Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۱(کتاب الحظر والاباحۃ )
131 - 144
الجواب

(۱تا ۳) اصل اشیاء میں طہارت وحلت ہے جب تک تحقیق نہ ہو کہ اس میں کوئی ناپاک یا حرام چیز ملی ہے محض شبہہ پر نجس وناجائز نہیں کہہ سکتے۔ ردالمحتارمیں ہے :
لایحکم بنجاستھا قبل العلم بحقیقتھا ۱؎۔
حقیقت حال معلوم ہونے سے پہلے اشیاء کی نجاست کا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔ (ت)
 (۱؎ ردالمحتار     کتاب الطہارۃ     باب الانجاس    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۱ /۲۲۰)
اسی میں ہے :
فی التاتارخانیۃ من شک فی انائہ اوثوبہ اوبدنہ اصابتہ نجاسۃ او لافھو طاھر مالم یستیقن وکذا الآبار والحیاض والحباب الموضوعۃ فی الطرقات ویستقی منھا الصفار والمسلمون والکفار وکذا مایتخذہ اھل الشرک اوالجھلۃ من المسلمین کالسمن والخبز والاطعمۃ والثیاب ۲؎ اھ ملخصا۔
تاتارخانیہ میں مذکور ہے کہ اگر کسی شخص کو اپنے جس، لباس یا برتن کے بارے میں شک ہو کہ آیا وہ ناپاک ہیں یا نہیں تو جب تک اس کا شک یقین کی حدتک نہ پہنچے وہ پاک ہی تصور ہوں گے اور یہی حکم ہے کنووں، تالابوں اور گھڑوں کے بارے میں جو راہوں میں رکھے گئے ہوں اور مسلمان، کافر، چھوٹے بڑے سب ان سے سیراب ہوتے ہوں اسی طرح مشرکین وکفار اور جاہل وناواقف مسلمانوں کی تیار کردہ اشیائے خوردو نوش کاحکم ہے (کہ محض شک سے ناپاک متصور نہیں ہوں گی) اھ ملخصا۔ (ت)
 (۲؎ردالمحتار     کتاب الطہارۃ     باب الانجاس         داراحیاء التراث العربی بیروت    ۱ /۱۰۲)
ہاں اگر کچھ شبہہ ڈالنے والی خبر سن کر احتیاط کرے تو بہتر ہے
لقولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کیف وقدقیل ۳؎
 (اس لئے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے یہ کیسے ہوسکتاہےحالانکہ( اس کے متعلق) ایسا کہا گیا ہے۔ ت) مگر ناجائز وممنوع نہیں کہہ سکتے ،
 (۳؎ صحیح البخاری     کتاب العلم باب الرحلۃ فی المسئلۃ النازلۃ     قدیمی کتب خانہ کراچی        ۱ /۱۹)

(مسند امام احمد بن حنبل     عن عقبہ بن حرث    دارالفکر بیروت  ۴ /۷)
سینگ ہر جانور یہاں تک کہ مردار کا بھی پاک ہے اس کی بنی مسواک منہ میں لینی جائز ہے۔ 

درمختارمیں ہے :
شعر المیتۃ غیر الخنزیر وحافرھا وقرنھا طاہر ۱؎ اھ ملتقطا۔
سوائے سور کے ہر مردار کے بال، کھر اور سینگ پاک ہوتے ہیں۔ اھ متقلطا (ت)
 (۱؎ درمختار     کتاب الطہارۃ     مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۳۸)
البتہ خنزیر کے بالوں کا برش نجش ہے اور اس کا استعمال حرام اس سے دانت مانجنا ایسا ہے جیسے پاخانے سے اور وہ بھی بلاد یورپ سے آتے اور علانیہ بکتے ہیں۔ معلوم ہونے کی صورت میں توصریح حرام ہی ہے اور شبہہ کی حالت میں بھی بچنا ہے۔ اور اصل تو یہ ہے کہ مسواک کی سنت چھوڑ کر نصرانیوں کا برش اختیار کرنا ہی سخت جہالت وحماقت اور مرض قلب کی دلیل ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
 (۴) اس کھانے والے پر کچھ الزام نہیں۔ ہاں کسی کافر خصوصا ان بلاد میں انگریز کے ساتھ کھانے یامعاذاللہ اس کا جھوٹا کھانے یا پینے سے احتراز ضرور ہے۔
لما فیہ من مخالفۃ الکافر وقد قدمنا کراھۃ مخالطۃ اھل الباطل والشرمطلقا فکیف الکافر فکیف اذا کان مسلطا بالحکومۃ والنفوس والموسوسۃ تحب التقرب الیہ ولما فیہ من اساء ظنون المسلمین بنفسہ وقد روی الامام احمد عن ابی الغادیۃ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ایاک و مایسوء الاذن ۲؎ولما فیہ من ایقاع غیرہ فی الغیبۃ ونفسہ فی التھمۃ قد جاء عن امیر المومنین عمر الفاروق رضی اﷲ تعالٰی عنہ من کان یؤمن باﷲ والیوم الاخر فلا یقفن مواقف التھم بل یروی فی ذٰلک عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
کیونکہ اس میں کفار سے میل جول پایا جاتاہے حالانکہ ہم اس سے پہلے اہل باطل اور اہل شر سے ملطقا میل جول کی کراہت بیان کرآئے ہیں پھر کیسے کافر سے اور کیسے حکومت پر جبرا مسلط شخص سے میل جول کا جواز ہوسکتاہے (یعنی اس کا حال تو زیادہ سنگین اور خطرناک ہے پس یہ کیسے روا ہوسکتاہے) اور وسوسے ڈالنے والے نفوس تو چاہتے ہیں کہ ان کے تقرب میں گرفتارہوں نیز اس میں مسلمانوں کے ہاں بدگمانی پائی جانے کا امکان ہوتاہے۔ امام احمد نے ابو الغادیۃ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ (اے بندو!) اپنے آپ کو ان کاموں سے بچاؤ جو کانوں کو برےلگیں اور اس میں دوسروں کو غیبت میں اور اپنے آپ کو تہمت میں ڈالنا ہے جبکہ امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ جوکوئی اللہ تعالٰی او ریوم آخرت پر ایمان رکھتاہے وہ مقامات تہمت سے بچے یعنی وہاں نہ ٹھہرے بلکہ اس باب میں حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے بھی روایت کیا کی گئی ہے۔ اور اللہ تعالٰی سب سے بڑا عالم ہے۔ (ت)
 (۲؎ مسند امام احمد بن حنبل  بقیہ حدیث ابی الغادیہ المکتب الاسلامی بیروت   ۴/۷۶)

(۰۱؎ مراقی الفلاح مع حاشیہ الطحطاوی     باب ادراک الفریضۃ     نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی    ص۲۴۹)

(حاشیہ الطحطاوی     فصل مایکرہ للصائم  نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی    ص ۳۷۱)
مسئلہ ۲۰۷: از گلگت مرسلہ سردار امیر خاں ملازم کپتان اسٹوٹ ۲۱ ذی الحجہ ۱۳۱۲ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں  : ایک ڈنڈی دار پیالے میں جس میں کچھ بال نہ پڑا ہو اگر ہم نے اس میں چائے بنائی اس کو قوم نصارٰی نے آکر ڈنڈی پکڑ کر صرف اٹھالیا اور وہ چائے ہم کو پینا جائز ہے یانہیں؟ بینوا توجروا (بیان فرماؤ اجرو ثواب پاؤ۔ ت)
الجواب

جائز ہے۔مسلمان کے مذہب میں چھوت نہیں۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۸: ۲۰ ربیع الآخر ۱۳۱۲ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ مسلمان جو اینٹ کے کاروبار کرتے ہیں ان کے یہاں کمھار نوکر ہیں، اگر یہ کمھار ہندوکبھی اپنے یہاں سے پوری پکوا کرلائیں یا بازار سے اپنی آمدنی میں سے مٹھائی وغیرہ خرید کرکے دیں تو اس کا لینا اور کھانا درست ہوگا یا نہیں؟ اور نیز عام اہل ہنود کے یہاں کے کھانے کا جوطریق رسم کچھ بھیجیں لینا اور کھانا درست ہے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب : حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے کافروں کے ہدیے قبول بھی فرمائے اور د بھی فرمائے۔ کسرٰی بادشاہ ایران نے ایک خچر نذر کیا۔ قبول فرمایا :
الحاکم فی المستدرک عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما قال ان کسرٰی اھدی للنبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بغلۃ فرکبھا بحبل من شعرثم اردفنی خلفہ۱؎ قال الحافظ الدمیاطی فی ذٰلک نظر لان کسرٰی مزق کتابہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فبعید ان یھدی لہ ۲؎ اقول یرد نظرہ حدیث الآتی واما استبعادہ فقد اجاب عنہ العلماء بجوابین ذکرھما الزرقانی فی شرحہ ۳؎ علی المواھب فی ذکر بغالہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ۔
حاکم نے مستدرک میں حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کی ہے انھوں نے فرمایا کسرٰی شاہ ایران نے آنحضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک خچر بطور تحفہ بھیجا اور آپ نے اس پر سواری فرمائی جبکہ اس کی لگان بالوں کی رسی تھی اور آپ نے مجھے اپنے پیچھے بٹھایا، حافظ دمیاطی نے فرمایا اس میں اشکال ہے اس لئے کسرٰی نے آپ کا نامہ مبارک چاک کردیا تھا ، اوریہ بات ناقابل فہم اور بعید ہے کہ اس نے آپ کے لیے تحفہ بھیجا ہو، میں کہتاہوں محدث دمیاطی کے اعتراض کو اگلی حدیث مسترد کررہی ہے۔ رہا اس کا بعید کہنا تو اہل علم حضرات نے اس کے دو جواب دیئے ہیں جن کو علامہ زرقانی نے مواھب اللدینہ کی شرح میں حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم وآلہ وسلم کے خچروں کے شمار کے سلسلے میں ذکر کیا ہے۔ (ت)
 (۱؎ المستدرک للحاکم     کتاب معرفۃ الصحافیۃ تعلیم النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم لابن عباس     دارالفکر  بیروت ۳ /۵۴۱)

(۲؎ شرح الزرقانی علی المواھب اللدینہ     ذکر بغالہٖ علیہ الصلٰوۃ والسلام   دارالمعرفۃ بیروت    ۳ /۳۸۹)

(۳؎شرح الزرقانی علی المواھب اللدینہ     ذکر بغالہٖ علیہ الصلٰوۃ والسلام    دارالمعرفۃ بیروت     ۳ /۳۸۹)
یونہی بادشاہ فدک نے چار اونٹنیاں پر بار نذ ر کیں۔ قبول فرمائیں، اور بلال رضی اللہ تعالٰی عنہ کو بخش دیں۔
رواہ ابو اداؤد عن بلال المؤذن رضی اﷲ تعالٰی عنہ وفیہ انہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال لبلال فاقبضھن واقض دینک۔
اس کو امام ابوداؤد نے حضرت بلال مؤذن کی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ (رضی اللہ تعالٰی عنہ) اس میں مذکور ہے کہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ تعالٰی عنہ سے فرمایا : ان پر قبضہ کرکے اپنا قرض ادا کرو۔ (ت)
 (۴؎ سنن ابی داؤد     کتاب الخراج والفی باب فی الامام یقبل ھدایا المشرکین         آفتاب عالم پریس لاہور    ۲ /۷۸)
Flag Counter