مسئلہ ۱۹۰: از شیر گڑھ ضلع بریلی تحصیل بہیڑی ڈاکخانہ خاص درمدرسہ مرسلہ مسمی عظیم اللہ نائب مدرس ۲ ذی الحجہ ۱۳۳۲ھ
الحمداﷲ رب العالمین والعاقبۃ للمتقین والصلٰوۃ علی رسولہ محمد والہٖ و اصحابہ اجمعین
ہر تعریف اللہ تعالٰی کے لئے ہے جو سب جہانوں کا پروردگار ہے اور اس کے رسول محمد کریم پر نزول رحمت ہو اور ان کی تمام آل اور سب ساتھیوں پر باران رحمت ہو۔ (ت)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جو شخص داڑھی اور مونچھیں اور بھنویں منڈائے ہوئے ہوں تو مسلمانوں کو ایسے شخص کا مرید ہونا چاہئے یانہیں؟ اور جو شخص داڑھی مونچھ منڈائے ہو اور کانوں میں مندرے پہنے ہو تو اس کا بھی مرید ہونا چاہئے یانہیں؟ اور جو شخص گیسو دراز ہو اور گیسو اس کے مقام ہنسلی سے نیچے ہوں تو ایسے شخص کا بھی مرید ہونا چاہئے یانہیں یعنی یہ تینوں شخص قابل پیشوائی ہیں یا نہیں؟ بینوا توجروا (بیان فرماؤ اجر وثواب پاؤ۔ت)
الجواب : داڑھی منڈانا حرام ہے بھنویں منڈانا حرام ہے۔ مرد ہوکر کانوں میں مندرے پہنا حرام ہے۔ شانوں سے نیچے ڈھلکے ہوئے عورتوں کے سے بال رکھنا حرام ہے۔ مرد کو زنانی وضع کی کوئی بات اختیار کرنا حرام ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اس پر لعنت فرمائی ہے۔ اور جو اللہ ورسول کا ملعون ہو پیشوا نہیں ہوسکتا اس کا مرید ہونا حرام ہے بات یہ ہے کہ عورت کے رحم میں دو خانے ہیں دہنا خانہ لڑکے کے لئے اور بایاں لڑکی کے واسطے، اور نطفہ مرد کا غالب آئے تولڑکا بنتاہے اور عورت کا غالب پڑا تو لڑکی بتنی ہے پھر اگر مردکا نطفہ غالب آیا اور رحم کے سیدھے خانے میں میں پڑا تو لڑکی ہوگی، ظاہر وباطن عورت اور اگر نطفہ مرد کا غالب آیا اور رحم کے بائیں خانے میں گر ا تو ہوگا صورت میں لڑکا، مگر دل میں زنانہ، اسے داڑھی منڈانے گہنا پہننے، ہاتھ پاؤں میں مہندی لگانے، عورتوں کے سے بال بڑھا کر چوٹی گندھوانے یا جوڑا باندھنے یا بکھرے ہوئے رکھنے، کلیوں دار غرارہ دار پائچہ پہننے، سرخ نیفہ ڈالنے وغیرہ وغیرہ کسی زنانی وضع کا شوق ہوگا اوراس حالت میں مرد کا نطفہ خفیف غالب تھا تو بالکل زنانہ زنخہ بن جائے گا اور اگر نطفہ عورت کاغالب آیا اور رحم کے دہنے خانے میں گرا ہو تو ہوگی صورت میں لڑکی مگر دل میں مردانی، اسے انکر کھا پہننے، ٹوپی رکھنے، عمامہ باندھنے، گھوڑے پر چڑھنے، تلوار اٹھانے، تیرا ندازی کرنے، مردانہ جوتا پہننے وغیرہ وغیرہ کسی مردانی وضع کا ذوق ہوگا بہر حال یہ دونوں خانے بہکے ہوئے اللہ ورسول کے ملعون ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
لعن اﷲ المتشبھات من النساء بالرجال والمتشبھین من الرجال بالنساء، رواہ احمد ۱؎ والبخاری ابواداؤد والترمذی وابن ماجۃ عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔
اللہ کی لعت ان عورتوں پر کہ مردوں کی وضع بنائیں اور ان مردوں پر کہ عورتوں کی وضع اختیار کریں۔ (مسند احمد، بخاری، ابوداؤد ، ترمذی اور ابن ماجہ نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما کی سند سے اس کو روایت کیا ہے۔ ت)
(۱؎ مسند حمد بن حنبل عن ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۱ /۳۲۹)
(صحیح بخاری کتاب اللباس باب المتشبہین بالنساء والتشبہات بالرجال قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۸۷۴)
(سنن ابی داؤد کتاب اللباس باب فی لباس النساء آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۱۲۰)
(جامع الترمذی کتاب الادب باب ماجاء فی المتشبہات بالرجال الخ امین کنپنی دہلی ۲ /۱۰۲)
(سنن ابن ماجہ ابواب النکاح باب فی المخنثین ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۳۸)
حضور نے یہ ارشاد اس وقت فرمایا کہ ایک عورت کمان کندھے میں لٹکائے دیکھا
رواہ اطبرانی فی معجمہ الکبیر ۲؎
(امام طبرانی نے اپنی معجم کبیر میں اس کو روایت فرمایا۔ت )
(۲؎ مجمع الزوائد بحوالہ الطبرانی فی الکبیر کتاب الادب باب فی المشبہین من الرجال الخ دارالکتاب بیروت ۸/۳۔ ۱۰۲)
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
لعن اﷲ الرجل یلبس لبسۃ المرأۃ والمرأۃ تلبس لبسۃ الرجل۔ رواہ ابوداؤد والنسائی وابن ماجۃ والحاکم عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ بلفظ لعن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔
اللہ کی لعنت اس مرد پر کہ عورتوں کے پہننے کی چیز پہننے اور اس عورت پر کہ مردوں کے پہننے کی چیز استعمال کرے (ابوداؤد ، سنن نسائی ، ابن ماجہ اور حاکم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے الفاظ ''رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اس پر لعنت فرمائی'' سے اس کو روایت کیا۔ ت)
(۳؎ سنن ابی داؤد کتاب اللباس باب فی لباس النساء آفاتاب عالم پریس لاہور ۲ /۲۱۰)
ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے عرض کی گئی ، فلاں عورت مردانہ جوتا پہنتی ہے۔ فرمایا :
لعن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الرجلۃ من النساء ۴؎۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے اس عورت پر کہ مردانی وضع لے۔
(۴؎سنن ابی داؤد کتاب اللباس باب فی لباس النساء آفاتاب عالم پریس لاہور ۲ /۲۱۰)
ان حدیثوں سے ثابت ہو اکہ کسی ایک بات میں مرد کو عورت، عورت کو مرد کی وضع لینی حرام وموجب لعنت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے گیسوانتہا درجہ شانہ مبارک تک رہتے بس یہیں تک حلال ہے آگے وہی زنانہ خصلت ہے بلکہ علماء نے اس سے بھی ہلکی بات میں مشابہت پر وہی حکم لعنت بتایا۔
درمختار میں ہے :
غزل الرجل علی ھیأۃ غزل المرأۃ یکرہ ۱؎۔
کسی مرد کا کسی عورت کے بال گوندنے کی طرح اور اس کی ہیئیت پر بال گوند نا مکروہ (ناپسندیدہ) فعل ہے۔ (ت)
(۱؎ درمختار کتاب الحظرولاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۵۳)
ردالمحتارمیں ہے :
لما فیہ من التشبہ بالنساء وقد لعن علیہ الصلٰوۃ والسلام والمتشبھین والمتشبہات ۲؎۔
اس لئے کہ اس میں عورتوں سے مشابہت ہے۔ اور حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام نے ان مردوں پر لعنت فرمائی (جوعورتوں سے ) مشابہت اختیار کریں، اور ان عورتوں پر بھی لعنت فرمائی جو مردوں سے مشابہت اختیار کریں۔(ت)
(۲؎ ردالمحتار کتاب الحظرولاباحۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۷۴)
فتح القدیر ودرمختار میں ہے :
اماالاخذ منہا (ای من اللحیۃ) وھی دون ذٰلک (ای القبضۃ) کما یفعلہ بعض المغاربۃ ومخنثۃ الرجال فلم یبحہ احد واخذ کلھا فعل یہود الھند ومجوس الاعاجم ۳؎ واﷲ تعالٰی اعلم۔
لیکن داڑھی تراشنا جبکہ مشت بھر سے کم ہو جیسا کہ بعض مغاربہ (مغربی باشندے) اورزنانہ وضع کے مرد کیا کرتے ہیں پس اہل علم میں سے کسی عالم نے اس کو مباح نہیں فرمایا اور پوری داڑھی مونڈنا تو یہ ہند کے یہودیوں اور عجمی آتش پرستوں کا فعل اور طریقہ ہے (جو بالکل ناجائز ہے) ۔ (ت)
(۳؎درمختار کتاب الصوم باب مایفسد الصوم ومالایفسد مبطع مجتبائی دہلی ۱ /۱۵۲)
(فتح القدیر کتاب الصوم باب مایوجہ القضاء والکفارۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ /۲۷۰)
مسئلہ ۱۹۱ تا ۱۹۲: از شیرگڑھ تحصیل بہیڑی ضلع بریلی مرسلہ عظیم اللہ نائب مدرس ۱۳ / ذی الحجہ ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں:
(۱) جو اشخاص بوجہ لاعلمی کے خلاف شرع پیر مثل داڑھی منڈا اور کانوں میں مندرے پہنے ہوئے اور گیسو دراز کے مرید ہوچکے ہوں ان کی بیعت جائز ہوگی اور ان کو جائے دیگر بیعت ہونے کاحکم ہے یا نہیں؟
(۲) جس پیر کے یہاں قوالی مع مزامیر ہوتی ہو اور اپنے مریدوں کو بھی اسی جلسہ میں شامل کراکے راگ مع مزامیر سنواتا ہو تو ایسے پیر کا مرید ہونا جائزہے یانہیں؟
الجواب
(۱) فاسق کے ہاتھ پر بیعت جائز نہیں۔ اگر کرلی ہو فسخ کرکے کسی پیر متقی، سنی، صحیح العقیدہ، عالم دین، متصل السلسلۃ کے ہاتھ پر بیعت کرے۔
(۲) مزامیر جائز نہیں۔ حضور سیدنا سلطان المشائخ نظام الحق والدین سردار سلسلہ عاریہہ چشتیہ نظامیہ فوائد الفواد شریف میں فرماتے ہیں:
''مزامیرحرام ست۱؎''
(مزامیر حرام ست۔ ت)
(۱؎ فوائد الفواد)
ایسے شخص سے بیعت کاحکم ہے جو کم از کم یہ چاروں شرطیں رکھتاہو:
اول سنی صحیح العقیدہ ہو۔ دوم علم دین رکھتاہو۔ سوم فاسق نہ ہو۔
چہارم اس کا سلسلہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم تک متصل ہو،
اگر ان میں سے ایک بات بھی کم ہے تو اس کے ہاتھ پر بیعت کی اجازت نہیں۔ واللہ تعالٰی اعلم۔