Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۱(کتاب الحظر والاباحۃ )
115 - 144
قول ۵۶: حضرت سیدی شیخ الاسلام احمد نامقی جامی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے حضرت سیدی خواجہ مودود چشتی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے فرمایا:
اول مصلی رابر طاق نہ و برو علم آموز کہ زاہد بے علم مسخرہ شیطان است۱؎۔
پہلے عبادت کا مصلی طاق پر رکھ اور جا کر علم حاصل کرکیونکہ جاہل شیطان کا مسخرہ ہوتاہے۔ (ت)
 (۱؎ نفحات الانس     ذکر خواجہ قطب الدین مودود چشتی     انتشارات کتابفروشی تہران ایران    ص۳۲۹)
یہ حکایت شریف بہت نفیس ولطیف ہے۔ اس کا خلاصہ عرض کریں کہ اس کلام کریم کا منشاء معلوم ہو اور حضرت خواجہ مودود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے کہ سرور وسردار سلسلہ عالیہ چشتیہ بہشتیہ ہیں دفع وہم ہو اور آج کل کے بہت مدعیان ناکار کے لئے کہ مسند ولایت کو ترکہ پدری جانتے ہیں۔ باعث ہدایت وعبرت وفہم ہو، حضرت ممدوح سلالہ خاندان اولیائے کرام ہین ان کے آباء کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم اجلہ اکابر محبوبان خدا سرداران شریعت وطریقت واصحاب علم وکرامت تھے اور ان کے بعد حضرت خواجہ مودود چشتی نے مسند آبائی پر جلوس فرمایا۔ ہزاروں آدمی مرید ہوگئے مگر صاحبزادہ والاقدر ابھی عالم نہ ہوئے تھے نہ راہ طریقت کسی مرشد کامل کی تعلیم سے چلے تھے عنایت ازلی ہی ان کے حال شریف پر متوجہ تھی حضرت شیخ الاسلام قطب الکرام سیدی احمد نامقی جامی رضی اللہ تعالٰی عنہ کو ان کی تعلیم وتفہیم کے لئے ہرات بھیجا، یہاں خواص وعام اس جناب کی کرامات عالیہ دیکھ کر مرید ومعتقد ہوئے اور تمام اطراف میں ان کا شہرہ ہوا، صاحبزادہ خواجگان رضی اللہ تعالٰی عنہم کو ناگوار ہوا، قصد فرمایا کہ حضرت والا کو اس ملک سے باہر کریں لشکر مریدان لے کر جنبش فرمائی، اصحاب حضرت شیخ الاسلام کو اس کی اطلاع ہوئی انھوں نے براہ ادب اسے شیخ الاسلام سے چھپایا مگر حضرت خود ہی خوب جانتے تھے ایک دن جب صبح کا ناشتہ حاضر کیا گیا تو ارشاد فرمایا : ایک ساعت صبر کرو کہ کچھ قاصد آتے ہیں، تھوڑی دیر بعد قاصدان صاحبزادہ حاضر ہوئے، حضرت والا نے انھیں کھانا کھلایا پھر فرمایا: تم کہو گے یامیں بتاؤں کہ کس لئے آئے ہو عرض کی: حضرت فرمائیں۔ فرمایا: خواجہ مودود نے تمھیں بھیجا ہے کہ احمد سے کہو وہ ہماری ولایت میں کیوں  آیاسیدھی طرح واپس جاتا ہے تو جائے ورنہ جس طرح چاہے نکالا جائے گا ، قاصدوں نے تصدیق کی کہ ہاں حضرت خواجہ نے یہی پیام دے کر ہمیں بھیجا ہے حضرت والا نے فرمایا: کہ ولایت سے یہ دیہات مراد ہیں تو یہ اوروں کی ملک ہیں نہ کہ خواجہ مودو دکی، اورا گر ولایت سے یہ لوگ مراد ہیں تو یہ بادشاہ سنجر کی رعیت ہیں تو یوں بادشاہ شیخ الشیوخ ٹھہرے گا، اور اگر ولایت سے وہ مراد ہے جو میں جانتاہوں اور جسے اولیاء اللہ جانتے ہیں تو کل ہم انھیں دکھادیں گے کہ ولایت کا کام کیا اور کیسا ہوتا ہے قاصدوں کو یہ جواب عطا فرمایا اور ادھر ابرعظیم آیا، اور ایک رات دن ابر برسادم بھر کو نہ دم لیا۔ دوسرے دن صبح کو حضرت والا نے فرمایا: گھوڑے کسو کہ خواجہ مودود کی طرف چلیں، اصحاب نے عرض کی، ندی چڑھ گئی اب جب تک چند روز بارش موقوف نہ ہو کوئی ملاح کشتی بھی نہیں لے جاسکتا۔ فرمایا : کچھ مشکل نہیں آج ہم ملاحی کریں گے جب سوار ہو کر جنگل میں پہنچے ملاحظہ فرمایا کہ ایک انبوہ مسلح حضرت کے ہمراہ ہے۔ فرمایا: یہ کون لوگ ہیں ۔ عرض کی : حضور کے مرید ومحب ہیں، یہ سن کر کہ ایک جماعت حضور کے مقابلے کو آئی ہے یہ حضور کے ہمراہ ہولئے، فرمایا: انھیں واپس کرو تیر وتلوار تو سنجر کا کام ہے اولیاء کے ہتھیار اور ہی ہیں، غرض چند خدام کے ساتھ ندی کنارے پہنچے پانی طغیانی پر تھا، فرمایا: آج یہ ٹھہری ہے کہ ہم ملاحی کریں گے، معرفت الٰہی میں کلام فرمانا شروع کیا تمام حاضرین ذوق سے بیخود ہوگئے، فرمایا: آنکھیں بند کرلو اور
بسم اللہ الرحمن الرحیم
کہہ کر چلو، لوگوں نے ایسا ہی کیا، جس نے آنکھ جلدی کھول دی اس کا جوتا تر ہوا اور جس نے ذرادیر کر کھولی اس کا جوتا بھی خشک رہا، اور سب نے اپنے آپ کو دریا کے اس پار پایا، قاصدوں نے جو یہ ماجرا دیکھا جلدی کرکے حضرت صاحبزادہ خواجگان کے حضور حاضر ہوئے اور حال عرض کیا، کسی کو یقین نہ آیا، صاحبزادہ دوہزار مریدمسلح کے ساتھ متوجہ ہوئے اور جیسے حضر ت شیخ الاسلام سے نظر دو چارہوئی صاحبزادہ بے اختیار پیادہ ہوئے اور حضرت والا کے پائے مبارک پر بوسہ دیا حضرت ان کی پیٹھ ٹھونکتے اور فرماتے تھے، ولایت کا کام دیکھا تم نہیں جانتے مردان خدا کی فوج سلاح سے نہیں جاؤ سوار ہو  ابھی بچے ہو تمھیں نہیں معلوم کہ کیا کرتے ہو۔ جب بستی آئے حضرت شیخ الاسلام مع اپنے اصحاب کے ایک محلہ میں اترے اورحضرت صاحبزادہ مع مریدان دوسرے محلہ میں ، دوسرے دن ان مریدین صاحبزادہ نے کہا ہم آئے تھے شیخ احمد کو اس ملک سے نکالنے اور آج وہ ہمارے ساتھ ایک ہی گاؤں میں مقیم ہیں کوئی فکر عمدہ کرنی چاہئے، حضرت خواجہ موود نے فرمایا: میری رائے میں صواب یہ ہے کہ صبح ان کی خدمت میں حاضر ہو کر ان سے اجازت لیں ان کا کام ہمارے بس کا نہیں۔ مریدوں نے کہا: بلکہ رائے صواب یہ ہے کہ کوئی کام پر جاسوس مقرر کریں جب ان کے قیلولہ یعنی دوپہر کو آرام کا وقت آئے اور لوگ ان کے پاس سے چلے جائیں وہ تنہا رہیں اس وقت ہماری ایک جماعت آپ کے ساتھ ان کے پاس جائے اور سماع شروع کریں، اورحال لائیں اسی حالت میں کوئی حربہ ان پر ماردیں، حضرت خواجہ نے فرمایا: ٹھیک نہیں، وہ ولی ہیں صاحب کرامات ہیں مگر مریدوں نے نہ مانا، جب دوپہر کو حضرت شیخ الاسلام کے آرام کا وقت آیا خادم نے چاہا کہ بچھونا بچھائے، فرمایا: ایک ساعت توقف کرو کچھ آرام ہوگا ایک کام درپیش ہے، ناگاہ کسی نے دروازہ کھٹکٹھایا، خادم نے دروازہ کھولا دیکھا کہ حضرت خواجہ مودود ایک انبوہ کے ساتھ تشریف لا ئے، سلام کر کے سماع شرو ع ہوا، ساتھ والے نعرے لگانے لگے، انھوں نے چاہا تھا کہ اپنا ارادہ فاسدہ پور اکریں، کہ حضرت شیخ الاسلام نے سرمبارک اٹھا کر فرمایا ہے سہلا کجائی ہے (اے سہلا! تو کہاں ہے) سہلا نام ایک صاحب شہر سرخس کے ساکن ، صاحب کرامات وعاقل، مجنون نما تھے، ہمیشہ حضرت شیخ الاسلام کی خدمت میں رہتے، حضرت کے آواز دیتے ہی وہ فورا حاضر ہوئے اورایک نعرہ ان مفسدوں پر لگایا، وہ سب کے سب معا جوتیاں پگڑیاں چھوڑ کر بھاگ گئے صرف صاحبزادہ خواجگان باقی رہے۔ نہایت ندامت کے ساتھ کھڑے ہوئے اور سر برہنہ کرکے معافی مانگی اور عرض کی: حضرت کو روشن ہے کہ اس دفعہ یہ میری مرضی نہ تھی فرمایا: تم سچ کہتے ہو مگر تم ان کے ساتھ کیوں آئے، عرض کی: میں نے برا کیا حضرت معاف فرمائیں، فرمایا: میں نے معاف کیا جاؤ اور ان لوگوں کو واپس لاؤ اور دو خدمت گار مقرر کرواور تین دن ٹھہراؤ، حضرت خواجہ مودود نے ایسا ہی کیا، بعد ازاں حضرت شیخ الاسلام کے پاس آکر گزارش کی: جوحکم ہو اتھا بجا لایا اب کیا فرمان ہے۔ فرمایا: سجادہ طاق پر رکھواور اول جاکر علم پڑھو کہ زاہد بے علم مسخرہ شیطان ہے خواجہ نے فرمایا: میں نے قبول کیا اور کیا ارشاد ہے۔ فرمایا: جب تحصیل علم سے فارغ ہو اپنا خاندان زندہ کرو ، تمھارے باپ دادا اولیاء وصاحب کرامت تھے، خواجہ مودود نے عرض کی ، خاندان زندہ کرنے کو ارشاد ہوتا ہے تو پہلے تبرکا حضرت والا مجھے مسند پر بٹھادیں، فرمایا: آگے آؤ۔ یہ آگے گئے، حضرت نے ہاتھ پکڑ کر اپنی مسند مبارک کے کنارے پربٹھایا اور فرمایا: بشرط علم بشرط علم بشرط علم تین بار فرمایا: حضرت خواجہ تین روز اور حاضر خدمت رہے فائدے لئے ، نوازشیں پائیں، پھر تحصیل علم کے لئے بلخ بخارا تشریف لے گئے ، چار سال میں ماہر کامل ہوئے، ہر شہر میں حضرت سے کرامات ظاہر ہوئیں، پھر چشت کو مراجعت فرمائی، تربیت مریدان میں مشغول ہوئے، اطراف سے طالبان خدا حاضر خدمت ہوئے اور حضرت کی برکت انفاس سے دولت معرفت ورتبہ ولایت کو پہنچے، حضرت خواجہ شریف زندنی رضی اللہ تعالٰی عنہ کہ نہایت عالی درجہ ولی وعارف وواصل ہیں، اسی جناب کے مریدوتربیت یافتہ ہیں
رضی اللہ تعالٰی عنہ وعنہم اجمعین ۱؎۔
 (۱؎ نفحات الانس     ذکر خواجہ قطب الدین مودود چشتی     ازانتشارات کتابفروشی محمودی تہران ایران     ص۳۲۶ تا ۳۲۹)
قول ۵۷: حضرت مولانا نورالدین جامی قدس سرہ السامی فرماتے ہیں:
اگر صد ہزار خارق عادات برایشاں ظاہر شودچوں نہ ظاہر ایشاں موافق احکام شریعت ست و نہ باطن ایشاں موافق آداب  طریقت باشد و آں از قبیل مکرواستدراج خواہد بود نہ از مقولہ ولایت وکرامت ۱؎۔
اگر لاکھ خارق عادات ظاہر ہوں جب تک ظاہر وباطن شریعت وآداب طریقت کے موافق نہ ہو تو وہ مکر اور استد راج ہوگا ولایت وکرامت کا مصداق نہ ہوگا۔ (ت) بعینہٖ اسی طرح لطائف اشرفی۲؎ ص۱۲۹ میں ہے۔
 (۱؎ نفحات الانس         القول فی اثبات الکرامۃ للاولیاء     ازانتشارات کتابفروشی محمودی تہران ایران    ص۲۶)

(۲؎ لطائف اشرفی     لطیفہ پنجم             مکتبہ سمنانی کراچی            ۱۰/ ۱۲۹)
پھر دونوں کتابوں میں حضرت شیخ الشیوخ شہاب الحق والدین سہروردی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی وہ عبارت کریمہ منقول قول ۳۲ ذکر فرمائی، فائدہ نفیسہ اسی نفحات الانس شریعت میں حضرت شیخ الاسلام عبداللہ ہروی انصاری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے منقول کہ حضرت شیخ احمد چشتی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی تعریف کرکے فرماتے ہیں:
چشتیاں ہمہ چناں بودند از خلق بیباک ودر باطن پاک ودر معرفت وفراست چالاک ہمہ احوال ایشاں باخلاص وترک ریا بود ہیچ گونہ در شرع سستی روا ند اشتندے۔ ۳.
تمام چشتی حضرات ایسے ہی تھے کہ مخلوق سے بے خوف، باطن میں پاک اور معرفت وفراست میں باکمال ان کے تمام احوال اخلاص اور بے ریائی پر مبنی تھے اور کسی طرح بھی شریعت میں سستی برداشت نہ کرتے۔ (ت)
 (۳؎ نفحات الانس     ذکر شیخ احمد چشتی     ازانتشارات کتاب فروشی محمودی تہران ایران        ص۳۴۰)
اور نسخہ قدیمہ نفحات شریف میں کہ تین سو برس کا لکھا ہوا ہے یوں ہے:
ہیچگونہ سستی روا ند اشتندے در شرع تابتہاون چہ رسد ۴؎۔
کسی طرح بھی شرع میں سستی روا نہ رکھتے تو کوتاہی کہاں ہوتی۔ (ت)
 (۴؎نفحات الانس     ذکر شیخ احمد چشتی     ازانتشارات کتاب فروشی محمودی تہران ایران     ص۳۴۰)
ہمارے چشتی بھائی حضرات چشت رضی اللہ تعالٰی عنہم کا حال کریم مشاہدہ کریں کہ اصلا شرع میں سستی وکاہلی بھی جائز نہ رکھتے نہ کہ معاذاللہ احکام شرعیہ کو ہلکا جاننا چشتی ہونے کو بندگی شرع سے پروانہ آزادی ماننا
والعیاذباﷲ رب العالمین ۔
سردار سلسلہ علیہ بہشتیہ حضرت سلطان الاولیا ء شیخ المشائخ محبوب الہی نظام الحق والدین محمد رضی اللہ تعالی عنہ کے ارشادات عالیہ سنئے فرماتے:
 (۱) چندیں چیز می باید تاسماع مباح شود مستمع و مسمع آلہ سماع، مسمع یعنی گویندہ، مرد تمام باشد کودک نباشد وعورت نباشد ومستمع آنکہ می شنود ازیاد حق خالی نبا شد ومسموع انچہ بگویند فحش و مسخرگی نباشد وآلہ سماع مزامیر است چوں چنگ درباب ومثل آں می باید درمیان نباشدایں چنیں سماع حلال است ۱؎۔
چندچیزیں پائی جائیں تو سماع حلال ہوگا، سنانے والے تمام مرد بالغ ہوں بچے اور عورت نہ ہوں سننے والے اللہ تعالٰی کی یاد سے خالی نہ ہوں کلام فحش ومذاق سے خالی ہو اور آلات سماع سرنگی اور طبلہ وغیرہ نہ ہو تو ایسا سماع حلال ہوگا (ت)
 (۱؎ سیرالاولیاء         باب نہم    مرکز تحقیقات فارسی ایران وپاکستان اسلام آباد    ص۰۲۔ ۵۰۱)
Flag Counter