رسالہ
مقال العرفاء باعزاز شرع وعلماء (۱۳۲۷ھ)
(علماء اور شریعت کی افضلیت پر اہل معرفت کا کلام)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مسئلہ ۱۸۶: کیا فرماتے ہیں علمائے دین متین ووارثان انبیاء ومرسلین صلوات اللہ وسلامہ علی نبینا وعلیہم اجمعین اس مسئلہ میں کہ زید کہتاہے کہ حدیث شریف
العلماء ورثہ الانبیاء
(علماء انبیاء کے وارث ہیں۔ ت) میں علمائے شریعت وطریقت دونوں داخل ہیں، اور جامع جو شریعت وطریقت ہیں وہ وراثت کے رتبہ اعظم وابجل ودرجہ اتم واکمل پر فائز ہیں، اور عمرو کا بیان ہے:
(۱) شریعت نام ہے چند فرائض وواجبات وسنن ومستحبات وچند مسائل حلال وحرام کا، جیسے صورت وضو ونماز وغیرہ۔
(۲) اور طریقت نام ہے وصول الی اللہ تعالٰی کا۔
(۳) اس میں حقیقت نماز وغیرہ منکشف ہوتی ہے۔
(۴) یہ بحرنا پیدا کنارو دریائے ذخار ہے اور وہ بمقابلہ اس دریا کے ایک قطرہ ہے۔
(۵) وراثت انبیاء کا یہی وصول الی اللہ مقصود ومنشاء اور یہی شان رسالت ونبوت کا مقتضی خاص اسی کے لئے وہ مبعوث ہوئے۔
(۶) بھائیو! علمائے صوری وقشری کسی طرح اس وراثت کی قابلیت نہیں رکھتے۔
(۷) نہ وہ علمائے ربانی کہے جاسکتے ہیں۔
(۸) ان کے دام تزویر سے اپنے آپ کو دور رکھنا العیاذ باللہ یہ شیطان ہیں۔
(۹) منزل اصل طریقت کے سدر اہ ہوئے ہیں۔
(۱۰) یہ باتیں میں اپنی طرف سے نہیں کہتا، بہت سے علمائے حقانی واولیائے ربانی نے اپنی اپنی تصانیف میں ان کو تصریح سے لکھا ہے الی آخر الہذیانات التماس یہ کہ ان دونوں میں کس کا قول صحیح اور اس مسئلہ کی کیا تنقیح ہے۔ اگر عمرو غلطی پر ہے تو اس پر کوئی شرعی تعزیر بھی ہے یانہیں؟ وہ کہتاہے میری غلطی جب ثابت ہوگی کہ میرے اقوال کا ابطال اولیاء کے اقوال ہدایت مآل سے کیا جائے ورنہ نہیں۔
بینوا بالتفصیل التام توجروا یوم القیام
(پوری تفصیل بیان کرو اور روزقیامت اجر پاؤ۔ ت)
الجواب
الحمدﷲ الذی انزل الشریعۃ وجعلہا للوصول الیہ ہی الذریعۃ لمن ابتغی الیہ طریقا دونہا فقد خاب و ھوی وضل وغوٰی وافضل الصلوٰۃ واکمل السلام علی اکرم الرسل و افضل داع الی سبل السلام الذی شریعتہ ہی الطریقۃ بعین الحقیقۃ فبہا الوصول الی العلی الاکبر ومن خالفہا فسیصل ولکن الی این الی سقر وعلی الہ واصحابہ وعلمائہ واحزابہ وارثی علمہ وحاملی اٰدابہ اٰمین یارب العالمین÷ اللھم لک الحمد رب انی اعوذبک من ہمزات الشیطین واعوذبک رب ان یحضرون۔
تمام حمدیں اللہ تعالٰی کے لئے جس نے شریعت نازل فرمائی اور اس کو اپنی طرف وصول کا ذریعہ بنایا یہی وسیلہ ہے اس کی طرف جانے والے کا کوئی اور راستہ ہو تو وہ ناکام ہو اور خواہش نفس گمراہی اور ضلالت میں مبتلا رہے تمام رسولوں سے اکرم رسول پر افضل صلوٰۃ واکمل سلام ہو جوسب سے بہتر دعوت دینے والا سلامتی کی راہ کا یہ وہ ذات ہے جس کی شریعت ہی طریقت اور عین حقیقت ہے اسی کے سبب اللہ تعالٰی کے دربار میں وصول ہے اور جو اس کی مخالفت کرے گا وہ پہنچے گا کہاں جنہم میں، آپ کی آل پاک وصحابہ وعلماء اور جماعت پر جو آپ کے علم کے وارث ہیں اور آپ کے آداب کے حامل ہیں، آمین یارب العالمین، یا اللہ! حمد تیرے ہی لئے، میرے رب! میں تیری پناہ لیتاہوں شیطان کے وسوسوں سے اور تیری پناہ لیتا میرے رب! ان کے حاضر ہونے سے۔ (ت)
زید کا قول حق وصحیح اور عمرو کا زعم باطل وقبیح والحاد صریح ہے۔ اس کے کلام شیطنت نظام میں دس فقرے ہیں ہم سب کے متعلق مجمل بحث کریں کہ ان شاء اللہ الکریم مسلمانوں کو مفید ونافع اور شیطانوں کی قالع وقامع ہو وباللہ التوفیق۔
(۱) عمرو کا قول کہ شریعت چند احکام فرض وواجب وحلال وحرام کا نام ہے محض اندھا پن ہے۔ شریعت تمام احکام جسم وجان و روح وقلب وجملہ علوم الٰہیہ ومعارف نامتناہیہ کو جامع ہے جن میں سے ایک ایک ٹکڑے کا نام طریقت ومعرفت ہے ولہذا باجماع قطعی جملہ اولیائے کرام تمام حقائق کو شریعت مطہرہ پر عرض کرنا فرض ہے۔ اگر شریعت کے مطابق ہوں حق ومقبول ہیں ورنہ مردود ومخذول، تو یقینا قطعا شریعت ہی اصل کار ہے۔ شریعت ہی مناط ومدا رہے۔ شریعت ہی محکم ومعیار ہے۔ شریعت ''راہ'' کو کہتے ہیں اور شریعت محمدیہ علی صاحبہا افضل الصلوٰۃ والتحیۃ کا ترجمہ محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی راہ، یہ قطعا عام ومطلق ہے نہ کہ صرف چند احکام جسمانی سے خاص، یہی وہ راہ ہے کہ پانچوں وقت ہر نماز بلکہ ہر رکعت میں اس کا مانگنا اور اس پر ثبات واستقامت کی دعا کرنا ہر مسلمان پر واجب فرمایا ہے کہ
اھدنا الصراط المستقیم ۱؎
ہم کو محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی راہ چلا ان کی شریعت پر ثابت قدم رکھ،
(۱؎ القرآن الکریم ۱/ ۵)
عبداللہ بن عباس وامام ابوعالیہ وامام حسن بصری رضی اللہ تعالٰی عنہم فرماتے ہیں:
الصراط المستقیم رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وصاحباہ ، رواہ عن ابن عباس الحاکم ۲؎ فی صحیحہ وعن ابی العالیۃ من طریق عاصم الاحول عنہ عبد بن حمید وابناء جریج وابی حاتم وعدی و عساکر وفیہ ابی حاتم وعدی و عساکر و فیہ فذکر نا ذٰلک للحسن فقال صدق ابوالعالیۃ ونصح ۳؎۔
صراط مستقیم محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اور ابوبکر صدق وعمر فاروق ہیں رضی اللہ تعالٰی عنہما (اس کو حاکم نے اپنی صحیح میں ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا اور ابوالعالیہ سے بطریق عاصم الاحول ان سے عبد بن حمید اور جریج وابی حاتم وعدی اور عساکر کے بیٹوں نے اور اس میں ہے کہ ہم نے یہ حدیث حسن سے ذکر کی تو انھوں نے فرمایا ابوالعالیہ نے خالص سچ کہا۔ (ت)
(۲؎ المستدرک للحاکم کتاب التفسیر شرح الصراط المستقیم دارالفکر بیروت ۲ /۲۵۹)
(۳؎ تفسیر القرآن العظیم لابن ابی حاتم تفسیر سورۃ الفاتحہ مکتبہ نزار مصطفی الباز ریاض ۱/ ۳۰)
یہی وہ راہ ہے جس کا منتہا اللہ ہے۔ قرآن عظیم میں فرمایا:
ان ربی علی صراط مستقیم ۱؎
بیشک اس سیدھی راہ پر میرا رب ملتاہے۔
(۱؎ القرآن الکریم ۱۱ /۵۶)
یہی وہ راہ ہے جس کا مخالف بددین گمراہ ہے، قرآن عظیم نے فرمایا:
وان ہذا صراطی مستقیما فاتبعوہ ولا تتبعوا السبل فتفرق بکم عن سبیلہ ذٰلکم وصکم بہ لعلکم تتقون ۲؎۔
(شروع رکوع سے احکام شریعت بیان کرکے فرماتاہے) اور اے محبوب! تم فرمادو کہ یہ شریعت میری سیدھی راہ ہے تو اس کی پیروی کرو اور اس کے سوااور راستوں کے پیچھے نہ جاؤ کہ وہ تمھیں اس کی تاکید فرماتاہے تاکہ تم پرہیز گاری کرو۔
(۲؎القرآن الکریم ۶ /۱۵۳ )
دیکھو قرآن مجید نے صاف فرمادیا کہ شریعت ہی صرف وہ راہ ہے جس سے وصول الی اللہ ہے اور اس کے سوا آدمی جو راہ چلے گا اللہ کی راہ سے دور پڑے گا۔