قول ۲۰: حضرت سیدنا ابوالحسین احمد نوری رضی اللہ تعالٰی عنہ کہ حضرت سری سقطی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے اصحاب اور حضرت سید الطائفہ رضی اللہ تعالی عنہ کے اقران سے ہیں فرماتے ہیں:
من رأیتہ یدعی مع اﷲ حالۃ تخرجہ عن حد العلم الشرعی فلا تقربن منہ ۲؎۔
تو جسے دیکھے کہ اللہ عزوجل کے ساتھ ایسے حال کا ادعا کرتاہے جو اسے علم شریعت کی حد سے باہر کرے اس کے پاس نہ پھٹک۔
(۲؎الرسالہ القشیریۃ ذکر ابوالحسین احمد نوری مصطفی البابی مصر ص۲۱)
قول ۲۱: حضرت سیدی ابوالعباس احمد بن محمد الآدمی رضی اللہ تعالٰی عنہ کو سید الطائفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے اقران سے ہیں فرماتے ہیں:
من الزم نفسہ آداب الشریعۃ نور اﷲ تعالٰی قلبہ بنورالمعرفۃ ولامقام اشرف من مقام متابعۃ الحبیب صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی اوامرہ و افعالہ واخلاقہ ۳؎
جو اپنے اوپرآداب شریعت لازم کرے اللہ تعالٰی اس کے دل کو نور معرفت سے روشن کردے گا اور کوئی مقام اس سے بڑھ کر معظم نہیں کہ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے احکام، افعال، عادات سب میں حضور کی پیروی کی جائے۔
(۳؎الرسالہ القشیریۃ ذکر ابوالعباس احمد بن محمد الآدمی مصطفی البابی مصر ص۲۵)
قول ۲۲: حضرت سیدنا ممشاد دینوری رضی اللہ تعالٰی عنہ مرجع سلسلہ چشتیہ بہشتیہ فرماتے ہیں:
ادب المرید حفظ آداب الشرع علی نفسہ ۱؎۔
مرید کا ادب یہ ہے کہ آداب شرع کی اپنے نفس پر محافظت کرے۔
(۱؎ الرسالۃ القشیریۃ ذکر ممشاد الدینوری مصطفی البابی مصر ص۲۷)
قول ۲۳: حضرت سیدنا سری سقطی رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں:
التصوف اسم لثلاث معان وھوالذی لایطفی نور معرفتہ نور ورعہ ولایتکلم بباطن فی علم ینقضہ ظاھر الکتب او السنۃ ولاتحملہ الکرامات علی ھتک استار محارم اﷲ تعالٰی ۲؎۔
تصوف تین وصفوں کانام ہیں، ایک یہ کہ اس کا نور معرفت اس کے نور ور ع کو نہ بجھائے دوسرے یہ کہ باطن سے کسی ایسے علم میں بات نہ کرے کہ ظاہرقرآن یا ظاہر سنت کے خلاف ہو، تیسرے یہ کہ امتیں اسے ان چیزوں کی پردہ دری پر نہ لائیں جو اللہ تعالٰی نے حرام فرمائیں۔
(۲؎الرسالۃ القشیریۃ ذکر ابولحسن عن سری بن المغلس السقطی مصطفی البابی مصر ص۱۱)
قول ۲۴: حضرت سید الطائفہ جنید بغدادی رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سید ابوسلیمان دارانی رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں:
ربما یقع فی قلبی النکتۃ من نکت القوم ایاما فلا اقبل منہ الا بشاھدین عدلین الکتاب والسنۃ ۳؎۔
بار ہا میرے دل میں تصوف کا کوئی نکتہ مدتوں آتا ہے جب تک قرآن وحدیث دو گواہ عادل اس کی تصدیق نہیں کرتے میں قبول نہیں کرتا۔
(۳؎الرسالۃ القشیریۃ ذکر ابوسلیمان عبدالرحمن بن عطیہ الدارانی مصطفی البابی مصر ص۱۵)
دوسری روایت میں ہے ،فرمایا:
ربما ینکث الحقیقۃ فی قلبی اربعین یوما فلا آذن لھا ان تدخل فی قلبی الابشاھدین من الکتاب والسنۃ ۴؎.
بارہا کوئی نکتہ حقیقت میرے دل میں چالیس چالیس دن کھٹکتا رہتا ہے، جب تک کتاب وسنت کے دو گواہ اس کے ساتھ نہ ہوں میں اپنے دل میں داخل ہونے کا اسے اذن نہیں دیتا۔
(۴؎ نفحات الانس ذکر ابوسلیمان عبدالرحمن بن عطیہ الدارانی انتشارات کتاب فروشی محمودی تہران ایران ص۴۰)
قول ۲۵: حضرت عالی منزلت امام طریقت سید نا ابوعلی رود باری بغدادی رضی اللہ تعالٰی عنہ کہ اجلہ خلفائے حضرت سید الطائفہ جنید بغدادی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہیں حضرت عارف باللہ سیدنا استاذ ابوالقاسم قشیری رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا: مشائخ میں ان کے برابر علم طریقت کسی کو نہ تھا۔ اس جناب گردوں قباب سے سوال ہواکہ ایک شخص مزامیر سنتاہے اورکہتاہے یہ میرے لئے حلال ہے اس لئے کہ میں ایسے درجے تک پہنچ گیا ہوں کہ احوال کے اختلاف کا مجھ پر کچھ اثر نہیں ہوتا فرمایا:
نعم قد وصل ولکن الی سقر ۱؎
ہاں پہنچا تو ضرور ہے مگر جہنم تک،
والعیاذ باللہ تعالی۔
(۱؎ الرسالۃ القشیریۃ ابوعلی احمد بن محمد رودباری مصطفی البابی مصر ص۲۸)
قول ۲۶: حضرت سیدی ابوعبداللہ محمد بن خفیف ضبی رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں:
التصوف تصفیہ القلوب وذکر اوصاف الی ان قال واتباع النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی الشریعۃ ۲؎۔
تصوف اس کا نام ہے کہ دل صاف کیا جائے اور شریعت میں نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی پیروی ہو۔
(۲؎ الطبقات الکبرٰی للشعرانی ذکر ابی عبداللہ بن محمد الضبی مصطفی البابی مصر ۱/ ۱۲۱)
قول ۲۷: امام اجل عارف باللہ ابوبکر محمدابراہیم بخاری کلابازی قد س سرہ نے کتاب التعرف لمذہب التصوف جس کی شان میں اولیاء نے فرمایا
لو لا التعرف لما عرف التصوف
(کتاب تعرف نہ ہوتی تو تصوف نہ پہچانا جانا) تصوف کی ایسی ہی تعریف حضرت سید الطائفہ جنید رضی اللہ تعالٰی عنہ سے نقل فرمائی کہ تصوف ان ان اوصاف کا نام ہے۔ ان میں ختم اس پر فرمایا کہ:
واتباع الرسول صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی الشریعۃ ۳؎۔
شریعت میں رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا اتباع۔
(۳؎ التعرف لمذہب التصوف)
قول ۲۸: حضرت سیدی ابوالقاسم نصرآبادی رضی اللہ تعالٰی عنہ کو حضرت سید ناابوبکر شبلی وحضرت سیدنا ابوعلی رودباری رضی اللہ تعالٰی عنہما کے اجلہ اصحاب سے ہیں فرماتے ہیں:
التصوف ملازمۃ الکتاب والسنۃ ۱؎ الخ۔
تصوف کی جڑیہ ہے کہ کتاب وسنت کو لازم پکڑے رہے۔
(۱؎ الطبقات الکبرٰی للشعرانی ذکر ابی القاسم ابراہیم بن محمد النصرآبادی مصطفی البابی مصر ۱/ ۱۲۳)
قول ۲۹: حضرت سیدی جعفر بن محمد خواص رضی اللہ تعالٰی عنہ مریدو خلیفہ حضرت سیدا لطائفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں:
لااعرف شیئا افضل من العلم باﷲ و باحکام فان الاعمال لاتزکوا الابالعلم ومن لا علم عندہ فلیس لہ عمل وبالعلم عرف اﷲ واطیع ولایکرہ العلم الا منقوص ۲؎۔
میں کوئی چیز معرفت الٰہی وعلم احکام الٰہی سے بہتر نہیں جانتا۔ اعمال بے علم کے پاک نہیں ہوتے، بے علم کے سب عمل برباد ہیں، علم ہی سے اللہ کی معرفت ومعرفت اطاعت ہوئی، علم کو وہ ہی ناپسند رکھے گا جو کم بخت ہو۔
(۲؎الطبقات الکبرٰی للشعرانی ذکر سید جعفر بن محمد الخواص مصطفی البابی مصر ۱/ ۱۹ ۔ ۱۱۸)
قول ۳۰: حضرت سید داود کبیر بن ماخلا رضی اللہ تعالٰی عنہ کہ ولی اللہ وعالم جلیل حضرت سید محمد وفا شاذلی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے پیرو مرشد ہیں فرماتے ہیں:
قلوب علماء الظاہر وسائط بین عالم الصفاء ومظاہر الاکدار رحمۃ بالعامۃ الذین لم یصلوا الی ادراک المعانی الغیبۃ والادراکات الحقیقۃ ۳؎۔
علماء ظاہر کے دل عالم صفاء و مظہر تکدر کے اندر واسطہ ہیں ان عام خلائق پر رحمت کے لئے کہ معانی غیب وعلوم حقیقت تک جن کی رسائی نہ ہو۔
(۳؎الطبقات الکبرٰی للشعرانی ترجمہ۲۸۹ مصطفی البابی مصر ۱/ ۱۹۰)
یہ صراحۃً وراثت نبوت کی شان ہے کہ انبیاء علیم الصلوٰۃ والسلام اس لیے بھیجے جاتے ہیں کہ خالق وخلق میں واسطہ ہوں، ان خلائق پر رحمت کے لئے کہ بارگار ہ غیب وحقیقت تک جن کی رسائی نہیں۔