Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۱(کتاب الحظر والاباحۃ )
110 - 144
قول ۱۱: حضرت سیدی ابوالقاسم قشیری رضی اللہ تعالٰی عنہ اپنے رسالہ مبارک میں حضرت سیدی ابوالقاسم جنید بغدادی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے نقل فرماتے ہیں:
من لم یحفظ القراٰن ولم یکتب الحدیث لایقتدٰی بہ فی ہذا الامر لان علمنا ھذا مقید بالکتاب والسنۃ ۲؎۔
جس نے نہ قرآن یا دکیا نہ حدیث لکھی یعنی جو علم شریعت سے آگاہ نہیں دربارہ طریقت اس کی اقتدا نہ کریں اسے اپنا پیر نہ بنائیں کہ ہمار ا یہ علم طریقت بالکل کتاب وسنت کا پابند ہے۔
 (۲؎ الرسالۃ القشیریۃ     ذکر ابی القاسم الجنید بن محمد  مصطفی البابی مصر      ص۲۰)
نیز فرمایا:
الطریق کلھا مسدودۃ علی الخلق الاعلی من اقتفی اثرالرسول علیہ الصلوٰۃ والسلام ۳؎۔
خلق پر تمام راسے بند ہیں مگر وہ جو رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے نشان قدم کی پیروی کرے۔
 (۳؎الرسالۃ القشیریۃ     ذکر ابی القاسم الجنید بن محمد  مصطفی البابی مصر      ص۲۰)
؎    خلاف پیمر کسے راہ گزید     کہ ہر گز بمنزل نخواہد رسید
 (جس نے پیغمبر کے خلاف راستہ اختیار کیا وہ ہر گز منزل مقصود پر نہ پہنچے گا)
قول ۱۲: حضرت سیدنا ابویزید بسطامی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے عمی بسطامی کے والد رحمہما اللہ تعالٰی سے فرمایا: چلو اس شخص کودیکھیں جس نے اپنے آپ کو بنام ولایت مشہورکیا ہے، وہ شخص مرجع ناس ومشہور بہ زہد تھا، جب وہاں تشریف لے گئے اتفاقا اس نے قبلہ کی طرف تھوکا۔ حضرت ابویزید بسطامی رضی اللہ تعالٰی عنہ فورا واپس آئے اور اس سے سلام علیک نہ کی اور فرمایا:
ہذا رجل غیر مامون علی ادب من اداب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فکیف یکون مامونا علی مایدعیہ ۴؎۔
یہ شخص رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے آداب سے ایک ادب پر توامین ہے نہیں جس چیز کا ادعا رکھتا ہے اس پر کیا امین ہوگا۔
(۴؎الرسالۃ القشیریۃ      ذکر ابو یزید البسطامی     مصطفی البابی مصر      ص۱۵)
اور دوسری روایت میں ہے۔ فرمایا:
ھذا رجل غیر مامون علی ادب من اداب الشریعۃ فکیف یکون امینا علی اسرار الحق۔ ۱؎
یہ شخص شریعت کے ایک ادب پر توامین ہے نہیں اسرار الٰہیہ پر کیونکہ امین ہوگا۔
 (۱؎ الرسالۃ القشیریۃ     باب الولایۃ         مصطفی البابی مصر    ص۱۱۷)
قول ۱۳: نیز حضرت بسطامی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں:
لونظر تم الی رجل اعطی من الکرامات حتی یرتقی (وفی نسخۃ یتربع) فی الہواء فلا تغتروا بہ حتی تنظروا کیف تجدونہ عندالامر والنھی وحفظ الحدود و آداب الشریعۃ۔ ۲؎
اگر تم کسی شخص کو دیکھو ایسی کرامت دیا گیا کہ ہوا پر چار زانو بیٹھ سکے تو اس سے فریب نہ کھانا جب تک یہ نہ دیکھو کہ فرض ، واجب ومکروہ و حرام ومحافظت حدود وآداب شریعت میں اس کا حال کیسا ہے۔
 (۲؎الرسالۃ القشیریۃ      ذکر ابو یزید البسطامی     مصطفی البابی مصر     ص۱۵)
قول ۱۴: حضرت ابو سعید خراز رضی اللہ تعالٰی عنہ کہ حضرت ذوالنون مصری سری سقطی رضی اللہ تعالٰی عنہما کے اصحاب اور سید الطائفہ جنید رضی اللہ تعالٰی عنہ کے اقران سے ہیں فرماتے ہیں:
کل باطن یخالفہ ظاہر فہو باطل ۳؎۔
جو باطن کہ ظاہر اس کی مخالفت کرے وہ باطن نہیں باطل ہے۔
 (۳؎الرسالۃ القشیریۃ    ذکر ابو سعید خراز      مصطفی البابی مصر     ص۲۴)
علامہ عارف باللہ سیدی عبدالغنی نابلسی قد س سرہ القدسی اس قول مبارک کی شرح میں فرماتے ہیں:
لانہ وسوسۃ شیطانیۃ وزخرفۃ نفسانیۃ حیث خالف الظاہر ۴؎۔
اس لئے کہ جب اس نے ظاہر کی مخالفت کی تو وہ شیطانی وسوسہ اور نفس کی بناوٹ ہے۔
 (۴؎ الحدیقۃ الندیۃ     الباب الاول الفصل الثانی     مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد     ۱/ ۱۸۶)
قول ۱۵: حضرت سیدنا حارث محاسبی رضی اللہ تعالٰی عنہ کہ اکابر ائمہ اولیاء معاصرین حضرت سری سقطی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہیں فرماتے ہیں:
من صحح باطنہ بالمراقبۃ والاخلاص زین اﷲ ظاہرہ بالمجاھدۃ واتباع السنۃ ۱؎۔
جو اپنے باطن کو مراقبہ اور اخلاص سے صحیح کرلے گا۔ لازم ہے کہ اللہ تعالٰی اس کے ظاہر کو مجاہدہ وپیروی سنت سے آراستہ فرمادے۔
 (۱؎ الرسالۃ القشیریۃ     ذکر حارث محاسبی     مصطفی البابی مصر    ص۱۳)
ظاہر ہے کہ انتفائے لازم کو انتفائے ملزوم لازم تو ثابت ہواکہ جس کا ظاہر زیور شرع سے آراستہ نہیں وہ باطن میں بھی اللہ عزوجل کے ساتھ اخلاص نہیں رکھتا۔ 

قول ۱۶: حضرت سیدنا ابوعثمان حیری رضی اللہ تعالٰی عنہ کہ اجلہ اکابر اولیاء معاصرین حضرت سید الطائفہ رضی اللہ تعالی عنہ سے ہیں وقت انتقال اپنے صاحبزادے ابوبکر رحمہ اللہ تعالٰی  سے فرمایا:
خلاف السنۃ یابنی فی الظاہر علامۃ ریاء فی الباطن ۲؎۔
اے میرے بیٹے! ظاہر میں سنت کا خلاف اس کی علامت ہے کہ باطن میں ریا کاری ہے ۔
 (۲؎الرسالۃ القشیریۃ      ذکر ابوعثمن سعید بن اسمعیل الحیری مصطفی البابی مصر       ص۲۱)
قول ۱۷: نیز حضرت سعید بن اسمعیل حیری ممدوح رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں:
الصحبۃ مع رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم باتباع السنۃ ولزوم ظاہر العلم۔ ۳؎۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے ساتھ زندگانی کا طریقہ یہ ہے کہ سنت کی پیروی کرے اور علم ظاہر کو لازم پکڑے۔
 (۳؎الرسالۃ القشیریۃ      ذکر ابوعثمن سعید بن اسمعیل الحیری مصطفی البابی مصر        ص۲۱)
قول ۱۸: حضرت سید ابوالحسین احمد بن الحواری رضی اللہ تعالٰی عنہ جن کو حضرت سید الطائفہ ریحانۃ الشام یعنی ملک شام کا پھول کہتے تھے فرماتے ہیں:
من عمل عملاً بلااتباع سنۃ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فباطل عملہ ۴؎۔
جو کسی قسم کا کوئی عمل بے اتباع سنت رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کرے وہ عمل باطل ہے۔
 (۴؎الرسالۃ القشیریۃ       ذکر ابوالحسین احمد بن الحواری مصطفی البابی مصر      ص۱۸)
قول ۱۹: حضرت سیدی ابوحفص عمر حداد رضی اللہ تعالٰی عنہ کہ اکابر ائمہ عرفاء و معاصرین حضرت سری سقطی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہیں فرماتے ہیں:
من لم یزن افعالہ واحوالہ فی کل وقت بالکتاب والسنۃ ولم یتھم خواطرہ فلا تعدہ فی دیوان الرجال ۱؎۔
جو ہر وقت اپنے تمام کام احوال کو قرآن وحدیث کی میزان میں نہ تولے او راپنے وارادات قلب پر اعتماد کرلے اسے مردوں کے دفترمیں نہ گن۔
ع     راوی کم ززن لاف مردی مزن
 (۱؎ الرسالہ القشیریۃ     ذکر ابوحفص عمر الحداد     مصطفی البابی مصر    ص۱۸)
Flag Counter