Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۱(کتاب الحظر والاباحۃ )
114 - 144
قول ۴۸: پھرفرمایا:
علم التصوف تفرع من عین الشریعۃ ۳؎ ۔
علم تصوف چشمہ شریعت سے نکلی ہوئی جھیل ہے۔
(۳؎الطبقات الکبرٰی للشعرانی     مقدمۃ الکتاب    مصطفی البابی مصر  ۱/ ۴)
قول ۴۹ : پھر فرمایا:
من دقق النظر علم انہ لایخرج شیئ من علوم اھل اﷲ تعالٰی عن الشریعۃ وکیف تخرج علومھم عن الشریعۃ و الشریعۃ ھی وصلتھم الی اﷲ عزوجل فی کل لحظۃ ۴؎۔
جو نظر غور کرے جان لے گا کہ علوم اولیاء سے کوئی چیز شریعت سے باہر نہیں اور کیونکر ان کے علم شریعت سے باہر ہوں حالانکہ ہر ہر لحظہ شریعت ہی ان کے وصول بخدا کا ذریعہ ہے۔
(۴؎الطبقات الکبرٰی للشعرانی     مقدمۃ الکتاب    مصطفی البابی مصر    ۱/ ۴)
قول ۵۰: پھر فرمایا:
قد اجمع القوم علی اٰنہ لایصلح للتصدر فی طرق اﷲ عزوجل الامن تبحر فی علم الشریعۃ وعلم منطوقھا ومفہومہا وخاصھا وعامھا وناسخھا ومنسوخھا وتبحر فی لغۃ العرب حتی عرف مجاز اتھاواستعاراتھا وغیر ذٰلک فکل صوفی فقیہ ولاعکس ۱؎۔
تمام اولیائے کرام کا اجماع ہے کہ طریقت میں صدر بننے کا لائق نہیں مگر وہ جو علم شریعت کا دریا ہو ا س کے منطوق مفہوم خاص عام ناسخ منسوخ سے آگاہ ہو زبان عرب کا کمال ماہر ہو یہاں تک کہ اس کے مجاز اور استعارے وغیرہ جانتاہو تو ہر صوفی فقیہ ہوتاہے اور ہر فقیہ صوفی نہیں۔
 (۱؎ الطبقات الکبرٰی للشعرانی         مقدمۃ الکتاب     مصطفی البابی مصر    ۱/ ۴)
قول ۵۱: نیز عارف معروف قدس سرہ فرماتے ہیں:
الکشف الصحیح لا یاتی دائما الا موافقا للشریعۃ کماھو مقرر بین العلماء؂۲
سچا کشف ہمیشہ شریعت کے مطابق ہی آتا ہے جیسا کہ اس فن کے علماء میں مقرر ہوچکا ہے ۔
 (۲؎ المیزان الکبرٰی     فصل فان قال قائل ان احدالا یحتاج الٰی ذوق   مصطفی البابی مصر      ۱/ ۱۲)
قول ۵۲: حضرت عارف باللہ سیدی عبدالغنی نابلسی قدس سرہ القدسی فرماتےہیں :
ماید عیہ بعض المتصوفۃ فی زماننا انکم معشر اھل العلم الظاھر تاخذون احکامکم من الکتاب والسنۃ واناناخذ من صاحبہ ہذا کفر لامحالۃ بالاجماع من وجوہ الاول التصریح بعدم  الدخول تحت احکام الکتاب والسنۃ مع وجود شروط التکلیف من العقل والبلوغ ۳؎۔
وہ جو ہمارے زمانے کے بعض صوفی بننے والے ادعا کرتے ہیں کہ اے علم ظاہر والو ! تم اپنے احکام کتا ب وسنت سے لیتے ہو اور ہم خود صاحب قرآن سے لیتے ہیں یہ بالاجماع قطعا بوجوہ کثیرہ کفر ہے ازانجملہ یہ عقل وبلوغ شرائط تکلیف ہوتے ہوئے کہہ دیا کہ ہم زیراحکام شریعت نہیں۔
 (۳؎ الحدیقۃ الندیۃ شرح الطریقۃ المحمدیۃ الباب الاول الفصل الثانی مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد    ۱/ ۵۸ تا ۱۵۵)
یہیں فرمایا:
ان اراد بترک العلم الظاہر عدم تعلم ذلک وعدم الاعتناء بہ لان العلم الظاہر لاحاجۃ الیہ فقد سفہ الخطاب الا لھی وسفہ الانبیاء ونسب العبث والبطلان الی ارسال الرسل وانزال الکتب فلا شک فی کفرہ اشد الکفر ۴؎ (ملتقطا)
اگر علم ظاہر چھوڑ نے سے اس کا نہ سیکھنا اور اس کا اہتمام نہ کرنا مرادلے اس خیال سے کہ علم ظاہر کی طرف حاجت نہیں تو اس نے کلام الٰہی کو احمق بتایا اور انبیاء کو بیوقوف ٹھہرایا، رسولوں کے بھیجنے کتابوں کے اتارنے کو عبث وباطل کی طرف نسبت کیا تو کچھ شک نہیں کہ وہ کافر ہے اور اس کا کفر سب سے سخت تر کفر۔
 (۴؎الحدیقۃ الندیۃ شرح الطریقۃ المحمدیۃ الباب الاول الفصل الثانی مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۱/ ۱۵۹)
قول ۵۳: نیز عارف ممدوح قدس سرہ تعظیم شریعت مطہرہ کے بارے میں حضرات عالیہ سید الطائفہ وسری سقطی وابویزید بسطامی وابوسلیمان دارانی وذوالنون مصری وبشر حافی وابوسعید خراز وغیرہم رضی اللہ تعالٰی عنہ کے اقوال کریمہ ذکر کرکے فرماتے ہیں:
انظر ایھا العاقل الطالب للحق ان ھؤلاء عظماء مشائخ الطریقۃ وکبراء ارباب الحقیقۃ کلھم یعظمون الشریعۃ المحمدیۃ و کیف وہم ماوصلو الابذٰلک التعظیم و السلوک علی ہذا المسلک المستقیم ولم ینقل عن احد منہم ولا عن غیرھم من السادۃ الصوفیۃ الکاملین انہ احتقر شیئا من احکام الشریعۃ المطھرۃ ولا امتنع من قبولہ بل کلھم مسلمون لہ ویبنون علومھم الباطنۃ علی السیرۃ الاحمدیۃ فلا یغرنک طامات الجھال المتنسکین الفاسدین المفسدین الضالین المفضلین الزائغین عن الشرع القویم الی صراط الجحیم خارجین عن مناھج علماء الشریعۃ المحمدیۃ مارقین من مسالک مشائخ الطریقۃ لاعراضھم عن التادب بآداب الشریعۃ وترکھم الدخول فی حصونہا المنیعۃ فہم کافرون بانکارہا مدعون الاستنارۃ بانوارھا ومشائخ الطریقۃ قائمون بالاداب الشریعۃ معتقدون تعظیم احکام اﷲ تعالٰی ولہذا اتحفھم اﷲ تعالٰی بالکمالات القدسیۃ وہولاء المغرورون بالفشار اللابسون حلۃ العار الذین ہم مسلمون فی الظاہر واذا حققتھم فھم کفار لم یزالوا معتکفین علی اصنام الاوھام مفتونین بمایلقی لھم الشیطان من الوساوس فی الافہام فالویل لھم ولمن تبعھم او حسن امرھم فھم قطاع طریق اﷲ تعالٰی۱؎ اھ ملتقطا۔
یعنی اے عاقل! اے حق کے طالب ! دیکھ کہ یہ عظمائے مشائخ طریقت یہ کبرائے ارباب حقیقت سب کے سب شریعت مطہرہ کی تعظیم کررہے اورکیوں نہ کریں کہ وہ واصل نہ ہوئے مگر اسی تعظیم اقدس سیدھی راہ شریعت پر چلنے کے سبب یا ان سے یا ان کے سواا ور سرداران اولیائے کاملین کسی ایک سے بھی منقول نہیں کہ اس نے شریعت مطہرہ کے کسی حکم کی تحقیر کی یا اس کے قبول سے باز رہا ہو بلکہ وہ سب اس کے حضور گردن رکھے ہوئے ہیں اور اپنے باطنی علوم کی سیرت محمدی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر بنا کرتے ہیں تو تجھے زنہار دھوکا میں نہ ڈالیں حد سے گزری ہوئی باتیں ان جاہلوں کی کہ سالک بنتے ہیں خودبگڑے اوروں کو بگاڑتے ہیں آپ گمراہ اوروں کو گمراہ کرتے ہیں شرع مستقیم سے کج ہوکر جہنم کی راہ چلتے ہیں علمائے شریعت کی راہ سے باہر مشائخ طریقت کے مسلک سے خارج اس لئے کہ آداب شریعت اختیار کرنے سے روگردانی کئے اور اس کے مستحکم قلعوں میں پناہ لینے کو چھوڑے بیٹھے ہیں تو وہ انکار شریعت کے سبب کافر ہیں او ر دعوے یہ کہ اس کے انوار سے روشن ہیں مشائخ طریقت تو آداب شریعت پرقائم ہیں احکام الٰہی کی تعظیم کے معتقد ہیں اسی لئے اللہ تعالٰی نے انھیں کمالات اقدس کا تحفہ دیا اور یہ اپنی خرافات پر مغروریہ عار لباس پہنے ہوئے کہ ظاہر میں مسلمان اور حقیقت میں کافر ہیں یہ ہمیشہ اپنے اوہام کے بتوں کے آگے آسن مارے بیٹھے ہیں۔ شیطان جو وسوسے ان کے افکار میں ڈالتا ہے انھیں پر مفتون ہوئے ہیں تو خرابی پوری خرابی ان کے لئے اور اس کے لئے اور ان کے لئے جو ان کا پیرو ہویا ان کے کام کو اچھا جانے اس لئے کہ  وہ راہ خدا کے راہزن ہیں اھ ملتقطا
 (۱؎ الحدیقۃ الندیۃ شرح الطریقہ المحمدیہ     الباب الاول     الفصل الثانی         مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد    ۱/ ۱۸۷ تا ۱۸۹)
قول ۵۴ : حضرت قطب ربانی محبوب یزدانی مخدوم اشرف جہانگیر چشتی سمنانی رضی اللہ تعالٰی عنہ سردار سلسلہ چشتیہ اشرفیہ فرماتے ہیں:
خارق عادت اگر ازولی موصوف باوصاف ولایت ظاہربود کرامت گویند واگر از مخالف شریعت  صادر شود استدراج حفظنا اﷲ وایاکم ۲؎۔
اگر اوصاف ولایت والے ولی سے خارق عادت ظاہر ہو تو وہ کرامت ہے اور اگر مخالف شریعت سے صادر ہو تو استدارج ہے۔ اللہ تعالٰی ہمیں اور آپ کو محفوظ فرمائے۔ (ت)
 (۲؎ لطائف اشرفی   لطیفہ پنجم    مکتبہ سمنانی کراچی    ۱/ ۱۲۶)
قول ۵۵: حضرت سیدی ابوالمکارم رکن الدین خلیفہ حضرت سیدی نور الدین عبدالرحمن اسفرائنی خلیفہ وقت حضرت سیدی جمال الدین احمد جوزقانی خلیفہ سیدی رضی الدین لالا خلیفہ حضرت سیدی نجم الدین کبرٰی سردار سلسلہ کبرویہ رضی اللہ تعالٰی عنہم اپنے شیخ ومرشد رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت فرماتے ہیں:
ولی تاشریعت رابکمال نگیرد قدم درولایت نتواں نہاد بلکہ اگر انکار کند کافر گردد ۳؎۔
ولی جب تک شرعیت کو مکمل طو ر پر نہ اپنائے ولایت میں قدم نہیں رکھ سکتا بلکہ اگر اس کا انکار کرے تو کافر ہے۔ (ت)
 (۳؎ نفحات الانس ذکر ابی المکارم رکن الدین احمد بن محمد         از انتشارات کتابفروشی تہران ایران     ص۴۴۳)
Flag Counter