| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۱(کتاب الحظر والاباحۃ ) |
مسئلہ ۲۰۱: از اوجین مرسلہ مولوی یعقوب علی خاں ۹ محرم الحرام ۱۳۰۹ھ چہ می فرمایندعلمائے شریعت ومفتیان طریقت دریں مسئلہ کہ زید منصب نیابت وامامت دارد وطعام بخانہ کسانیکہ لحکم خوک ومردار پختہ نصارٰے را می خوارنند بخورد ومی گوید کہ پختن مردار وخوک باکے نیست دست بشوید پاک شود وازیں سبب اکثرے مرد ماں شہر سند کامل دانسہتہ تناول طعام بخانہ اومی نمایند دریں بارہ حقارت اہل اسلام وتہلکہ ونزاع درمیان مسلماناں واقع گردیدہ پس بحق گویندہ ایں کلام مخالف التیام شرعی وممد ومعاون آنچہ حکم وطعام خوردن برمکان آن شخص کہ دریں کار زشتیہ وناقصہ ملوث اند درست ست یانہ بیان فرمایند بسند کتاب ۔ بینو توجروا۔
علمائے شریعت اور مفتیان طریقت اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ زید ایک مقام پرامامت و نیابت کے فرائض انجا م دیتاہے لیکن جو لوگ سور اور مردار کا گوشت پکا کر عیسائیوں کو کھلاتے ہیں زید ان لوگوں کے گھروں سے کھانا کھتاہے اور کہتاہے کہ مردار اور سور کا گوشت عیسائیوں کے لئے پکانے میں کوئی حرج نہیں۔ پکانے کے بعد ہاتھ دھو ڈالے تو پاک ہوجاتے ہیں۔ شہر کے اکثر لوگ زید کے اس طرز عمل کو دیکھ کر ان لوگوں کے گھرو سے کھانا کھانے لگے ہیں جبکہ کچھ لوگ اس عمل سے نفرت اور سخت اختلاف کررہے ہیں اور نزاع کی صورت بن گئی ہے۔ لہذا کتاب وسنت کی روشنی میں بیان فرمایا جائے کہ شخص مذکور کے بارے میں کیا شرعی حکم ہے اور اس کی معاونت وامداد اور اس سے تعاون کرنے والوں کے بارے میں شریعت کیا فرماتی ہے۔ بیان فرماؤ تاکہ اجر وثواب پاؤ۔ (ت)
الجواب : ہمچوں بیباک فجار کہ بہر خوردن کفار پختن چنیں اخبث نجاسات وانجس محرمات پیشہ ساختہ اند ونظافت طبع ونزاہت شرح ہمہ را یک لخت پس پشت اند اختہ مسلمان متدین راطعام بخانہ ایشاں فشاید خورد بقطع نظر از انکہ تجربہ صادقہ شاہد است کہ کثرت مزاولت چیزے حرمتش از نگاہ برمی اندازد پس مظنون آنکہ دراب وظروب خود شان از ناجسات ملعونہ مذکورہ بے احتیاط باشند اقدام بریں امر باعث مطعونی وتہمت باشد ودرحدیث آوردہ اند من کان یؤمن باﷲ والیوم الاخر فلا یفقن مواقف التہم ۱؎ مومن متدین راچہ شایان ست کہ بے ضرورت شرعیہ آبروئے خود ریختہ بررخ خویشتن وبرطعن وتہمت مفتوح سازد وبراہ ران دینی را درگناہان کبیرہ غیبت و حقد وتنابزبالا لقاب وغیرہا اندزاہد درحدیث فرمودہ اندایاک ومایسؤ الاذن ۲؎۔ ودرحدیث دیگر ست ایاک وکل امر یعتذر منہ ۳؎ ، ذیادتے روایت کنند فان الخیر لایعتذر منہ باز ایں امر باعث نفرت مسلماناں باشدد وتنفیر مسلماناں بے ضرورت شرعیہ قطعا ممنوع سید عالم فرمود صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بشروا ولا تنفروا مقصود شرع ایتلاف است نہ اختلاف وخود قضیہ عقل سلیم نیست بے ضرور تے ملحبہ باجہانے طرف افتادن وبموقف مقت وکراہت قوم استادن درحدیث آمدہ رأس العقل بعد الایمان باﷲ التود والتوددالی الناس ۱؎ وبروایتے دیگر راس العقل بعد الایمان باﷲ مداراۃ الناس ۲؎ فقیر احادیث ایں باب در رسالہ خود جمال الاجمال وشرح اوکمال الاکمال ہر چہ تمامتر رنگ وتفصیل دادہ ام، بالجملہ عقلا ونقلا ایں چنیں کار شناعتہائے نامحجودہ دارد وعاقبت ہائے نامحمودہ باز چوں کا ر بفتنہ فساد وتفریق کلمہ مسلمین انجامد سخت جریمہ عظیمہ گردد وقال اﷲ تعالٰی
والفتنۃ اشد من القتل ۳؎ ۔
ایسے نڈر، بے خوف اور تقوٰی سے عاری لوگ جو کافروں غیر مسلموں کے لئے خبیث ترین اور نجس وحرام چیزیں پکانے کھلانے کا پیشہ اختیارکرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے ہاں سے دینداروں اور تقوٰی دار لوگوں کو کھاناہر گز نہیں کھانا چاہئے کیونکہ جہاں حرام چیزوں کا استعمال کثرت سے ہو وہاں برتنوں کے ناپاک اشیاء سے آلودہ ہونے کااحتمال ہوتاہے۔ اور دیندار وتقوٰی دار لوگوں کا ایسے لوگوں کے ہاں جانا اور ان کے ہاں سے ایسے مشکوک برتنوں میں کھانا، کھانا عوام الناس کی نگاہوں میں باعث الزام و باعث تہمت ہوسکتاہے۔ حدیث شریف میں ہے : ''جوکوئی اللہ تعالٰی اور قیامت پر ایمان رکھتاہے تو وہ مقامات تہمت سے بچے'' لہذا ایسی صورت حال میں الزام، طعن اور تہمت سے بچنا ضروری ہے بصورت دیگر یہ اقدام اپنے دینی بھائیوں کو کبیرہ گناہوں غیبت، بہتان، کینہ اور برے القاب کے استعمال میں مبتلا کردے گا۔ حدیث مبارک ہے۔ لوگو! جن کاموں کو کان ناپسند کرتے ہیں ان سے بچو اور ایسے کاموں سے پرہیز کرو جن کے ارتکاب پر معذرت کرنی پڑے۔ اور بغیرشرعی مجبوری کے مسلمانوں کو متنفر کرنا ممنوع ہے۔ چنانچہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مسلمانوں کو خوشخبری دو یعنی سناؤ اور نفرت نہ دلاؤ۔ شریعت کا مقصد جوڑنا اتحاد پیدا کرنا ہے نہ کہ توڑنا۔ عقل سلیم کا تقاضا۔بھی یہی ہے کہ لوگوں کو بیقراری میں ڈال کرناراض نہ کیا جائے اور کراہت والزام والی جگہ کھڑے ہونے سے پرہیز کیا جائے، حدیث پاک میں ارشاد نبوی ہے اللہ تعالٰی پر ایمان لانے کے بعد عقل کی بنیاد لوگوں سے دوستی اور محبت رکھتاہے ایک اور روایت میں ہے کہ اللہ تعالٰی پر ایمان لانے والے ے بعد عقل مندی ودانشمندی لوگوں سے صلح جوئی میں ہے۔ فقیر (صاحب فتاوٰی) نے اس باب کی حدیثوں کو اپنے رسالہ جمال الاجمال اور اس کی شرح کمال الاکمال میں تفصیلا بیان کردیا ہے۔ خلاصہ یہ کہ عقل ونقل کے اعتبار سے اس طرح کاکام یا اقدام اپنے اندر کئی قسم کی قباحتیں رکھتاہے کہ جن کا انکارنہیں کیا جاسکتا۔ اور ایسے کاموں کا انجام مذموم ہوتاہے جب یہ کام یااقدام فتنہ وفساد اور مسلمانوں کے درمیان تفریق اورپھوٹ پڑنے کی حد تک جاپہنچے تو جرم عظیم بن جاتاہے چنانچہ ارشاد ربانی ہے : فتنہ قتل سے بدتر ہے۔
(۱؎ مراتی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح باب ادراک الفریضہ نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۲۴۹) (۲؎ مسند امام احمد بن حنبل بقیہ حدیث ابی الغاویۃ المکتب الاسلامی بیروت ۴ /۷۶) (۳؎ الفردوس بماثور الخطاب حدیث ۱۷۵۵ درالکتب العلمیہ بیروت ۱ /۴۳۱) (۴؎ صحیح البخاری کتاب العلم باب ماکان النبی یخولیم بالموعظہ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۶) (مسند امام احمد بن حنبل حدیث ابی موسٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۴/ ۳۹۹) (۱؎ کنزا العمال بحوالہ الشیرازہی فی الالقاب حدیث ۴۳۵۸۱ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۵ /۹۱۶) (۲؎ المصنف لابن ابی شیبہ کتا ب الادب حدیث ۵۴۸۰ اداراۃ القرآن کراچی ۸ /۳۶۱) (۳؎ القرآن الکریم ۲ /۱۹۱)
و درحد یث است الفتنۃ نائمۃ لعن اﷲ من ایقظھا ۴؎ باز چوں نیک، بنگری آزمودن وانما ست کہ دریں اعصار وامثال ایں کار نخیز مگرازدست کسانیکہ چنداں پرائے دین ندارند وبے باک زیستن وآزاد گزراند راحاصل زندگانی انگارندلیت ولعل چیزے دیگر ست ووقع وفعل دیگر اگر انصاف کنی واقع چنیں ست کہ درلم و تسلیم فرازمباش بہمیں تقریر نفیس بحمداللہ تعالٰی منکشف شد حکم طعام بانصارٰی خوردن وامثال ذٰلک ازکار ہائے اہل زیغ وفتن نسأل اﷲ السلامۃ والعز والکرامۃ باز مقرر فقہ است کہ منسب امامت نشاید داد ہمچوں کسے راکہ مردماں را از ونفرتے باشد وکار بتقلیل جماعت کشد اگرچہ دریں باب گناہے از ذات آن کس نباشد چوں ولد الزنا واجذام وابرص وغیرھم ایں نکتہ ہم بنظر داشتی است و آنکہ گفت در پختن خوک ومردار باکے نیست پر غلط گفت بلے بے ضرورت شرعیہ تلوث بنجاسات ممنوع ست خاصہ بھمچوکارے کہ حاملش قصد اصلاح ماافسدہ اللہ باشد وپختن بہر خوارندن کفار قطعا ناجائز وحرام ماحرم اخذہ حرام اعطاؤہ ۱؎ وقال اﷲ تعالٰی
ولاتعاونوا علی الاثم والعدوان ۲؎،
واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔
اور حدیث شریف میں ہے کہ فتنہ خوابیدہ (یعنی سویا ہوا ہوتاہے) جوکوئی اسے بیدار کرے اس پر اللہ تعلٰی کی لعنت ہو۔ اگر آپ اچھی طرح غور کریں تو یہ واضح ہوگا کہ اس قسم کے افعال انہی لوگوں سے سرزد ہوتے ہیں جو دین اور تقاضائے دین کو چنداں اہمیت نہیں دیتے۔ بے خوف ہوکر بالکل آزادانہ لاپروائی والی زندگی گزارنا زندگی کا حاصل سمجھتے ہیں۔ ٹال مٹول اور لیت ولعل سے کام لینا الگ چیز ہے۔ اور کام کہ گزرنا الگ اور جدا گانہ چیز، اگر تم انصاف سے کام لوتو درحقیقت بات یہی درست اورصحیح ہے۔ گو لِمَ اور لانسلم کہہ کر اس سے صفر نظر کیا جائے (میں نہیں مانتا اور کیوں کیسے کا تو کوئی علاج نہیں مترجم) پس اس نفیس اور عمدۃ تقریر سے بحمداللہ تعالٰی ظاہر ہوگیا ہے کہ عیسائیوں کے ساتھ مل کر کھانا پینا اور اس قسم کے دوسرے کام کرنا کج فطرت اور فتنہ بازلوگوں کا شعار ہوتاہے (مخلص اہل ایمان نہ ایسا کرتے ہیں اورنہ انھیں ایسا کرنا زیب دیتاہے۔) نیز فقہ میں یہ اصول مسلمہ ہے اور طے شدہ ہے کہ عہدہ امامت ان لوگوں کو نہیں دینا چاہئے جن سے لوگ نفرت کرتے ہوں اور بوجہ نفرت جماعت سے نماز پڑھنا چھوڑدیں اگر چہ عہدہ امات پر فائز ہونے والا بے قصور وبے گناہ ہو جیسے حرامزادہ۔ کوڑ والا، مرض برص والا۔ اسی طرح دیگر امراض کا شکار آدمی، لہذا یہ نکتہ پیش نظر رکھنا ضروری ہے اور جس کسی نے یہ کہا کہ سور اور مردار کا گوشت پکانے اور غیر مسلموں کو کھلانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا یا کچھ مضائقہ نہیں اور خطرہ نہیں وہ شخص مذکور غلط بات کہنے کامرتکب ہوا بغیر علم وتحقیق کے اس قسم کا فیصلہ صادرکردینا ہر گز مناسب نہیں بغیر شرعی مجبوری کے گندگیوں سے آلودہ ہونا سخت ممنوع اور ناجائز ہے بالخصوس ایسے کاموں سے پرہیز کرنا بہت ضروری ہے جن کا حاصل ان کاموں کی اصلاح کرنے کاارادہ کرناہے جنھیں اللہ تعالٰی نے بگاڑ دیا ہے۔ اور کافروں کو کھانا کھلانے کے لئے مسلمانوں کا اپنے ہاتھوں ناجائز وحرام چیزوں کو پکانا یقینا ناجائزاور حرام ہے۔ اور یہ قاعدہ واصول ہے کہ جس چیز کا لینا حرام اس کا دینا بھی حرام ہے۔ اور اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا: (لوگو!) گناہ ااور زیادتی والے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد نہ کیا کرو۔ اور اللہ تعالٰی پاک، برترا ور سب کچھ جاننے والاہے۔ (ت)
(۴؎ کشف االخفاء حرف الفاء حدیث ۱۸۱۵ دارالکتب العلمیہ بیروت ۲ /۷۷) (۱؎ الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ الرابعۃ عشر ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ /۱۸۹) (۲؎ القرآن الکریم ۵ /۲)