Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۱(کتاب الحظر والاباحۃ )
121 - 144
اقول: وباللہ التوفیق
 (میں کہتا ہوں اور توفیق اللہ سے ہے۔ ت) اس عبارت سے جیسا کہ تصور برزخ کا جواز ثابت ہوا اس کے سو ا اور بھی فوائد جلیل حاصل مثلا:  ایک یہ کہ شغل برزخ کے ساتھ ذکر کرنا اطلاق آیت قرآنی کے تحت میں داخل ۔

دوم مطلق ذکر پر قرآن وحدیث میں جو عظیم تر غیبیں آئیں اسے بھی شامل۔

سوم مطلق ہمیشہ اپنے اطلاق پر رہے گا اور اس کا حکم اس کے جمیع مقیدات میں ساری شرع میں صرف اس کی اجازت ان کی اجازت کے لئے کافی جس کے بعد خصوصیات خاصہ کے ثبوت خاص کی حاجت نہیں مطلق اصولی کو مطلق منطقی سمجھنا محض خطاہے۔
چہارم نیک بات بانضمام اوضاع خاصہ بد نہیں ہوسکتی جب تک اس منضم میں کوئی محذور خاص شرع سے ثابت نہ ہو،

پنجم قائل جواز کو صرف اس قدر بس کہ یہ مقید زیر مطلق داخل، جو ممنوع بتائے وہ مدعی ہے اس صورت خاصہ سے منع ثابت کرے۔
ششم ہیئات عبادات توقیفی ہے ولہذا سیرووقوف دونوں میں شرع مطہر کا اتباع واجب جہاں وہ تھم رہے ہم آگے نہ بڑھیں جہاں وہ آگے چلے ہم تھم نہ رہیں تو اپنی طر ف سے اطلاق مقید و تقیید مطلق دونوں ممنوع جس طرح بعد حصر فی وجہ احداث وجہ،  آخر شرع پر زیادت یونہی بعد اطلاق اجازت منع بعض صور شرع کی مخالفت اس توقیف وتوقف کے یہ معنی ہیں نہ وہ کہ عبادت الٰہیہ کو معاذاللہ غیر معقول المعنی، سمجھ کر مطلقا وارد ومورد پر مقتصر کردیجئے
کما زعم المتکلم القنوجی
 (جیسا کہ قنوجی متکلم نے سمجھا ہے۔ ت)
ہفتم بدعت شرعیہ کی یہ تفسیر کہ جو بات زمانہ اقدس نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میں نہ تھی یا جو کام صحابہ نے نہ کیا یا جو کچھ قرون ثلثہ میں نہ تھا۔
کما تزعمہ النجدیۃ علی تفرق کلمھم فیما بینھم ''تحسبھم جمیعا وقلوبہم شتی ذلک بانھم قوم لایعقلون ۲؎''۔
جیسا کہ نجدی حضرات متفرق باتیں کرتے ہیں ''تم ان کو جمع خیال کرتے ہو حالانکہ ان کے دل متفرق ہیں یہ اس لئے کہ وہ بے عقل قوم ہیں'' (ت)
 (۲؎ القرآن الکریم            ۵۹/ ۱۴)
ہشتم بدعت لغویہ کہ تفاسیر مذکور حقیقۃً اسی پر منطق ہرگز سیئہ میں منحصر نہیں اس تقدیر پر قضیہ
کل بدعۃ ضلالۃ ۱؎
 ( ہر بدعت گمراہی سے۔ ت) قطعا عام مخصوص منہ البعض ، ہاں اگر بدعت شرعیہ لیجئے یعنی:
ما احدث علی خلاف الحق المتلقی عن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے حاصل شدہ حق کے خلاف کوئی نئی چیز ہو(ت)
 (۱؎ الدرالمنثور   تحت آیۃ ۷/ ۱۷۸     مکتبہ آیۃ اللہ العظیمی قم ایران    ۳/ ۱۴۷)
تو بیشک وہ اپنی صراحت عموم ومحوضت اطلاق پر ہے علماء تفسیر حدیث میں دونوں طرف گئے مگر یہ اعجوبہ ملفقہ کو پہلوں  سے تفسیر لیں اور دوسروں سے اطلاق یہ خاص ایجاد حضرات انجاد ہے جس پر شرع سے اصلا دلیل نہیں اور جس کی بناء پر شاہ عبدالعزیز وشاہ ولی اللہ سے ہزار برس تک کے ائمہ شریعت وسادات طریقت یا ہزاروں تابعین یا صدہا صحابہ بھی معاذاللہ بدعتی قرارپاتے ہیں، اور ان کے بعض جری بیباکوں مثل بھوپالی بہادر وغیرہ نے اس کی صاف تصریح بھی کردی وہ بھی کہاں، خاص امیر المومنین غیظ المنافقین عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں
وسیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ۲؎
 (اور اب جان جائیں گے ظالم کہ کس کروٹ پلٹا کھائیں گے۔ ت)
 (۲؎ القرآن اکریم          ۲۷ /۲۲۷)
نہم عدم نقل نقل عدم نہیں۔

دہم عدم فعل قاضی منع نہیں کف میں اتباع ہے نہ مجرد ترک میں۔

یاز دہم یہ جاہلی مغالطہ کہ اس طریقے میں کوئی بھلائی ہوتی تو صحابہ ہی کرتے تم کیا ان سے بھی زیادہ دین کی سمجھ رکھتے تو محض بیہودہ ونامسموع ہے۔

دوازدہم اولیائے کرام کے ایجادات محمودومقبول ہیں۔

سیزدہم وہ اہل الذکر ہیں دوسروں کو ان پر اعتراض نہیں پہنچتا بلکہ ان کی طرف رجوع اور جو وہ فرمائیں اس پر عمل چاہئے۔
چہاردہم کفار سے غیر شعار میں اتفاقی مشابہت ہرگز وجہ ممانعت نہیں ورنہ حبس دم کہ جوگیوں کا مشہور طریقہ ہے ممنوع ہوتا۔

پانزدہم آیۃ
فاسئلوا اھل الذکر ۳؎
 (وجوب تقلید میں نص ہے ۔ اہل ذکر سے علمائے اہل کتاب مراد لے کر مبحث تقلیدی سے آیت کو بیگانہ بتانا غیر مقلدوہابیوں کی نری جہالت ہے،
 (۳؎القرآن اکریم       ۱۶/ ۴۳ و ۲۱/ ۷)
اعتبار عموم لفظ کا ہے نہ کہ مخصوص سبب کا
الی ذٰلک من الفوائد مما یستخرجہ البصیر الناقد
 (دیگر فوائد جن کو پرکھنے والے صاحب بصیرت نے ظاہر کیا ہے۔ ت) شاہ صاحب کی یہ نفیس عبارت کس قدر قابل قدر و منزلت کہ معدود حرفوں میں کتنے فوائد نفیسہ بتاگئے اور آدھی بلکہ دو تہائی وہابیت کو خاک میں ملاگئے
والحمد للہ رب العالمین۔
اب پھر شمار عبارات کی طرف چلئے، تمام خاندان دہلی کے آقائے نعمت وخداوند دولت ومرجع و منتہٰی ومفرغ وملجا وسید ومولٰی جناب شیخ مجدد صاحب رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ اپنے مکتوبات کی جلد اول میں فرماتے ہیں:
ہیچ طریقے اقرب بوصول از طریق رابطہ نیست تاکدام دولتمند رابآں سعادت مستسعد سازند ۱؎''
وصول کے  طریقوں میں سے اقرب ترین طریقہ رابطہ ہے کہ بہت سے ابدی دولت والے اس سے بہرہ ور ہوئے ہیں۔ (ت)
 (۱؎ مکتوبات امام ربانی مجدد الف ثانی مکتوب صد وہشتا دو ہفتم         نولکشور لکھنؤ    ۱/ ۱۸۷)
اسی میں ہے:
''مخدومامقصد اقصی ومطلب اسنٰی وصول بجناب قدس خداوندی ست جل سلطانہ لیکن چوں طالب در ابتداء بواسطہ تعلقات شتی درکمال تدنس وتنزل ست وجناب قدس اوتعالٰی درنہایت تنزہ وترفع ومناسبتے کہ سبب افاضہ واستفاضہ است درمیان مطلوب وطالب مسلوب ست لاجرم از پیر راہ دان راہ بین چارہ نمودہ کہ برزخ بود (الی قولہ) پس درابتدا ودر توسط مطلوب رابے آئینہ پیر نمیتواں دید ۲؎''
اے میرے مخدوم! سب سے بڑا اور اعلٰی مقصد اللہ جل شانہ تک رسانی ہے لیکن کوئی طالب ابتدائی مرحلہ میں دنیاوی مشاغل کی وجہ سے انتہائی کثافت اور کہتری میں ہوتا ہے جبکہ اللہ تعالٰی انتہائی پاک اور بلند ذات ہے اس وجہ سے طالب ومطلوب کے درمیان فیض کے حصول وعطا کے لئے کوئی مناسبت نہیں ہے لہذا ضروری ہے راستہ جاننے اور دیکھنے والا مرشد واسطہ بنے، (اوریہاں تک فرمایا ) ابتدائی اور درمیائے مرحلہ میں پیر کے آئینہ کے بغیر مطلوب کو نہیں دیکھ سکتا۔ (ت)
 (۲؎مکتوبات امام ربانی مجدد الف ثانی مکتوب  ۱۶۹         استانبول ترکیہ    ۱/ ۲۸۱)
جلد دوم میں فرمایا:
نسبت رابطہ ہموارہ شمار باصاحب رابطہ می دارد وواسطہ فیض انعکاسی می شود شکرا یں نعمت عظمی بجاباید آورد ۱؎۔''
تمھارے رابطہ کی نسبت صاحب رابطہ کے ساتھ ہموا ر ہوجائے اور فیوض کاواسطہ عکس ڈالے تو اس عظیم نعمت کا شکر بجالانا چاہئے۔ (ت)
 (۱؎ مکتوبات امام ربانی مجدد الف ثانی مکتوب بست وچہارم         نولکشور لکھنو،    ۲/ ۲۱)
Flag Counter