قول ۳۹: نیز حضرت عین المکاشفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں:
اعلم ایدک اﷲ ان الکرامۃ من الحق من اسمہ البر فلا تکون الاللابرار وھی حسیۃ ومعنویۃ ، فالعامۃ ماتعرف الاالحسیۃ مثل الکلام علی الخاطر والاخبار المغیبات الماضیۃ والکائنۃ والاٰتیۃ والمشی علی الماء واختراق الھوا وطی الارض والاحتجاب عن الابصار ومعنویۃ لایعرفہا الاالخواص وہی ان تحفظ علیہ اٰداب الشریعۃ و یوفق لاتیان مکارم الاخلاق واجتباب سفسافہا والمحافظۃ علی اداء الواجبات مطلقا فی اوقاتھا فہذہ کرامات لا یدخل مکر ولا استدراج والکرامات التی ذکرنا ان العامۃ تعرفہا فکلھا یمکن ان یدخلھا المکر الخفی ثم لابدان تکون نتیجۃ عن استقامۃ اوتنتج استقامۃ والا فلیست بکرامۃ والمعنویۃ لایدخلہا شیئ مما ذکرنا فان العلم یصحبہا وقوۃ العلم وشرفہ تعطیک و ان المکر لایدخلھا فان الحدود الشرعیۃ لاتنصب حبالۃ للمکرالالھٰی فانہا عین الطریق الواضحۃ الی نیل السعادۃ لان العلم ہو المطلوب وبہ تقع المنفعۃ ولو لم یعمل بہ فانہ لایستوی الذین یعلمون والذین لایعلمون فالعلماء ہم الامنون من التلبیس ۱؎ اھ اختصار۔
یقین جان اللہ تیری مدد کرے کہ کرامت حق سبحانہ کے نام بر یعنی محسن کی بارگاہ سے آتی ہے تو اسے صرف ابرار نیکو کار ہی پاتے ہیں اور وہ دو قسم ہے، محسوس ظاہری ومعقول معنوی، عوام صرف کرامت محسوسہ کو جانتے ہیں جیسے کسی کو دل کی بات بتادینا گزشتہ وموجودہ وآئندہ غیبوں کی خبردینا، پانی پر چلنا، ہو اپر اڑنا۔ صدہا منزل زمین ایک قدم میں طے کرنا، آنکھوں سے چھپ جاناکہ سامنے موجود ہو اور کسی کو نظر نہ آئیں اور کرامات معنویہ کہ صرف خواص پہچانتے ہیں وہ یہ ہیں کہ اپنے نفس پر آداب شرعیہ کی حفاظت رکھے، عمدہ خصلتیں حاصل کرنے اور بری عادتوں سے بچنے کی توفیق دیا جائے تمام واجبات ٹھیک ادا کرنے پر التزام رکھے، ان کرامتوں میں مکر واستدراج کو دخل نہیں اور کرامتیں جنھیں عوام پہچانتے ہیں ان سب میں مکرنہاں کی مداخلت ہوسکتی ہے پھریہ بھی ضروری ہے کہ وہ ظاہری کرامتیں استقامت کا نتیجہ ہوں یا خود استقامت پیدا کریں ورنہ کرامت نہ ہوگی اور کرامت معنویہ میں مکر واستدراج کی مداخلت نہیں اس لئے کہ علم ان کے ساتھ ہے علم کا شرف خودہی تجھے بتائے گا کہ ان میں مکر کا دخل نہیں اس لئے کہ شریعت کی حدیں کسی کے لئے مکر کا پھندا قائم نہیں کرتیں اس وجہ سے کہ شریعت سعادت پانے کا عین صاف وروشن راستہ ہے علم ہی مقصود ہے اور اسی نے نفع پہنچانا ہے اگرچہ اس پر عمل نہ ہو کہ مطلقا ارشاد ہوا ہے کہ عالم و بے علم برابر نہیں تو علماء ہی مکرواشتباہ سے امان میں ہیں وبس۔
(۱؎ الفتوحات المکیۃ للشیخ ابن عربی الباب الرابع والثمانون ومائۃ داراحیا التراث العربی بیروت ۲/ ۳۶۹)
قول ۴۰: حضرت سیدی ابراہیم دسوقی رضی اللہ تعالٰی عنہ کہ اقطاب اربعہ سے ہیں یعنی ان چہار میں جو تمام اقطاب میں اعلی وممتاز گنے جاتے ہیں اول حضور پر نور سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ دوم سید احمد رفاعی، سوم حضرت سید احمد کبیر بدوی، چہارم حضرت سید ابراہیم دسوقی رضی اللہ تعالٰی عنہم
درخت وثمر کی نسبت بھی وہی بتا رہی ہے کہ درخت قائم ہے تو اصل موجود ہے مگر جو اصل کاٹ بیٹھا وہ نرا محروم ومردود ہے۔ پھر اس کی مثال کی بھی وہی حالت ہے جو ہم منبع وبحر میں بیان کرآئے ہیں، درخت کٹ جائے تو آئندہ پھل کی امید نہ رہی مگر جو پھل آچکے ہیں یہاں درخت کٹتے ہی آئے ہوئے پھل بھی فنا ہوجاتے ہیں اور فنا ہوتے ہی پھر بس نہیں بلکہ انسان کا دشمن ابلیس لعین غلیظ اورگوبر کے پھل جادو سے بنا کر اس کے منہ میں دیتا ہے اوریہ اپنی حالت سے انھیں ثمر حقیقت جان کر خوش خوش نگلتاہے جب آنکھ بند ہوگئی اس وقت کھلے گا کہ منہ میں کیا بھرا تھا والعیاذ باللہ تعالٰی ان درختوں میں قریب تر مثال پان اور اس کی بیل کی ہے خوشبو ، خوشرنگ، خوش ذائقہ، مفرح، مقوی دل ودماغ، مصفی خون مطیب نکہت وجہ سرخروئی باعث زینت، اور پھر عجیب خاصہ یہ کہ بیل سوکھے تو اس کے پان جہاں جہاں ہوں معا سوکھ جائیں گے یہ ایک ادنٰی مثال شریعت وحقیقت یا اس جاہل کے طورپر شریعت وطریقت کی ہے۔
قول ۴۱ : عارف باللہ حضرت سیدی علی خواص رضی اللہ تعالٰی عنہ پیر ومرشد امام عبدالوہاب شعرانی قدس سرہ الربانی فرماتے ہیں:
علم الکشف اخبار بالامور علی ماھی علیہ فی نفسہا و ہذا اذا حققتہ وجدتہ لایخالف الشریعۃ فی شیئ بل ہوالشریعۃ بعینھا ۲؎۔
یعنی علم کشف یہ ہے کہ اشیاء جس طرح واقع وحقیقت میں ہیں اسی طرح ان سے خبردے اسے اگر توتحقیق کرے تو اصلا کسی بات میں شریعت کے خلاف نہ پائے گا بلکہ وہ عین شریعت ہے۔
(۲؎ میزان الشریعۃ الکبرٰی فصل فی بیان استحالہ خروج شیئ لخ مصطفی البابی مصر ۱/ ۴۴)
قول ۴۲ : نیز ولی ممدوح رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں:
جمیع مصابیح علماء الظاھر والباطن قد اتقدت من نور الشریعۃ فما من قول من اقوال المجتہدین ومقلدیھم الاوہو مؤید باقوال اھل الحقیقۃلاشک عندنا فی ذٰلک ۱؎۔
علمائے ظاہر ہوں خواہ علمائے باطن سب کے چراغ شریعت ہی کے نور سے روشن ہیں، تو ائمہ مجتہدین اور ان کے مقلدین کسی کاکوئی قول ایسا نہیں کہ اہل حقیقت کے اقوال اس کی تائیدنہ کرتے ہوں، ہمارے نزدیک اس میں کوئی شک نہیں۔
(۱؎ المیزان الکبرٰی للشعرانی فصل فی بیان استحالہ خروج شیئ الخ مصطفی البابی مصر ۱/ ۴۵)
نیز فرماتے ہیں:
امداد قلبہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ سلم لجمیع قلوب علماء امتہ فما اتقد مصباح عالم الا عن مشکوٰۃ نور قلب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ۲؎۔
تمام علمائے امت کے دلوں کو رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے قلب اقدس سے مدد پہنچتی ہے تو ہر عالم کا چراغ حضور ہی کے نور باطن کے شمع دان سے روشن ہے۔
(۲؎المیزان الکبرٰی للشعرانی فصل فی بیان استحالہ خروج شیئ الخ مصطفی البابی مصر ۱/ ۴۵)
قول ۴۳: نیز یہی مفتوح ممدوح رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں:
علم الکشف الصحیح لایاتی قط الاموافقا للشریعۃ المطہرۃ ۳؎۔
سچا علم کشف کبھی نہیں آتا مگر شریعت مطرہ کے موافق۔
(۳؎المیزان الکبرٰی للشعرانی فصل فان قال قائل ان احدا لایحتاج الی ذوق الخ مصطفی البابی مصر ۱/ ۱۲)
قول ۴۴: حضرت سید افضل الدین اجل خلفائے سیدی علی خواص رضی اللہ تعالٰی عنہما فرماتے ہیں:
کل حقیقۃ شریعۃ وعکسہ ۴؎۔
حقیقت عین شریعت ہے اور شریعت عین حقیقت۔
(۴؎ المیزان الکبرٰی للشعرانی فصل فی بیان استحالۃ الخ مصطفی البابی مصر ۱/ ۴۵)
قول ۴۵: امام اجل عارف باللہ سیدی عبدالوہاب شعرانی قدس سرہ الربانی فرماتے ہیں :
ان اﷲ تعالٰی قد اقدرابلیس کما قال الغزالی وغیرہ علی ان یقیم للمکاشف صورۃ المحل الذی یاخذ علمہ منہ من سماء او عرش اوکرسی اوقلم او لوح فربما ظن المکاشف ان ذٰلک العلم عن اﷲ عزوجل فاخذ بہ فضل فاضل فمن ھنا اوجبوا علی المکاشف انہ یعرض مااخذہ من العلم من طریق کشفہ علی الکتاب و السنۃ قبل العمل بہ فان وافق فذاک والاحرام علیہ العمل بہ ۱؎۔
بیشک اللہ تعالٰی نے ابلیس کو قدرت دی ہے جیسے امام حجۃ الاسلام غزالی وغیرہ اکابر نے تصریح کی ہے کہ صاحب کشف آسمان ، عرش، کرسی، لوح، قلم جہاں سے اپنے علوم حاصل کرتا ہے اس مکان کی ساختہ تصویر اس کے سامنے قائم کردے (اور حقیقت میں وہ عرش کرسی لوح وقلم نہ ہوں شیطان کا دھوکا ہوں اب شیطان اس دھوکے کی ٹٹی سے اپنا علم شیطانی القاء کرے) اوریہ صاحب کشف اسے اللہ عزوجل کی طرف سے گمان کرکے عمل کربیٹھے خود بھی گمراہ ہوا اور وں کو بھی گمراہ کرے اس لئے ائمہ اولیائے کشف والے پر واجب کیا ہے کہ جو علم بذریعہ کشف حاصل ہوا اس پر عمل کرنے سے پہلے اسے کتاب وسنت پر عرض کرے اگر موافق ہو تو بہتر ورنہ اس پر عمل حرام ہے۔
(۱؎ المیزان الکبرٰی فصل فان قائل ان احدالایحتاج الخ مصطفی البابی مصر ۱/ ۱۲)
نابیناؤ! تم نے شریعت کی حاجت دیکھی شریعت کا دامن نہ تھا مو توشیطان کچے دھاگے کی لگام دے کر تمھیں گھمائے پھرے، جب تو حدیث نے فرمایا: ''عابد بے فقہ چکی کا گدھا''۲؎
(۲؎ حلیۃ الاولیا ء لابی نعیم ترجمہ ۳۱۸ خالد بن معدان دارالکتاب العربی بیروت ۵/ ۲۱۹)
قول ۴۶: نیز امام ممدوح قدس سرہ فرماتے ہیں:
لاتلحق نہایۃ الولایۃ بدایۃ النبوۃ ابدا ولو ان ولیا تقدم الی العین التی یاخذ منھا الانبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام لاحترق وغایۃ امرالاولیاء انھم یتعبدون بشریعۃ محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قبل الفتح علیہم وبعدہ ومتی ماخرجوا عن شریعۃ محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ھلکوا وانقطع عنہم الامداد فلایمکنھم ان یستقلوا بالاخذ عن اﷲ تعالٰی ابدا وقد تقدم ان جمیع الانبیاء والاولیاء مستمدون من محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ۱؎۔
کبھی ولایت کی نہایت نبوت کی ابتداء تک نہیں پہنچ سکتی اور اگر کوئی ولی اس چشمہ تک بڑھے جس سے انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام فیض لیتے ہیں۔ تو وہ ولی جل جائے، اولیاء کی نہایت کاریہ ہے کہ شریعت محمدی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر عبادت بجالاتے ہیں خواہ کشف حاصل ہواہویا نہیں اور جب کبھی شریعت محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے نکلیں گے ہلاک ہوجائیں گے اور ان کی مدد قطع ہوجائے گی تو انھیں کبھی ممکن نہیں کہ اللہ عزوجل سے خود بالا ستقلال لے سکیں اور ہم اوپر بیان کرآئے کہ تمام انبیاء واولیاء علیہم الصلوٰۃ والثناء محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے مددلیتے ہیں۔