| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۱(کتاب الحظر والاباحۃ ) |
مسئلہ ۱۹۳: بمقام بریلی صدر بازار چھاؤنی رسیدہ پاس مظہر حسین کے پہنچے بروز شنبہ بتاریخ ۱۱ صفر المظفر ۱۳۳۴ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک بزر گ سے خاندان قادریہ میں بیعت ہے اور اس کی طبیعت خاندان چشتیہ صابریہ میں بھی بیعت ہونے کوچاہیتی ہے اور اس کا پیر صرف خاندان قادریہ میں بیعت کرتاہے اور کسی دوسرے خاندان چشتیہ صابریہ وغیرہ میں بیعت نہیں کرتا۔ اگر زید کسی دوسرے بزرگ سے خاندان چشتیہ صابریہ میں بیعت ہوجائے اور نیز اس کا پیر زندہ ہو تو ایسی صورت کچھ حرج تو نہیں ہے۔ زید کاخیال ہے کہ وہ دونوں پیروں کو برابر سمجھے گا اور حسب معمول دونوں شجرے پڑھے گا اوردونوں پر عمل کرے گا۔
الجواب: اکابر فرماتے ہیں ایک شخص کے دو باپ نہیں ہوسکتے۔ ایک وقت میں ایک عورت کے دو شوہرنہیں ہوسکتے ایک مرید کے دو پیر نہیں ہوسکتے۔ یہ وسوسہ ہے اس پر عمل نہ کیا جائے، یک در گیر محکم گیر (ایک ہی دروازہ پکڑو مگر پکڑو مضبوطی سے۔ ت) پریشان نظری والا کسی کی طرف سے فیض نہیں پاتا۔ حدیث میں ارشاد ہوا:
من رزق شیئ فلیلزمہ ۱؎۔
جس کو کسی چیز میں (یعنی اس کے سبب سے) رزق دیا جائے تو چاہئے کہ اس پر لزوم اختیار کرے۔ (ت)
(۱؎ کنز العمال برمذھب عن انس حدیث ۹۲۸۶ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۴ /۱۹)
قرآن عظیم کی آیت بھی اسی معنی کا افادہ فرماتی ہے جو کارڈ پر نہیں لکھی جاسکتی۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۴: مسئولہ جناب حکیم مقیم الدین صاحب بہیڑی ضلع بریلی ۱۱ رجب المرجب ۱۳۳۴ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید مسلمان متقی تصور سے بذریعہ میز کہ سہ پایہ ہوتی ہے اور تختہ پر اس کے کچھ ایات قران عظیم کی مع تسمیہ لکھی ہوتی ہے اور میز مذکورہ کے تینوں پایوں پر حروف تہجی لکھے ہوتے ہیں ارواح مسلمانان سے اور اس بات چیت کرتاہے کہ زید اور چار پانچ اشخاص مسلمان نمازی میز کے آس پاس کرسیوں وغیرہ پر حلقہ باندھ کر آنکھیں بند کرکے مکان پاک صاف میں کہ خالی از عوام ہوتاہے میز پر ہاتھ رکھ کر جس روح کو میز پر بلانا ہوتا ہے تصور کرتے ہیں کہ فلاں شخص کی روح میز میں داخل ہوئی اور زید کہ تسبیح:
سبحان ذی الملک والملکوت سبحان ذی العزۃ والعظمۃ والہیبۃ والقدرۃ والکمال والجمال والکبریاء والجبروت، سبحان الملک الحی الذی لاینام ولایموت سبوح قدوس ربنا ورب الملئکۃ والروح۔
اللہ تعالٰی ہر عیب اور نقص سے پاک ہے جو جھوٹی اور بڑی بادشاہی رکھنے والا ہے۔
(الملک والملکوت)
(۱) بادشاہی (۲) بڑی بادشاہی، جیسا کہ لغت وغیرہ میں مرقوم ہے۔ اللہ پاک ہے جو عزت والا بزرگی والا ، رب، طاقت، کمال اجمال اور بڑی رکھنے والا ہے (الجبروت) تسلط رکھنے والا ، قدرت اور عظمت والا ہے۔ پاک ہے وہ بادشاہ جو ہمیشہ ہمیشہ زندہ ہے جو کبھی سوتا نہیں اور نہ اس پر کبھی موت طاری ہوتی ہے۔ بڑا منزہ اور بیحد پاک ہے۔ اور وہ ہم سب کا پروردگار ہے۔ تمام فرشتوں اور حضرت جبریل کا بھی پرودگار ہے۔ (ت)
کا عامل ہے۔ وقت حلقہ زید اس تسبیح کی تلاوت کرتاہے۔ اس اثناء میں میز کا پایہ اٹھتا ہے تو سوال کیاجاتاہے جو کچھ سوال کرنا ہوتاہے پایوں کے ذریعے سے اگر روح پڑھی ہوتی ہے تو حروف تہجی سے کہ میزے کے پایوں پر لکھے ہوتے ہیں ان کے ذریعہ سے بتلاتی ہے اور ان پڑھ روح سے کلام بہت دشواری سے ہوتاہے اور بعض روح توبہت کچھ بیان کرتی ہیں یہاں تک کہ جو کچھ اس پرعذاب اور ثواب بعد مرنے کے ہوتاہے بتلادیتی ہے۔ اور اپنے گھرو وغیرہ کی کیفیت بھی بیان کردیتی ہے۔ اوراکثر اتفاق ایسا ہوا کہ جو کچھ کسی نے پڑھ کر بخشا وہ بھی بتلاد یا تو کیا ایسی میز سے کسی قسم کی قباحت ازروئے شروع شریف لازم آتی ہے کیونکہ ظاہر میں کوئی فعل خلاف نہیں معلوم ہوتا۔ بینوا توجروا۔ (بیان فرماؤ تاکہ اجر وثواب پاؤ۔ت )
الجواب : اگر اس کی حقیقت اسی قدر ہے تو فی نفسہٖ اس فعل میں حرج نہیں معلوم ہوتا جبکہ روحوں کا بلانا واقعیت رکھتاہو اور یہ بظاہر دشوار معلوم ہوتاہے۔ جو ارواح معذب ومحبوس ہیں العیاذ باللہ ان کا آنا کیا معنی اور جو ارواح طیبہ معظمہ ہیں ان کا یوں بلانا سوء ادب سے خالی نہیں ہوتا بظاہر اس عامل کے صرف تصور کا تصرف ہوتاہے اس تقدیر پر اسے ارواح کی طرف نسبت کرنا کذب اور دھوکا اور محض ناجائز ہوگا اس کا امتحان بہت آسان ہے جن علوم سے یہ عامل آگاہ نہ ہو ان کے کسی جاننے والے کی روح بلائے اور ان علوم کا سوال کیجئے مثلا ہندسہ و ہیأت کے واسطے نصیر طوسی کی روح بلائے اگر وہ دقائق علوم ہندسہ کا جواب دے دے جن سے یہ عامل ناواقف ہو تو احتمال صدق ہوسکتاہے اگرچہ دوسرا احتمال یہ بھی ہوسکتا ہے کہ معلم الملکوت کا کوئی کرشمہ ہو اوراگر جواب نہ دے سکے تو دھوکا ظاہر ہے بعض اوقات تجربہ ہوا ہے کہ میز نے وہی جواب دئےے جو عامل کے علم میں ہیں اس سے زیادہ کچھ میز نہ بناسکی، بالجملہ اس سے احتراز چاہئے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۵: مولوی نذیر احمد صاحب ساکن سموہان پرگنہ نواب گنج بریلی مورخہ ۲۷ محرم الحرام ۱۳۳۶ھ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام مسئلہ ذیل میں : مرد نمازی اور صالح ناخواندہ کی بیعت شرعا جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا (بیان فرماؤ اور اجر وثواب پاؤ۔ ت)
الجواب : ناجائز ہے کہ بے علم نتواں خدا راشناخت ۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۶: از فیض آباد مسجد مغل پورہ مرسلہ شیخ اکبر علی مؤذن ومولوی عبدالعلی ۱۹ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ اگر پیر کی اولاد کسی دنیا کے معاملات میں ناخوش ہوں اور اس کی کشیدگی کاا ثر عورت پر ہو اور مرید یہ کہتاہے کہ اگر میں قصور وار سمجھا گیا تو میں معافی مانگتاتو بہ کرتاہوں خواہش دنیا میں تلقین کیجئے صراط مستقیم کی تلاش ہے تو اس کی نہ سنی اس مرید کو زیادہ اشتعال وطیش دلا کر گمراہ کیا جاتاہے یہ جائز ہے؟َ
الجواب : سوال بہت مجمل ہے۔ کیا دنیا کا معاملہ اور کیا وجہ کشیدگی، اور کسی عورت پر اثر، اور کیا اشتعال و طیش دلایا، جب تک مفصل نہ معلوم ہو یہ ظاہرنہیں ہوسکتا کہ کس کا قصور ہے۔ مرید اشتعال وطیش کے لئے نہیں بنایا گیا اور معافی تقصیر میں کبھی تاخیر ہی مصلحت ہوتی ہے۔ جیسے حضرت کعب بن مالک اور ان کے دونوں ہمراہیوں کے ساتھ پچاس شب تک کی گئی
حتی ضاقت علیہم الارض بمارحبت ۱؎
یہاں تک کہ اتنی وسیع زمین ان پر تنگ ہوگئی۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
(۱؎ القرآن الکریم ۹ /۱۱۸)
مسئلہ ۱۸۹۷: از شہر کانپور محلہ موتی محال بردکان محمد خاں وبادل خاں سوداگران مرسلہ امیر الدین شاہ ۲۴صفر ۱۳۳۸ھ جناب پیر ومرشد روشن ضمیر مولوی احمد رضا خاں صاحب ، السلام علیکم! بعد آداب گزراش خدمت شریف میں یہ ہے کہ میں نے آپ کا نام سنا ہے۔ اور لوگوں کی زبانی معلوم ہوا ہے کہ آپ بہت بڑے بزرگ ہیں مگر جب میرا کام آپ سے ہوجائے تو میں سمجھوں، پیر وہ ہی ہے جو پیر میرے میرا پردہ آپ اٹھا سکتے ہں۔ یانہیں۔ عمل بات کا جھگڑا ہے او رمیں مولا فضل الرحمن صاحب کے درکا خادم ہوں صرف بات چیت کرناچاہتاہوں جن اور ملائکہ سے۔ پھر آپ کا بیعت بھی ہوجاؤں گا۔
الجواب : ملائکہ سے ملاقات اور کلام کے لئے ولایت درکار، اور ولایت کسبی نہیں محض عطائی ہے۔ ہاں کوشش اورمجاہدہ کرنے والوں کو اپنی راہ دکھاتےہے جنوں سے مکالمہ کی خواہش اورمصاحبت کی تمنا اصلا خیر نہیں۔ کم سے کم جو اس کا ضرر ہے یہ کہ آدمی متکبر ہوجاتاہے ۔ جیسا کہ حضرت شیخ اکبر محی الدین ابن عربی قدس سرہ، نے تصریح فرمائی اور قرآن عظیم میں ہے کہ متکبروں کا ٹھکانا جہنم، والعیاذبہ تعالٰی ھو تعالٰی اعلم۔