرح شرعۃ الاسلام لسید علی زادہ فصل فی سنن الاکل والشرب مکتبہ اسلامیہ کانسی روڈ کوئٹہ ص۲۴۳)
عین العلم اور اس کی شرح میں ہے :
(یاکل علی السفرۃ الموضوعۃ علی الارض) فھو اقرب الی ادبہ علیہ الصلٰوۃ والسلام و تواضعہ لمقام الانعام (فالخوان والمنحل والااشنان والشبع من البدع وان لم تکن مذمومات غیر الشبع)فانہ مذموم ۱؎ اھ مختصر۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام اس دسترخوان پر کھانا تناول فرماتے جو زمین پر بچھا ہوتا پس مقام انعام میں یہ چیز حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کے ادب اور تواضع کے زیادہ قریب ہے لہذا دسترخوان بچھانا جو زمین کی بجائے کسی اور چیز پر بچھا ہویہ آپ کو ناپسند تھا۔ چھلنی سے چھانا ہواآٹا، اشنان، (خوشبودار گھاس) اور سیر ہو کر کھانا یہ سب بدعات میں سے ہیں (یعنی سنت میں شامل نہیں) اگر چہ سیری کے علاوہ باقی کام مذموم نہیں البتہ سیری مذموم ہے۔ اھ مختصر۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۱؎ شرح عین العلم لملا علی قاری الباب السابع مطبع السلامیہ لاہور ص)
مسئلہ ۲۱۱: از بریلی محمڈن بورڈنگ ہاؤس بریلی مرسلہ عظمت حسین صاحب ذیقعدہ ۱۳۱۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے اہلسنت وجماعت اس بارے میں کہ آیا شیعوں کے ہمراہ ان کے مکان پر تیار شدہ کھانا کھانا درست ہے یانہیں؟ اوریہ بات جو مشہور ہے کہ شیعہ اہلسنت وجماعت کو کھانا خراب کھلاتے ہیں اس کا کیا ثبوت عقلی یا نقلی ہے؟ اورنقلی ہے تو کس کی کتاب سے اورکس کتاب سے؟ بینوا توجروا (بیان فرماؤ تاکہ اجر پاؤ۔ت)
الجواب
روافض کے ساتھ کھانا کھانا، ان کی تقریبات سرور میں دوستانہ شریک ہونا اور جو امور ولاء ووداد ومحبت پر دلالت کریں ان سے احتراز واجتناب کی نسبت احادیث کثیرہ واقوال ائمہ وافرہ متظافرہ وارد ہیں۔ ازاں جملہ حدیث ابن حبان وعقیلی وغیرہما کہ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا :
لاتواکلوھم ولاتشاربواھم ولا تجالسوھم ۲؎۔
نہ ان کے ساتھ کھانا کھاؤ نہ پانی پیو نہ ان کے پاس بیٹھو۔
(۲؎الضعفاء الکبیر للعقیلی ترجمہ ۱۵۳ احمد بن عمران الاخنس درالکتب العلمیہ بیروت ۱ /۱۲۶)
قرآن عظیم میں ارشاد ہوتاہے۔
ولاترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار ۳؎۔
میل نہ کرو ظالموں کی طرف کہ تمھیں چھوئے دوز خ کی آگ۔
(۳؎ القرآن العظیم ۱۱ /۱۱۳)
اورفرماتاہے:
ولاتقعد بعد الذکرٰی مع القوم الظلمین ۴؎۔
یا دآنے پر پااس نہ بیٹھ ظالموں کے۔
(۴؎القرآن العظیم ۶ /۶۸)
یہ بات کہ یہ نامقید فرقہ جب اہلسنت کے بعض ناواقفو کو کھانا دیتاہے خراب کرکے دیتاہے اس پر کسی دلیل اوربرہان عقل کے قیام کے کیا معنی، یہ امور متعلق بشہادت ہیں مشہور اسی طرح ہے
والعلم عنداللہ
(حقیقی علم کامالک اللہ تعالی ہے۔ ت) اور اس کا پتا ان کی ان حرکات سے چلتاہے جو خاص حرم محترم مکہ معظمہ میں ان کی بیباکوں سے صادر ہوتی ہوئی سنی ہیں اور بعد اطلاع سزائیں دی جاتی ہں فقیر جس زمانے میں حاضر الحج تھا خدام کرام کعبہ معظمہ کی زبانی معلوم ہوا کہ ایک رافضی نے حرم مبارک میں پیشاب کیا کہ اہلسنت کے کپڑے خراب ہوں اس زمانے میں مسموع ہوا کہ کوئی خدا ناترس معاذاللہ حجر اسود شریف پر کوئی گندی چیز لگاگیا کہ مسلمان ایذا پائیں۔ واللہ تعالٰی اعلم۔