| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۱(کتاب الحظر والاباحۃ ) |
چند شرائط می دان کہ بے آن شرائط اصلا پیری مریدی درست نیست یکے آنکہ پیر مسلک صحیح داشتہ باشد، دوم آنکہ پیردرادائے حق شریعت قاصر ومتہاون نباشد سوم آنکہ پیر راعقائد درست بود موافق مذہب سنت و جماعت پیری ومریدی بے ایں سہ شرائط اصلا درست نیست۔ ۱؎
پیری مریدی چند شرائط پر مبنی ہے جن کے بغیر پیری مریدی صحیح نہیں، ان شرائط میں پہلی شرط یہ ہے کہ پیر مسلک صحیح رکھتا ہو دوسری شرط یہ ہے کہ پیر حقوق شرعیہ ادا کرے، اور تیسری شرط یہ ہے کہ پیر کے عقائد مذہب اہلسنت و جماعت کے مطابق ہوں یہ وہ شرطیں ہیں جن کے بغیر پیری ومریدی ہر گز صحیح نہیں ہوسکتی، (یعنی اتباع احکام شریعت میں سست اور کاہل نہ ہوں )(ت)
(۱؎ سبع سنابل سنبلہ دوم مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ لاہور ص۳۹ و ۴۰)
پھر شرط اول کی تفصیل ارشاد فرماکر شرط دوم کے متعلق فرمایا:
شرط دوم پیرآنست کہ عالم وعامل باشد برجملہ عبادات برانواع ودرادائے احکام قاصر ومتہاون نبود واگر برانواع عبادات عالم نبود عامل نتواند شد ، واز حد شرع بیفتد پس پیری رانشاید زیراکہ ہر کہ از مقام حقیقت بیفتد بر طریقت قرار گیرد، و ہر کہ از شریعت بیفتد گمراہ کردد وگمراہ پیر رانشاید امادر ویشے کہ مرجع خلائق بو د او را احتیاط در جزئیات شریعت فرض لازم ست باید کہ یک دقیقہ از دقائق شرع ازوفوت نشود کہ وسیلہ گمراہی مریدان ست بجہت آنکہ گویند کہ پیر ما ایں چنیں کار کردہ است پس اوضال ومضل گردد ۲؎۔
پیری کی دوسری شرط کی توضیح یہ ہے کہ پیر کو عامل باعمل ہونا ضروری ہے، شریعت کی مقررہ فرمودہ عبادات واحکام میں کوتاہی اور سستی کو دخل نہ دے اب اگر کوئی شخص عبادات و (فرائض وواجبات ، سنن ومستحبات،محرمات و مکروہات) سے واقف نہیں تو ظاہر ہے کہ وہ ان پر عمل نہ کرسکے گا جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ حد شریعت سے گر جائے گا، اوراب پیر بننے کا اہل نہ رہے گا، اس لئے جو شخص مقام حقیت سے گرتاہے وہ طریقت پر رک جاتاہے اور جو طریقت سے گرتاہے شرعیت پر ٹھہر جاتاہے اور جو شخص شریعت سے گرتاہے وہ گمراہی میں پڑ جاتاہے۔ اور گمراہ آدمی پیری کے قابل نہیں، پھر جو درویش کہ مرجع خلائق ہو اس پر شریعت کے احکام جزئی کی احتیاط فرض ولازم ہوجاتی ہے لہذا اس پر فرض ہے کہ شریعت کے آداب ومستحبات سے بھی کسی ادب و مستحب سے غافل نہ رہے اور اسے فوت نہ ہونے دے کہ یہ چیز مریدوں کی گمراہی کی سند ہوجاتی ہے۔اور مریدیں اسے حجت بنا کر کہتے ہیں کہ ہمارے پیر صاحب نے تو یہ کیا ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہوتاہے کہ وہ گمراہ وگمراہ کن بن جاتے ہیں۔ (ت)
(۲؎سبع سنابل سنبلہ دوم مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ لاہور ص ۴۲)
پھر تینوں شرطیں بیان کرکے فرمایا:
مرید کہ پیررابایں ہر سہ شرائط موصوف یابد بیعت با اوکند کہ جائز ومستحسن است واگر در پیرا زیں ہر سہ شرائط یکے مفقود بود بیعت با اوجائز نہ باشد واگر کسے از سبب نادانی باو بیعت کردہ باشد باید کہ ازاں بیعت بگردد ۱؎۔
غرض یہ کہ مرید جب پیر کو ان تینوں شرطوں کا جامع پائے تو اب اس کے ہاتھ پر بیعت کرے کہ جائز ومستحسن ہے اور اگر پیر میں ان شرائط میں سے کوئی ایک شرط بھی نہ پائی جائے تو اس سے بیعت جائز نہیں بلکہ اگر کسی نے نادانستہ ایسے پیر سے بیعت کرلی تو اس پر اس بیعت کاتوڑدینا واجب ہے۔ (ت)
(۱؎ سبع سنابل سنبلہ دوم مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ لاہور ص۴۳)
خاتمہ رزقنا اللہ حسنہا
یہ بظاہر اگر چہ ساٹھ قول ہیں مگر حقیقۃً چالیس او لیاء کرام کے اسی(۸۰) ارشادات عالیہ ہیں کہ صدر کلام میں مولٰی علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا ارشاد امر چہارم میں اور امام مالک اور امام شافعی کے اقوال امر ششم میں اور سید الطائفہ کا ارشاد زیر قول ۱۱، سیدی نابلسی کا زیر قول ۱۴، ایک ولی کا قول جن سے شیخ اکبر نے استفسا ر کیا بضمن قول ۳۸ ، علی خواص کا قول زیر قول ۴۲، علامہ نابلسی کا زیر قول ۵۲، حضرت خواجہ مودود کا قول بضمن قول ۵۶، شیخ الاسلام ہروی کا ایک قول اورحضرت سلطان الاولیاء محبوب الٰہی کے چھ(۱۱ تا ۱۶) اور حضرت شیخ محمد بن مبارک مرید شیخ العالم فرید الحق والدین گنج شکر وخلیفہ حضرت سلطان المشائخ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے دو قول، یہ سب زیر قول ۵۷، اور حضرت میر عبدالواحد کے دو قول(۱۹ تا ۲۰) زیر قول ۶۰، یہ بیس شمار میں آئے۔
رسالہ مقال العرفاء باعزاز شرع وعلماء ختم شد ۔
رسالہ الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ(۱۲۰۹ھ) (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔
مسئلہ ۱۸۷: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص صورت شیخ کو واسطہ وصول فیض جان کر وقت ذکر یا مراقبہ کے اس کا تصور کرتا ہے۔ چنانچہ شاہ ولی اللہ صاحب قدس سرہ نے اشتغال نقشبندیہ کے بیان میں اپنی کتاب قول الجمیل میں فرمایا ہے:
و اذاغاب الشیخ عنہ یتخیل صورتہ بین عینیہ بوصف المحبۃ والتعظیم فتفید صورتہ ما تفید صحبتہ ۱؎۔
جب کسی کا شیخ غائب ہو تو محبت اورتعظیم کے ساتھ اس کی صورت کو اپنی آنکھوں کے سامنے خیال کرے تو اس کی صورت وہی فائدہ دے گی جو اس کی مجلس دیتی ہے۔ (ت)
(۱؎ القول الجمیل مع شفاء العلیل الفصل السادس ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۸۱ و ۸۲)
اس طور پر کہ حق سبحانہ وتعالی کی ذات پاک سے مرشد کے لطائف میں فیض نازل ہوکر مرید کے لطائف پر وارد ہوتا ہے۔ اوریہ بھی جب تک کہ اس کو مناسبت کا ملہ ذات حق سبحانہ وتعالٰی سے نہ ہواور جب مناسبت کا ملہ پیدا ہوجائے پھر ضروری نہ جانے اور مرشد کو فقط واسطہ اور وسیلہ فیض کا جانتا ہے۔ نہ عالم الغیب جانے نہ حاضر وناظر اور معبود ومسجود مقرر کرے بلکہ ان امور کا غیر خدا کے واسطے ثابت کرنا شرک سمجھے جائز ہے یانہ؟ اگر جائز ہے تو اس کی سند قرآن ہے یا حدیث یا قول مجتہد یا اجماع؟ اگر نہیں جائز تو ادلہ اربعہ سے اس کے لئے کون سی دلیل ہے؟ بینوا توجروا۔
الجواب بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمدﷲ الذی ہدٰنا لربط القلوب باعظم برزخٍ بین الامکان والوجوب والصلوٰۃ والسلام علی اجمل مطلوب اجل وسیلۃ لاصلاح الخطوب صلوٰۃ تمحورین العیوب وتمثل فی الفواد صورۃ المحبوب منشھدابالتوحید لعلام الغیوب وبالرسالۃ الکبرٰی لشفیع الذنوب صلی اﷲ تعالٰی علیہ وعلی آلہ وصحبہ وسائط الکرم قال الفقیر عبدالمصطفی احمد رضا المحمدی السنی الحنفی القادری البرکاتی البریلوی لمّ اﷲ تعالٰی شعثہ وتحت اللواء الغوثی بعثہ۔
تمام تعریفیں اللہ تعالٰی کے لئے جس نے دلوں کے ربط کے لئے امکان اور وجوب کے درمیان برزخ اعظم کی رہنمائی عطا فرمائی اور صلوٰۃ وسلام خوبصورت مطلوب اور خطرات کی اصلاح کےلئے جلیل وسیلہ پر، ایسی صلوٰۃ جو عیوب کو مٹادے اور دلوں میں محبوب کی صورت کو قائم کردے علام الغیوب کی توحید اور شفیع المذنبین کی ر سالت کبری کی شہادت دیتے ہوئے، صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ وصحبہ پر جو برگزیدہ واسطے ہیں، فقیر عبدالمصطفٰی احمد رضا محمدی سنی حنفی قادری برکاتی بریلوی کہتا ہے اللہ تعالٰی اس کو پراگندگی سے محفوظ فرمائے اور حضور غوث اعظم کے جھنڈے تلے اٹھائے۔ (ت)