مسئلہ ۱۸۸: مرسلہ منشی عبیداللہ حسن قلعہ بھنگیاں امر تسر رجب ۱۳۲۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جو شخص اپنے مریدوں سے اشعار ذیل سنے اور سن کو خوش ہو بلکہ تمغاء انعام دے ایسا شخص لائق بیعت ہے یانہیں؟ خدا رسیدہ ہے یا نفس کا مطیع اہلسنت ہے یا اہل بدعت؟ شعار یہ ہیں: ؎
آفتاب چرخ علم وفضل شمس العارفین قبلہ عالم سراج المتقین شاہ جہاں
سید السادات مطلوب علی شیر خدا عاشق محبوب رب العالمین فخر زمان
ماہر علم لدنی واقف اسرار غیب قطب عالم غوث اعظم وارث پیغمبراں
کس طرح اہل جہاں پر راز ان کا کھل سکے راز داں ان کا خدا ہے وہ خدا کے رازداں
اولیاء ہونے کو دنیا میں بہت ہیں اولیاء ان کی صور ان کی سیرت ان کی عادت کا کہاں
کچھ عجب ہیں یہ بھی حسن وعشق کے راز ونیاز مدح خواں ان کا خدا ہے وہ خدا کے مدح خوان
الجواب حب ثناء غالبا خصلت مذمومہ ہے اور کم از کم کوئی خصلت محمودہ نہیں اور اس کے عواقب خطر ناک ہیں، حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
حب الثناء من الناس یعمی ویصم۔رواہ فی مسند الفردوس۱؎ عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔
ستائش پسندی آدمی کو اندھا بہرا کردیتی ہے۔ (اس کو مسند الفردوس میں حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ کے حوالے سے روایت کیا ہے۔ ت)
اوراگر اپنی جھوٹی تعریف کو دوست رکھےکہ لوگ ان فضائل سے اس کی ثناء کریں جو اس میں نہیں جب تو صریح حرام قطعی ہے۔
قال اﷲ لاتحسبن الذین یفرحون بمااتوا ویحبون ان یحمد وابما لم یفعلوا فلا تحسبنہم بمفازۃ من العذاب ولھم عذاب الیم o۲؎ والعیاذ باﷲ تعالٰی۔
(اللہ تعالٰی نے فرمایا) ہر گز گمان نہ کرنا ان کو جو اپنے کئے پر خوش ہوتے اور دوست رکھتے ہیں کہ بے کئے پر سرا ہے جائیں تو زنہار انھیں عذاب کے بچاؤ کی جگہ نہ گمان کرنا اور ان کے لئے دردناک مار ہے۔ والعیاذ باللہ تعالٰی (ت)
(۲؎ القرآن الکریم ۳ /۱۸۸)
ہاں اگر تعریف واقعی ہو تو اگر چہ تاویل معروف ومشہور کے ساتھ، جیسے
شمس الائمہ وفخر العلماء وتاج العارفین وامثال ذٰلک
(اماموں کے آفتاب، اہل علم کے لئے فخر، اور عارفوں کے تاج، اور اسی قسم اور نوع کے دوسرے توصیف کلمات ( جو مدح کی تعریف وتوصیف ظاہر کریں)۔ ت) کہ مقصود اپنے عصر یا مصر کے لوگ ہوتے ہیں اور اس پر اس لئے خوش نہ ہو کہ میری تعریف ہورہی ہے بلکہ اس لئے کہ ان لوگوں کی ان کو نفع دینی پہنچائے گی سمع قبول سے سنیں گے جو ان کو نصیحت کی جائے گی تویہ حقیقۃ حب مدح نہیں بلکہ حب نصح مسلمین ہے اور وہ محض ایمان ہے
واﷲ یعلم المفسد من المصلح ۳؎
(اور اللہ تعالٰی اصلاح کرنے والے بگاڑنے والے سے جانتاہے۔ (عینی وہ جانتاہے کون مصلح اور کون مفسد ہے)۔ ت)
(۳؎ القرآن الکریم ۲ /۲۲۰)
طریقہ محمدیہ وحدیقہ ندیہ میں ہے :
سبب حب الریاسۃ ثلثۃ ثانیھا التوسل بہ الی تنقیذ الحق واعزاز الدین واصلاح الخلق فہذا ان خلا عن المحذور کالریا والتلبیس وترک الواجب والسنۃ فجائز بل مستحب قال اﷲ تعالٰی عن العباد الصالحین واجعلنا للمتقین اماما ۱؎ اھ ملتقطا۔
ریاست کی چاہت اور محبت کے تین اسباب ہیں، دوسرا یہ ہے کہ اقتدار اس لئے چاہتاہے تاکہ اس کی وجہ سے نفاذ حق اعزاز دین اور لوگوں کی اصلاح کر سکے، اگر یہ ممنوع امور مثلا ریاء تلبیس، اور واجب اور سنت کے چھوڑنے سے
خالی ہو تو نہ صرف جائزہے بلکہ مستحب (موجب اجرو ثواب ہے) چنانچہ اللہ تعالٰی نے نیک بندوں کی حکایت بیان فرمائی (کہ وہ بارگاہ رب العزت میں عرض گزار ہوتے ہیں) اے پروردگار! ہمیں پرہیزگار اور ڈرنے والے لوگوں کا امام (یعنی پیشوا) بنا دے۔ چیدہ اور منتخب عبارت مکمل ہوگئی۔ (ت)
(۱؎ الطریقۃ المحمدیہ باب حب الناس یعمی ویصم مکتبہ حنفیہ کوئٹہ ۱ /۵۴۔ ۱۵۳)
(الحدیقہ الندیہ حب الریاستہ الدنیویۃ ھو الخلق الثالث مکتبہ نوریہ رضویہ فیصلہ آباد ۱/ ۴۲۔ ۴۴۱)
اور جب معاملہ نیت پر ٹھہرا اور دلوں کا مالک اللہ عزوجل ہے تو اس شخص کے حالات پر نظر لاز ہے۔ اگر بے شرع ہے معاصی میں بیباک ہے یا جاہل بے ادراک ہے اور شوق پیری میں انہماک ہے تو خود ہی اس کے ہاتھ پر بیعت جائز نہیں اور اب اس کا ان تعریفوں پر خوش ہونا ضرور قسم دوم میں ہے جسے قرآن عظیم میں فرمایا کہ انھیں عذاب سے دور نہ جانیو ان کے لئے دردناک سزا ہے اور اگر ایسا نہیں بلکہ سنی صحیح العقیدہ صالح الاعمال متصل السلسلہ ہے خلق اللہ کو حق کی طرف دعوت کرتا منکرات سے روکتا باز رکھتاہے تو ضرور قابل بیعت ہے اور اب اس کے فعل مذکور کو اسی محل حسن پر حمل کرنا فرض اور اس پر بدگمانی حرام ہے۔
قال اﷲ تعالٰی یایھا الذین اٰمنوا اجنتبوا کثیر من الظن ان بعض الظن اثم ۲؎۔
(اللہ تعالٰی نے فرمایا:) اے مسلمانوں! بہت سے گمانوں سے بچو کہ کچھ گمان گناہ ہیں۔
(۲؎ القرآن الکریم ۴۹/ ۱۲)
قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ایاکم والظن فان الظن اکذب ۳؎۔ الحدیث۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:) گمان سے دور بھاگو کہ گمان سب سے زیادہ جھوٹی بات ہے۔ الحدیث۔
(۳؎ صحیح البخاری کتاب الوصایا ۱/ ۳۸۴ و کتاب الفرائض ۲/ ۹۹۵ قدیمی کتب خانہ کراچی)
(صحیح مسلم کتاب البروالصلۃ باب تحریم الظن ۲ /۳۱۶ و جامع الترمذی ابواب البر باب ماجاء فی سوء الظن ۲ /۲۰)
پھر بھی اسے چاہئے کہ اظہار تواضع میں کمی نہ کرے مریدوں کو اس پر انعام تمغے دے کر اور زیادہ برانگیختہ نہ کرے۔ لوگوں کو اپنے اوپر بدگمانی کی راہ نہ دے، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اپنی نعت کریم کے قصائد سنے اور ان پر انعام عطا فرمائے اس پر قیاس نہ کرے خاک کو علام پاک سے نسبت نہ دے ان کی تعظیم ان کی محبت، ان کی ثناء ان کی مدحت سب عین ایمان ہے اور اس کا اظہار واعلان فرض اہم اور ان کاذکر عین ذکر الٰہی، ان کی ثناء عین حمد الٰہی، امیر المومنین خلیفہ راشد سیدناعمر بن عبدالعزیز رضی االلہ تعالٰی عنہ کے حضور ایک شاعر حاضر ہوا کہ میں نے حضرت کی مدح میں کچھ اشعار کہے ہیں فرمایا میں سننا نہیں چاہتا، عرض کی نعت شریف میں کچھ عرض کیاا ہے۔ فرمایا سناؤ ایسے ائمہ راشدین کااتباع کرے خصوصا قطب عالم غوث اعظم جکیسے الفاظ کہ غالبا وہ اپنے وجدان سے ان الفاظ کو اپنے لئے صادق نہ جان سکے گا۔
(ہم اللہ تعالٰی سے معافی، صحت اور سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق مانگتے ہیں۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۹: مرسلہ عبدالغفور صاحب جمعدار اسٹیشن سورون ضلع ایٹہ ۲۱ جمادی الاولٰی ۱۳۳۲ھ
گزارش یہ ہے کہ قادریہ میں سے سدا سہاگن ہوسکتاہے یانہیں؟ اگر ہوسکتاہے تو کیا چیز پہننے کا حکم ہے؟ فقط۔
الجواب: رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے لعنت فرمائی اس مرد پر کہ عورتوں کی وضع بنائے، قادریہ چشتیہ کسی فرقہ کا کوئی شخص سدا سہاگن نہیں پہن سکتا سب کوحرام ہے۔ اللہ ورسول کا حکم عام ہے۔ بعض مجذوبین قدست اسرارہم ہم نے جو کچھ بحال جذب کیا وہ سند نہیں ہوسکتا، مجذوب عقل وہوش دنیانہیں رکھتا۔ اس کے افعال اس کے ارادہ واختیار صالح سے نہیں ہوتے وہ معذور ہے۔ ع
ہوش میں جو نہ ہو وہ کیا نہ کرے
ع کہ سلطان نگیرد خراج از خراب
( کیونکہ بادشاہ غیر آباد اور ویران زمین سے ٹیکس نہیں لیتا۔ت) واللہ تعالٰی اعلم