Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۱(کتاب الحظر والاباحۃ )
106 - 144
(۲) عمرو کا قول کہ طریقت نام ہے وصول الی اللہ کا محض جنون وجہالت ہے۔ ہر دو حرف پڑھا ہوا جانتا ہے۔ کہ طریق طریقہ طریقت راہ کو کہتے ہیں نہ کہ پہنچ جانے کو، تو یقینا طریقت بھی راہ ہی کا نام ہے اب اگر وہ شریعت سے جدا ہو تو بشہادت قرآن مجید خدا تک نہ پہنچائے گی، بلکہ شیطان تک جنت میں نہ لے جائے گی بلکہ جہنم میں کہ شریعت کے سوا سب راہوں کو قرآن مجید باطل ومردود فرماچکا۔ لاجرم ضرور ہوا کہ طریقت ہی شریعت ہے کہ اسی راہ روشن کا ٹکڑا ہے اس کا اس سے جدا ہونا محال ونا سزا ہے جو اسے شریعت سے جدا جانتا ہے اسے راہ خدا سے توڑ کر راہ ابلیس مانتا ہے مگر حاشا طریقت حقہ راہ ابلیس نہیں قطعا راہ خدا ہے تو یقینا وہ شریعت مطہرہ ہی کا ٹکڑا ہے۔
 (۳) طریقت میں جو کچھ منکشف ہوتا ہے شریعت ہی کے اتباع کا صدقہ ہے ورنہ بے اتباع شرع بڑے بڑے کشف راہبوں، جوگیوں، سنیاسیوں کو ہوتے ہیں، پھر وہ کہاں تک لے جاتے ہیں اسی
نار جحیم وعذاب الیم
تک پہنچاتے ہیں۔
 (۴) شریعت کو قطرہ طریقت کو دریا کہنا اس مجنون پکے پاگل کا کام ہے جس نے دریا کا پاٹ کسی سے سن لیا اور نہ جانا کہ یہ وسعت نہ ہوتی تو اس میں کس گھر سے آتی، شریعت منبع ہے اور طریقت اس میں سے نکلا ہوا ایک دریا ۔ بلکہ شریعت اس مثال سے بھی متعالی ہے۔ منبع سے پانی نکل کر دریا بن کر جن زمینوں پر گزرے انھیں سیراب کرنے میں اسے منبع کی احتیاج نہیں۔نہ اس سے نفع لینے والوں کو اصل منبع کی اس وقت حاجت، مگر شریعت وہ منبع ہے کہ اس سے نکلے ہوئے دریا یعنی طریقت کو ہر آن اس کی احتیاج ہے منبع سے اس کا تعلق ٹوٹے تو یہی نہیں کہ صرف آئندہ کے لئے مدد موقوف ہوجائے فی الحال جتنا پانی آچکا ہے چند روز تک پینے، نہانے، کھیتیاں، باغات سینچنے کا کام دے نہیں نہیں منبع سے اس کا تعلق ٹوٹتے ہی یہ دریا فورا فنا ہوجائے گا، بوند تو بوند نم کا بھی نام نظر نہ آئے گا، نہیں نہیں ، میں نے غلطی کی، کاش اتنا ہی ہوتا کہ دریا سوکھ گیا، پانی معدوم ہوا، باغ سوکھے ، کھیت مرجھائے، آدمی پیا سے تڑپ رہے ہیں، ہر گز نہیں، بلکہ یہاں سے اس مبارک منبع سے تعلق چھوٹتے ہی یہ تمام دریا البحرالمسجور ہوکر شعلہ فشاں آگ ہوجاتا ہے جس کے شعلوں سے کہیں پناہ نہیں، پھر کاش وہ شعلے ظاہری آنکھوں سے سوجھتے تو جو تعلق توڑنے والے جلے خاک سیاہ ہوئے تھے اتنے ہی جل کرباقی بچ جاتے کہ ان کا یہ انجام دیکھ کر عبرت پاتے مگر نہیں وہ تو
نار اﷲ الموقدۃ التی تطلع علی الافئدۃ ۱؎
ہے۔اللہ کی بھڑکاتی ہوئی آگ کہ دلوں پر چڑھتی ہے۔
 (۱؎ القرآن الکریم      ۱۰۴/ ۶و۷)
اندر سے دل جل گئے، ایمان خاک سیاہ ہوگئے۔ اور ظاہر میں وہی پانی نظر آرہا ہے دیکھنے میں دریا اور باطن میں آگ کا دہرا، آہ آہ کہ اس پر دے نے لاکھوں کو ہلا ک کیا، پھر دریا منبع کی مثال سے ایک اور فرق عظیم ہے جس کی طرف اشارہ گزرا کہ نفع لینے والوں کو اس وقت منبع کی حاجت نہیں، مگر حاشا یہاں منبع سے تعلق نہ توڑئیے کہ پانی باقی رہے اور آگ نہ ہوجائے جب بھی ہر آن منبع سے اس کی جانچ پڑتال کی حاجت ہے وہ یوں کہ یہ پاکیزہ شیریں دریا جو اس برکت والے منبع سے نکل کر اس دار الالتباس کی وادیوں  میں لہریں لے رہا ہے۔ یہاں اس کے ساتھ ایک سخت ناپاک کھاری دریا بھی بہتا ہے۔
ھذا عذب فرات وھذا ملح اجاج ۲؎
ایک خوب میٹھا شیریں ہے اور ایک سخت نمک کھاری،
 (۲؎القرآن الکریم     ۲۵/ ۵۳)
وہ دریائے شور کیا ہے شیطان ملعون کے وسوسے دھوکے، تو دریائے شیریں سے نفع لینے والوں کو ہر آن احتیاج ہے کہ ہر نئی لہر پر اس کی رنگت مزے بو کو اصل منبع کے لون طعم ریح سے ملاتے رہیں کہ یہ لہر اس منبع سے آئی ہے یا شیطانی پیشاب کی بد بو کھاری دھار دھوکا دے رہی ہے۔ سخت دقت یہ ہے کہ اس پاک مبارک منبع کی کمال لطافت سے اس کا مزہ جلدزبان سے اتر جاتا ہے۔ رنگت بو کچھ یاد نہیں رہتی اور ساتھ ہی ذائقہ شامہ باصرہ کا معنوی حس فاسد ہوجاتا ہے کہ آدمی منبع سے جدا ہو اور اسے گلاب اور پیشاب میں تمیز نہیں رہتی، ابلیس کا کھاری بد بو رنگ موت غٹ غٹ چڑھا تا اور گمان کرتا ہے کہ دریائے طریقت کا شیریں خوشبو خوش رنگ پانی پی رہا ہوں، لہذا شریعت منبع ودریا کی مثال سے بھی نہایت متعالی ہے
وﷲ المثل الاعلٰی
شریعت مطہر ہ ایک ربانی نور کا فانوس ہے۔ کہ دینی عالم میں اس کے سوا کوئی روشنی نہیں اس کی روشنی بڑھتے بڑھتے صبح اور پھر آفتاب اور پھر اس سے بھی غیر متناہی درجوں زیادہ تک ترقی کرتی ہے جس سے حقائق اشیاء کاانکشاف ہوتا اور نور حق تجلی فرماتاہے یہ مرتبہ علم میں معرفت اور مرتبہ تحقیق میں حقیقت ہے تو حقیقت بین وہی ایک شریعت ہے کہ باختلاف مراتب اس کے مختلف نام رکھے جاتے ہیں جب یہ نور بڑھ کر صبح روشن کے مثل ہوتا ہے ابلیس لعین خیر خواہ بن کر آتا ہے اور اس سے کہتاہے
''اطفی المصباح فقد اشرق الاصباح''
چراغ ٹھنڈا کر کہ اب تو صبح خوب روشن ہوگئی، اگرآدمی دھوکے میں نہ آیا اور نور فانوس بڑھ کر دن ہوگیا ابلیس کہتاہے کیا اب بھی چراغ نہ بجھائے گا آفتاب روشن ہے۔ احمق اب تجھے چراغ کی کیا حاجت ہے۔ ع
ابلہے کو روز روشن شمع کافوری نہد
 (بیوقوف روشن دن کا فوری شمع رکھتاہے۔ ت)

ہدایت الٰہی اگر دستگیر ہے تو بندہ لاحول پڑھتا اور اس ملعون کو دفع کرتاہے کہ اوعدواللہ! یہ جسے تو دن یا آفتاب کہہ رہا ہے آخر کیا ہے۔ اسی فانوس کا تو نور ہے۔ اسے بجھایا تو نور کہاں سے آئے گا، اس وقت وہ دغاباز خائب وخاسر پھرتاہے اور بندہ
نور علی نور یھدی اللہ لنورہ من یشاء ۱؎
 (نور پر نور ہے اور اپنے نور کی راہ بتاتاہے جسے چاہتاہے۔ ت) کی حمایت میں نور حقیقی تک پہنچتاہے اور اگر دم میں آگیا اور سمجھا کہ ہاں دن تو ہوگیا  اب مجھے چراغ کی کیا حاجت ہے ادھر فانوس بجھا اور معاً اندھیرا گھپ کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہ دیتا۔ جیسا کہ قرآن مجید نے فرمایا:
ظلمت بعضہا فوق بعض اذا اخرج یدہ لم یکد یرٰھا ومن لم یجعل اﷲ لہ نورا فما لہ من نور ۱؎۔
ایک پر ایک اندھیریاں ہیں، اپنا ہاتھ نکالے تو نہ سوجھے اور جسے خدا نور نہ دے اس کے لئے نور کہاں۔
 (۱؎ القرآن الکریم       ۲۴/ ۳۵) (۱؎ القرآن الکریم        ۲۴/ ۴۰)
یہ ہیں وہ کہ طریقت بلکہ حقیقت تک پہنچ کر اپنے آپ کو شریعت سے مستغنی  سمجھے اور ابلیس کے فریب میں آکر اس الٰہی فانوس کو بجھا بیٹھے کا ش یہی ہوتا کہ اس کے بجھنے سے جو عالمگیر اندھیرا ان کی آنکھوں میں چھایا جسے دن دہاڑے چوپٹ کر دیا ان کو اس کی خبر ہوتی کہ شاید تو بہ کرتے فانوس کا مالک ندامت والوں پر مہر رکھتا ہے۔ پھر انھیں روشنی دیتا، مگر ستم اندھیر تو یہ ہے کہ دشمن ملعون نے جہاں فانوس خاموش کرائی اس کے ساتھ ہی معاً اپنی سازشی بتی جلا کر ان کے ہاتھ میں دے دی یہ اسے نور سمجھ رہے ہیں اور وہ حقیقۃً نار ہے۔ یہ مگن ہیں کہ شریعت والوں کے پاس کیا ہے۔ ایک چراغ ہے ہمارا نور آفتاب کو لئے جارہا ہے۔ وہ قطرہ اور یہ ایک دریا ہے۔ اور خبر نہیں کہ وہ حقیقۃً نور ہے۔ اور یہ دھوکے کی ٹٹی، آنکھ بند ہوتے ہی حال کھل جائے گا کہ ع
باکہ باختہ عشق درشب دیجور
 (اندھیری رات میں کس سے عشق بازی کی۔ ت)
بالجملہ شریعت کی حاجت ہر مسلمان کو ایک ایک سانس ایک ایک پل ایک ایک لمحہ پر مرتے دم تک ہے اور طریقت میں قدم رکھنے والوں کو اور زیادہ کہ راہ جس قدر باریک اس قدر ہادی کی زیادہ حاجت ولہذا حدیث میں آیا حضور سیدی عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
المتعبد بغیر فقہ کالحمار فی الطاحون، رواہ ابونعیم فی الحلیۃ۲؎ عن واثلۃ بن الاسقع رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
بغیر فقہ کے عبادت میں پڑنے والا ایساہے جیسا کہ چکی کھینچنے والا گدھا کہ مشقت جھیلے اور نفع کچھ نہیں (اسے ابونعیم نے حلیہ میں واثلہ بن الاسقع رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ ت)
(۲؎ حلیۃ الاولیاء     لابی نعیم ترجمہ ۳۱۸ خالد بن معدان     دارالکتاب العربی بیروت    ۵/ ۲۱۹)
امیر المومنین مولی علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں:
قصم ظھری اثنان جہل متنسک وعالم متھتک ۱؎۔
دو شخصوں نے میری پیٹھ توڑدی (یعنی وہ بلائے بے در ماں ہیں) جاہل عابد اور عالم جو علانیہ بیباکانہ گناہوں کا ارتکاب کرے۔
اے عزیز ! شریعت عمارت ہے اور اس کا اعتقاد بنیاد اور عمل چنائی، پھر اعمال ظاہر وہ دیوار ہیں کہ اس بنیاد پر ہو ا میں چنے گئے، اور جب تعمیر اوپر بڑھ کر آۤسمان تک پہنچی وہ طریقت ہے۔ دیوار جتنی اونچی ہوگی نیوکی زیادہ محتاج ہوگی اور نہ صرف نیوکہ بلکہ اعلٰی حصہ اسفل کا بھی محتاج ہے۔ اگر دیوار نیچے سے خالی کردی جائے اوپر سے بھی گر پڑے گی، احمق وہ جس پر شیطان نے نظر بندی کرکے اس کی چنائی آسمانوں تک دکھائی اور دل میں ڈالا کہ اب ہم توزمین کے دائرے سے اونچے  گزر گئے ہمیں اس سے تعلق کی کیا حاجت ہے۔ نیو سے دیوار جدا کرلی اور نتیجہ وہ ہوا جو قرآن مجیدنے فرمایا کہ
فانھار بہٖ فی نارجہنم ۲؎
اس کی عمارت اسے لے کر جہنم میں ڈھے پڑی،
 (۲؎ القرآن الکریم        ۹/ ۱۱۰)
والعیاذ باﷲ رب العالمین
اسی لئے اولیائے کرام فرماتے ہیں صوفی جاہل شیطان کا مسخرہ ہے۔ اسی لئے حدیث میں آیا حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
فقیہ واحد اشد علی الشیطان من الف عابد، رواہ الترمذی وابن ماجۃ عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔
ایک فقیہ شیطان پرہزاروں عابدوں سے زیادہ بھاری ہے (اسے ترمذی اور ابن ماجہ نے ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کیا۔ ت)
بے علم مجاہدہ والوں کو شیطان انگلیوں پر نچاتا ہے منہ میں لگام، ناک میں نکیل ڈال کر جدھر چاہے کھینچے پھرتاہے وہم
یحسبون انھم یحسنون صنعا ۳؎
اور وہ اپنے جی میں سمجھتے ہیں کہ ہم اچھا کام کررہے ہیں۔
 (۳؎ جامع الترمذی ابواب العلم     باب ماجاء فی فضل الفقہ علی العبادۃ     امین کمپنی دہلی        ۲/ ۹۳)

(سنن ابن ماجہ         باب فضل العلماء والحث علی طلب العلم         ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ص۲۰)
Flag Counter