لاتظن النسبۃ لاتحصل الابھذا الاشغال بل ہذا طریق لتحصیلھا من غیر حصر فیہا وغالب الرائ عندی ان الصحابۃ و التابعین کانوا یحصلون السکینۃ بطرق اخری ۳؎ الخ۔
یہ نہ سمجھنا کہ نسبت بس انھیں اشغال سے حاصل ہوتی ہے بلکہ یہ بھی اس کی تحصیل کے طریقے ہیں کچھ ان میں حصر نہیں اورمیرا زیادہ گمان یہ ہے کہ صحابہ وتابعین اورہی طریقوں سے نسبت حاصل فرماتے تھے الخ۔
(۳؎القول الجمیل مع شفاء العلیل الفصل الحادی عشر ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۷۳)
معلم ثالث وہابیہ مولوی خرم علی صاحب مصنف نصیحۃ المسلمین کے ترجمہ شفاء العلیل میں اس کے بعد لکھتے ہیں: ''مترجم کہتاہے کہ مصنف نے کلام دلپذیر اور تحقیق عدیم النظیر سے شبہات ناقصین کو جڑ سے اکھاڑ دیا، بعض نادان کہتے ہیں کہ قادریہ چشتیہ نقشبندیہ کے اشغال مخصوصہ صحابہ و تابعین کے زمانے میں نہ تھے تو بدعت سیئہ ہوئی، خلاصہ جواب یہ ہے کہ جس امر کے واسطے اولیائے طریقت رضی اللہ تعالٰی عنہم نے یہ اشغال مقرر کئے ہیں وہ امر زمانہ رسالت سے اب تک برابر چلا آیا ہے گو طرق اس کی تحصیل کے مختلف ہیں فی الواقع اولیائے طریقت مجتہدین شریعت کے مانند ہوئے مجتہدین شریعت نے استنباط احکام ظاہر شریعت کے اصول ٹھہرائے، اولیائے طریقت نے باطن شریعت کی تحصیل کے جس کو طریقت کہتے ہیں قواعد مقرر فرمائے تو یہاں بدعت سیئہ کا گمان سراسر غلط ہے۔ ہاں یہ البتہ ہے کہ حضرات صحابہ کو بسبب صفائی طبیعت اور حضور خورشید رسالت تحصیل نسبت میں اشغال کی حاجت نہ تھی بخلاف متاخرین کے ان کو بسبب بعد زمان رسالت کے البتہ اشغال مذکورہ کی حاجت ہوئی، جیسے صحابہ کرام کو قرآن وحدیث کے فہم میں قواعد صرف ونحو کے دریافت کی حاجت نہ تھی اور اہل عجم اور بالفعل کے عرب اس کے محتاج ہیں واللہ اعلم'' ۱؎
(۱؎ شفاء العلیل مع القول الجمیل ساتویں فصل ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۰۷ و ۱۰۸)
امام الطائفہ کے نسبا چچا علماً باپ طریقۃً دادا مولٰنا شاہ عبدالعزیز صاحب حاشیہ قول الجمیل میں فرماتے ہیں:
'' اسی طرح پیشوایان طریقت نے جلسات وہیئات واسطے اذکا رمخصوصہ کے ایجاد کئے ہیں مناسبات مخفیہ کے سبب سے جن کو مرد صافی الدین اور علوم حقہ کا عالم دریافت کرتاہے (الی قولہ) تو اس کو یاد رکھنا چاہئے ۲؎''اھ بترجمہ البلہوری۔
(۲؎شفاء العلیل مع القول الجمیل چوتھی فصل ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۵۱ و ۵۲)
مولوی بلہوری اسے نقل کرکے کہتے ہیں: ''یعنی ایسے امور کو مخالف شرع یا داخل بدعات سیئہ نہ سمجھنا چاہئے جیسا کہ بعض کم فہم سمجھتے ہیں۳؎''
(۳؎شفاء العلیل مع القول الجمیل چوتھی فصل ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۵۲)
مرزا مظہر جان جاناں صاحب (جنھیں شاہ ولی اللہ صاحب نے اپنے مکتوبات میں نفس زکیہ و قیم طریقہ احمد وداعی سنت نبویہ ومتجلی بانواع فضائل وفواضل کہا) اپنے مکتوبات میں لکھتے ہیں:
''مراقبات باطوار معمولہ کہ درقرون متاخرہ رواج یافتہ از کتاب وسنت ماخوذ نیست بلکہ حضرات مشائخ بطریق الہام واعلام از مبدء فیاض اخذ نمودہ اند شرع ازاں ساکت ست وداخل دائرہ اباحت''۱؎
موجودہ طریقوں کے مراقبات جو آخر زمانہ میں مروج ہوئے کتاب وسنت سے ماخوذ نہیں ہیں بلکہ مشائخ حضرات نے بطور الہام اللہ تعالٰی سے پائے ہیں جبکہ شریعت ان کی تفصیل سے ساکت ہے اور اباحت کے درجہ میں ہیں ۔ (ت)
بات کے پورے تو جب ہیں کہ آنکھیں بند کرکے ان صاحبوں کو بھی بدعتی کہہ بھاگیں ورنہ یہ تو ستم سینہ زوری ہوئی کہ اکابر محبوبان خدا قرون متطاولہ سے سب معاذاللہ مجرم احداث چنیں وچناں ٹھہریں اور ان صاحبوں پر صرف لالچ سے کہ امام الطائفہ کے علاقہ والے ہیں آنچ نہ آئے یہ تو دین نہ ہوا دھینگا مشتی ہوئی، اے حضرت! یہ سب ایک طرف خود امام الطائفہ کی خبر لیجئے وہ سربازار اپنا اور اپنے پیر ومرشد کا بدعتی ومخترع الدین ہونا پکا رہا ہے صراط مستقیم میں لکھتا ہے:
''اشغال مناسبہ ہروقت ریاضت ملائمہ ہر قرن جد ا جدامے باشند ولہذا محققین ہر وقت از اکابر ہر طرق درتجدید اشغال کو ششہا کرد اند بناء علیہ مصلحت دید وقت چناں اقتضاکر د کہ یک باب ازیں کتاب برائے بیان اشغال جدیدہ کہ مناسب ایں وقت ست تعین کردہ شود ۴؎''
ہر وقت کے مناسب اشغال اور ریاضات ہر زمانہ کے مناسب جدا جدا ہیں اور اسی لئے وقت کے محقق لوگ اپنے طریقہ وسلسلہ کے اکابر سے اشغال کی تجدید میں کوشش کرتے رہے ہیں، اسی بناء پروقتی مصلحت کے تحت اس کتاب کا ایک باب موجودہ وقت کے اشغال جدیدہ کے بیان کے لئے مختص کیا گیا ہے۔ (ت)
خدارا ذرا ہٹ دھرمی کی نہیں سہی خدا لگتی کہو تو نہ صرف اشغال بلکہ تمام بحث تعریف بدعت کا یہیں خاتمہ ہوگیا اب کیا ہوئے وہ قرون ثلثۃ کی تخصیص پر جبروتی اصرار ،ا ب کدھرگئی، وہ بات بات پر
من احدث فی امرنا ہذا مالیس منہ فہو رد ۱؎
(جس نے نیا عمل جاری کیا جو ہمارے امر میں سے نہیں وہ مردود ہے۔ ت) اور
کل بدعۃ ضلالۃ وکل ضلالۃ فی النار ۲؎
(ہر بدعت ضلالۃ ہے اورہر ضلالت جہنم میں ہے۔ ت) کی تکرار امام وہابیت کیشاں اور ان کے حضرت ایشاں تیرھویں صدی میں بیٹھے خاص امراعظم دین و وجوہ تقرب رب العالمین میں نئی نئی باتیں گھڑ رہے ہیں جن کا خود ان کے اقرار سے تین قر ن کیا معنٰی تین تین چھ اور چھ اور چھ بارہ قرن تک نام ونشاں نہیں، لیکن وہ بدعتی ٹھہرتے ہیں نہ ان کے اصل ایمان میں خلل آتا ہے نہ ان کے لئے
اصحاب البدع کلاب اھل النار ۳؎
(بدعت والے اہل جہنم کے کتے ہیں۔ ت) پڑھا جاتاہے نہ یہ باتیں رد وضلالت وفی النار ہوتی ہیں، یہ
یجوز للوھا بی مالا یجوز لغیرہ
(جو غیر کے لئے جائز نہیں وہابی کے لئے جائز ہے۔ ت) کا فتوٰی کہاں سے آگیا، اب اسے کیا کہئے، مگر یہ کہ
اذالم تستحی فاصنع ما شئت ۴؎
( جب تجھے حیا نہیں تو جو چاہے کر۔ ت) مولٰی عزوجل ہدایت بخشے، آمین!
خیر بات دور پہنچی خاص مسئلہ شغل برزخ کے متعلق نصوص اکابر وعمائد حاضر کردن مگر حاشا نہ ارشادات حضرات اولیائے قدست اسرارہم کہ:
اولا وہ بنہایت ظہور محتاج اظہار نہیں موافق ومخالف کون نہیں جانتا کہ طریقہ اکابر اولیاء کا معمول رہا اوران کی تصانیف جلیلہ میں جابجا اس کی روشن تصریحیں ہیں۔