مسئلہ ۱۹۸: ۱۱ / ذیقعدہ ۱۳۰۶ھ مرزا باقی بیگ صاحب رامپوری
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں ہنودجو اپنے معبودان باطلہ کوو ذبیحہ کے سوااور قسم طعام وشیرینی وغیرہ چڑھاتے ہیں اور اس کا بھوگ یا پرشاد نام رکھتے ہیں اس کا کھانا شرعا حلال ہے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب : حلال ہے لعدم المحرم (حرمت کی دلیل نہ ہونے کی وجہ سے۔ ت) مگر مسلمان کو احتراز چاہئے
اگر کسی مسلمان نے آتش پر ست کی بکری اس کے آتشکدہ کے لئے یا کافر کے جھوٹے خداؤں کے لئے ذبح کر ڈالی تو اسے کھایا جائے گا (یعنی کھانا چاہے تو کھاسکتاہے) اس لئے کہ مسلمان نے اس پر خدا کا نام لیاہے لیکن ایسا کرنا مسلمان کے لئے مکروہ ہے تاتارخانیہ میں جامع الفتاوٰی کے حوالے سے اسی طرح منقول ہے۔ اھ۔ اقول (میں کہتاہوں) جب یہ ذبیحہ ہونے کے بعد حلال ہے تو پھر جس مسئلہ کے متعلق سوال کیا گیا وہ بطریق اولٰی حلال ہے۔ (ت)
(۱فتاوٰی ہندیہ کتاب الذبائح الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۲۸۶)
اور شیخ محقق رحمۃ اللہ تعالٰی نے مجمع البرکات میں فرماتے ہیں:
مایاتی المجوس فی نیروز ھم من الاطعمۃ یحل اخذ ذلک ولا حتراز عنہ اسلم کذا فی مطالب المومنین ناقلا عن الذخیرۃ ۱؎ اھ ملخصا اقول فاذا کان الاحتراز عن ھذا اسلم مع انہ لیس الاطعاما صنعہ لیوم زینتہم فالمستفسر عنہ اجدر بالاحتراز واحری کمالایخفی۔
آتش پرست اپنی عیدمیں جو کھانے وغیرہ لاتے ہیں ان کالینا حلال ہے ہاں البتہ ان سے بچنا زیادہ سلامتی کی راہ ہے۔ اسی طرح مطالب المومنین میں ذخیرہ کے حوالے سے منقول ہے۔ تلخیص پوری ہوئی، اقول(میں کہتاہوں) جب اس سے بچنا زیادہ سلامتی ہے باجود یکہ یہ صرف وہ کھانا ہے جو انھوں نے اپنی زیب وزینت کے دن کے لئے تیار کیا ہے لہذا جس کے متعلق سوال کیاگیا وہ بچنے کے زیادہ قابل اور لائق ہے جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ (ت)
(۱؎ مجمع البرکات)
اگر کفار اس پر شاد کو بطور تصدق بانٹ رہے ہوں جب تو ہر گز پاس نہ جائے یا رب مگر بضرورت شدیدہ کہ صدقہ کے طور پر لینے میں معاذاللہ مسلمان کی ذلت اور گویا کافر کے ہاتھ اس کے ہاتھ پر بالا کرنا ہے۔ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الیدالعلیا خیر من الید السفلی والید العلیا ھی المنفقۃ والید السفلی ھی السائلۃ اخرجۃ الشیخان۲؎ وغیرھما عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اونچا ہاتھ نیچے ہاتھ سے بہتر ہے اور دینے والا ہاتھ اونچا ہے اور مانگنے والا نیچا، (بخاری ،مسلم اور ان دو کے علاوہ باقی لوگوں نے عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہماا سے اس کی تخریج کی ۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم۔
(۲؎ صحیح البخاری کتاب الزکوٰۃ باب لاصدقہ الا عن ظہر غنی الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۹۲)
(صحیح مسلم کتاب الزکوٰۃ بیان ان الید العلیا خیر من الید السفلٰی قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۳۲)
مسئلہ ۱۹۹: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جس درخت کو پاخانہ وغیرہ کے ناپاک پانی دئے گئے ہوں اس کا میوہ کھانا جائز ہے یانہیں؟ بینوا توجروا (بیان فرماؤ اجر پاؤ۔ ت)
الجواب: بلاکراہت جائزہے۔ یہی مذہب ہے اکثر فقہاء کا ۔
فی ردالمحتار عن ابی مسعود الزروع المسقیۃ بالنجاسات لاتحرم ولاتکرہ عند اکثر الفقہاء ۱؎ انتہی، واﷲ تعالٰی اعلم۔
فتاوی شامی میں ابومسعود کے حوالے سے ہے کہ جن کھیتوں کو ناپاک پانیوں سے سیراب کیا گیا تو وہ اکثر ققہاء کے نزدیک حرام اور مکروہ نہیں انتہی واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار کتا ب الحظروالاباحۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۱۷)
مسئلہ ۲۰۰ : ۱۱ رجب ۱۳۰۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک برات یہاں سے پیلی بھیت جائے گی میزبان وعدہ کرتاہے کہ کوئی ممنوع شرعی برات کے ساتھ راہ میں نہ ہوگا اسٹیشن ریل پیلی بھیت پر پہنچ کر سب ہمراہیوں کو کھانا کھلایا جائے گا اور ان میں جو لوگ ممنوعات شرعیہ سے پرہیز رکھتے ہیں۔ انھیں کھانا کھلاتے ہی دلھن کے مکان پر معا بھیج دیا جائے گا کہ وہ علیحدہ مکانوں میں قیام کریں اور ممنوعات کے جلسہ سے بچیں انھیں بھیجنے کے بعد برأت ہمراہ باجہ وغیرہ کے دلھن کے گھر جائے گی اور وہاں دوسرے مکان میں ناچ اور آتشبازی وغیرہ ہوگی، اس صورت میں ایسی برأت کی شرکت درست ہے یا نہیں؟ اور کچھ لوگوں نے عہد نامہ لکھا تھا کہ جو اپنی شادیوں میں ناچ گانا کریں گے ہم ہر گز ان سے نہ ملیں گے انھیں بھی شرکت چاہئے یانہیں؟ بینوا توجروا (بیان فرماؤ اور اجر وثواب پاؤ۔ ت)
الجواب : اگر یہ شخص جانتا ہے کہ میری خاطر ان لوگوں کو ایسی عزیز ہے کہ بحالت منکرات شرعیہ میں شرکت سے انکار کروں گا تو وہ مجبورا نہ مممنوعات سے بازرہیں گے اور میرا شریک نہ ہونا گوارا نہ کریں گے تو اس پر واجب ہے کہ بے ترک منکرات شرکت سے انکار کرے۔
خزانۃ المفتین میں ہے :
رجل اتخذ ضیافۃ للقرابۃ اوولیمۃ اواتخذ مجلسا لاھل الفساد فد عارجلا صالحا الی الولیمۃ قالو ان کان ھذا الرجل بحال لوامتنع عن الاجابۃ منعہم عن فسقہم لاتباح لہ الاجابۃ بل یجب علیہ ان لایجب لانہ نھی عن المنکر ۱؎۔
ایک شخص نے اپنے رشتہ داروں اور قرابتداروں کے لئے عام دعوت طعام یا دعوت ولیمہ کا اہتمام کیا اور ساتھ ہی کھیل تماشے لہو ولعب کی مجلس بھی فسادیوں کے لئے آراستہ کی اورخاندان سے غیر متعلق ایک نیک شخص کو بھی دعوت نامہ بھیجا ائمہ کرام فرماتے ہیں کہ اگر وہ شخص اس دعوت کو قبول نہ کرتے ہوئے انھیں غلط قسم محفل آرائی اور بدکاری سے روک سکتا ہوں تو اس کے لئے اس دعوت کو قبول کرنا مباح نہیں بلکہ اس پر دعوت کو قبول نہ کرنا واجب ہے کیونکہ گناہ سے روکنے کا عمل ا س کے لئے مقدم ہے۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیۃ بحوالہ خزانۃ المفتین کتاب الکراھیۃ الباب الثانی عشر مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵ /۳۴۳)
اور اگر جانتا ہے کہ میری عزت وعظمت ان کی نگاہوں میں ایسی ہے کہ میں ساتھ ہوں گا تو وہ منکرات شرعیہ نہ کرسکیں گے تو اس پرواجب ہے وموجب ثواب عظیم ہے کہ شریک ہو۔
ردالمختار میں ہے :
اذ ا علم انہم یترکون ذٰلک احتراما لہ فعلیہ ان یذھب اتقانی ۲؎۔
جب وہ جانتاہے کہ اس کے احترام کی وجہ سے وہ گناہ والے کام چھوڑ دیں گے تو اس پر ضروری ہے کہ وہاں جائے اور شرکت کرے۔ اتقانی۔ (ت)
(۲؎ ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۲۲)
اور اگریہ دونوں صورتیں نہیں تو اگر جانتا ہے کہ جہاں کھانا کھلایا جائے گا وہیں منکرات شرعیہ ہوں گے اور برات والے کا وعدہ محض حیلہ ہی حیلہ ہے تو ہر گز نہ جائے۔
قال اﷲ تعالٰی لاتقعد بعد الذکرٰی مع القوم الظلمین ۳؎۔
اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا: یا دآجانے کے بعد ظالموں کے ساتھ نہ بیٹھو اور مجلس نہ کرو۔ (ت)
(۳؎ القرآن الکریم ۶ /۶۸)
ہدایہ میں ہے:
لو علم قبل الحضور لایحضرلانہ لم یلزمہ حق الدعوۃ ۴؎۔
اگر جانے سے پہلے ہی اسے (منکرات شرعیہ کا ) اعلم ہوجائے تو وہاں نہ جائے کیونکہ اس پر دعورت کا حق لازم نہیں ہوا۔ (ت)
(۴؎ الہدایۃ کتاب الکراھیۃ مطبع یوسفی لکھنؤ ۴ /۴۵۳)
کفایہ میں ہے:
لان اجابۃ الدعوۃ انما تلزم اذا کانت الدعوۃ علی وجہ السنۃ ۱؎۔
اس لئے کہ دعوت قبول کرنا اس وقت لازم ہوتاہے جبکہ دعوت سنت کے مطابق ہو۔ (ت)
(۱؎ الکفایۃ مع الفتح القدیر کتا ب الکراھیۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۸ /۴۵۰)
اور اگر واقعی ایساہی ہے کہ نفس دعوت منکرات سے خالی ہو گی اگر چہ دوسرے مکان میں لوگ مشغول گناہ ہوں تو شرکت میں کوئی حرج نہیں۔
قال تعالٰی ولاتزرو وازرۃٌ وزر اخری ۲؎۔
اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے : کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ نہ آٹھائے گی۔ (ت)
(۲؎ القرآن الکریم ۶/ ۱۶۴)
غایت یہ کہ میزبان گنہ گار ہے پھر شرعا گنہگا ر کی دعوت بھی دعوت ہے جبکہ وہ خود گناہ پر مشتمل نہ ہو،
خزانۃ المفتین میں ہے :
ان لم یکن الرجل بحال لولم یجب لایمنعھم من الفسق لاباس بان یجیب و یعطم وینکر معصیتہم وفسقھم لانہ اجابۃ الدعوۃ واجابۃ الدعوۃ واجبۃ اومندوبۃ فلا یمتنع بمعصیۃ افترنت بہا ۳؎۔
اگر کسی شخص کی ایسی پوزیشن ہو کہ کہ اگر یہ دعوت قبول نہ کرے تب بھی وہ گناہ اور نافرمانی سے باز نہیں آئیں گے۔ تو پھر دعوت کی قبولیت میں کوئی حرج اور مضائقہ نہیں۔ البتہ ان کے گناہ اور نافرمانی کا انکار کرے کیونکہ اس نے تو دعوت قبول کی (یعنی خود کوئی خلاف ورزی نہیں کی) اور دعوت قبول کرنا واجب ہے یا مستحب لہذا ایسی دعوت جس سے گناہ پیوست ہو ممنوع نہیں۔ (ت)
(۳؎ فتاوٰی ہندیہ بحوالہ خزانۃ المفتین کتاب الکراھیۃ الباب الثانی عشر مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵ /۳۴۳)
مگر عالم اگرجانے کہ میری اتنی شرکت پر بھی عوام مجھے متہم ومطعون کرینگے تو نہ جائے کہ مواقع تہمت سے بچنا چاہئے اور مسلمانوں پر فتح باب غیبت ممنوع ہے
عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من کان یؤمن باﷲ والیوم الاخر فلا یقفن مواقف التہم ذکرہ الشرنبلالی وغیرہ۴؎۔
حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو کوئی اللہ تعالٰی اور قیامت پر ایمان رکھتا ہے تو وہ مقامات تہمت سے بچے، اس کو علامہ حسن شرنبلالی وغیرہ نے ذکر کیا۔ (ت)
(۴؎ مراقی الفلاح شرح نورالایضاح مع حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح کتا ب الصلوٰ،ۃ باب ادراک الفریضۃ ص۲۴۹)
یونہی وہ عہد کرنے والے نہ جائیں کہ خلاف عہد معیوب ہے۔
قال تعالٰی واوفوا بالعہد ان العہد کان مسئولا ۱؎ ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے : (لوگوں!) وعدہ پورا کی اکرو کیونکہ وعدہ کے متعلق قیامت کے دن پوچھ ہوگی۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)