Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۱(کتاب الحظر والاباحۃ )
122 - 144
جلدسوم میں لکھا:
پرسیدہ بودند کہ لم ایں چیست کہ چوں درنسبت رابطہ فتور میرود دراتیان سائر طاعات التذاذ نمی یابد بدانند کہ ہماں وجہیکہ سبب فتور رابطہ گشتہ است مانع التذاذ ست (الی قولہ) استغفار باید نمود تابکرم اللہ سبحنہ اثر آں مرتفع گردد ۲؎''
آپ سے پوچھا گیا کہ کیا وجہ ہے کہ جب رابطہ والی نسبت میں فتور ہوجائے تمام عبادات کی لذت میں فتور پیدا ہوجاتاہے تو فرمایا یاد رکھو کہ جس وجہ سے رابطہ میں فتور آتا ہے وہی لذت سے مانع ہوجاتی ہے اور (بعد میں یہاں تک فرمایا) اس موقعہ پر استغفار کرنی ضروری ہے تاکہ اللہ تعالٰی اپنے کرم سے اس مانع اثر کو اٹھادے۔ (ت)
 (۲؎مکتوبات امام ربانی مجدد الف ثانی مکتوب  صدو ہفتم           نولکشور لکھنو،      ۳/ ۱۹۸)
اور ذرا وہ بھی ملاحظہ ہوجائے جو انھوں نے مکتوبات کی جلد دوم مکتوب سیم میں فرمایا:
''خواجہ محمد اشرف ورزش نسبت رابطہ از نوشتہ بودند کہ سجدے استیلا یافتہ است کہ درصلوات آں را مسجود خود مے داند ومے بیند واگر فرضا نفی کند منتفی نمیگر دد محبت اطوار ایں دولت متمنائے طلاب است ازھزاراں یکے رامگر بد ہند صاحب ایں معاملہ مستعد تام المناسبۃ سبب یحتمل کہ باندک صحبت شیخ مقتدا جمیع کمالات اوراجذب نماید رابطہ راچرا نفی کنند کہ اومسجود الیہ است نہ مسجود لہ چرا محاریب ومساجد رانفی نکنند ظہور ایں قسم دولت سعادت منداں رامیسر است نادر جمیع احوال صاحب رابطہ متوسط خود دانند ودرجمیع اوقات متوجہ اوباشتند ودررنگ جماعہ بے دولت کہ خود رامستغنی دانند وقبلہ توجہ از شیخ خود منحرف سازند ومعاملہ خود رابرہم زنند ''۱؎
خواجہ محمد اشرف نے نسبت رابطہ کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ سجدے میں رفعت ہوتی ہے جب شیخ کو نمازوں میں مسجود سمجھے اور دیکھے اگر بالفرض وہ اس کی نفی کرے بھی تو منتفی نہ ہو، یہ محبت کا ایک مرحلہ ہے طالب حضرات ہزاروں اس دولت کی تمنا کرتے ہیں مگر حاصل کسی ایک کو ہوتا ہے یہ عطا کا معاملہ مناسبت تامہ کی وجہ سے ہوتا ہے شیخ کی تھوڑی سی صحبت کے سبب کبھی تمام کمالات شیخ اس طالب میں جذب کردیتا ہے رابطہ کی نفی لوگ کیوں کرتے ہیں حالانکہ شیخ و مقتداء مسجود الیہ ہوتا ہے نہ کہ مسجود لہ، یہ لوگ محراب اور مساجد کی نفی کیوں نہیں کرتے ہیں (حالانکہ وہ بھی مسجود الیہ ہیں) یہ دولت خاص سعادتمندوں کو میسرہوتی ہے حتی کہ وہ تمام احوال میں صاحب رابطہ کو واسطہ جانتے ہیں اور تمام اوقات میں اسی کی طرف متوجہ رہتے ہیں ان لوگوں کی طرح نہیں جو بے دولت ہوتے ہیں اور اپنے آپ کو مستغنی سمجھتے ہیں، اور شیخ سے اپنی توجہ کا قبلہ موڑ لیتے ہیں او ر اپنا معاملہ خود خراب کرلیتے ہیں۔ (ت)
 (۱؎ المکتوبات امام ربانی مجدد الف ثانی     مکتوب ۰    نولکشورلکھنؤ        ۲/ ۴۶)
الحمدللہ اس عبارت باہرہ کا ایک ایک کلمہ قاہرہ ازبیخ برکن نجدیت بائرہ ہے
وللہ الحجۃ الظاہرہ، آمدیم  ونصوص علماء کتاب مستطاب حدائق الانوار فی الصلوٰۃ واسلام علی النبی المختار علی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم
میں ہے:
الحدیقۃ الخامسۃ فی الثمرات التی یجتنیھا العبد بالصلوٰۃ علی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم والفوائد التی یکتسبھا ویقتنیھا ۲؎۔
پانچواں حدیقہ ان پھلوں کے بیان میں ہے جنھیں بندہ حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر درود بھیج کر چنتاہے اور ان فائدوں میں جنھیں دودر کی برکت سے کسب وتحصیل کرتاہے۔
 (۲؎ حدائق الانورا فی الصلوٰۃ والسلام علی النبی المختار)
پھر چالیس فائدے گناکرکہتے ہیں:
الاحدی والا ربعون من اعظم الثمرات و اجل الفوائد المکتسبات بالصلوۃ علیہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم انطباع صورۃ الکریمۃ فی النفس ۳؎۔
وہ فائدے جو نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر دورد  بھیج کر حاصل کر تے ہیں ان میں اجل واعظم فائدوں سے حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی صورت کریمہ کا دل میں نقش ہوناہے۔
(۳؎حدائق الانورا فی الصلوٰۃ والسلام علی النبی المختار )
امام ابو عبداللہ ساحلی رضی اللہ تعالٰی عنہ بغیۃ السالک میں فرماتے ہیں:
ان من اعظم الثمرات واجل  الفوائد المکتسبات بالصلوٰۃ علیہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم انطباع صورتہ الکریمۃ فی النفس انطباعا ثابتا متا صلامتصلا وذٰلک بالمداومۃ علی الصلوٰۃ علی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم باخلاص القصد وتحصیل الشروط والاداب وتدبر المعانی حتی یتمکن حبہ من الباطن تمکنا صادقا خالصا یصل بین نفس  الذاکر ونفس النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ویؤلف بینھما فی محل القرب والصفا ۱؎ الخ۔
ثمرات وفوائد کہ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر دورد بھیج کر حاصل کئے جاتے ہیں ان کے اعظم و اجل سے یہ ہے کہ حضور پر نور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی صورت کریمہ کا پائدار ومستحکم ودائمی نقش دل میں ہوجائے یہ یوں حاصل ہوتاہے کہ نیت خالص ورعایت شروط آداب وغور وفکر معانی کے ساتھ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر درود بھیجنے کی مداومت کریں یہاں تک کہ حضور کی محبت ایسے سچے خالص طور پر دل میں جم جائے جس کے سبب نفس ذاکر کو نفس اقدس حضور انور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے اتصال اور محل تقرب و صفامیں باہم الفت حاصل ہو۔
 (۱؎ بغیۃ السالک )
علامہ فاسی محمد بن احمد بن علی قصری رحمۃ اللہ علیہ مطالع المسرات  شرح دلائل الخیرات میں فرماتے ہیں:
قد ذکر بعض من تکلم علی الاذکار وکیفیۃ التربیۃ بہا انہ اذا کمل لاالہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فلیشخص بین عینیہ ذاتہ الکریمۃ بشریۃ من نور فی ثیاب من نور یعنی لتنطلع صورتہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی روحانیتہ ویتالف معہا تالفا یتمکن بہ من الاستفادۃ من اسرارہ و الاقتباس من انوارہ صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم قال فان لم یرزق تشخص صورۃ فیری کانہ جالس عند قبرہ المبارک یشیرالیہ متی ماذکرہ فان القلب متی ماشغلہ شیئ امتنع من قبولہ غیرہ فی الوقت الی اخر کلامہ فیحتاج الی تصویر الروضۃ المشرفۃ والقبور المقدسۃ لیعرف صورتھا یشخصہا بین عینیہ من لم یعرف من المصلین علیہ فی ہذا الکتب وہم عامۃ الناس وجمھورہم ۱؎ اھ ملخصا۔
یعنی بعض علماء جنھوں نے اذکا ر اور ان سے تربیت مریدین کی کیفیت بیان کی، فرماتے ہیں کہ جب ذکر لا الہ الا اللہ محمدرسو ل اللہ کو کامل کرے تو چاہئے کہ حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا تصور اپنے پیش نظر جمائے بشری صورت نور کی طلعت نور کے کپڑوں میں اس غرض سے کہ حضور انور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی صورت اس کے آئینہ روح میں منقش ہوجائے اور وہ الفت پیدا ہو جس کے سبب حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے اسرار سے استفادہ اور انوار سے اقتباس کرسکے وہی عالم فرماتے ہیں جسے حضور پر نور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی صورت کریمہ کا تصور روزی نہ ہو وہ یہی خیال جمائے کہ گویا مزار مبارک کے سامنے حاضر ہے اور ہر بار ذکر شریف کے ساتھ مزار اقدس کی طرف اشارہ کرتا رہے یہ اس لئے کہ دل کو جب ایک چیز مشغول کرلیتی ہے تو اس وقت دوسری کسی شے کو قبول نہیں کرتا، اسے نقل کرکے علامہ فاسی فرماتے ہیں جب بات یہ ٹھہری تو روضہ مطہرہ وقبور معطرہ کی تصویر بنانے کی حاجت ہوئی کہ جن دلائل الخیرات پڑھنے والوں کو ان کا نقشہ معلوم نہیں اور اکثر ایسے ہی ہیں وہ پہچان لیں اور ان کا تصور پیش نظر رکھیں۔
 (۱؎ مطالع المسرات شرح دلائل الخیرات     مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد    ص۱۴۴ و ۱۴۵)
شیخ محقق مولانا عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہ جذب القلوب الی دیار المحبوب صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم وکتاب ترغیب اہل السعادات میں فرماتے ہیں:
ازفوائد صلاۃ برسید کائنات علیہ افضل الصلوٰۃ ست تمثل خیال وے صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم درعین کہ لازم کثرت صلاۃ ست بانعت حضور وتوجہ اللھم صل وسلم علیہ ۳؎ اھ ملتقطا۔
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام پر درود پاک کے فوائد میں سے یہ ہے کہ آنکھ میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خیالی صورت قائم ہوجاتی ہے جس کے لئے حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی نعت شریف کے ساتھ دورد شریف کی کثرت لازم ہے اور توجہ سے اللھم صل وسلم علیہ اھ ملتقطا (ت)
 (۲؎ جذب القلوب الی دیار المحبوب    باب ہفدہم      مکتبہ نعیمیہ چوک دالگراں لاہور    ص۱۸۰ تا ۱۸۲)
Flag Counter