Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۱(کتاب الحظر والاباحۃ )
123 - 144
امام محمد ابن الحاج عبدری مکی قدس سرہ مدخل میں فرماتے ہیں:
من لم یقدر لہ بزیارۃ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بجسمہ فلینوھا کل وقت بقلبہ ولیحضر قلبہ انہ حاضر بین یدیہ متشفعا بہ الی من من بہ علیہ کما قال الامام ابومحمد بن السید البطلیوسی رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ فی رقعتہ التی ارسلھا الیہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من ابیات ؎

الیک افر من زللی وذنبی

وانت اذا لقیت اﷲ حسبی

وزورۃ قبرک المحجوج قدما

منای وبغیتی ولوشاء ربی

فان احرم زیارتہ بجسمی

فلم احرم زیارتہ بقلبی

الیک غدت رسول اﷲ منی

تحید مومن دنف محب ۱؎۔
یعنی جسے مزار اقدس حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی زیارت جسم سے نصیب نہ ہوئی ہو وہ ہروقت دل سے اس کی نیت رکھے اور دل میں یہ تصور جمائے کہ میں حضور پر نور صلوٰۃ اللہ تعالٰی وسلامہ علیہ کے حضور حاضر ہوں حضور سے اس کی بارگاہ میں اپنے لئے شفاعت چاہ رہا ہوں  جس نے حضور کی امت میں داخل فرما کر مجھ پر احسان کیا جیسا کہ امام محمد بن السید بطلمیوسی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے اپنی اس عرضی میں کہ مزار پر انوار بھیجی یہ ابیات عرض کیں کہ یارسول اللہ!میں اپنی لغزش وگناہ سے حضورہی کی طرف بھاگتاہوں او رجب میں خدا سے ملوں تو حضور مجھے کافی ہیں حضور کی قبر مبارک کی زیارت کی کہ ہمیشہ سے جس کا حج ہوتا ہے (یعنی مسلمان اس کی نیت کرکے دور دور سے حاضر ہوتے ہیں) میری آرزو مراد ہے۔ اگرمیرا رب چاہے اگر جسم سے اس کی زیارت مجھے نصیب نہ ہوئی تو دل کی زیارت سے محروم نہیں ہوں صبحدم حضور کی بار گاہ میں حاضر ہے یا رسول اللہ! میری طرف سے ایک مسلمان محب بیمار محبت کا مجرا۔
 (۱؎ المدخل لابن الحاج     فصل فی الکلام علی زیارۃ سید المرسلین الخ         دارالکتب العربی بیروت    ۱/ ۲۵۸)
امام احمد بن محمد خطیب قسطلانی شارح صحیح بخاری مواہب لدنیہ ومنح محمدیہ اور علامہ محمد زرقانی اس کی شرح میں فرماتے ہیں:
یلازم الادب والخشوع والتواضع غاض البصر فی مقام الہیبۃ کما کان یفعل بین ید یہ فی حیاتہ (اذہو حی) ویستحضر علمہ بوقوفہ بین یدیہ علیہ الصلوٰۃ والسلام سماعہ لسلامہ کما ہو فی حال حیاتہ اذلا فرق بین موتہ وحیاتہ فی مشاھدتہ لامتہ ومعرفتہ باحوالھم ونیاتھم و عزائمھم وخواطرھم وذٰلک عندہ جلی لاخفاء بہ ویمثل (یصور) الزائر وجہہ الکریم علیہ الصلوٰۃ والسلام فی ذھنہ ویحضر قلبہ جلال رتبتہ وعلم منزلتہ وعظیم حرمتہ۱؎ اھ ملخصا
یعنی زائر ادب وخشوع وتواضع کو لازم پکڑے آنکھیں بند کئے مقام ہیبت میں کھڑا ہوجیسا حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے عالم حیات ظاہری میں حضور کے سامنے کرتا کہ وہ اب بھی زندہ ہیں  اور تصور کرے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اس کی حاضری سے آگاہ ہیں اس کا سلام سن رہے ہیں بعینہٖ اسی طرح جیسے حال حیات ظاہری میں کہ حضور کی وفات و حیات دونوں ان امور میں یکساں ہیں کہ حضور اپنی امت کو دیکھتے اور ان کے احوال کو پہچانتے ہیں اور ان کی نیتوں اور ارادوں اور دل کے خطروں سے آگاہ ہیں اور یہ سب باتیں حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر ایسی روشن ہیں جنھیں اصلا پوشیدگی نہیں اور زائر اپنے ذہن میں حضور والا صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے چہرہ کریمہ کا تصور جمائے اور دل میں حضور کی بزرگی مرتبہ وبلندی قدرواحترام عظیم کا خیال لائے۔
 (۱؎ شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ     المقصد العاشر     الفصل الثانی دارالمعرفۃ بیروت    ۸/ ۳۰۵)
علامہ رحمت اللہ ہندی تلمیذ امام ابن الہمام منسک متوسط اور علامہ علی قاری مکی اس کی شرح مسلک متقسط میں فرماتے ہیں:
ثم توجہ (ای بالقلب والقالب) مع رعایۃ الادب فقام تجاہ الوجہ الشریف متواضعا خاضعا خاشعا مع الذلۃ والانکسار والخشیۃ والوقار والہیبۃ والافتقار غاض الطرف مکفوف الجوارح فارغ القلب (من سوی مرامہ) واضعا یمینہ علی شمالہ مستقبلا لوجہ الکریم مستدبر القبلۃ متمثلا صورتہ الکریمۃ فی خیالک (ای فی تخیلات بالک لتحسین حالک) مستشعرا بانہ علیہ الصلوٰۃ والسلام عالم بحضورک وقیامک وسلامک (ای بل بجمیع افعالک واحوالک وارتحالک ومقامک) وکانہ حاضر جالس بازائک مستحضرا عظمتہ وجلالہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ۱؎ اھ ملخصا۔
یعنی زائر دل وبدن دونوں سے بنہایت ادب مزار اقدس کی طرف متوجہ کو کر مواجہہ شریف میں کھڑا ہو تواضع وخشوع وخضوع وتذلل وانکسار وخوف ووقار وہیبت ومحتاجی کے ساتھ آنکھیں بند کئے اعضاء کو حرکت سے روکے دل اس مقصود مبارک کے سوا سب فارغ کئے ہوئے داہنا ہاتھ بائیں پر باندھے، حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف منہ اور قبلہ کو پیٹھ کرے دل میں حضور انور صلوات اللہ تعالٰی وسلامہ علیہ کی صورت کریمہ کا تصور باندھے کہ یہ خیال تجھےخوشحال کر دے گا اور خوب ہوشیار ہوجا کہ حضور پر نور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم تیری حاضری وقیام وسلام بلکہ تمام افعال واحوال اور منزل منزل کے کوچ ومقام سے آگاہ ہیں اور یہ تصور کر کہ گویا حضور تیرے سامنے حاضر وتشریف فرماہیں اور حضور کی عظمت وجلال کا خیال اپنے ذہن میں حاضر رکھ۔
 (۱؎ المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط مع ارشاد الساری     دارالکتاب العربی بیروت    ص۳۳۷، ۳۳۸)
امام مجدالدین ابوالفضل عبداللہ بن محمود موصلی اپنے متن مختار کی شرح اختیار میں پھر علمائے دولت علیہ  سلطان اورنگزیب انار اللہ برہانہ فتاوٰی عالمگیری میں فرماتے ہیں:
یقف کما یقف فی الصلوٰۃ ویمثل صورتہ الکریمۃ البھیۃ کانہ نائم فی لحدہ عالم بہ یسمع کلامہ ۲؎۔
یعنی زائر روضہ منورہ کے حضور دست بستہ بادب یوں کھڑا ہو جیسے نماز میں کھڑا ہوتاہے اور حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی صورت کریمہ روشن کا تصور باندھے گویا حضور مرقد اطہر میں لیٹے ہیں زائر کو جانتے اور اس کا کلام سنتے ہیں۔
 (۲؎ الاختیار لتعلیل المختار     فصل فی زیارۃ قبر النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم  دارالمعرفہ بیروت   ۱/ ۱۷۶)
امام اجل قاضی عیاض نے شفا شریف میں امام ابواہیم تجیبی سے نقل فرمایا کہ وہ فرماتے ہیں:
واجب علی کل مؤمن متی ذکرہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم او ذکر عندہ ان یخضع ویخشع ویتوقر ویسکن من حرکتہ ویاخذ فی ھیبتہ واجلالہ بما کان یاخذ نفسہ لوکان بین یدیہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ویتادب بماادبنا اﷲ تعالٰی بہ ۳؎
ہر مسلمان پر واجب ہے جب حضور پر نور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا ذکر کرے یا حضور کا ذکر اس کے سامنے کیا جائے کہ خشوع وخضوع ووقار بجالائے جسم کا کوئی ذرہ حرکت نہ کرے جس طرح خود حضور انور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے سامنے خاص حضوری میں رہتا ہے حضور کا ادب کرے جیسا کہ اللہ تعالٰی نے ہمیں اس جناب کے لئے مودب ہوناسکھایا۔
 (۳؎ الشفا بتعریف حقوق المصطفی     فصل واعلم ان حرمۃ النبی الخ     الشرکۃ الصحافیۃ فی البلاد العثمانیہ     ۲/ ۳۴)
علامہ شہاب الدین خفاجی اس کی شرح نسیم الریاض میں اس پر فرماتے ہیں:
یفرض ذٰلک ویلا حظہ ویتمثلہ فکانہ عندہ ۱؎۔
یعنی ذکر شریف کے وقت یہ فرض ملاحظہ کرے کہ خاص حضوری میں ہوں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی صورت کا تصور جمالیا جائے کہ گویا حضور اس کے پاس جلوہ فرما ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۔
 (۱؎ نسیم الریاض     فی شرح الشفا للعیاض     فصل واعلم ان حرمۃ النبی الخ     ادارۃ تالیفات اشرفیہ ملتان    ۳/ ۳۹۶)
فاضل رفیع الدین خان مراد آبادی تاریخ الحرمین میں لکھتے ہیں:
شبے در طواف بودم وہجوم بسیار بود بخیال خود حضور آنحضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم یاد کر دم تصور نمودم کہ آں سرور علیہ وآلہ الصلوٰۃ والسلام وطوائف ہستند وجماعت صحابہ بآنحضرت طواف میکنند ومن بطفیل ایشاں درمجمع حاضرم وروزے پیش باب بیت اللہ ایستادہ دعا میکردم وباخود قصہ روز فتح یاد کردم وتصور نمودم کہ جناب اقدس نبوی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم در دروازہ ایستادہ اندوصحابہ کرام بحسب مرتبہ ومقام خود درخدمت شریف حاضر اند و کفار قریش ترساں وہراساں درحضور آمدہ اند و آنحضرت ازایشاں عفو فرمودہ ملاحظہ ایں حال باعث شد بتوسل از آنجناب ودعا درحضرت عزت جلت عظمتہ برائے مغفرت خود جمیع اقارب واحباب وقضائے حوائج دین ودنیا ونر جو من اﷲ الاجابۃ ان شاء اﷲ تعالٰی ؎
ایک رات میں طواف کررہا تھا ہجوم کثیر تھا میں نے اپنے خیال میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو یادکیا اور تصور کیا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام طواف فرمارہے ہیں اور صحابہ کرام کی جماعت بھی حضور کے ساتھ طواف کررہی ہے اور میں بھی آپ کے طفیل وہاں مجمع میں حاضرہوں، اور ایک روز میں بیت اللہ شریف کے آگے کھڑا دعا کررہا تھا کہ مجھے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فتح مکہ والا منظر یاد آیا اور تصور کیاکہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام فتح کے روز بیت اللہ شریف کے دروازے پر تشریف فرماہیں اور صحابہ کرام اپنے مراتب کے لحاظ سے اپنی جگہ پر خدمت میں حاضر ہیں اور کفار مکہ ڈرتے ہوئے پریشان آپ کے سامنے آرہے ہیں اور آپ ان کو معاف فرمارہے ہیں اس تصور کی برکت سے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے وسیلے اور اللہ تعالٰی کے دربارمیں دعا کے سبب تمام اقارب واحباب کی مغفرت اورحاجتیں تمام دنیاوی اور دینی قبول ہونے کی امید ہوئی ان شاء اللہ تعالٰی،
دوستاں راکجا کنی محروم

توکہ بادشمناں نظر داری ۱؎
دوستوں کوتو آپ کیا محروم کریں گے آپ تو دشمنوں پر بھی نظر رکھتے ہیں۔ (ت)
 (۱؎ تاریخ الحرمین رفیع الدین مراد آبادی)
الحمدللہ!
یہ سردست تیس نصوص عظیم الفوائد ہیں اور جو باقی رہ گئے وہ ان سے بہت زائد پھر نصف کہ اس قدر بھی کافی اور مکابر متعسف کو دفتر ناوافی،
نسأ ل اﷲ العفو والعافیہ
 (ہم اللہ تعالٰی سے معافی وعافیت مانگتے ہیں۔ ت)
Flag Counter