Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۱(کتاب الحظر والاباحۃ )
108 - 144
(۷) جب قرآن مجید نے سب وارثان کتاب کو اپنے چنے ہوئے بندے فرمایا، تو وہ قطعا اللہ والے ہوئے اور جب اللہ والے ہوئے تو ضرور ربانی ہوئے، اللہ عزوجل فرماتاہے:
ولکن کونوا ربانیین بما کنتم تعلمون الکتب وبما کنتم تدرسون ۲؎۔
ربانی ہوجاؤ اس سبب سے کہ تم کتاب سکھاتے ہو اور اس لئے کہ تم پڑھتے ہو۔
 (۲؎ القرآن الکریم  ۳/ ۷۹)
اور فرماتاہے:
انا انزلنا التورٰۃ فیہا ہدی ونوریحکم بھا النبیون الذین اسلموا للذین ہادوا والربانیون والاحبار بما استحفظوا من کتب اﷲ وکانوا علیہ شہداء ۳؎۔
بیشک ہم نے اتاری توریت اس میں ہدایت و نور ہے اس سے ہمارے فرمانبردار نبی اور ربانی اور دانشمند لوگ یہودیوں پر حکم کرتے تھے یوں کہ وہ کتاب اللہ کے نگہبان ٹھہرائے گے اور وہ اس سے خبردار تھے۔
 (۳؎القرآن الکریم   ۵/ ۴۴)
ان آیات میں اللہ عزوجل نے ربانی ہونے کی وجہ اور ربانیوں کی صفات اس قدر بیان فرمائیں کہ کتاب پڑھنا پڑھانا اس کے احکام سے خبردار ہونا اور اس کی نگہداشت رکھنا اس کے ساتھ حکم کرنا، ظاہر ہے کہ یہ سب اوصاف علمائے شریعت میں ہیں تو وہ ضرور ربانی ہیں، عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما فرماتے ہیں:
ربانیین فقھاء معلمین، رواہ  ابن ابی حاتم۱؎ عن سعید بن جبیر۔
ربانی کے معنی ہیں فقیہ مدرس (اسے ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر سے روایت کیا۔ ت)
 (۱؎ تفسیر القرآن العظیم     لابن ابی حاتم تحت آیۃ ۳/ ۷۹     مکتبہ نزار مصطفی الباز ریاض        ۲/ ۶۹۱)
نیز وہ اور ان کے تلامذہ امام مجاہد  وامام سعید بن جبیر رضی اللہ تعالٰی عنہم فرماتے ہیں:
ربانیین علماء فقہاء رواہ عن ابن عباس ابن جریرۃ وابن ابی حاتم وعن مجاھد ابن جریر و عن ابن جبیر الدرامی۲؎ فی سننہ۔
ربانی عالم فقیہ کو کہتے ہیں (اسے ابن عباس ابن جریرۃ وابن حاتم سے او رمجاھد ابن جریر وابن جبیر دارمی کی سنن میں روایت کیا گیا۔ ت)
 (۲؎تفسیر القرآن العظیم     لابن ابی حاتم تحت آیۃ ۳/ ۷۹     مکتبہ نزار مصطفی الباز ریاض      ۲/ ۶۹۲)

(جامع البیان (تفسیر ابن جریر)     بحوالہ مجاہد وابن عباس     المطبعۃ المیمنۃ مصر     الجزء الثانی ص۲۱۲)

(سنن الدارمی     باب فضل العلم والعالم     حدیث ۳۲۷         نشرالسنۃ ملتان    ۱/ ۸۱)
 (۸) جبکہ اللہ عزوجل علمائے شریعت کو اپنا چنا ہوا بندہ کہتا رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم انھیں اپنا وارث اپنا خلیفہ انبیاء کا جانشین بتاتے ہیں تو انھیں شیطان نہ کہے گا مگر ابلیس یا اس کی ذریت کا کوئی منافق خبیث یہ میں نہیں کہتا رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ثلثہ لایستخف بحقہم الامنافق بین النفاق ذوالشیبۃ فی الاسلام وذوالعلم وامام مقسط رواہ ابوالشیخ فی التوبیخ عن جابر والطبرانی۳؎ فی الکبیر عن ابی امامۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہما بسند حسنہ الترمذی فی غیر ھذا الحدیث۔
تین شخصوں کے حق کو ہلکانہ جانے گا مگر منافق منافق بھی کون سا کھلا منافق۔ ایک بوڑھا مسلمان جسے اسلام ہی میں بڑھاپا آیا، دوسرا عالم دین، تیسرا بادشاہ مسلمان عادل، (اس کو ابوالشیخ نے توبیخ میں جابر سے اور طبرانی نے کبیر میں ابوامامہ رضی اللہ تعالٰی عنہما سے ۔)
 (۳؎ المعجم الکبیر     عن ابی امامہ         حدیث ۷۸۱۸     المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت    ۸/ ۲۳۸)

(کنز العمال     بحوالہ ابی الشیخ فی التوبیخ     حدیث ۴۳۸۱۱     مؤسسۃ الرسالۃ بیروت    ۱۶/ ۳۲)
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لایبغی علی الناس الاولد بغی والامن فیہ عرق منہ۔ رواہ الطبرانی ۱؎ فی الکبیر عن ابی موسٰی الاشعری رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
لوگوں پر زیادتی نہ کرے گا مگر ولد الزنا یا وہ جس میں اس کی کوئی رگ ہو۔ (اسے طبرانی نے کبیر میں ابو موسٰی اشعری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ ت)
 (۱؎ مجمع الزوائد بحوالہ الطبرانی کتاب الخلافۃ     باب فی عمال السؤالخ     دارالکتاب بیروت    ۵/ ۲۳۳ و ۶/ ۲۵۸)

(کنز العمال     بحوالہ طب حدیث ۱۳۰۹۳     مؤسسۃالرسالہ بیروت            ۵/ ۳۳۳)
جب عام لوگوں پر زیادتی کے بارے میں یہ حکم ہے پھر علماء کی شان ارفع واعلٰی ہے بلکہ حدیث میں لفظ ناس فرمایا، اور اس کے سچے مصداق علماء ہی ہیں۔ امام حجۃ الاسلام محمد غزالی قدس سرہ العالی احیاء العلوم میں فرماتے ہیں:
سئل ابن المبارک من الناس فقال العلماء ۲؎
یعنی ہمارے امام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کے تلمیذ رشید عبداللہ بن مبارک رضی اللہ تعالٰی عنہ کہ حدیث وفقہ ومعرفت وولایت سب میں امام اجل ہیں ان سے کسی نے پوچھا کہ ناس یعنی آدمی کون ہیں، فرمایا: علماء،
 (۲؎ احیاء العلوم     کتاب العلم     الباب الاول         مطبعۃ المشہد الحسینی قاہرہ        ۱/ ۷)
امام غزالی فرماتے ہیں: ''جو عالم نہ ہو امام ابن المبارک نے اسے آدمی نہ گنا اس لئے کہ انسان اور چوپائے میں علم کا فرق ہے، انسان اس سبب سے انسان ہے نہ جسم کے باعث کہ اس کا شرف جسمانی طاقت سے نہیں کہ اونٹ اس سے زیادہ طاقت ور ہے۔ نہ بڑے جثہ، کے سبب کہ ہاتھی کاجثہ اس سے بڑا ہے۔ نہ بہادری کے باعث کہ شیر اس سے زیادہ بہادر ہے۔ نہ خوراک کی وجہ سے کہ بیل کا پیٹ اس سے بڑا ہے نہ جماع کی غرض سے کہ چڑوٹا جو سب میں ذلیل چڑیا ہے اس سے زیادہ جفتی کی قوت رکھتا ہے آدمی تو صرف علم کے (عہ) لئے بنایا گیا اور اسی سے اس کا شرف ہے ۱؎ انتہی''
 (۱؎ احیاء العلوم     کتاب العلم     الباب الاول     مطبعۃ المشہد الحسینی قاہرہ     ۱/ ۷)
عہ:  قال تعالٰی وما خلقت الجن والانس الالیعبدون  الالیعرفون۲؎۔،
اللہ تعالٰی نے فرمایا اورنہیں پیدا کیا جن وانس کو مگر عبادت کے لئے۔ (ت)
 (۲؎ القرآن الکریم         ۵۱/ ۵۶)
سیدنا امام ابوالقاسم قشیری رضی اللہ تعالٰی عنہ کہ اجل اکابر صوفیہ کرام سے ہیں اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں:یعنی ہم نے نہیں پیدا کیا جن وانس کو مگر معرفت حاصل کرنے کے لئے۔ ۱۲۔
(۹) بیانات بالا سے واضح ہے کہ علمائے شریعت ہر گز طریقت کے سدراہ نہیں بلکہ وہی اس کے فتح باب اور وہی اس کے نگاہبان راہ ہیں، ہاں وہ طریقت جسے بندگان شیطان طریقت نام رکھیں اور اسے شریعت محمدر سول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سےجدا کریں علماء اس کے لئے ضرور سد راہ ہیں علماء کیا خود اللہ عزوجل نے اس راہ کو مسدود ومردود وملعون ومطرود فرمایا اوپر گزرا کہ علمائے شریعت کی حاجت ہر مسلمان کو ہرآن ہے اور یہ طریقت میں قدم رکھنے والوں کو اور زیادہ ورنہ حدیث میں اسے چکی کھینچنے والا گدھا فرمایا۔ تو اگر علماء نے تمھیں گدھا بننے سے روکا کیا گناہ کیا۔
 (۱۰) عمرو کا اپنی خرافات شیطانیہ توہین شریعت وسب وشتم علمائے شریعت علمائے مقامی و اولیائے ربانی کی طرف نسبت کرنا اس کا محض کذب مہین وافترائے لعین ہے۔ اس کی خواہش کے مطابق ہم صرف حضرات اولیاء کرام قدست اسرارہم کے ارشادات عالیہ محض بطور نمونہ ذکر کریں جن سے شریعت مطہرہ کی عظمت ظاہر ہو اور یہ کہ طریقت اس سے جدا نہیں اوریہ کہ طریقت اس کی محتاج ہے اوریہ کہ شریعت ہی اصل کارو مدار ومعیار ہے غرض جو بیانات ہم نے کئے ان سب کا ثبوت وافی اور عمرو کے دعاوی وخرافات ملعونہ کا رد کافی وباللہ التوفیق۔
Flag Counter