Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۱(کتاب الحظر والاباحۃ )
112 - 144
قول ۳۱: حضرت سیدنا شیخ الشیوخ شہاب الحق والدین سہروردی رضی اللہ تعالٰی عنہ سردار سلسلہ علیہ سہروردیہ اپنی کتاب مستطاب میں فرماتے ہیں:
قوم من المفتونین لبسوا لبسۃ الصوفیۃ لینتسبوا بہا الی الصوفیۃ وما ھم من الصوفیۃ بشیئ بل ہم فی غرورغلط یزعمون ان ضمائر ہم خلصت الی اﷲ تعالٰی ویقولون ہذا ہوالظفر بالمراد و الارتسام بمراسم الشریعۃ رتبۃ العوام وہذا ہو عین الالحاد الزندقۃ والابعاد فکل حقیقۃ ردتہا الشریعۃ فھی زندقۃ ۱؎۔
یعنی کچھ فتنہ کے مارے ہوؤں نے صوفیوں کا لباس پہن لیا ہے کہ صوفی کہلائیں حالانکہ ان کو صوفیہ سے کچھ علاقہ نہیں بلکہ وہ ضرور غلط میں ہیں بکتے کہ ان کے دل خالص خدا کی طرف ہوگئے اور یہی مراد کو پہنچ جانا ہے اور رسوم شریعت کی پابند ی عوام کا مرتبہ ہے ان کا یہ خالص الحاد وزندقہ اللہ کی بارگاہ سے دور کیا جانا ہے اس لئے کہ جس حقیقت کو شریعت رد فرمائے وہ حقیقت نہیں بے دینی ہے۔

پھرجنید رضی اللہ تعالٰی عنہ کا ارشاد نقل فرمایا ہے کہ جو چوری اور زنا کرے وہ ان لوگوں سے بہتر ہے۔ ۲؎۔
 (۱؎ و ۲؎ عوارف المعارف الباب التاسع فی ذکر من  الصوفیۃ الخ         مطبعۃ المشہد الحسینی قاہرہ     ص۷۱ و ۷۲)
قول ۳۲: نیز حضرت الشیوخ سہروردی رضی اللہ تعالٰی عنہ کتاب مستطاب اعلام الہدٰی و عقیدہ ارباب التقٰی میں عقیدہ کرامات اولیاء بیان کرکے فرماتے ہیں:
ومن ظہرلہ وعلی یدہ من المخترقات وھو علی غیر الالتزام باحکام الشریعۃ نعتقد انہ زندیق وان الذی ظھرلہ مکر واستدراج ۳؎۔
ہمارا عقیدہ ہے کہ جس کے لئے اورا س کے ہاتھ پر خوارق عادات ظاہر ہوں اور وہ احکام شریعت کاپورا پابند نہ ہو وہ شخص زندیق ہے اور وہ خوارق کہ اس کے ہاتھ پر ظاہر ہوں مکر واستدارج ہیں۔
(۳؎ نفحات الانس بحوالہ اعلام الہدی         ازانتشارات کتابفروش محمودی تہران ایران    ص۲۶)
قول ۳۳: حضرت سیدنا امام حجۃ الاسلام محمد محمد محمد غزالی قدس سرہ العالی فرماتے ہیں:
فرقۃ ادعت المعرفۃ الوصول و لایعرف (احد ھم) ہذہ الامور الا بالاسامی ویظن ان ذٰلک اعلی من علم الاولین والاخرین فینظر الی الفقہاء والمفسرین والمحدثین بعین الازراویستحقر بذٰلک جمیع العباد والعلماء ویدعی لنفسہ انہ الواصل الی الحق وہو عند اﷲ من الفجار والمنافقین ۱؎ (ملخصا)
مختصراً ایک گروہ معرفت ووصول کا دعوٰی رکھتا ہے حالانکہ معرفت ووصول کانام ہی نام جانتا ہے اور گمان کرتا کہ یہ سب اگلے پچھلوں کے علم سے اعلٰی ہے تووہ فقہیوں مفسروں محدثوں سب کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور تمام مسلمانوں اور علماء کو حقیر جانتا ہے اپنے واصل بخدا ہونے کا ادعا کرتا ہے حالانکہ وہ اللہ کے نزدیک فاجروں او رمنافقوں میں سے ہے اھ
 (۱؎ احیاء العلوم کتاب ذم الغرور     بیان اصناف المغترین الخ     الصنف الثالث     المشہد الحسینی قاہرہ     ۳/ ۴۰۵)
قول ۳۴: حضرت سیدنا شیخ اکبر محی الدین محمد بن العربی رضی اللہ تعالٰی عنہ فتوحات مکیہ میں فرماتے ہیں:
ایاک ان ترمی میزان الشرع من یدک فی العلم الرسمی بل بادرالی العمل بکل ماحکم بہ وان فھمت منہ خلاف مایفھمہ الناس مما یجول بینک وبین امضاء ظاہر الحکم بہ فلا تعول علیہ فانہ مکرالھی بصورت علم الھی من حیث لاتشعر ۲؎۔
خبردار علم ظاہر میں جو شرع کی میزان ہے اسے ہاتھ سے نہ پھینکنا بلکہ جو کچھ اس کاحکم ہے فورا اس پر عمل کر اور اگر عام علماء کے خلاف تیری سمجھ میں اس سے کوئی ایسی چیز آئے جو ظاہر شرع کا حکم نافذ کرنے سے تجھے روکنا چاہے تو اس پر اعتماد نہ کرنا وہ علم الٰہی کی صورت میں ایک مکر ہے جس کی تجھے خبر نہیں۔
 (۲؎ الیواقیت والجواہر         الفصل الرابع                مصطفی البابی مصر    ۱/ ۲۶)
قول ۳۵: نیز حضرت سید محی الدین ابن عربی رضی اللہ تعالٰی عنہ فتوحات میں فرماتے ہیں:
اعلم ان میزان الشرع الموضوعۃ فی الارض ہی مابایدی العلماء من الشریعۃ فمھما خرج ولی عن میزان الشرع المذکورۃ مع وجود عقل التکلیف وجب الانکار علیہ ۳؎۔
یقین جان کر میزان  شرع جو اللہ عزوجل نے زمین میں مقرر فرمائی ہے وہ یہی ہے جو علماء شریعت کے ہاتھ میں ہے تو جب کبھی کوئی ولی اس میزا ن شرع سے باہر نکلے اور اس کی عقل کہ مدار احکام شرعیہ ہے باقی ہو تو اس پر انکار واجب ہے۔
 (۳؎الیواقیت والجواہر         الفصل الرابع                مصطفی البابی مصر    ۱/ ۲۶)
قول ۳۶: نیز حضرت بحرالحقائق ممدوح رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں:
اعلم ان موازین الاولیاء المکملین لاتخطی الشریعۃ ابدافھم محفوظون من مخالفۃ الشریعۃ ۱؎ الخ۔
یقین جان کہ اولیاء مرشدین رضی اللہ تعالٰی عنہم کی میزانیں کبھی شریعت سے خطا نہیں کرتیں وہ مخالف شرع سے محفوظ ہیں۔
 (۱؎ الیواقیت والجواہر     الفصل الرابع         مصطفی البابی مصر    ص۲۶ و ۲۷)
قول ۳۷: نیز حضرت خاتم الولایۃ المحمدیہ رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں:
اعلم ان عین الشریعۃ ھی عین الحقیقۃ اذ الشریعۃ لھا دائرتان  علیا وسفلی فالعلیا لاھل الکشف والسفلی لا ھل الفکر فلما فتش اھل الفکر علی ماقال اھل الکشف فلم یجدوہ فی دائرۃ فکرھم قالوا ھذا خارج عن الشریعۃ فاھل الفکر ینکرون علی اھل الکشف واھل الکشف لاینکرون علی اھل الفکر، من کان ذاکشف وفکرفہو حکیم الزمان فکما ان علوم الفکراحد طر فی الشریعۃ فکذالک علوم اہل الکشف فھما متلازمان ولکن لما کان الجامع بین الطرفین عزیز افرق اھل الظاہر بینھما ۲؎۔
یقین جان کہ شریعت ہی کا چشمہ حقیقت کا چشمہ ہے اس لئے کہ شریعت کے دو دائرے ہیں ایک اوپر اور ایک نیچے اوپر کا دائرہ اہل کشف کے لئے ہے اور نیچے کا اہل فکر کے لئے، اہل فکر جب اہل کشف کے اقوال کو تلاش کرتے اور اپنے دائرہ فکر میں نہیں پاتے ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ یہ قول شریعت سے باہر ہے۔ تو اہل فکراہل کشف پر معترض ہوتے ہیں مگر ا ہل کشف اہل فکر پر انکار نہیں رکھتے۔ جو کشف وفکر دونوں رکھتا ہے وہ اپنے وقت کا حکیم ہے پس جس طرح علوم فکر شریعت کا ایک حصہ ہیں یونہی علوم اہل کشف بھی، تو وہ دونوں ایک دوسرے کو لازم ہیں اور جبکہ دونوں کناروں کا جامع نادر ہے، لہذا ظاہر بینوں نے شریعت وحقیقت کو جدا سمجھا۔
 (۲؎الیواقیت والجواہر     الفصل الرابع         مصطفی البابی مصر      ص۲۶)
سبحان اﷲ ! اہل ظاہر اگر علوم حقیقت کو نہ سمجھیں عذر رکھتے ہیں کہ شریعت کے دائرے زیریں میں ہیں، مدعی ولایت جو علم ظاہر سے منکر ہو معلوم ہوا قطعا جھوٹا کذاب فریبی ہے کہ اگر دائرہ بالا تک پہنچتا تو دائرہ زیریں سے جاہل نہ ہوتا۔ جڑوا لے اگرشاخ تراشیں اصل درخت قائم رہے۔ مگر بلند شاخ تک پہنچنے والے جڑ کاٹیں تو ان کی ہڈی پسلی کی خیرنہیں۔ اس عبارت شریفہ سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ اہل ظاہر اگر شریعت وحقیقت کو جدا سمجھیں ان کی غلطی مگر وہ اپنے علم میں کاذب نہیں اور مدعی تصوف اگر انھیں جدا بتائے توقطعا دروغ باف ولاف زن ہے۔
قول ۳۸: نیز حضرت لسان القوم رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں:
لایتعدی کشف الولی فی العلوم الالھیۃ فوق مایعطیہ کتاب نبیہ و وحیہ قال الجنید فی ہذا المقام علمنا ہذا مقید بالکتاب و السنۃ وقال الاخر کل فتح لایشھد لہ الکتاب والسنۃ فلیس بشیئ فلا یفتح لولی قط الا فی الفہم فی الکتاب العزیز فلہذا قال تعالٰی مافر طنا فی الکتاب من شیئ وقال سبحنہ فی الواح موسی وکتبنالہ فی الالواح من کل شیئ الآیۃ فلا تخرج علم الولی جملۃ واحدۃ عن الکتاب والسنۃ فان خرج احد عن ذٰلک فلیس بعلم ولاعلم ولایۃ معا بل اذا حققتہ وجدتہ جہلا ۱؎۔
علوم الٰہیہ میں ولی کا کشف اس علم سے تجاوز نہیں کرسکتا جو اس کے نبی کی وحی وکتاب عطا فرمار ہی ہے اس مقام میں جنید نے فرمایا ہمارا یہ علم کتاب وسنت کا مقید ہے۔ اور ایک عارف نے فرمایاجس  کشف کی شہادت کتاب وسنت نہ دیں وہ محض لاشیئ ہے تو ہر گز ولی کے لئے کچھ کشف نہیں ہوتا مگر قرآن عظیم کے فہم میں اللہ تعالٰی فرماتاہے ہم نے اس کتاب میں کچھ اٹھا نہ رکھا اور موسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تختیوں  کو فرماتا ہے ہم نے اس کے لئے الواح میں ہر چیز سے کچھ بیان لکھ دیا، تو سوبات کی ایک بات یہ ہے کہ ولی کا علم کتاب وسنت ہے۔ باہر نہ جائے گا اگر کچھ باہر جائے تو وہ علم ہوگانہ کہ کشف بلکہ تحقیق کرے تو تجھے ثابت ہوجائے گا کہ وہ جہالت تھا۔
 (۱؎ الفتوحات المکیۃ لابن عربی  الباب الرابع عشروثلثمائۃ فی معرفۃ الخ   داراحیاء التراث العربی بیروت  ۳/ ۵۶)
Flag Counter