(۵) عمرو کا طریقت کو غیر شریعت جان کر حصر کردینا کہ یہی مقصود ہے انبیاء صرف اس کے لئے مبعو ث ہوئے ہیں۔ صراحۃً شریعت مطہرہ کو معاذاللہ معطل ومہمل ولغو باطل کردینا ہے اوریہ صریح کفر وارتداد اور وہ زندقہ والحاد موجب لعنت ابعاد ہے۔ ہاں یہ کہنا تو حق ہے کہ اصل مقصود وصول الی اللہ ہے۔ مگر حیف اس پر جو اپنی جہالت شدیدہ سے نجانے یا جانے اور عناد شریعت کے باعث نہ مانے کہ وصول الی اللہ کاراستہ یہی شریعت محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ہے وبس، ہم اوپر قرآن مجید سے ثابت کرآئے ہیں کہ شریعت کے سوااللہ تک راہیں بند ہیں، طریقت اگر وہ اپنے زعم میں کسی راہ مخالف کا نام سمجھا ہے تو حاشا وہ خدا تک پہنچائے بلکہ وہ مسدود اور اس کا چلنے والا مردود، اور انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام پراس کی تہمت ملعون ومطرود، کیا کوئی ثبوت دے سکتاہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے کبھی کسی کوشریعت کے خلاف دوسری راہ کی طرف بلایا ہے حاشا وکلا۔
(۶) جب حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے عمر بھر اسی کی طرف بلایا اوریہی راستہ ہمارے لئے چھوڑا تو اس کا حامل اس کا خادم اس کا حامی اس کا عالم کیونکر ان کا وارث نہ ہوگا، ہم پوچھتے ہیں اگر بالفرض شریعت صرف فرض واجب سنت مستحب حلال وحرام ہی کے علم کا نام ہو تو یہ علم رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے ہے یا ان کے غیر سے اگر اسلام کاد عوٰی رکھتاہے تو ضرور کہے گا کہ حضور ہی سے ہے۔ پھر اس کا عالم حضور کا وارث نہ ہوا تو او رکس کا ہوگا، علم ان کا ترکہ پھر اس پانے والا اس کا وارث نہ ہو اس کے کیا معنی ۔اگر کہے کہ یہ علم تو ضرور ان کا ہے مگر دوسرا حصہ یعنی علم باطن اس نے نہ پایا لہذا وارث نہ ٹھہرا تو اے جاہل! کیا وارث کے لئے یہ ضرور ہے کہ مورث کاکل مال پائے یوں تو عالم میں کوئی صدیق ان کا وارث نہ ٹھہرے گا، اور ارشاد اقدس
ان العلماء ورثۃ الانبیاء معاذاللہ
غلط بن کر محال ہوجائے گا، کہ ان کا کل علم تو کسی کو مل ہی نہیں سکتا اور اگر بالفرض غلط شریعت وطریقت دو جدا رہیں بنیں اورقطرہ دریا کی نسبت جانیں جس طرح یہ جاہل بکتاہے جب بھی علمائے شریعت سے وراثت انبیاء کا سلب کرنا جنون محض ہوگا، کیا ترکہ مور ث سے تھوڑا حصہ پانے والاوارث نہیں ہوتا، جسے ملا ان کے علم میں سے تھوڑا ہی ملا
وما اوتیتم من العلم الاقلیلا ۱؎
(۱؎ القرآن الکریم ۱۷/ ۸۵)
اگر یہ شریعت طریقت کی معاذاللہ برائی فرض کرلیں تو انصافا حدیث ان مسخرگان شیطان پر الٹی پڑے گی یعنی علمائے ظاہری وارثان انبیاء علیہم الصلوٰۃ والثناء ٹھہرینگے اور علمائے باطن عیاذا باللہ اس سے محروم ، انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام نبی بھی ہوتے ہیں اور ولی بھی ان کے علوم نبوت یہ ہیں جن کو شریعت کہتے ہیں، جن کی طرف وہ عام امت کو دعوت کرتے ہیں، اور علوم ولایت وہ ہیں جن کو یہ جاہل طریقت کہتاہے اور وہ خاص خاص لوگوں کو خفیہ تعلیم ہوتے ہیں تو علمائے باطن کہ علوم ولایت کے وارث ہوئے وارثان اولیاء ٹھہرے نہ کہ وارثان انبیاء، وارثان انبیاء یہی علمائے ظاہر رہے جنھوں نے علوم نبوت پائے، مگر یہ اس جاہل کی اشد جہالت ہے۔
حاشا نہ شریعت وطریقت دو راہیں ہیں نہ اولیاء کبھی غیر علماء ہوسکتے ہیں علامہ مناوی شرح جامع صغیر پھر عارف باللہ سید عبدالغنی نابلسی حدیقہ ندیہ میں فرماتے ہیں امام مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں:
علم الباطن لایعرف الا من عرف علم الظاہر۔
علم باطن نہ جانے گا مگر وہ جو علم ظاہر جانتاہے۔
امام شافعی رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں:
وما اتخذاﷲ ولیا جاہلا ۔
اللہ نے کبھی کسی جاہل کو اپنا ولی نہ بنایا۔
یعنی بنانا چاہا تو پہلے اسے علم دے دیا اس کے بعد ولی کیا کہ جو علم ظاہر نہیں رکھتا علم باطن کہ اس کا ثمرہ ونتیجہ ہے کیونکر پاسکتا ہے، حق سبحانہ وتعالٰی کے متعلق بندوں کےلئے پانچ علم ہیںـ:
علم ذات، علم صفات، علم افعال، علم اسماء، علم احکام۔
ان میں ہر پہلا دوسرے سے مشکل تر ہے۔ جو سب سے آسان علم احکام میں عاجز ہوگا سب سے مشکل علم ذات کیونکر پاسکے گا اور قرآن شریف انھیں مطلقاً وارث بتارہاہے حتی کہ ان کے بے عمل کو بھی یعنی جبکہ عقائد حق پر مستقیم اور ہدایت کی طرف داعی ہو کہ گمراہ اور گمراہی کی طرف بلانے والا وارث نبی نہیں نائب ابلیس ہے والعیاذ باللہ تعالٰی۔ ہاں رب عزوجل نے تمام علماء شریعت کو کہاں وارث فرمایا ہے یہاں تک کہ ان کے بے عمل کو بھی، ہاں وہ ہم سے پوچھئے، مولٰی عزوجل فرماتا ہے:
ثم اورثنا الکتب الذین اصطفینا من عبدنا فمنھم ظالم لنفسہ ومنہم مقتصد ومنہم سابق بالخیرات باذن اﷲ ذٰلک ہو الفضل الکبیر ۳؎۔
پھر ہم نے کتاب کا وارث کیااپنے چنے ہوئے بندوں کو تو ان میں کوئی اپنی جان پر ظلم کرنے والا ہے اور کوئی متوسط حال کا اور کوئی بحکم خدا بھلائیوں میں پیشی لے جانے والا یہی بڑا فضل ہے۔
(۳؎ القرآن الکریم ۳۵/ ۳۲)
دیکھوبے عمل کہ گناہوں سے اپنی جان پر ظلم کررہے ہیں انھیں بھی کتاب کا وارث بتایا اور نرا وارث ہی نہیں بلکہ اپنے چنے ہوئے بندوں میں گنا، احادیث میں آیا رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا:
سابقنا سابق ومقتصدنا ناج وظالمنا مغفورلہ والحمدﷲ رب محمد الرؤف الرحیم علیہ وعلی اٰلہ افضل الصلوٰۃ والتسلیم،رواہ العقیلی وابن لال وابن مردویہ والبیھقی فی البعث والبغوی فی المعالم ۱؎ عن امیر المومنین عمر، والبیھقی وابن مردویہ عن ابن عمر وابن النجار عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہم۔
ہم میں کا جو سبقت لے گیا وہ تو سبقت لے ہی گیا او رجو متوسط حال کا ہوا، وہ بھی نجات والا ہے اور جو اپنی جان پر ظالم ہے اس کی بھی مغفرت ہے،
(والحمدللہ رب محمد الرؤف الرحیم علیہ وعلی آلہ افضل الصلوٰۃ والتسلیم۔
اسے عقیلی، ابن لال، ابن مردویہ اور بیہقی نے بعث میں اور بغوی نے معالم میں امیر المومنین عمر سے اور بیہقی اور ابن مردویہ نے ابن عمر سے اور ابن نجار نے انس رضی اللہ تعالٰی عنہم سے روایت کیا۔ ت)
(۱؎ معالم التنزیل تحت آیۃ ۳۵/۳۲ مصطفی البابی مصر ۵/ ۳۰۲)
عالم شریعت اگراپنے علم پر عامل بھی ہو چاند ہے کہ آپ ٹھنڈا اور تمھیں روشنی دے ورنہ شمع ہے کہ خو دجلے مگر تمھیں نفع دے،
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:ـ
مثل الذی یعلم الناس الخیر وینسٰی نفسہ مثل الفتیلۃ تضیئ للناس وتحرق نفسہا، رواہ البزار ۲؎عن ابی ھریرۃ والطبرانی عن جندب بن عبداﷲ الازدی وعن ابی برزۃ الاسلمی رضی اﷲ تعالٰی عنہم بسند حسن۔
اس شخص کی مثال جو لوگوں کو خیر کی تعلیم دیتا اور اپنے آپ کو بھول جاتاہے اس فتیلہ کی طرح ہے کہ لوگوں کو روشنی دیتاہے اور خود جلتاہے اس کو بزار نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے اور طبرانی نے حضرت جندب بن عبداللہ ازدی اور حضرت ابوبرزہ السلمی رضی اللہ تعالٰی عنہم سے بسند حسن روایت کیا۔ت)
(۲؎ الترغیب والترھیب بحوالہ الطبرانی والبزار مصطفی البابی مصر ۱/ ۲۷۔ ۱۲۶ و ۳ /۲۳۵)
حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذا قرأ الرجل القراٰن واحتشی من احادیث رسول اﷲ صلی علیہ وسلم وکانت ھناک غریرۃ کان خلیفۃ من خلفاء الانبیاء رواہ الامام الرافعی فی تاریخہ۱؎ عن ابی امامۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
جب آدمی قرآن مجید پڑھ لے اور رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی حدیثیں جی بھر کر حاصل کرے اور اس کے ساتھ طبیعت سلیقہ دار رکھتا ہو تو وہ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کے نائبوں سے ایک ہے۔ (اسے امام رافعی نے اپنی تاریخ میں ابی امامہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔ ت)
دیکھوحدیث نے وارث تو وارث خلیفۃ الانبیاء ہونے کے لئے صرف تین شرطیں مقرر فرمائیں قرآن وحدیث جانے اور ان کی سمجھ رکھتاہو، خلیفہ ووارث میں فرق ظاہر ہے آدمی کی تمام اولاد اس کی وارث ہے مگر جانشین ہونے کی لیاقت ہر ایک میں نہیں۔