اقول:( میں کہتاہوں ۔) اس کے لئے مرشد خاص کی ضرورت بایں معنی نہیں کہ بے اس کے یہ فلاح مل ہی نہ سکے یہ جیسا کہ اوپر گزرا ، فلاں ظاہر ہے اس کے احکام واضح ہیں، آدمی اپنے علم سے یا علماء سے پوچھ پوچھ کر متقی بن سکتاہے اعمال قلب میں اگر چہ بعض دقائق ہیں مگر محدود اور کتب ائمہ مثل امام ابوطالب مکی وامام حجۃ الاسلام غزالی وغیرہما میں مشروح تو بے بیعت بھی اس کی راہ کشادہ اور اس کا دروازہ مفتوح، یہ جب کہ اسی قدر پراقتصار کرے تو ہم اوپر بیان کر آئے کہ غیر متقی سنی بھی بے پیرا نہیں متقی کیونکر بے پیرا، یا معاذاللہ مرید شیطان ہوسکتاہے اگر چہ کسی خاص کے ہاتھ پر بیعت نہ کی ہوکہ یہ جس راہ میں ہے اس میں مرشد عام کے سوا مر شد خاص کی ضرورت ہی نہیں ، تو جتنا پیرا سے درکار ہے حاصل ہے۔ تو اولیاء کا قول دوم کہ جس کے لئے شیخ نہیں اس کا شیخ شیطان ہے اس سے متعلق نہیں ہوسکتا اور قول اول کہ بے پیر افلاح نہیں پاتا۔ یہ تو بداہۃ اس پر صادق نہیں فلاح تقوٰی بلاشبہہ فلاح ہے اگر چہ فلاح احسان اس سے اعظم واجل ہے۔
اللہ عزوجل فرماتاہے :
ان تجتنبوا کبٰئر ماتنہون عند کفر عنکم سیاتکم وندخلکم مدخلا کریما ۱؎o
اگر تم گناہوں سے بچے تو ہم تمھاری برائیاں مٹادیں گے اور تمھیں عزت والے مکان میں داخل فرمائیں گے۔
(۱؎ القرآن الکریم ۴ /۳۱)
یہ بلاشبہہ نفوز عظیم ہے مولی تعالٰی نے اہل تقوٰی واہل احسان دونوں کے لئے اپنی معیت ارشاد فرمائی :
ان اﷲ مع الذین اتقوا والذین ھم محسنون ۲؎۔
بے شک اللہ متقیوں کے ساتھ ہے اور ان کے جو اہل احسان ہیں۔
(۲؎القرآن الکریم ۱۶ /۱۲۸)
یہ کیسا افضل عظیم ہے اور فلاح کے لئے کیا چاہئے اقول بات یہ ہے کہ تقوٰی عموما ہر مسلمان پر فرض عین ہے اور اس فلاح اعلی یعنی عذاب سے رستگاری کے لئے بفضل الٰہی حسب وعدہ صادقہ کافی ووافی، احسان یعنی سلوک راہ ولایت اعلٰی درجے کا مطلب ومحبوب ہے مگر اس کی طرح فرض نہیں ورنہ اولیاء کے سوا کہ ہر دور میں صرف اایک لاکھ چوبیس ہزارہوتے ہیں باقی کروڑ ہا کروڑمسلمان ہزار ہا علماء وصلحا ء سب معاذاللہ تارک فرض وفساق ہوں اولیاء نے بھی کبھی اس راہ کی عام دعوت نہ دی کروڑوں میں سے معدودے چند کو اس پر چلایا اور اس کے طالبوں میں سے بھی جسے اس بار کے قابل نہ پایا واپس فرمایا فرض دے واپس کرنا کیونکر ممکن تھا :
لایکلف اﷲ نفسا الا وسعہا ۳؎ لایکلف اﷲ نفسا الا مااٰتٰھا ۴؎۔
اللہ کسی جان کو تکلیف نہیں دیتا مگر اس کی طاقت بھر اللہ کسی کو تکلیف نہیں دیتامگر اتنے کی جو اسے دیا ہے۔ (ت)
(۳؎القرآن الکریم ۲ /۲۸۶) (۴؎القرآن الکریم ۶۵ /۷)
عوارف شریف میں ہے :
اماخرقۃ التبرک فیطبلھا من مقصودہ التبرک بزی القوم ومثل ھذا لایطالب بشرائط الصحۃ بل یوصی بلزوم حدود الشرع و مخالطۃ ھذا الطائفۃ لتعود علیہ برکتھم ویتادب بادابھم فسوف یرقیہ ذٰلک الی الاھلیۃ الخرقۃ الارادۃ فعلی ھذہ خرقۃ التبرک مبذولۃ لکل طالب وخرقۃ الارادۃ ممنوعۃ الامن الصادق الراغب ۱؎۔
جو شخص خرقہ تبرک کاخواہاں ہے تو اس کا مقصود صرف یہ ہے کہ وہ صوفیائے کے اس لباس سے برکت حاصل کرے اس کے لئے وہ تمام شرائط مخلوق نہیں رکھے جاتے جو خرقۃ وارادت کے لئے ضروری ہیں بلکہ صرف اتنا کہیں گے کہ شریعت کا پابند رہ اور اولیاء کی صحبت اختیار کر کہ شاید اس کی برکت اسے خرقہ ارادت کااہل کردے یہی وجہ ہے کہ خرقہ تبرک تو ہر طالب حقیقت کو دیا جاسکتاہے مگر خرقہ ارادت صرف طلب صادق کے لئے مخصوص ہے۔ (ت)
توظاہر ہوا کہ اس کا ترک نافی فلاح نہیں۔ نہ کہ معاذاللہ مرید شیطان کردے۔
اکابر علماء وائمہ میں ہزار ہا وہ گزرے ہیں جن سے یہ بعیت خاصہ ثابت نہیں یاکی تو آخرعمر میں بعد حصول مرتبہ امامت اور وہ بھی بیعت برکت جیسے امام ابن حجر عسقلانی نے سیدی مدین قدس سرہ، کے دست مبارک پر، اقول ہاں جو اس کا ترک بوجہ انکار کرے اسے باطل ولغو جانے وہ ضرور گمراہ اور بے فلاں ومرید شیطان ہے جب کہ اس انکار مطلق ہو،اوراگر اپنے عصر ومصر میں کسی کو بیعت کے لئے کافی نہ جانے تو اس کا حکم اختلاف منشا سے مختلف ہوگا، اگر یہ اپنے تکبر کے باعث ہے تو
الیس فی جھنم مثوی المتکبرین ۲؎
کیا جہنم میں متکبروں کا ٹھکانا نہیں،
(۲؎ القرآن الکریم ۳۹/ ۶۰)
اور اگر بلاوجہ شرعی اپنی بدگمانی کے باعث سب کو نااہل جانے تو یہ بھی کبیرہ ہے اور مرتکب کبیرہ مفلح نہیں۔ اوراگر ان میں وہ باتیں ہیں کہ اشتباہ میں ڈالتی ہیں اور یہ بنظر احتیاط بچتا ہے توالزام نہیں۔
ان من الحرم سوء الظن دع مایریک الی مالایریبک۔
بیشک احتیاط میں داخل ہے، برا پہلو بچنے کے لئے سوچ لینا جس بات میں تجھے دغدغہ ہو اسے چھوڑ کر وہ اختیار کر جو بے دغدغہ ہو۔
فلاح انسان
فلاح انسان کے لئے بے شک مرشد خاص کی حاجت ہے اور وہ بھی شیخ ایصال کی شیخ اتصال اس کے لئے کافی نہیں اور اس کے ہاتھ پر بھی بیعت ارادت ہو، بیعت برکت یہاں بس نہیں اس راہ میں وہ شدید باریکیاں اور سخت تاریکیاں ہیں کہ جب تک کامل مکمل اس راہ کے جملہ نشیب وفراز سے آگاہ وماہر حل نہ کرے حل نہ ہوں گے نہ کتب سلوک کا مطالعہ کام دے گا کہ یہ دقائق تقوٰی کی طرح محدود نہیں جن کا ضبط کتاب کر سکے
الطر ق الی اﷲ بعددانفاس الخلائق
اللہ تک راستے اتنے ہیں جتنی تمام مخلوقات کی سانسیں، حضور سیدنا غوث رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں :
ان اﷲ لایتجلی لعبد فی صفتین ولا فی صفۃ لعبدین ۱؎ الخ۔ رواہ فی البہجۃ الشریفۃ وفیہ ثنیا یطول شرحہا۔
اللہ تعالٰی عزوجل نہ ایک بندے پر دو صفتوں میں تجلی فرمائے نہ ایک صفت سے دو بندوں پر (یہ ارشاد مبارک بہجۃ الاسرار شریف میں روایت کیا اور اس میں ایک استثناء ہے جس کی شرح طویل ہے۔ ت)
(۱؎ بہجۃ الاسرار فصول من کلامہ مرصعابشیئ من عجائب احوالہ مصطفی البابی مصر ص۸۲)
اور ہر راہ کی دشواریاں ، باریکیاں، گھاٹیاں جد اہیں جن کو نہ یہ خود سمجھے سکے گا نہ کتاب بتائے گی اور وہ پرانا دشمن مکار پر فن ابلیس لعین ہر وقت ساتھ ہے۔ اگر بتانے والا آنکھیں کھولنے والاہاتھ پکڑنے والا مدد فرمانے ولا ساتھ نہ ہو تو خدا جانے کس کھوہ میں گرائے کس گھاٹی میں ہلاک کرے، ممکن ہے کہ سلوک درکنار معاذاللہ ایمان تک ہاتھ سے جائے جیسا کہ اس کا کہنابارہا واقع ہوچکاہے حضور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کا ابلیس کے مکر کو رد فرمانا اور اس کا کہنا اے عبدالقادر ! تمھیں تمھارے علم نے بچالیا ورنہ اسی دھوکے سے میں نے ستر اہل طریق ہلاک کئے ہیں، معروف ومشہور اور کتب ائمہ مثل بہجۃ الاسرار شریف وغیرہا میں مروی (یعنی یہ روایت لکھی ہوئی ہے) ومسطور۔
اقول : حاشا یہ مرشدعام کا عجز نہیں بلکہ اس کے سمجھنے سے سالک کا عجز ہے مرشد عام میں سب کچھ ہے
مافرطنا فی الکتب من شیئ ۲؎
ہم نے کتاب میں کوئی چیز اٹھا نہ رکھی
(۲؎ القرآن الکریم ۶ /۳۸)
مگر احکام ظاہر عام لوگ نہیں سمجھ سکتے جس کے سبب عوام کو علماء علماء کو ائمہ، ائمہ کو رسول کی طرف رجوع فرض ہوئی کہ :
فاسئلوا اھل الذکر ان کنتم لاتعلمون ۱؎o
ذکروالوں سے پوچھو اگر تم نہیں جانتے۔
(۱؎القرآن الکریم ۱۶ / ۴۳و ۲۱)
یہی حکم یہاں بھی ہے اور یہاں اہل اللہ کروہ مرشد خاص باوصاف مذکورہ ہے تو جو اس راہ میں قدم رکھے اور (۱) کسی کو پیر نہ بنائے (۲) کسی مبتدع (۳) کسی جاہل کا مرید ہو جو پیر اتصال بھی نہیں (۴)ایسے پیر کا مرید ہو جو صرف پیر اتصال ہے قابل ایصال نہیں اور اس کے بھروسے پر یہ راہ طے کرنا چاہے (۵) شیخ ایصال ہی کا مرید ہو مگر خود رائی برتے اس کے احکام پر نہ چلے تو یہ شخص اس فلاح کو نہ پہنچے گا، اور اس راہ میں ضرور اس کا پیر شیطان ہوگا جس سے تعجب نہیں کہ اسے فلاح بلکہ نفس ایمان سے دور کردے
والعیاذ باللہ رب العالمین اقول
بلکہ اس کا نہ ہونا ہی تعجب ہے یہ نہ سمجھو کہ غلطی پڑے گی تو اسی قدر کہ اس راہ میں بہکے گا یہ فرض نہ تھی کہ اس کے نہ پانے سے اصلی فلاح نہ رہے۔ نہیں نہیں عدد لعین تو دشمن ایمان ہے وقت وموقع کا منتظر ہے وہ کرشمے دکھاتاہے جن سے عقائد ایمانی پر حرف آتاہے۔ آدمی ایک بات سنے ہوئے ہے اورا ب آنکھوں سے اس کے خلاف دیکھے توکس قدر مشکل ہے کہ اپنے مشاہدے کو غلط جانے اور اسی اعتقاد پر جمارہے حالانکہ
لیس الخبر کالمعاینۃ شنیدہ کے بعد مانند دیدہ
(سنی ہوئی بات دیکھنے کے مانند کب ہوسکتی ہے۔ ت) پیر کامل کو چاہئے کہ ان شبہا ت کاکشف کرے۔
رسالہ مبارک اما قشیری میں ہے :
اعلم ان فی ھذہ الحالۃ قلما یخلوالمرید فی اوان خلوتہ فی ابتداء ارادتہ من الوسادس فی الاعتقاد ۲؎ الی اٰخر ما افاد واجاد علینا بہ وعلیہ رحمۃ الملک الجواد۔
واضح ہو کہ اس حالت میں ابتدائے ارادت کے زمانہ خلوت میں کم کوئی مریدہوگا جسے عقائد میں وسوسہ نہ آتے ہو آخر مفید او جید بیان تک، اور ان پر اللہ تعالٰی کی رحمت ہو۔ (ت)
(۲؎ الرسالۃ القشیریۃ باب الوصیۃ للمریدین مصطفی البابی مصر ص۱۸۲)