تصور شیخ بروجہ رابطہ جسے برزخ بھی کہتے ہیں جس طرح حضرات صوفیہ صافیہ قدسنا اللہ تعالٰی باسرار ھم الوافیہ میں خلفا عن سلف معمول وماثور اور ان کی تصانیف منیفہ ومکتوبات شریفہ وملفوظات لطیفہ میں بتواتر مذکور ومسطور وغیرمسطور کہ شبح شیخ حاشا بلکہ عین شیخ (کہ شیخ حضورا وغیبۃً مرآت ملاحظہ ہے۔ اور کارحقیقۃً کار روح جو بعد صفائی کدورات حیوانیہ وانجلائے ظلما ت نفسانیہ صورت واحدۃ شہادت وہیاکل متکثرہ مثالیہ میں، دفعۃً ہزار جگہ کام کرسکتی ہے جیساکہ بارہا مشاہدہ ومرئی اور حضرات اولیاء سے بکثرت مروی اور عالم رؤیا میں بے شرط ولایت جاری ، جسے افعال عجیبہ و تصرفات غریبہ روح انسانی پر اطلاع حاصل وہ جانتاہے کہ یہ تو اس کے بحار ذاخرہ وامواج قاہرہ سے ایک قطرہ قلیلہ ہے اور خود بعد تمرن واعتیاد و تکامل مناسبت اس صورت متخیلہ کابے اعانت تخییل حرکت وکلام اور مشکلات راہ میں قیام واہتمام اور دقائق وحقائق کا شفاہاً حل تام
کما تشہد بہ شہود الشہودو التجربۃ
(جیسا کہ مشاہدہ اور تجربہ گواہ ہے۔ ت) دلیل جلی وسلیل ہے کہ یہ فقط پیکر مخزون کا علی عکس المعتاد خزانہ خیال سے حس مشترک کی طرف عود قہقری نہیں بلکہ وہی مرکب مثال میں شہسوار روح کی جولانیاں ہیں اگر چہ خود فاعل کو شعور یعنی شعور بالشعور نہ ہو،
کما ھو المشہود لعموم الناس فی غیبۃ الرؤیا۔
جیسا کہ عوام الناس کو خواب کے بارے میں معلوم ہے۔ (ت)
ورنہ صدور افعال اختیار یہ کو شعور سے انفکاک نہیں۔
اتقن ہذا فانہ مہم نافع ولاکثر الشبہات حاسم قالع۔
اس کو خوب یاد رکھو کیونکہ یہ اہم نافع ہے اور بہت سے شبہات کو ختم کرتاہے۔ (ت)
صرف واسطہ وصول وناؤوان فیض وباعث جمیعت خاطر وزوال تفرقہ ہائے شرعا جائز جس کے منع پر شرع سے اصلا دلیل نہیں، نہ کہ معاذاللہ شرک وکفر کہنا جیسا کہ زبان زد سفہائے منکرین ہے۔
والناس اعداء لما جھلوا
(لوگ جس سے ناواقف ہوں اس کے مخالف ہوتے ہیں۔ ت) ؎
منعم کنی زعشق ولے اے زاہد زماں معذور دار مت کہ تو او راند یدہ
(اے زمانہ کے زاہد! تو مجھے عشق سے منع کرتا ہے مجھے معذور رکھ کیونکہ تو نے اسے دیکھا نہیں۔ ت)
ورحم اللہ القائل
(اس قائل پر اللہ رحم فرمائے۔ ت) ؎
جنگ ہفتادد وملت ہمہ راعذر بنہ چوں ندیدند حقیقت رہ افسانہ نروند
(بہتر (۷۲) فرقوں سے جنگ میں ان سب کو معذور جان جب وہ حقیقت سے آگاہ نہیں تو اس راہ پر نہ چلیں گے۔ ت)
یا ھذا بقاعدہ اصول وتصادق وتطابق معقول ومنقول، بینہ ذمہ مدعی ہے اورقائل جواز متمسک باصل جسے ہر گز کسی دلیل کی حاجت نہیں، بعض حضرات جہلا یا تجاہلا مانع فقہی وبحثی میں فرق نہ کرکے دھوکا کھاتے ہیں یا مغالطہ دیتے ہیں کہ تم قائل جوازاور ہم مانع ومنکر تودلیل تم پر چاہئے۔ حالانکہ یہ سخت ذہول وغفلت یا
کید وخدیعت ہے نہ جانا یا جانا اور نہ مانا کہ قول جواز کا حاصل کتنا صرف اس قدر کہ
لم ینہ عنہ یالم یؤمر بہ ولم ینہ عنہ
(یہ ممنوع نہیں یا نہ مامور ہے نہ ممنوع۔ ت) تو مجوز نافی امرونہی ہے اور نافی پر شرعا وعقلا بینہ نہیں جو حرام وممنوع کہے وہ نہی شرعی کامدعی ہے ثبوت دینا اسکے ذمے ہے کہ شرع نے کہاں منع کیا ہے۔
علامہ عبدالغنی نابلسی قدس سرہ القدسی رسالۃ الصلح بین الاخوان میں فرماتے ہیں:
ولیس الاحتیاط فی الافتراء علی اﷲ تعالٰی باثبات الحرمۃ والکراھۃ الذین لابدلھما من دلیل بل فی الاباحۃ التی ھی الاصل ۱؎۔
حرام اور مکروہ قرار دینے میں اللہ تعالٰی پر افتراء باندھنے میں احتیاط نہیں ہے ان دونوں حکموں کے لئے دلیل چاہئے بلکہ احتیاط اباحت میں ہے جو اصل حکم ہے۔ (ت)
(۱؎ الصلح بین الاخوان (رسالہ)
علامہ علی مکی رسالہ اقتدا بالمخالف میں فرماتے ہیں:
من المعلوم ان الاصل فی کل مسئلۃ ھو الصحۃ واما القول بالفساد والکراہۃفیحتاج الی حجۃ ۲؎۔
مسلمہ بات ہے کہ ہر مسئلہ میں اصل صرف اباحت ہے فساد اور کراہت کے حکم کے لئے دلیل کی ضرورت ہے۔ (ت)
(۲؎ الاقتداء بالمخالف (رسالہ)
غرض مانع فقہی مدعی بحثی ہے اور جواز کا قائل مثل سائل مدعا علیہ جس سے مطالبہ دلیل محض جنون یا تسویل ا س کے لئے یہی دلیل بس ہے کہ منع پر کوئی دلیل نہیں۔ مسلم الثبوت میں ہے:
کل ماعدم فیہ المدرک الشرعی للحرج فی فعلہ وترکہ فذلک مدرک شرعی لحکم الشارع بالتخییر ۳؎۔
کسی کام کے کرنے میں اور نہ کرنے میں حرج کے مسئلہ میں کوئی شرعی دلیل نہ ہو تو یہ خود شرعی دلیل ہے کہ شرعا اختیار ہے۔ (ت)
(۳؎ مسلم الثبوت المقالۃ الثانیہ الباب الثانی مطبع انصاری دہلی ص۲۴)
میں اس بحث کو واضح کرچکا وللہ الحمد امثال مقام میں نہایت سعی منکرین عدم نقل سے استدلال ہے۔
ذٰلک مبلغھم من العلم
(یہی ان کے علم کی پہنچ ہے۔ ت) مگر نزد عقلاء ، فضلاء عن الفضلاء یہ بے اصل
استناد تشبت بالحشیش وخرط القتاد
(تنکے کا سہارا اور مشکل میں پھنسنا ہے۔ ت) عدم نقل، نقل عدم نہیں، نہ عدم فعل منع کو مستلزم ، کاش خود معنی
جواز لم یؤمر بہ ولم ینہ عنہ
(نہ اس کا حکم اورنہ اس کی ممانعت ہے۔ ت) کو سمجھتے تو جانتے کہ جس امر سے اس کا ابطال چاہتے ہیں وہ خود اس کی حد کا احدالمصادیق ہے۔ کہ نقل مع عدم الطلب فعلا وکفا وعدم ذکر راسا دونوں اسی انعدام امرونہی کی صورتیں ہیں تو یہ استدلال ایسا ہوا کہ ثبوت اخص کوا رتفاعِ اعم پر دلیل بنائے
وھل ہوالا بہت بحت
(یہ خاص بہتان ہے۔ ت) یہ بحث بھی فقیر نے اپنے رسائل مذکورہ ونیز رسالہ
انھار الانوار من یم صلوٰۃ الاسرار (۱۳۰۵ھ) ورسالہ سرور العید السعید فی حل الدعاء بعدصلوٰۃ العید (۱۳۰۷ھ) وغیرہا
میں تمام کردی۔
ولمن احسن تفصیل تلک المباحث ختام المحققین امام المدققین اعلم العلماء سیف السنۃ علم الاسلام سیدنا الوالد قدس الواجد سرالماجد فی کتابہ الجلیل ''اذاقۃ الاثام لما نعی عمل المولد والقیام'' وسفرہ الجمیل ''اصول الرشاد لقمع مبانی الفساد'' وغیرہما من تصانیفہ الجیاد علیہ الرحمۃ الجواد۔
ان مباحث کی اچھی تفصیل کرنے والوں میں سب سے بہتر خاتم المحققین علماء کرام کے بڑے سنت کی تلوار، اسلام کے جھنڈے حضرت والد گرامی کی کتاب
''اذاقۃ الاثام لما نعی عمل المولد والقیام''
اور کتاب جمیل '' اصول الرشاد لقمع مبانی الفساد'' وغیرہما میں ہے۔ اللہ تعالٰی ان پر رحمت فرمائے۔ (ت)
اوراگر عدم ورود ہی پر مدار منع ٹھہرا تو ایک شغل برزخ ہی پر کیا موقوف ، عامہ اشغال وافکار اور ان کے طریق واطوار کہ طبقہ فطبقۃً تمام اکابر اولیائے قدست اسرارہم میں رائج ومعمول رہے سب معاذاللہ بدعت شنیعہ وحرام وممنوع قرار پائیں گے کہ ان میں بہت تو راساً اوربہت بایں ہیئات خاصہ واوضاع جزئیہ ہر گز حضور پرنور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم یا صحابہ وتابعین سے ثابت نہیں ہاں ہاں قول الٰہی عزوجل:
فیما یرویہ عنہ نبیہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من عادی لی ولیا فقد اٰذنتہ بالحرب، کما فی الجامع الصحیح وغیرہ ۱؎۔
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اللہ تعالٰی سے روایت فرمایا کہ جس نے میرے ولی سے عداوت کی میں اس سے جنگ کا اعلان کرتاہوں جیسا کہ صحیح بخاری میں وغیرہ میں ہے۔ (ت)
(۱؎ صحیح البخاری کتاب الرقاق باب التواضع قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۹۶۳)
بھلا کر بنہایت وقاحت اس لازم شنیع کا التزام کرلینا اور جماہیر اساطین طریقت وسلاطین حقیقت کو معاذاللہ مخترع بدعات ومروج سیئات کہہ دینا اگرچہ منکر مکابر کے نزدیک سہل ہو،
قد بدت البغضاء من افواہم وماتخفی صدورہم اکبر ۱؎۔
بغض ان کے منہ سے ظاہر اور جو ان کے دلوں میں ہے وہ اس سے بڑھ کرہے۔ (ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۳/ ۱۱۸)
مگر اتنا یاد رہے کہ یہ مان کر گھر کی بھی جائے گی ذرا امام الطائفہ کے نسباً دادا ، تلمذا دادا، بیعۃً پر دادا، جناب شاہ ولی اللہ صاحب کو بھی سن لو کہ وہ قول الجمیل میں جس کی وضع انھیں افکار محدثہ واشغال حادثہ کی ترویچ وتعلیم کے لئے ہے کیسا کھلا اقرار فرماتے ہیں:
صحبتنا متصلۃ الی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وان لم یثبت تعین الاداب ولا تلک الاشغال ۳؎ اھ ملخصا۔
ہماری صحبت تو رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم تک متصل ہے اگر چہ خاص یہ آداب واشغال ثابت نہیں۔ اھ ملخصا۔
(۲؎ القول الجمیل مع شفاء العلیل الفصل السابع ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص)