Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۱(کتاب الحظر والاباحۃ )
109 - 144
قول ۱: حضو رپر نور سید الافراد قطب الارشاد غوث عالم قطب عالم رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں:
لاتری لغیر ربک وجودا مع لزوم الحدود وحفظ الاوامروالنواھی فان انخرم فیک شیئ من الحدود فاعلم انک مفتون قد لعب بک الشیطان فارجع الی حکم الشرع والزمہ ودع منک الھوی لان کل حقیقۃ لاتشھد لہ الشریعۃ فہی باطلۃ ۱؎ (الطبقات الکبرٰی)
غیر خدا کو موجود نہ دیکھنا اس کے ساتھ ہو تو اس کی باندھی ہوئی حدوں سے کبھی جدا نہ ہو او راس کے ہرامرونہی کی حفاظت کرے اگر حدود شریعت سے کسی حد میں خلل آیا تو جان لے کہ تو فتنہ میں پڑا ہوا ہے بیشک شیطان تیرے ساتھ کھیل رہا ہے تو فورا حکم شریت کی طرف پلٹ آاور اس سے لپٹ جا اور اپنی خواہش نفسانی چھوڑ اس لئے کہ جس حقیقت کی شریعت تصدیق نہ فرمائے وہ حقیقت باطل ہے۔
(۱؎ الطبقات الکبرٰی للشعرانی     ترجمہ ۲۴۸     سید عبدالقادر الجیلی     مصطفی البابی مصر    ۱/ ۱۳۱)
سعادت مند کے لے حضور پر نور سید الاولیاء غوث العرفاء رضی اللہ تعالٰی عنہ کا ایک یہی ارشاد کا فی ہے کہ اس میں سب کچھ جمع فرمادیا ہے۔ وللہ الحمد۔
قول ۲: حضور پرنور غوث الثقلین غیاث الثقلین رضی اللہ تعالی عنہ فرماتےہیں:
اذا وجدت فی قلبک بغض شخص اوحبہ فاعرض افعالہ علی الکتب والسنۃ فان کانت محبوبۃ فیہما فاحبہ وان کانت مکروھۃ فاکرھہ لئلا تحبہ بھواک وتبغضہ بہواک قال اﷲ ولاتتبع الہوی فیضلک عن سبیل اﷲ ۲؎۔
جب تو اپنے دل میں کسی کی دشمنی یا محبت پائے تو اس کے کاموں کو قرآن وحدیث پر پیش کر، اگر ان میں پسندیدہ ہوں تو اس سے محبت رکھ اور اگر ناپسند ہوں تو کراہت ، تاکہ اپنی خواہش سے نہ کوئی دوست رکھے نہ دشمن، اللہ تعالٰی فرماتاہے: خواہش کی پیروی نہ کر کہ تجھے بہکا دیگی خدا کی راہ سے۔
 (۲؎الطبقات الکبرٰی للشعرانی     ترجمہ ۲۴۸     سید عبدالقادر الجیلی     مصطفی البابی مصر     ۱/ ۱۳۱)
قول ۳: حضور پر نور غوث الاغواث رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں:
الولایۃ ظل النبوۃ والنبوۃ ظل الالھیۃ وکرامۃ الولی استقامۃ فعل علی قانون قول النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ۳؎۔
ولایت پر تو نبوت ہے اور نبوت پر تو الوہیت ، اور ولی کی کرامت یہ ہے کہ اس کا فعل نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے قول کے قانون پر ٹھیک اُترے۔
 (۳؎ بہجۃ الاسرار     ذکر فصول من کلامہ مرصعا بشیئ الخ    مصطفی البابی مصر     ص۳۹)
قول ۴: حضور سیدنا محی الدین محبوب سبحانی رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں:
الشرع حکم محق سیف سطوۃ قہرہ من خالفہ وناواہ واعتصمت بحبل حمایتہ وثیقات عری الاسلام وعلیہ مدار امر الدارین وباسبابہ انیطت منازل الکونین ۱؎۔
شرع و ہ ہے جس کے صولت قہر کی تلوار اپنے مخالف ومقابل کو مٹادیتی ہے اور اسلام کی مضبوط رسیاں اس کی حمایت کی ڈوری پکڑے ہوئے ہیں۔ دوجہاں کے کام کا مدار فقط شریعت پر ہے۔ اور اس کی ڈوریوں سے دونوں عالم کی منزلیں وابستہ ہیں۔
 (۱؎ بہجۃ الاسرار     ذکر فصول من کلامہ مرصعابشیئ الخ     مصطفی البابی مصر    ص۴۰)
قول ۵: حضور پر نور سیدنا باز اشہب شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں:
الشریعۃ المطہرۃ المحمدیۃ ثمرۃ شجرۃ الملۃ الاسلامیۃ شمس اضاءت بنورھا ظلمۃ الکونین اتباع شرعہ یعطی سعادۃ الدارین احذر ان تخرج من دائرتہ ایاک ان تفارق اجماع اھلہ ۲؎۔
شریعت پاکیزہ محمدی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم درخت دین اسلام کا پھل ہے شریعت وہ آفتاب ہے جس کی چمک سے تمام جہاں کی اندھیریاں جگمگا اٹھیں شرع کی پیروی دونوں جہان کی سعادت بخشی ہے خبردار اس کے دائرہ سے باہرنہ جانا، خبردار اہل شریعت کی جماعت سے جدا نہ ہونا ۔
 (۲؎بہجۃ الاسرار     ذکر فصول من کلامہ مرصعابشیئ الخ     مصطفی البابی مصر    ص۴۹)
قول ۶: حضور پر نور سید الاولیاء قطب الکونین رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں:
اقرب الطرق الی اﷲ تعالٰی لزوم قانون العبودیۃ والاستمساک بعروۃ الشریعۃ ۳؎۔
اللہ عزوجل کی طر ف سے سب سے زیادہ قریب راستہ قانون بندگی کو لازم پکڑنا اور شریعت کی گرہ کو تھامے رہنا ہے۔
 (۳؎بہجۃ الاسرار     ذکر فصول من کلامہ مرصعابشیئ الخ     مصطفی البابی مصر    ص۵۰)
قول ۷: حضور پر نور سیدنا وارث المصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم غوث الاولیاء رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں:
تفقہ ثم اعتزل من عبداﷲ بغیر علم کان مایفسدہ اکثر مما یصلحہ خذمعک مصباح شرع ربک ۱؎۔
فقہ حاصل کراس کے بعد خلوت نشین ہو جو بغیر علم کے خدا کی عبادت کرے وہ جتنا سنوارے گااس سے زیادہ بگاڑے گا، اپنے ساتھ شریعت الٰہیہ کی شمع لے لے۔
 (۱؎ بہجۃ الاسرار     ذکر فصول من کلام مرصعا بشیئ الخ     مصطفی البابی مصر    ص۵۳)
قول ۸: حضرت سیدنا جنید بغدادی رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں میرے پیر حضرت سری سقطی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے مجھے دعادی:
جعلک اﷲ صاحب حدیث صوفیا و لاجعلک صوفیا صاحب حدیث ۲؎۔
اللہ تعالٰی تمھیں حدیث داں کرکے صوفی بنائے اور حدیث داں ہونے سے پہلے تمھیں صوفی نہ کرے۔
 (۲؎ احیاء العلوم     کتاب العلم     الباب الثانی         مطبعۃ المشہد الحسینی قاہرہ    ۱/ ۲۲)
قول ۹: امام حجۃ الاسلام محمد غزالی قدس سرہ العالی ا س دعائے حضرت سیدی سری سقطی رضی اللہ تعالی عنہ کی شرح فرماتے ہیں:
اشار الی ان من حصل الحدیث والعلم ثم تصوف افلح ومن تصوف قبل العلم خاطر بنفسہ ۳؎۔
حضرت سری سقطی رحمہ اللہ تعالٰی نے اس طرف اشارہ فرمایا کہ جس نے پہلے حدیث وعلم حاصل کرکے تصوف میں قدم رکھا وہ فلاح کو پہنچا، اور جس نے علم حاصل کرنے سے پہلے صوفی بننا چاہا اس نے اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالا، (والعیاذباللہ تعالٰی)
(۳؎احیاء العلوم     کتاب العلم     الباب الثانی         مطبعۃ المشہد الحسینی قاہرہ       ۱/ ۲۲)
قول ۱۰: حضرت سید الطائفہ جنید بغدادی رضی االلہ تعالٰی عنہ سے عرض کی گئی کچھ لوگ زعم کرتے ہیں کہ:
ان التکالیف کانت وسیلۃ الی الوصول و قد وصلنا ۔
یعنی احکام شرعیت تو صول کا وسیلہ تھےاور ہم واصل ہوگئے اب ہمیں شرعیت کی کیا حاجت۔
فرمایا:
صدقوا فی الوصول ولکن الی سقر والذی یسرق ویزنی خیر ممن یعتقد ذٰلک ولو انی بقیت الف عام مانقصت من اورادی شیئا الابعذر شرعی ۱؎۔
سچ کہتے ہیں واصل ضرور ہوئے، کہاں تک جہنم تک چوراور زانی ایسے عقیدے والوں سے بہتر ہیں، میں اگر ہزار برس جیوں تو فرائض واجبات تو بڑی چیز ہیں جو نوافل ومستحبات مقرر کرلئے ہیں بے عذر شرعی ان میں سے کچھ کم نہ کروں۔
 (۱؎ الیواقیت والجواہر     المبحث السادس والعشرون     مصطفی البابی مصر    ۱/ ۱۵۱)
Flag Counter