Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۱(کتاب الحظر والاباحۃ )
130 - 144
مسئلہ۲۰۲: ازاوجین مرسلہ محمد یعقوب علی خاں     ۱۷/ ربیع الآخر شریف ۱۳۱۰ھ

چہ مے فرمایند علمائے افضل الکملائے ومفتیان اکمل الفضلاء دریں مسئلہ کہ حلا نزد کسے معتبر بہمراہی طباخ رفتہ گفت کہ من می خواہم کہ مردمان اہل اسلام طعام شادی دخترم تیارکنانیدہ بخورند چنانچہ مسلم ضعیف المعقیدہ وغیرہ چیزے از قسم خوردنی گرفتہ پختہ بخوردن ازیں حرکات خرافاتیہ اوشان مضحکہ درمیان اہل ہنود اظہر شدہ وجماعت مسلمان خجل پس دعوت مردار خوار وخوکیاں درست است یاحرام وخورندگان دعوت تاتائب نشوند بطریق تنبیہ زمرہ اہل اسلام خارج سازندو پر ہیز نمایند جائز ست ی نہ کہ دیگراں راعبرت شود وبار دوم ملوث ایں کار خراب نباشند دریں مسئلہ ہرچہ حکم شرعی درحق خورندہ وبزندہ گردد بحوالہ عبارت کتب بیان فرمایند رحمۃاللہ علیہم اجمعین۔
کیا فرماتے ہیں ایسے علمائے جو کاملوں میں اکمل ور فاضلوں میں افضل ہیں کہ ایک غیر مسلم (ہندو) مسلمانوں کی بستی میں کسی معتبر آدمی کے پاس باورچی ہمراہ لے گیااورکہا کہ میں چاہتاہوں کہ مسلمان لوگ میری بیٹی کی شادی کا کھانا خود اپنے ہاتھوں تیارکرواکر کھائیں (تاکہ کوئی شک وشبہہ نہ ہو) چنانچہ کچھ کمزور عقیدہ والے لوگوں نے کھانے کا سامان وغیرہ لے کر پکایا اور کھایا جس سے مسلمانوں کے خلاف ہندوؤں میں ہنسی مذاق ہونے لگا اور مسلمان شرمندہ ہوئے، کیا حرام خوروں کی دعوت میں کھانا جائز ہے  یا حرام؟ دعوت کھانے والے جب تک تائب نہ ہوجائیں کیا انھیں گروہ اسلام سے بطور تنبیہ خارج تصور کیا جائے اور ان سے اگر علیحدگی اختیار کی جائے تو کیا یہ جائز ہوگی کیونکہ ہم چاہتے ہیں کہ لوگوں کو عبرت حاصل ہو اور وہ دوبارہ اس طرح کی گھٹیا حرکت نہ کرنے پائیں۔ اس سلسلے میں کھانے اور پکانے والوں کے بارے میں شرعا کیا حکم ہے؟ بحوالہ عبارات کتب جواب مرحمت فرمایا جائے۔ (ت)
الجواب : اگر چہ کسان مذکور ایں قدر احتیاط کردن کہ طعام پختہ ہمچوں ناکساں نخوردند بلکہ خورد نیہا گرفتہ خود پختہ بکار بردند اما تاہم ایں کار ختطا وبے جا افتادہ کہ اموال ہمچوں حرام وناپاک پیشگان خبیث ست در حدیث کسب حجام را بسبب ملابست بجاست خون خبیث فرمودہ اند با آنکہ پیشہ او کہ خون کشیدن ست شرعا حلال است احمد ومسلم وابوداؤد والنسائی عن رافع بن خدیج رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ثمن الکب خبیث ومھر البغی خبیث وکسب الحجام خبیث ۱؎ ،
اگر چہ مذکورہ لوگوں نے اس قدر احتیاط برتی کہ ان نااہلوں کا پکا یا ہوا کھانا نہیں کھایا بلکہ کھانے کی اشیاء خود لے کر پکائیں اور اس طرح اپنے ہاتھوں سے پکا کر کھایا مکر پھر بھی ان کی یہ حرکت نامناسب اور بے جاقرار پاتی ہے۔ حرام اور ناپاک پیشہ کرنے والوں کا مال خبیث (گندہ) ہے، چنانچہ حدیث میں پچھنے لگانے والوں کی کمائی کو ناپاک اور خون کے تلبس کی وجہ سے خبیث فرمایا گیا حالانکہ اس کا پیشہ خون کھینچنا شرعا جائز ہے۔ چنانچہ مسند احمد ، مسلم، ابوداؤد اور سنن نسائی میں حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ تعالٰی عنہ کے حوالہ سے مروی ہے کہ انھوں نے فرمایا آنحضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کتے کی قیمت ، بدکار عورت کا مہر یعنی اس کی کمائی اور پچھنے لگانے والے کی کمائی یہ سب خبیث یعنی گندے کام ہیں۔ تو خنزیر خوروں کی کمائی بطریق اولٰی خبیث ہے۔
 (۱؎ صحیح مسلم         کتاب المساقات باب تحرم ثمن الکلب     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲ /۱۹)

(سنن ابی داؤد         کتاب البیوع         آفتاب عالم پریس لاہور    ۲ /۱۳۰)
پس کسب خوکیاناں بدرجہ اولٰی اخبث واشنع باشد باز ایں کاربحب عرف دیار باعث تنفیر مسلمین وانگشت نمائی در بردران دین مے شود ہر کار یکہ چناں ست شرعا مکروہ ناشایانست تاآنکہ علماء گفتہ اند درشہرے کہ مرد مان بخضاب اعنی خضاب جائز کہ غیر سوا دست خوکردہ باشند آنجا ترک خضاب وجائیکہ تبرک باشند آنجا فعل خضاب مکروہ وناپسندیدہ است زیرا کہ خروج از عادت باعث شہرت و موجب کراہت ست، امام علامہ عارف باللہ سیدی عبدالغنی نابلسی قدس سرہ، القدسی درحدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ فرمود من کان فی موضع عادۃ اھلہ الصبغ اوترکہ فخر وجہ عن العادۃ شہرۃ ومکروہ ۱؎ اینہا بآنکہ خضاب و ترک ہر دو شرعا رواست وخوکردگان یکے از انہا مراں دیگر را زنہار مخالف دین ودیانت نمے دادند فکیف کہ آں فعل فی نفسہٖ نیز شرعا ناپسندیدگی دارد درعامہ بلاد در اذہان و قلوب عامہ مسلمین نفرت شدیدہ ازوجائیگیر باشند وارتکاب ہمچوں افعال پیش ایشاں امارت بیباکی ودناءت قلب وقلت دین وضعف دیانت بود بچناں رے پرداختن وخود راہدف سہام طعن وملام اہل اسلام ساختن وبا جہانے طرف شدہ رعایت شرع ومراعات خاطر مسلمانان یکسرپس پشت انداختن خود چہ زیبا ست شرع مطہر ہر گز ہمچوں کارے رضا ندہدکسان مذکورراباید کہ چارہ کار خود سازندوبمجمع مسلمین بتوبہ ومعذرت پردہ زند کہ بے سبب افروختہ اند بآب اعتذار بنشانند وغبار ملالےکہ بر خاطر مسلماناں از جانب آناں نشستہ است بیفشانند حکم ایں قدرست اماکار مسطور باخراج ایشاں از زمرہ مسلمان نیرزد تفریط وافراط ہر دو بدست ومیزان اعتدال بدست حق پرست نظر ست۔ سبحنہ وتعالٰی اعلم۔
نیزیہ کام علاقہ کے عرف میں مسلمانوں کی نفرت اور انگشت نمائی کا سبب ہے جبکہ ہر ایسا کام شرعا ممنوع ہے یہاں تک کہ علماء نے فرمایا ہے کہ جس شہر میں جائز خضاب یعنی سیاہ خضاب لگانے کی عادت ہو وہاں خضاب نہ لگانا اورجہاں خضاب نہ لگانے کا رواج ہو وہاں خضاب لگانا مکروہ ہے کیونکہ اس میں شہر کی عادت سے خروج کے باعث بدنامی ہوتی ہے جو کہ مکروہ ہے امام  علامہ عارف باللہ سیدی عبدالغنی نابلسی قدس سرہ القدسی نے حدیقہ ندیہ میں فرمایا جوشخص علاقہ کی عادت خضاب یا عدم خضاب کی عادت سے خروج کرے تو شہرت کی وجہ سے مکروہ ہے حالانکہ خضاب اور ترک خضاب اور عادت کے خلاف کرنا شرعا دین ودیانت کے خلاف نہیں ہے تو ایسے کام کے متعلق کیا حال ہوگا جوشرعا خود ناپسندیدہ ہے اور تمام بلاد میں اسکی وجہ سے مسلمانوں کے دلوں میں شدید نفرت پائی جاتی ہے اس نوع کے کاموں میں مشغول ہوجانا اور اپنے آپ کو اہل اسلام کے طعن وملامت کے تیروں کا نشانہ بنانا اور دنیا والوں سے ایک طرف ہوجانا شریعت کی رعایت اور اہل اسلام کی مراعات کو یکدم پس پشت ڈال دینا کیسے اچھا ہوسکتا ہے ، شریعت مطہرہ اس قسم کے کاموں سے خوش نہیں ہوتی لہذا مذکورہ لوگوں کو چاہئے کہ وہ اپنے کام کی تدبیر (چارہ) کریں اور مسلمانوں کی مجلس میں توبہ اور معذرت میں مشغول ہوں کہ بغیر سبب جلائی ہوئی آگ کو معذرت کے پانی سے بجھائیں۔ اور بے چینی وتنگ دلی کا گردوغبار جو ان کی طرف سے مسلمانوں کے دلوں پر بیٹھ گیا ہے اسے جھاڑدیں۔ صرف اتنا ہی حکم ہے لیکن یہ کام جو سوال میں بیان کیا گیا ہے کہ انھیں مسلمانوں کے گروہ سے نکال دیا جائے یہ جائز اور مناسب نہیں۔ پس افراط وتفریط (زیادتی وکمی) دونوں ہی برے ہیں۔ اور حق پرستوں کے ہاتھوں میں عدل ترازو محفوظ ہے۔ اللہ تعالٰی پاک، برترا ور سب کچھ جاننے والا ہے۔ (ت)
 (۱؎ حدیقۃ الندیہ    شرح طریقہ محمدیہ ومنہا ای من الافات اضاعۃ الرجل الخ         المکتبہ النوریۃ الرضویۃ لائلپور     ۲ /۵۸۲)
مسئلہ ۲۰۳ تا ۲۰۶: از گلگت چھاؤنی جوئنال مرسلہ سید محمد یوسف علی صاحب شعبان ۱۳۱۲ھ

جناب مولوی صاحب مخدوم مکرم سلامت، بعد آداب تسلیمات کے گزارش یہ ہے کہ براہ مہربانی اس کا جواب بہت جلد مرحمت فرمائے گا کیونکہ اس جگہ پر خط عرصہ سے پہنچتا ہے۔ بوجہ برف کے جواب کے واسطے عرصہ دو ماہ کا ہونا چاہئے۔ بندہ کو اس وقت سوا آپ کے اور کوئی نہیں یاد آیا۔ امیدوارہوں کہ اکثر یہاں کے لوگ ناواقف ہیں۔ چند باتیں میں سوال میں لاتاہوں ان کا جواب دیجئے گا۔ فقط۔
 (۱) انگریز کے ولایت کی چند چیزیں ایسی ہیں جو کہ بوجہ یہاں دستیاب نہ ہونے کو ان کو استعمال کرنا اول تو مکھن وہاں سے گائےکے دودھ کا بن کے ٹین کے بکس میں بند ہوکر آتاہے اس پر گائے کا نمونہ بھی بنا ہوتاہے اس کوخرچ میں لانا جائز ہے یانہیں؟

(۲) اس طرف سے گائےکا دودھ ٹین کے بکس میں آتاہے چند شخص کہتے ہیں یہ اچھا ہے چند شخص اعتراض کرتے ہیں دیکھا ہوا کوئی صحیح نہیں بتلاتا صرف سنے ہوئے پر برتتے ہیں۔
 (۳) ایک قسم کا دانت صفا کرنے کا بجائے مسواک کے انگریزی برش ہے اس سے دانت خوب صفا ہوتے ہیں چند شخص کہتے ہیں اس کا دستہ ہاتھی دانت کا ہے اور سینگ کے بال ہیں فرض کا اگر سینگ کے بال ہیں ان کو منہ میں لینا کیساہے؟ چونکہ کوئی اس سے اصلا خبر نہیں رکھتا عقل سے ہاتھی دانت بتاتے ہیں۔

(۴) یہ کہ بکری ہم نے اپنے ہاتھ سے ذبح کردی اس کو اپنے ہاتھ سے پکایا اس کو انگریز نے اپنے سامنے رکھ کر چھری اور کانٹے سے علیحدہ کاٹا یہاں تک کہ اس کا ہاتھ نہ لگاہے اگر اس کوکوئی شخص غفلت سے کھائے تو کیسا ہے؟
Flag Counter