Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۱(کتاب الحظر والاباحۃ )
124 - 144
تنبیہ لطیف: یہ تو شاہ عبدالعزیز صاحب کی تقریر سے روشن ہولیا کہ جواز برزخ اطلاق آیات قرآنیہ سے ثابت ومستفاد اور یہ بھی کہ حضرت اولیاء کا امور طریقت میں مرجع ومسؤل اور ان کے ارشادات کا معمول ومقبول ہونا آیۃ کریمہ
فاسئلوا اھل الذکر
کامفاد اوریہ بھی ان کے کلام میں اشارۃً اور تقریر معلم ثالث میں صراحۃ گزرا کہ اولیائے طریقت مثل مجتہدان شریعت ہیں اور خود امام الطائفہ نے بھی صراط المستقیم میں ان کامجتہد فی الطریقۃ ہونا تسلیم کیا ۔
حیث قال:

اولیائے کبار از اصحاب طرق کہ امامت درفن باطن شریعت حاصل کردہ واجتہاد درقواعد اصلاح قلب کہ خلاصہ دین متین ست بہم رسانیدہ بودند ۲؎۔
بڑے بڑے اولیائے کرام اور اصحاب طریقت نے فن باطن شریعت میں امامت حاصل کی اور اپنے اجتہاد سے انھوں نے اصلاح قلب کے قواعد عطا کئے جوکہ کتاب وسنت کا خلاصہ ہے۔ (ت)
 (۲؎ صراط مستقیم         باب اول فصل ثانی ہدایت رابعہ فادہ نمبر ۵         المکتبہ السلفیہ لاہور    ص۴۱)
مگر مجھے یہاں یہ بیان کرنا ہے کہ بطور حضرات نہ صرف جوازبرزخ بلکہ اس کی ترغیب شدید وتحریص اکید اور اس کا اقرب الطرق الی اللہ ہونا خود امام المجتہد شریعت کے صریح وروشن اشاروں سے ثابت ہولیا پوچھئے وہ کیونکر، ہاں وہ یوں کہ کلمات مذکورہ جناب شیخ مجدد صاحب پر پھر نظر ڈالیے دیکھئے یہ باتیں ان میں صاف صریح موجود ہیں یا نہیں جب دیکھ لیجئے تو اب جناب مرزا مظہر جان جاناں صاحب کا کلام سنئے جنہیں سن چکے کہ امام الطائفہ کے جدو فرجد جناب شاہ ولی اللہ صاحب کیسا کچھ جانتے وہ تصریح فرماتے ہیں کہ حضرت مجددنہ فقط طریقت میں مجدد بلکہ شریعت میں  بھی امام مجتہد تھے مکتوب پانزدہم میں لکھتے ہیں:
حضرت مجدد الف ثانی رضی اللہ تعالٰی عنہ کہ نائب کامل آنحضرت اند بنائے طریقہ خود رابراتباع کتاب وسنت گزاشتہ اند وعلماء دراثبات رفع سبابہ رسالہا مشتمل بر احادیث صحیحہ و روایات فقہیہ حنفیہ تصنیف کردہ اند تابجائیکہ حضرت شاہ یحیٰی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرزند اصغر حضرت مجدد نیز دریں باب رسالہ تحریر نمودہ اند ودرنفی رفع یک حدیث بہ ثبوت نہ رسیدہ وترک رفع از جناب حضرت  مجدد بنا(عہ) بر اجتہاد واقع شدہ وسنت محفوظ از نسخ براجتہاد مجتہد مقدم ست۱؎۔
حضرت مجدد الف ثانی رضی اللہ تعالٰی عنہ جو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے کامل نائب ہیں انھوں نے کتاب وسنت کی پیروی میں اپنے طریقہ کے قواعد بنائے اور علمائے کرام احادیث صحیحہ اور منتخب حنفی روایات پر مشتمل رسائل رفع سبابہ کے مسئلہ کے اثبات میں لکھے حتی کہ مجدد صاحب کے چھوٹے صاحبزادے حضرت شاہ یحیٰی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے بھی اس مسئلہ کے اثبات میں ایک رسالہ تصنیف فرمایا اور لکھا کہ رفع سبابہ کی نفی میں ایک حدیث بھی پایہ ثبوت کو نہ پہنچی اور ترک رفع سبابہ پر حضرت مجدد صاحب نے جو لکھا وہ ان کے اجتہاد پر مبنی ہے جبکہ غیر منسوخ سنت مجتہد کے اجتہاد پر مقدم ہوتی ہے۔ (ت)
(۱؎ کلمات طیبات فصل دوم     مکاتیب مرزا مظہر جانجاناں     مکتوبات پانزدہم     مطبع مجتبائی دہلی    ص۲۸)
عہ:  جاناں ایں سخن مرزا صاحب بہ اجتہاد خود گفتہ باشند ورنہ ملاحظہ مکتوبات حضرت مجدد گواہ عادل ست کہ ترک رفع محض بربنائے تقلید ائمہ حنفیہ فرمودہ اند وآنہم بمجرد تقدیم ظاہر الروایۃ برنوادروترک اتباع احادیث صحیحہ صریحہ کثیرہ بمقابلہ روایت ظاہرہ فقہیہ ایں بار سالہ الکوکبۃ الشہابیۃ دیدن وارد بعونہ تعالٰی بروہابیہ لہابیہ آتش قہرمے بارد وباللہ التوفیق ۱۲۔
حضرت مرز ا مظہر جان جاناں کایہ کلام اپنے اجتہاد پر مبنی ہے ورنہ حضرت مجدد صاحب رحمۃاللہ تعالٰی علیہ کے مکتوبات کو ملاحظہ کرنے پرواضح گواہی ملتی ہے کہ رفع سبابہ کا ترک خالص امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ کی تقلید پر مبنی ہے کہ مذہب کی ظاہر الروایت نوادر کے مقابلہ میں اور صریح صحیح احادیث کی اتباع کی بجائے فقہی ظاہرالروایت کو مقدم رکھا جاتا ہے میرے رسالہ الکوکبۃ الشہابیۃ کا یہ مقام دیکھنا چاہئے وہابیوں پر وہ آتش قہر ہے وباللہ التوفیق ۱۲۔ (ت)
اب امام الطائفہ وغیرہ منکرین جنھیں نہ طریقت میں لیاقت نہ شریعت میں مہارت بھلا منصف تجدید واجتہاد تو بڑی بات ہے ولی مجدد امام مجتہد کے مقابل ایسوں کی زق زق کون سنتاہے۔ اگر چہ ع
مغز ماخورد وحلق خود بدرید
(ہمارا مغز کھالیا اور اپنا گلا پھاڑلیا)
تنبیہ الطف: یہاں تک تو امام مجتہد ہی کے قول سے ثبوت تھا امام الطائفہ کے ایمان پر خود ایک معصوم صاحب وحی کی نص جلی سے جواز برزخ ثابت ، اب زیادہ توجہ کیجئے گا کہ یہ کیا مگر امام الطائفہ کی سنی ہوتی تو تعجب نہ آتا وہ صراط مستقیم میں تصریح کرتا ہے کہ اولیاء میں جو حکیم ہوتا ہے جسے صدیق وامام ووصی بھی کہتے ہیں اس پر خدا کے یہاں سے وحی آتی ہے اسے نہ صرف بعض احکام کو نیہ غیب و شہادات ومعاملات جزئیہ سلوک وطریقت بلکہ خاص احکام کلیہ شریعت وملت بے واسطہ انبیاء بھی پہنچتے ہیں وہ انبیاء کا ہم استاذ ہوتاہے وہ انبیاء کی مثل معصوم ہوتا ہے اس پر خاص امور شرعیہ میں کچھ تقلید انبیاء مطلقا ضرور نہیں بلکہ ایک وجہ سے وہ خود محقق ہوتاہے اس کا علم جسے حکمت کہتے ہیں علم انبیاء سے اصلا کم نہیں ہوتا صرف اتنا فرق ہے کہ انبیاء پرعلانیہ وحی آتی ہے اور اس پر پوشیدہ ،
قال:

پوشیدہ نخواہد ماند کہ صدیق من وجہ مقلد انبیاء مے باشد ومن وجہ محقق درشرائع علوم کلیہ شرعیہ او رابدو واسطہ مے رسد بوساطت نورجبلی وبوساطت انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام پس درکلیات شریعت وحکم احکام ملت اوراشاگرد انبیاء ہم مے تواں گفت وہم استاذ انبیاء ہم ونیز طریقہ اخذ آں ہم شعبہ ایست از شعب وحی کہ آں را درعرف شرع بنفث فی الروح تعبیر می فرمایند وبعضے اہل کمال آں را بوحی باطنی مے نامند ہمیں معنی رابامامت ووصایت تعبیر می کنند وعلم ایشاں را کہ بعینہٖ علم انبیاء ست لیکن بوحی ظاہری متلقی نشد بحکمت مے نامند، لابد او رابمحافظتے مثل محافظت انبیاء کہ مسمی بعصمت ست فائز مے کنند وایں حفظ نصبیہ انبیاء وحکماء ست وہمیں را عصمت نامند ندانی کہ اثبات وحی باطن حکمت و و جاہت وعصمت مرغیر انبیاء رامخالف سنت واز جنس اختراع بدعت ست ندانی کہ ارباب ایں کمال از عالم منقطع شدہ اند اھ ملتقطا۔۱؎
پوشیدہ نہ رہے کہ صدیق من وجہ انبیاء کا مقلد ہوتا ہے اور من وجہ شریعت میں محقق ہوتا ہے علوم شرعیہ کلیہ اس کو دو ذریعوں سے حاصل ہوتے ہیں ایک بذریعہ فطری نور اور دوسرا بذریعہ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام لہذا اس کو شریعت کے کلیات اور احکام کے حکم میں انبیاء کا شاگرد کہہ سکتے ہیں اور انبیاء کا استاذ بھی، نیزان کا طریقہ اخذ بھی وحی کی طرح ہوتا ہے اس کو عرف شرع میں نفث فی الروح سے تعبیر کرتے ہیں اور بعض اہل کمال اس کو باطنی وحی قرار دیتے ہیں اس معنی میں اس کو امامت اور وصایت سے تعبیر کرتے ہیں اور اس کا علم بعینہٖ انبیاء کا علم ہوتا ہے لیکن ظاہری وحی نہیں پاتا اس کو حکمت کہتے ہیں اس لئے کہ انبیاء کی طرح اس کو حفاظت حاصل ہوتی ہے جس کو عصمت کہتے ہیں جو انبیاء اورحکماء کو نصیب ہوتی ہے یہ نہ سمجھنا کہ وحی باطن اور حکمت، وجاہت اور عصمت غیر انبیاء کے لئے ثابت کرنا سنت کے خلاف اور نئی اختراع ہے اور بدعت ہے اور یہ بھی نہ سمجھنا کہ اس کمال کے لوگ دنیا سے ختم ہوچکے ہیں اھ ملتقطا (ت)
(۱؎ صراط مستقیم باب اول     فصل ثانی     المکتبۃ السلفیہ لاہور    ص۳۳ تا ۳۶)
صراط مستقیم معوج ونامستقیم چھپی نہیں چھپی ہے مطبوع مطبع ضیائی میرٹھ ۱۲۸۵ھ کے آخر صفحہ ۳۸ سے ثلث صفحہ ۴۲ تک ان کفریات شنیعہ ورفضیات فظیعہ کا جوش دیکھ لیجئے خیر ان کی اصطلاح شیطانی پر حکیم وحکمت کے معنی تو معلوم ہولئے کہ حکمت یہی علوم صدیقیت ہیں جو ان باطنی ساختہ نبیوں کو بذریعہ وحی نہانی ملتے ہیں۔
اب ملاحظہ ہو کہ یہیں اسی بحث میں شاہ ولی اللہ صاحب کو نہ نراحکیم بلکہ سید الحکماء کہا،
حیث قال:

ایں صدیقیت راجناب سید الحکماء وسید العلماء اعنی الشیخ ولی اللہ بقرب الوجود تعبیر میفر مایند ۲؎۔
اس صدیقیت کو جناب سید الحکماء وسید العلماء جس سے مرا دشاہ ولی اللہ ہیں قرب الوجود سے تعبیر کرتے ہیں۔ (ت)
 (۲؎صراط مستقیم باب اول     فصل ثانی     المکتبۃ السلفیہ لاہور   ص۳۵)
اب کیا شک رہا کہ ان کے یہاں پر شاہ صاحب بھی (استغفراللہ) انھیں چھپے رسولوں بوڑھے معصوموں میں ہیں اور ان کے علوم میں وحی نہانی سے ان پر اترے اور ان کی سن چکے کہ وہ انتباہ وغیرہ میں مثالی برزخ کی کیسی کیسی تجویز وتحسین وتعلیم وتلقین کرتےہیں پھر اس کا انکار نہ ہوگا مگر اپنے ساختہ پیغمبر کا رد کرکے  اپنے طور پر کافر ہوجانا غایت یہ کہ ظاہری پیغمبر کا منکر کھلا کافر اور نہانی کا منکر ڈھکا کافر۔
والعیاذ باللہ رب العالمین العزۃ للہ
ان حضرات نے بات بات پر مسلمانوں کو کافر مشرک بنایا یہاں تک کہ ان کے مذہب پر صلحاء وتابعین درکنار ان کے ساختہ پیغمبروں سے ہمارے سچے رسولوں تک کوئی ارتکاب شرک سے محفوظ نہ رہا یہ اس کی سزا ہے کہ ہر جگہ اپنے منہ آپ کافر ٹھہرتے ہیں کہ کرد و نیا فت
کما تدین تدان ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العزیز المنان (جیسا کرے گا بدلہ دیا جائے
ولا حول ولاقوۃ الا باللہ العزیز المنان
۔ ت) مولٰی تعالٰی صدقہ اپنے محبوبوں کا دین حق پر قائم رکھے اور ملت وسنت مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر دنیا سے اٹھائے اٰمین!
الحمدللہ کہ یہ مختصر جواب مظہر صواب اوائل جمادی الآخرہ ۱۳۰۹ھ میں مرتب اور بلحاظ تاریخ ''الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ '' ملقب ہوا۔ ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم وصلی اﷲ تعالٰی علی سیدنا ومولٰنا محمد والہ واصحابہ اجمعین اٰمین الحمدﷲ رب العٰلمین واﷲ سبحنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔

کتبہ عبدہ المذنب احمد رضا البریلوی عفی عنہ محمدن المصطفٰی النبی الامی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم
21_7.jpg
Flag Counter