Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۱(کتاب الحظر والاباحۃ )
132 - 144
قیصر روم وغیرہ سلاطین کفار کے ہدایا قبول فرمائے۔
احمد والترمذی عن امیر المومنین علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ، قال اھدی کسرٰی لرسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فقبل منہ واھدی قیصر فقبل منہ واھدت لہ الملوک فقبل منہا ۱؎۔
امام احمد اور ترمذی نے امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت کیا کی ہے کہ آپ نے فرمایا کسرٰی بادشاہ ایران نے حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو تحفہ بھیجا تو آپ نے اس کا تحفہ قبول فرمایا۔ اسی طرح قیصر روم (روم کے بادشاہ) نے تحفہ بھیجا وہ بھی آپ نے قبول فرمایا۔ اسی طرح دیگر بادشاہوں نے بھی ہدئے بھیجے تو آپ نے وہ بھی قبول فرمائے۔ (ت)
 (۱؎ مسند احمد بن حنبل     عن علی بن ابی طالب     المکتب الاسلامی بیروت    ۱ /۱۴۵ ۔ ۹۶)

(جامع الترمذی     ابواب السیر باب ماجاء فی قبول ہدایا اللمشرکین     آمین کمپنی اردو بازار لاہور    ۱ /۱۹۱)
قتیلہ بنت عبدالعزٰی بن سعد اپنی بیٹی حضرت سیدتناء اسماء بنت ابی بکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہا کے پاس آئی اور کچھ گوشت کے زندہ جانور ، پنیر، گھی ہدیہ لائی، بنت صدیق نے نہ لیا، نہ ماں کو گھر میں آنے دیا کہ تو کافر ہ ہے۔ ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا ، آیت اتری:
لاینھٰکم اﷲ عن الذین لم یقاتلوکم فی الدین ۲؎۔
اللہ تعالٰی نے ان کافروں کے ساتھ نیک سلوک سے تمھیں منع نہیں فرماتا جو تم سے دیں میں نہ لڑیں ۔
 (۲؎ القرآن الکریم ۶۰ /۸)
نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہدیہ لو اور گھرمیں آنے دو۳؎۔
رواہ الامام احمد عن عامر بن عبداﷲ بن الزییر رضی اﷲ تعالٰی عنہم۔
امام احمدنے بن اس کو عامر بن عبداللہ زبیر سے روایت کیا ہے۔ رضی اللہ تعالٰی عنہم ۔(ت)
 (۳؎ مسند احمد بن حنبل عن علی ابی طالب  المکتب الاسلامی بیروت  ۱ /۱۴۵)
یہ حدیثیں تو جوا ز کی ہیں____ اور عیاض رضی اللہ تعالٰی عنہ نے پیش از اسلام کوئی ہدیہ یاناقہ نذر کیا، فرمایا : تو مسلمان ہے؟ عرض کی نہ۔ فرمایا :
اني نھیت عن زبدالمشرکین رواہ عن احمد وابوداؤد والترمذی وقال حسن صحیح۔
میں کافروں کی دی ہوئی چیزیں لینے سے منع کیا گیا ہوں (امام احمد ، ابوداؤد اور ترمذی نے اس کو روایت کیا ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا یہ حسن صحیح ہے۔ ت)
 (۴؎ جامع الترمذی     ابواب السیر باب ماجاء فی قبول ھدایا للمشرکین     آمین کمپنی اردو بازار لاہور    ۱ /۱۹۱)
یونہی ملا عب الاسنہ نے کچھ ہدیہ نذر کیا۔ فرمایا: اسلام لا۔ انکار کیا۔ فرمایا:
انی لا اقبل ہدیۃ مشرک رواہ الطبرانی فی الکبیر ۱؎ عن کعب بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ بسند صحیح۔
میں کسی مشرک کا ہدیہ قبول نہیں فرماتا۔ (امام طبرانی نے المعجم الکبیر میں حضرت کعب بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ کے حوالے سے بسند صحیح اسے روایت کیا ہے۔ ت)
 (۱؎ المعجم الکبیر للطبرانی     حدیث ۱۳۸         المکتبۃ الفیصلیۃ     ۱۹ /۷۰)
ایک حدیث میں ارشاد فرمایا:
انالا نقبل شیئا من المشرکین۔ رواہ احمد ۲؎ والحاکم عن حکیم بن حزام رضی اﷲ تعالٰی عنہ بسند صحیح۔
ہم مشرکوں سے کوئی چیز قبول نہیں فرماتے (اس کو امام احمد اور حاکم نے سند صحیح کے ساتھ حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔ ت)
 (۲؎ مسند امام احمد بن حنبل     عن حکیم ابن حزام     المکتب الاسلامی بیروت    ۳ /۴۰۳)
اسی طرح اور بھی حدیثیں رد وقبول دونوں میں وارد ہیں:
فمنھم من زعم ان الرد نسخ القبول ورد بجھل التاریخ ومنھم من وفق بان من قبلہ منہم فاھل کتاب لا مشرک کما فی مجمع البحار اقول قد قبل عن کسرٰی ولم یکن کتابیا الا ان یتمسک فی المجوس سنوابھم سنۃ اھل الکتاب غیر ناکحی نسألھم ولا اٰکل ذبائحھم ۳؎۔
ان میں کچھ وہ لوگ ہیں جن کا خیال ہے کہ ہدیہ رد کرنے سے اس کا قبول کرنا منسوخ ہوااوریہ غلط ہے کیونکہ تاریخ معلوم نہیں۔ اور بعض نے دونوں میں مطابقت اور موافقت پیدا کی کہ جن کا ہدیہ قبول فرمایا وہ اہل کتاب تھے مشرک نہ تھے جیسا کہ مجمع البحارمیں ہے اقول: (میں کہتاہوں) کہ آپ نے کسرٰی شاہ ایران کا ہدیہ قبول فرمایا حالانکہ وہ اہل کتاب نہ میں سے نہ تھا بلکہ مجوس سے تھا۔ مگر یوں استدلال کیا جائے کہ مجوسی نے اہل کتاب کی روش اختیار کی البتہ ان کی عورتوں سے نکاح اور ان کے ذبیحہ کا کھانا جائز نہیں۔ (ت)
 (۳؎ التلخیص الحبیر فی تخریج احادیث الرافعی الکبیر حدیث ۱۵۳۳  المکتبۃ الاثریۃ سانگلہ ہل    ۳ /۱۷۲)
اس بارہ میں تحقیق یہ ہے کہ یہ امر مصلحت وقت وہ حالت ہدیہ آرندہ وہدیہ گیرندہ پر ہے اگر تالیف قلب کی نیت ہے اور امید رکھتاہےکہ اس سے ہدایاد تحاتف لینے دینےکا معاملہ رکھنے میں اسے اسلام کی طرف رغبت ہوگی تو ضرور لے اور اگر حالت ایسی ہے کہ نہ لینے میں اسے کوفت پہنچےگی اور اپنے مذہب باطل سے بیزار ہوگا تو ہر گز نہ لے، اور گر اندیشہ ہے کہ لینے کے باعث معاذاللہ اپنے قلب میں کافر کی طرف سے کچھ میل یا اس کے ساتھ کسی امر دینی میں نرمی ومداہنت راہ پائے گی تو اس ہدیہ کو اگ جانے اور بیشک تحفوں کا رغبت ومحبت پیدا کرنے میں بڑا اثرہوتاہے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
تھادوا تحابوا۔ رواہ ابو یعلی ۱؎ بسند جید عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ زاد ابن عساکر وتصافحوا یذھب الغل عنکم ۲؎ و عندہ عن ام المومنین الصدیقۃ رفعتہ تھادوا تزدادو احبا۳؎ الحدیث۔
ایک دوسرے کو ہدیہ دے دیا کرو تاکہ آپس کی محبت میں اضافہ ہو، ابویعلی نے اس کو جید سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ اور ابن عساکر نے یہ اضاافہ کیا کہ ایک دوسرے کے ساتھ مصافحہ کیا کرو۔ (یعنی ہاتھ ملایا کرو) اس سے تمھارا باہمی کینہ دور ہوگا اور اسی نے ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے مرفوعا روایت کیاہے ہدیہ دیا کرو تاکہ تمھاری باہمی محبت میں اضافہ اورترقی ہو الحدیث (ت)
 (۱؎ کنزالعمال بحوالہ ابن عساکر     عن ابی ہریرۃ   حدیث ۱۵۰۵۵     مؤسسۃ الرسالہ بیروت    ۶ /۱۱۰)

(۲؎کنزالعمال بحوالہ ابن عساکر     عن ابی ہریرۃ    حدیث ۱۵۰۵۶   مؤسسۃ الرسالہ بیروت    ۶ /۱۱۰ )

(۳؎کنزالعمال بحوالہ ابن عساکر      عن عائشہ    حدیث ۱۵۰۵۷        مؤسسۃ الرسالہ بیروت    ۶ /۱۱۰)
ایک حدیث میں ہے۔ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
الہدیۃ تذھب بالسمع والقلب والبصر۔ رواہ الطبرانی ۴؎ فی الکبیر عن عصمۃ بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ حسنہ السیوطی وضعفہ الہیشمی وغیرہ۔
ہدیہ آدمی کو اندھا، بہرا، دیوانہ کردیتا ہے (امام طبرانی نے اس کو معجم کبیر میں عصمۃ بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔ امام سیوطی نے اس کی تحسین فرمائی جبکہ ہیثمی وغیرہ نے اسے ضعیف قرار دیا۔ (ت)
 (۴؎ المعجم الکبیر للطبرانی     حدیث ۴۸۸    المکتبہ الفیصلیہ    ۱۷ /۱۸۳)
نیز حدیث میں ہے۔ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم :
الھدیۃ تعور عین الحکیم، اخرجہ الدیلمی ۵؎عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما بسند ضعیف۔
ہدیہ حکیم کی آنکھ اندھی کردیتاہے (دیلمی نے بسندضعیف حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما کے حوالے سے اس کی تخریج فرمائی۔ ت)
 (۵؎ الفردوس بمأثور الخطاب   حدیث ۶۹۶۹   دارالکتب العلمیہ بیروت    ۳ /۳۳۵)
اور اگر نہ کچھ مصلحت ہونہ کچھ اندیشہ تو مباح ہے چاہے لے چاہے نہ لے۔
وقد بنی الامر فی ذلک علی المصالح علماؤنا الکرام کما نقلہ فی الباب الرابع عشر من کراھیۃ الہندیۃ ۱؎ عن المحیط عن الامام الفقیہ ابی جعفر وغیرہ فراجعہ۔
ہمارے علماء کرام نے اس معاملہ میں مختلف مصالح پر بنیاد رکھی ہے جیسا کہ اس کو فتاوٰی ہندیہ کی بحث کراہت چودھویں باب میں بحوالہ محیط امام فقیہ ابوجعفر وغیرہ نے نقل کیا ہے لہذا اس کی طرف رجوع کیا جائے۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ     کتاب الکراھیۃ الباب الرابع عشر     نورانی کتب خانہ پشاور    ۵ /۴۸۔ ۳۴۷)
پھر ان کا پکایا ہوا یا ہدیہ دیا ہوا گوشت تو حرام ہے جب تک اپنے سامنے جانور ذبح ہو کر بغیر نگاہ سے غائب ہوئے سامنے نہ پکاہو اور اس کے سوا پکائی ہوئی چیزیں اور بازار کی مٹھائی دودھ دہی گھی ملائی سب کا ایک حکم ہے کہ فتوی جواز اور تقوٰی احتراز۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter