Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۱(کتاب الحظر والاباحۃ )
120 - 144
ثانیا شاید ان کے ارشاد منکر متعصب کو نفع بھی نہ دیں، ہاں شاید کیوں یقینا نہ دیں گے کہ منکر خود بھی ارشاد اولیاء سے قولا وفعلا اس کے متواتر ثبوت پر مطلع پھر بھی برسر انکار وابطال و ادعائے ضلال ہے اللہ تعالٰی کی بے شمار رحمتیں شیخ شیوخ الہند عاشق المصطفی وارث الانبیاء ناصرا لاولیاء مولانا وبرکتنا حضرت شیخ محقق عبدالحق محدث دہلوی قدس اللہ تعالٰی سرہ القوی پر کہ اشعۃاللمعات شرح مشکوٰۃ میں فرماتے ہیں:
''وآنچہ مروی ومحکی ست از مشائخ اہل کشف در استمداد از ارواح کمل واستفادہ ازاں خارج از حصر ست درکتب و رسائل ایشاں ومشہور ست میاں ایشاں وحاجت نیست کہ آں را ذکر کنیم وشاید کہ منکر متعصب سود نکند او ر اکلمات ایشاں عافانا اﷲ من ذٰلک ۱؎''
کاملین کی روح سے استمداد واستفاد ہ جو اہل کشف مشائخ سے مروی ہے اور ان کی کتب ورسائل میں مذکور ومشہور ہے ان بے شمار مرویات کو ذکر کرنے کی ہمیں حاجت نہیں اور شاید متعصب منکرین کو ان کا کلام سود مند بھی نہ ہو، اللہ تعالٰی ہمیں اس سے محفوظ رکھے۔ (ت)
 (۱؎ اشعۃ اللمعات کتا ب الجہاد         باب حکم الاسراء فصل اول     مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۳/ ۴۰۲)
افسوس ان مدعیان حقانیت کی حالت یہاں تک پہنچی کہ بندگان خدا محبوبان خدا کے کلام ان کے سامنے پیش کرنا عبث وبے سود سمجھتے ہیں بلکہ اس سے ڈرتے ہیں کہ کہیں ان کے مقابلے میں اور بھی گستاخیوں پر نہ اترآئیں
عافانا اللہ تعالٰی من کل ذٰلک
 (اللہ تعالٰی ہمیں اس سب سے محفوظ رکھے۔ ت) لہذا میں صرف اقوال علماء پر اکتفا کروں جنھیں مانے بغیر بے چارے مخالف کو چارہ نہیں۔
شاہ ولی اللہ صاحب کی ایک عبارت تو سائل نے سوال میں نقل کی جس کے ترجمہ میں معلم ثالث وہابیہ شفاء العلیل میں یوں کہتے ہیں: ''جب مرشد اس کے پاس نہ ہوتو اس کی صورت کو اپنی دونوں آنکھوں کے درمیان خیال کرتا رہے بطریق محبت اور تعظیم کے تو اس کی خیالی صورت وہ فائدے دے گی جو ا س کی صحبت فائدہ دیتی ہے۔ ۲؎''
 (۲؎ شفاء العلیل ترجمہ القول الجمیل     چھٹی فصل         ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ص۸۱ و ۸۲)
یہیں مولٰنا شاہ عبدالعزیز صاحب سے نقل کیا مولانا نے فرمایا: ''حق یہ ہے کہ سب راہوں سے یہ راہ زیادہ تر قریب ہے ۱؎ انتہی۔
 (۳؎شفاء العلیل ترجمہ القول الجمیل     چھٹی فصل         ایچ ایم سعید کمپنی کراچی        ص۸۰)
اب کون کہے کہ شاہ صاحب! یہ وہی راہ ہے جسے کچھ دنوں بعد آپ کے قریب گھروالے ٹھیٹ بت پرستی بتانے کو ہیں، شاہ ولی اللہ صاحب انتباہ میں فرماتے ہیں:
الطریق الثالث طریق الرابطۃ بالشیخ (الی ان قال) ینبغی ان تحفظ صورتہ فی الخیال وتتوجہ الی القلب الصنوبری حتی تحصل الغیبۃ والفناء من النفس ۱؎۔
یعنی خدا تک پہنچنے کی تیسری راہ شیخ کے ساتھ رابطہ کا طریقہ ہے چاہئے کہ اس کی صورت اپنے خیال میں محفوظ رکھ کر قلب صنوبری کی طرف متوجہ ہو یہاں تک کہ اپنے نفس سے غیبت وفنا ہاتھ آئے (ت)
 (۱؎انتباہ فی سلاسل اولیاء اللہ     طریقہ نقشبندیہ      عباسی کتب خانہ کراچی    ص۴۱ و ۴۲)
اسی میں ہے:
ان وقفت عن  الترقی فینبغی ان تجعل صورۃ الشیخ علی کتفک الا یمن وتعتبر من کتفک الی قلبک امرأممتدا وتاتی بالشیخ علی ذٰلک الامر الممتد وتجعلہ فی قلبک فانہ یرجی لک بذلک حصول الغیبۃ والفناء ۲؎۔
یعنی اگر تو ترقی سے رک رہے تو یوں چاہئے کہ صورت شیخ کو اپنے داہنے شانے پر اور شانے سے دل تک ایک امر کشیدہ فرض کرلے اور اس پر صورت شیخ کو لاکر اپنے دل میں رکھے کہ اس سے تیرے لئے غیبت وفنا ملنے کی امید ہے۔
 (۲؎انتباہ فی سلاسل اولیاء اللہ         طریقہ نقشبندیہ     عباسی کتب خانہ کراچی  ص۴۲)
یہ عبارتیں شاہ صاحب نے رسالہ تاجیہ نقشبندیہ سے نقل کیں جن کی نسبت لکھا کہ حضرت والد بزرگوار  یعنی شاہ عبدالرحیم صاحب اسے بہت پسند فرماتے اور مریدوں کو اس کے سلسلہ پر چلاتے۳؂۔
 (۳؎انتباہ فی سلاسل اولیاء اللہ      طریقہ نقشبندیہ     عباسی کتب خانہ کراچی      ص۳۲)
اسی میں یہ بھی لکھا کہ: ''تفرقہ مستمر ہو تو اپنے مرشد مربی کی صورت خیال میں حاضر کر، امید ہے کہ اس کی برکت سے تفرقہ مبدل بجمیعت ہو ۴؎''
 (۴؎انتباہ فی سلاسل اولیاء اللہ  بیان دفع وسوسہ  عباسی کتب خانہ کراچی ص۴۷)
اسی انتباہ میں رسالہ عزیز یہ سے جس کی اجازت اپنے والد ماجد سے پائی لکھا:
''صورت مرشد پیش خود تصور کردہ بعد ذکر گوید الرفیق ثم الطریق درحق ایشاں ست وبرائے نفی خواطرنفسانی وہواجس شیطانی ووساوس ظلمانی اثرے تمام دارد ۵؎''
مرشد کی صورت کو پیش خاطر رکھے اورذکر کے بعد کہے الرفیق اور پھر الطریق مرشد کے حق میں ہے یہ طریق نفسانی خواہشات اور شیطانی وسوسوں کی نفی میں مؤثر ہے۔ (ت)
 (۵؎انتباہ فی سلاسل اولیاء اللہ   بیان طریقہ چشتیہ        عباسی کتب خانہ کراچی     ص۹۲)
اسی  رسالہ مذکور سے لکھا:
بلکہ حضرت سلطان موحودیں برہان العاشقین حجۃ المتکلمین شیخ جلال الحق والشرع والدین مخدوم مولانا قاضی خاں یوسف ناصحی قدس سرہ العزیز چنیں می فرمودند کہ صورت مرشد کہ ظاہر دید میشود مشاہدہ حق سبحانہ وتعالٰی ست در پردہ آب وگل واما صورت مرشد کہ درخلوت نمودارم شہود آں مشاہدہ حق تعالٰی ست بے پردہ آب و گل کہ ان اﷲ تعالٰی خلق اٰدم علی صورۃ الرحمن من راٰنی فقد رای الحق درحق اودرست شدہ ۱؎۔''
بلکہ حضرت شیخ جلال الدین مولانا قاضی خاں یوسف ناصحی قدس سرہ بمع القابہ یوں فرماتے ہیں کہ مرشد کی صورت کا ظاہری مشاہدہ آب وگل کے پردہ میں اللہ تعالٰی کا مشاہدہ ہے اور مرشد کی خلوت میں نمودار ہونے والی صورت یہ اللہ تعالٰی کا آب وگل کے پردہ کے بغیر مشاہدہ ہے اللہ تعالی نے آدم کی صورت رحمن کی صفت پرپیدا کی جس نے مجھے دیکھا تو بیشک اس نے حق دیکھا، اس پر درست ثابت ہوگا۔ (ت)
(۱؎انتباہ فی سلاسل اولیاء اللہ     بیان طریقہ چشتیہ     عباسی کتب خانہ کراچی    ص۹۲ و ۹۳)
شاہ عبدالعزیز صاحب تفیسر عزیزی میں زیر قولہ تعالٰی واذکر اسم ربک لکھتے ہیں:
یعنی یادکن نام پروردگار خود رابر سبیل دوام وہر وقت وہر شغل خواہ بزبان خواہ بقلب خواہ بروح خواہ بہ سر خواہ بخفی خواہ باخفی خواہ بنفس خواہ ذکر یک ضربی خواہ دو ضربی خواہ بحبس نفس خواہ بے حبس خواہ بدون برزخ خواہ بابرزخ الی غیر ذٰلک من الخصوصیات التی استنبطھا الماھرون من اھل الطرائق وتعین احد الشقین ازیں خصوصیات مذکورہ مفوض بصوابد ید شیخ ومرشد ست کہ بحسب حال ہرچہ را اصلح داند تلقین فرمایا ید چنانچہ درآیت دیگر فرمودہ فاسئلوا اھل الذکر ان کتنم لاتعلمون ۱؎ اھ ملتقطا۔
اللہ تعالٰی کو ہر وقت اور ہر شغل میں یاد رکھ دل روح، سری، خفی، سانس یک ضربی یا دو ضربی ہو یا سانس بند کرکے ہو یابغیر بند کئے ہو، برزخ کے ذریعے یا بے برزخ وغیرہا خصوصیات جن کو اہل طریقت سے ماہرین نے اخذ کیا ہے ان میں سے کسی مخصوص طریقہ کو متعین کرنا مرشد کی صوابدید پر موقوف ہے کہ وہ حال کے مطابق جس کو مناسب سمجھے اس کی تلقین کرے جس طرح دوسری آیہ کریمہ میں ارشاد ہے کہ اگر تم نہ جانو تو اہل ذکر سے سوال کرو اھ ملتقطا (ت)
 (۱؎ فتح العزیز (تفسیر عزیزی)     تحت آیۃ ۷۳/ ۸     ص۲۷۹)
Flag Counter