Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۱(کتاب الحظر والاباحۃ )
116 - 144
(۲) ایک بارحضرت محبوب الٰہی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے کسی نے عرض کی آجکل بعضے خانقاہ دار درویشوں نے مزامیر کے مجمع میں وجد کیا۔ فرمایا:
نیکونہ کردہ اند  انچہ نامشروع ست ناپسندیدہ ست ۲؎۔
اچھا نہ کیا جو بات شرع میں ناروا ہے وہ کسی طرح پسندیدہ نہیں
 (۲؎سیرالاولیاء         باب نہم    مرکز تحقیقات فارسی ایران وپاکستان اسلام آباد ص ۵۳۰)
 (۳)کسی نے عرض کی کہ جب وہ لوگ وہاں سے باہرآئے ان سے کہا گیا کہ تم نے یہ کیا کیا وہاں تو مزامیر تھے تم نے وہاں جا کر کیوں قوالی سنی اور وجد کیا، وہ بولے ہم ایسے مستغرق تھے کہ ہمیں مزامیر کی خبرنہ ہوئی، حضرت شیخ المشائخ نظام الحق والدین نے فرمایا:
ایں جواب ہم چیزے نیست ایں سخن درہمہ معصیتہا بیاید ۳؎۔
یہ جواب بھی محض مہمل ہے سب گناہوں میں یہی حیلہ ہوسکتاہے۔
(۳؎سیرالاولیاء         باب نہم    مرکز تحقیقات فارسی ایران وپاکستان اسلام آباد  ص ۵۳۱)
دیکھو کیسا قاطع جواب ارشاد ہوا۔ آدمی شراب پئے اور کہہ دے کمال استغراق کے سبب ہمیں خبر نہ ہوئی کہ شراب ہے یا پانی، زنا کرے اور کہہ دے ہمیں تمیز نہ ہوئی کہ جوروہے یا بیگانی۔
 (۴) ایک بار کسی نے عرض کی کہ فلاں موضع میں بعض یاروں نے مجمع کیا اور مزامیر وغیرہ حرام چیزیں ہیں، حضرت سلطان المشائخ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا:
من منع کردہ ام کہ مزامیر ومحرمات درمیان نباشد نیکونہ کردہ اند ۱؎۔
میں نے منع فرمادیا ہے کہ مزامیر ومحرمات درمیان نہ ہوں، ان لوگوں نے اچھا نہ کیا۔
 (۱؎ سیرالاولیاء     باب نہم     مرکزتحقیقات فارسی ایرام وپاکستان اسلام آباد    ص۵۳۲)
(۵) حضور کے خلیفہ شیخ محمد بن مبارک رحمۃ اللہ تعالٰی فرماتے ہیں حضرت محبوبیت منزلت نے اس باب میں نہایت شدت اورسخت تاکید سے ممانعت فرمائی یہاں تک کہ فرمایا کہ اگر امام نماز پڑھاتا ہو اور جماعت میں کچھ عورتیں بھی ہوں امام کو سہوواقع ہو، مرد تو سبحان اﷲ کہہ کر امام کو مطلع کریں عورت بتانا چاہے تو کیا کرے، سبحان اﷲ تو کہے گی نہیں کہ اسے اپنی آواز سنانی نہ چاہئے پھر کیا کرے۔
پشت دست برکف دست زند وکف دست برکف دست نہ زند کہ آں بہ لہو می ماند تا ایں غایت از ملاہی وامثال آں پرہیز آمدہ است پس در سماع طریق اولٰی کہ ازیں بابت نباشد ۲؎۔
ہاتھ کی پشت کو ہتھیلی پر مارے ہتھیلی کو ہتھیلی پر نہ مارے کیونکہ تالی لہو میں شمار ہوتی ہے۔ جب یہاں تک کہ آپ لہو والی چیزوں سے پرہیز فرماتے تو سماع میں بطریق اولٰی ضروری ہے کہ ایسا نہ ہو۔ (ت)
 (۲؎سیرالاولیاء     باب نہم     مرکزتحقیقات فارسی ایرام وپاکستان اسلام آباد    ص۵۳۲)
شیخ مبارک فرماتے ہیں:
یعنی در منع دستک چندیں احتیاط آمدہ است پس در سماع مزامیر بطریق اولٰی منع است ۳؎۔
یعنی تالی بجانے میں منع کے لئے یہ احتیاط تھی تو سماع میں مزامیر سے منع بطریق اولٰی ہے۔ (ت)
 (۳؎ سیرالاولیاء     باب نہم     مرکزتحقیقات فارسی ایرام وپاکستان اسلام آباد    ص۵۳۲)
سبحان اللہ ! جو بند گان خدا تالی کو ناجائز جانیں بندگان نفس ان کے سرستار اور ڈھولک کی تہمت باندھیں۔

(۶) حضرت محبوب الٰہی کے ملفوظات کریمہ فوائد الفواد کہ حضرت کے مرید رشید میر حسن علاسجزی قدس سرہ کے جمع کئے ہوئے ہیں ان میں بھی حضور کا صاف ارشاد مذکور ہے کہ:
مزامیرا حرام ست ۱؎۔
 (۱؎ فوائد الفواد)
 (۷) حضور کے خلیفہ حضرت مولانا فخر الدین زراوی قد س سرہ نے حضور کے زمانہ میں حضور کے حکم سے دربارہ سماع ایک رسالہ عربیہ مسمی بہ
کشف القناع عن اصول السماع
تالیف فرمایا، اس میں ہے:
اماسماع مشایخنا رضی اﷲ تعالٰی عنہم فبرئ عن ہذ التھمۃ وھو مجرد صوت القوال مع الاشعارالمشعرۃ من کمال صنعۃ اﷲ تعالٰی ۲؎۔
یعنی ہمارے مشائخ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہ کا سماع اس مزامیر کے بہتان سے پاک ہے وہ تو صرف قوال کی آواز ہے ان اشعار کے ساتھ جو کمال صنعت الٰہی کی خبر دیتے ہیں۔
 (۲؎ کشف القناع عن اصول السماع)
مسلمانوں! یہ سچے یا وہ جو اپنی ہوائے نفس کی حمایت کو ان بندگان خدا پر مزامیر کی تہمت دھرتے ہیں اللہ تعالٰی ہمارے بھائی مسلمانوں کو توفیق وہدایت بخشے آمین!
قول ۵۸:حضرت میر سید عبدالواحد بلگرامی قدس سرہ السامی کہ اجلہ اولیائے خاندان عالیشان چشت سے ہیں اور صرف ایک واسطہ سے حضرت مخدوم شاہ صفی قدس سرہ الوفی کے مریدہیں جو صرف ایک واسطہ سے حضرت مخدوم شاہ مینا رضی اللہ تعالٰی عنہ کے مرید ہیں: حضرت شاہ کلیم اللہ چشتی جہاں آبادی قد س سرہ فرماتے ہیں:
شبے درمدینہ منورہ پہلو بربسترخواب گزاشتم درواقعہ دیدم کہ من وسید صبغۃ اللہ بروجی معا درمجلس اقدس حضرت رسالت پناہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم باریاب شدیم جمعے از صحبہ کرام واولیائے عظام حاضراند درینہا شخصے ست کہ آنحضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم باولب بہ تبسم شیریں کردہ حرفہائے زنند والتفات تمام باومیدارند چوں مجلس آخر شدازسید صبغۃ اللہ استفسار کردم کہ ایں شخص کیست کہ حضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم با اوالتفات بایں مرتبہ دارند گفت میر عبدالواحد بلگرامی ست وباعث مزید احترام او ایں ست کہ سبع سنابل تصنیف او درجناب رسالتمآب صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم مقبول افتاد ۱؎۔
میں مدینہ منور ہ میں ایک شب بستر خواب پر لیٹا تھا کہ میں نے عالم واقعہ میں دیکھا کہ میں اور سید صبغۃ اللہ بروجی دونوں حضرت رسالت پناہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہیں اور صحابہ کرام اور اولیائے عظام کی ایک جماعت بھی موجود ہے انھیں میں ایک صاحب ایسے ہیں جن سے حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم لب شیریں سے تبسم آمیز گفتگو فرمارہے اور ان کی جانب توجہ خاص رکھتے ہیں، جب یہ مجلس برخاست ہوئی تو میں نے سید صبغۃ اللہ صاحب سے دریافت کیا کہ یہ کوں صاحب تھے جن کی جانب حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو اس درجہ التفات ہے۔ انھوں نے فرمایا یہ میر عبدالواحد  بلگرامی ہیں، اور اس عزت وکرامت کا باعث یہ ہے کہ ان کی تصنیف کردہ کتاب سبع سنابل شریف بارگاہ نبوی میں سے شرف قبول پاچکی ہے۔ (ت)
 (۱؎. اصح التواریخ   ۱/ ۱۶۸)
یہی حضرت میر قدس سرہ المنیر اسی کتاب مقبول بارگاہ اقدس سبع سنابل شریف میں فرماتے ہیں:
اے صاحب تحقیق علمائے راہ دین کہ ورثہ انبیاء اندسہ طائفہ ہستند اصحاب حدیث وفقہاء وصوفیہ ۲؎۔
اے حق کے طلب کرنے والے وہ علماء جو دین کے راستوں پر چلتے ہیں کہ ورثہ انبیاء ہیں ان کے تین گروہ ہیں اول محدثین، دوم فقہاء اور سوم صوفیاء (ت)
(۲؎ سبع سنابل     سنبلہ اول     مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور    ص۴)
دیکھو کیسی صریح تصریح ہے کہ علمائے ظاہر وباطن سب وارثان انبیاء کرام ہیں علیہم الصلوٰۃ والسلام والثناء۔
قول ۵۹: یہی حضرت میر رضی اللہ تعالٰی عنہ اسی سبع سنابل شریف میں فرماتے ہیں:
شریعت محمدی ودین احمدی راہے ست سلیم و جادہ ایست مستقیم خاتم النبین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم باچندیں ہزار افواج امت ازا ولیاء و اصفیاء وشہداء وصدیقان بران جادہ رفتہ و آنرا از خار وخاشاک شکوک وشہبات پاک رفتہ اعلام ومنازل آں معین ومبین کردہ از ہر قدمے نشانے باز دادہ درہر منزلے نزلے نہادہ ورفع قطاع الطریق را بدرقہ ہمت بہمراہی فرستادہ اگر مہو سے مبتدعے بطریق دیگر دعوت کند باید کہ قول اومسموع ندارند واہل بدعت وضلالت طائفہ باشند کہ خود را درلباس اسلام بہ تلبیس پیدا آرند وعقائد فاسدہ خویش درباطن پوشیدہ دارند ایں جماعت اند اعدائے دین واخوان شیاطین وچوں بنور علم علمائے دین و مشائخ اسلام ظلمات بدعت ایشاں مکشوف میگردد ناچارعلمائے شریعت رادشمن پندارند علمائے ربانی کہ نجوم سپہراسلام اند مردم را از شرایں شیاطین الانس محفوظ میدارند وانفاس نورانی  ایشاں بمشابہ شہب ثواقب پیوستہ ایں مسترقاں (یعنی دزداں) شریعت ازہر جانبے میرا نند وبرجم وقذف پر اگندہ میگردانند ۱؎۔
شریعت محمدی ودین احمدی وہ راہ سلیم وجادہ مستقیم ہے جس پر خاتم الانبیاء علیہ افضل الصلوٰۃ والتحیۃ اپنی امت کے ہزارہا اولیاء واصفیاء اور صدیقین وشہداء کے جلو میں گامزن رہے اور اسے ہر قسم کے خس وخاشاک اور شکوک وشبہات سے پاک فرمایا، اس کے مقامات ومنازل متعین و روشن فرمادئے، قدم قدم پر نشانات ہیں اور منزل منزل بنیات اور رہزنوں سے حفاظت کے لیے جگہ جگہ رہنمائی کرنیوالے مقرر ہیں اور اولیائے کرام و صوفیائے عظام کے مسلک قدیم کے برخلاف کوئی اور راہ دکھاتاہے کسی اور طریقے کی طرف بلاتاہے تو اس کی بات پر کان نہیں دھر نا چاہئے بلکہ حمایت و نصرت حق کی نیت سے اس کی تردید وتغلیط کو منجملہ فرائض دینیہ سمجھنا چاہئے اہل بدعت وضلالت وہی توہیں جواز راہ فریب دہی لباس اسلام پہن کر (عوام اہل اسلام میں) آتے اور اپنے عقائد فاسدہ کو پوشیدہ رکھتے ہیں یہی لوگ اعدائے دین واخوان شیاطین ہیں اور چونکہ علمائے دین ومشائخ اسلام کے علم کے نور سے انکی گمراہی کی تاریکیاں چھٹ جاتی ہیں لامحالہ یہ لوگ علمائے شریعت کو دشمن سمجھنے لگے ہیں، علمائے ربانی کہ آسمان اسلام کے روشن ستارے ہیں عوام کو ان شیاطین الانس کے شر سے محفوظ رکھتے ہیں اوراپنے نورانی انفاس سے شہاب ثاقب کی مانند ہمیشہ ان دین کے لٹیروں اور چوروں کو ہر ہر طرف سے ہنکاتے اور ان پر لعنت ورد کے پتھر مار مار کر دُر دُراتے رہتے ہیں۔ (ت)
 (۱؎ سبع سنابل     سنبلہ اول     مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور    ص۸ تا ۹)
اس جاہل نے کہ علمائے شریعت کو معاذاللہ شیاطین کہا تھا الحمدللہ کہ اولیائے کرام کی زبان درفشاں سے اللہ عزوجل نے ثابت کردیا کہ یہ جاہل اور اس کے ہم مشرب ہی شیاطین ودشمنان دین ہیں اور ہزار در ہزار حمد اس کے وجہ کریم کو یہ کلمات عالیات  بارگارہ رسالت میں معروض ہوکر مسجل بمہر قبول ہولئے وللہ الحمد ۔
Flag Counter