Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۱(کتاب الحظر والاباحۃ )
104 - 144
ثم اقول غالب یہی ہے کہ بے پیر اس راہ کاچلنے والا ان آفتوں میں گرفتار ہوجاتاہے اور گرگ شیطان اسے بے راعی کی بھیڑپاکر نوالہ کرلیتاہے اگرچہ ممکن کہ لاکھوں میں ایک ایسا ہو جسےجذب ربانی ہی کفایت وکفالت کرے اور بے توسط پیراسے مکائد نفس وشیطان سے بچاکر نکال لے جائے اس کے لئے مرشدعام مرشد خاص کا کام دے گا۔ خود حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اس کے مرشد خاص ہوں گے کہ بے توسط نبی کوئی وصول ممکن نہیں مگرت یہ ہے تو نہایت نادر ہے اور نادر کےلئے حکم نہیں ہوتاثم اقول بے مرشد خاص ا راہ میں قدم رکھنے والوں میں بڑا خوش نصیب وہ ہے کہ ریاضتیں چلے مجادہدے کرے اور اس پر اصلا فتح یاب نہ ہوراہ ہی نہ کھلے جس کی شواریاں پیش آئیں یہ آپنی فلاح تقوے پر قائم رہے گا دو شرط سے: ایک یہ کہ اس کا مجاہدہ اسے عجب نہ دلائے اپنے آپ کو اوروں سے اچھا نہ سمجھنے لگے، ورنہ فلاح تقوٰی سے بھی ہاتھ دھوبیٹھے گا۔ دوسرے یہ کہ عظیم محنتوں کے بعد محرومی کی تنگ دلی کسی عظیم امر میں نہ ڈال دے کہ کوئی کلمہ سخت کہہ بیٹھے یا دل سے منکر ہوجائے کہ اس وقت فلاں تو درکنار اس کا پیر شیطان ہوجائے گا اور اگر اپنی تقصیر سمجھا اور تذلل وانکسار پر قائم رہا تو اس حکم سے مستثنٰی رہے گا یوں کہ جب راہ نہی کھلی تو راہ چلا ہی نہیں اور اس کے مثل ہو اجو فلاح تقوٰی پر مقتصر رہا
اقول: قرآن کریم کے لطائف لامتناہی ہیں اس بیان سے آیہ کریمہ:
یایھاالذین اٰمنوا اتقواﷲ وابتغوا الیہ الوسیلۃ وجاہدوا فی سبیلہ لعلکم تفلحون ۱؎o
اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اس کی طرف وسیلہ تلاش کرو اور اس کی راہ میں جان لڑاؤ اس امید پر کہ فلاح پاؤ۔ (ت) کے مبارک جملوں کا حسن ترتیب واضح ہوا، یہ فلاح احسان کی طرف دعوت ہے اس کے لئے تقوٰی شرط ہے تو اولا اس کاحکم فرمایا کہ
اتقوااﷲ
 (اللہ سے ڈرو۔ ت)
 (۱؎القرآن الکریم    ۵ /۳۵)
اب کہ تقوٰی پر قائم ہوکر راہ احسان میں قدم رکھنا چاہتاہے اور یہ عادۃ بے وسیلہ شیخ ناممکن ہے لہذا دوسرے مرتبہ میں قبل سلوک تلاش پیر کو مقدم فرمایا :
وابتغوا الیہ الوسیلۃ
(اس کی طرف وسیلہ تلاش کرو۔ ت) اس لئے کہ
الرفیق ثم الطریق
 (پہلے ساتھ تلاش کرو پھرراستہ لو۔ت) اب کہ سامان مہیا ہو لیا اصل مقصود کا حکم دیاکہ
جاھدوا فی سبیلہ
اس کی راہ میں مجاہدہ کرو
لعلکم تفلحون
تاکہ فلاح احسان پاؤ۔
جعلنا اﷲ من المفلحین بفضل رحمتہ بھم انہ ھوالرؤف الرحیم وصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وبارک علی من بہ الصلاح والفلاح ولی الہ وصحبہ وابنہ وحزبہ اجمعین اٰمین۔
اللہ ہمیں فلاح والوں میں کرے اس کی رحمت کےفضل سے جو فلاح والوں پ رکی بیشک وہی بڑا مہربان رحم والا ہے اور اللہ درود وسلام وبرکت اتارے ان پرجن کے صدقے میں ہر صلاح وفلاح ہے اوران کے آل واصحاب اور ان کے بیٹے حضور غوث اعظم اور ان کے سب گروہ پر آمین۔ (ت)
ثم اقول :  یہاں سے ظاہرہوا کہ اس میں راہ فلاح وسیلہ پر موقوف کہ ا س کو اس پر مرتب فرمایا تو ثابت ہوا کہ یہاں بے پیرا فلاح نہ پائے گا اورجب فلاح نہ پائے گا خاسر ہوگا تو حزب اللہ سے نہ ہوا حزب الشیطان سے ہوگا کہ رب عزوجل فرماتاہے :
الاان حزب الشیطان ہم الخسرون ہ ۱؎ الا ان حزب اﷲ ہم المفلحون ۲؎۔
سنتاہے شیطان ہی کا گروہ خاسر ہے سنتاہے اللہ ہی کا گروہ فلاح والا ہے۔
 (۱؎ القرآن الکریم  ۵۷ /۱۹)	(۲؎ القرآن الکریم   ۵۸/ ۲۲)
تودوسرا جملہ بھی ثابت ہوا کہ بے پیرے کا پیر شیطان ہے جس کا بیان ابھی گزرا
نسأل اﷲ العفو والعافیۃ
(ہم اللہ تعالٰی سے معافی وعافیت کا سوال کرتے ہیں۔ ت)
بالجملہ حاصل تحقیق یہ چند جملے ہوئے :

(۱) ہر بد مذہب فلاح سے دور ہلاکت میں چور ہ۔ مطلقا بے پیرا ہے، اور ابلیس ا س کا پیر، اگر چہ بظاہر کسی انسان کا مرید ہوبلکہ خود پیر بنے راہ سلوک میں قدم رکھے نہ رکھے ہرطرح لایفلح وشیخہ الشیطان (فلاح نہیں پائے گا اوراس کا پیر شیطان ہے۔ ت) کامصداق ہے۔

(۲) سنی صحیح العقیدہ کہ راہ سلوک نہ پڑا اگر فسق کرے فلاح پر نہیں مگر پھر بھی نہ بے پیرا ہے نہ اس کا پیر شیطان بلکہ جس شیخ جامع شرائط کا مرید ہو ا س کا مرید ہے ورنہ مرشد عام کا۔

(۳) یہ اگر تقوٰی کرے تو فلاح پر بھی ہے اور بدستور اپنے شیخ یا مرشد کا عام کا مرید غرض سنی کا مضایق سلوک میں نہ پڑا کسی خاص بیعت نہ کرنے سے بے پیرا نہیں ہوتا نہ شیطان کا مرد ہاں فسق کرے تو فلاح پر نہیں اور متقی ہو تو مفلح بھی ہے۔
 (۴) اگر مضایق سلوک میں بے پیر خاص قدم رکھا اور راہ کھل ہی نہیں نہ کوئی مرض مثل عجب وانکار پیدا ہو تو اپنی پہلی حالت پر ہے اس میں کوئی تغیر نہ آیا شیطان اس کا پیر نہ ہوگا اور متقی تھاتو فلاح پر بھی ہے۔

(۵) یہ مرض پیداہوئے تو فلاح پر نہ رہا اور بحالت انکار وفساد عقیدہ مرید شیطان بھی ہوگیا۔

(۶) اگر راہ کھلی تو جب تک پیرا یصال کے ہاتھ پر بیعت ارادت نہ رکھتا ہو غالب ہلاک ہے اس بے پیر ے کا پیر شیطان ہوگا اگرچہ بظاہر کسی ناقابل پیر یا محض شیخ اتصال کا مرید یا خود شیخ بنتاہو۔
 (۷) ہاں اگر محض جذب ربانی کفالت فرمائے تو ہر بلا دور ہے اور اس کے پیر رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۔

الحمدللہ !یہ وہ تفصیل جمیل وتحقیق جلیل ہے کہ ان اوراق کے سوا کہیں نہ ملے گی، بیس برس ہوئے جب بھی یہ سوال ہوا اور ایک مختصر جواب لکھا گیا تھا جس کی تکمیل وتفصیل یہ ہے کہ اس وقت قلب فقیر پر فیض قدیر سے فائض ہوئی۔
والحمدﷲ رب العالمین وافضل الصلٰوۃ واکمل السلام علی سید المرسلین و  صحبہ اجمعین، واﷲ سبحنہ وتعالٰی اعلم۔
Flag Counter