Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۱(کتاب الحظر والاباحۃ )
102 - 144
ثانیا ان غلامان خاص کے ساتھ ایک سلک میں منسلک ہوناع
بلبل ہمیں کہ قافیہ گل شود بس است
(بلبل کو یہی کہ پھول کی صحبت ہو کافی ہے۔ ت)
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
ھم القوم لایشقی بہم جلیسہم ۲؎۔
وہ وہ لوگ ہیں کہ ان کے پاس بیٹھنے والا بھی بدبخت نہیں رہتا۔
 (۲؎ جامع الترمذی     ابواب الدعوات ۲ /۱۹۹  و  مسند احمد بن حنبل         ۲ /۲۵۳ و  ۳۵۹  و  ۳۸۳)
ثالثا محبوبان خدا آیہ رحمت ہیں، وہ اپنا نام لینے والے کو اپنا کرلیتے ہیں اور اس پر نظر رحمت رکھتے ہیں امام یکتا سیدی ابوالحسن نورا لملۃ والدین علی قدس سرہ، بہجۃ الاسرار شریف میں فرماتے ہیں : حضور پر نور سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے عرض کی گئی کہ اگر کوئی شخص حضور کا نام لیوا ہو اور اس نے نہ حضور کے دست مبارک پر بیعت کی ہو نہ حضور کاخرقہ پہنا ہو کیا وہ آپ کے مریدوں میں شمار ہوگا فرمایا :
من انتمی الی وتسمٰی لی قبلہ اﷲ تعالٰی و تاب علیہ ان کان علی سبیل مکروہ وھو من جملۃ اصحابی وان ربی عزوجل وعدنی ان یدخل اصحابی واھل مذھبی وکل محب لی الجنۃ ۱؎۔
جو اپنے آپ کو میری طرف نسبت کرے اور اپنا نام میرے غلاموں کے دفتر میں شامل کرے اللہ اسے قبول فرمائے گا اور اگر وہ کسی ناپسندیدہ راہ پر ہو تو اسے توبہ دے گا اور وہ میرے مریدوں کے زمرے میں ہے اور میرے رب عزوجل نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے کہ میرے مریدوں اور ہم مذہبوں اورمیرے ہر چاہنے والے کو جنت میں داخل فرمائے گا
(و الحمد اللہ رب العالمین)
(۱؎ بہجۃ الاسرار  ذکر فصل اصحابہ وبشراھم  مصطفی البابی مصر    ص۱۰۱)
دوم بیعت ارادت کہ اپنے ارادہ واختیار سے یکسر باہر ہوکر اپنے آپ کو شیخ مرشد ہادی برحق واصل حق کے ہاتھ میں بالکل سپرد کردے اسے مطلقا اپنا حاکم ومالک ومتصرف جانے، اس کے چلانے پر راہ سلوک چلے کوئی قدم بے اس کی مرضی کے نہ رکھے اس کے لئے بعض احکام یا اپنی ذات میں خود اس کے کچھ کام اگر اس کے صحیح نہ معلوم ہوں انھیں افعال خضرعلیہ الصلٰوۃ والسلام کے مثل سمجھے اپنے عقل کا قصور جانے، اس کی کسی بات پر دل میں بھی اعتراض نہ لائے اپنی ہر مشکل اس پر پیش کرے غرض اس کے ہاتھ میں مردہ بدست زندہ ہوکر رہے۔ یہ بیعت سالکین ہے اور یہی مقصود ومشائخ مرشیدین ہے۔ یہی اللہ عزوجل تک پہنچاتی ہے یہی حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم سے لی ہے جسے سیدنا عبادہ بن صامت انصاری رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ :
بایعنا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم علی السمع والطاعۃ فی العسر والیسر والمنشط والمکرہ وان لاننازع الامر اھلہ ۲؎۔
ہم نے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے اس پر بیعت کی کہ ہر آسانی ودشواری ہر خوشی وناگواری میں حکم سنیں گے اور اطاعت کریں گے اور صاحب حکم کے کسی حکم میں چون چرانہ کریں گے،
 (۲؎ صحیح بخاری  کتاب الفتن  باب قول النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سترون بعدی امورا قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۰۴۵)

(صحیح مسلم     کتاب الامارۃ باب وجوب طاعۃ الامراء فی غیر معصیۃ لہ،    قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲ /۱۲۴)
شیخ ہادی کا حکم رسول کا حکم ہے اور رسول کاحکم اللہ کاحکم اور اللہ کے حکم میں مجال دم زدن نہیں،

 اللہ عزوجل فرماتاہے :
وماکان لمؤمن ولامؤمنہ اذا اقضی اﷲ ورسولہ امرا ان یکون لہم الخیرۃ من امرھم ومن یعص اﷲ ورسولہ فقد ضل ضلا لامبینا ۱؎۔
کسی مسلمان مرد وعورت کو نہیں پہنچتا کہ جب اللہ ورسول کسی معاملہ میں کچھ فرمادیں تو پھر انھیں کام کا کوئی اختیار رہے اور جو اللہ ورسول کی نافرمانی کرے وہ کھلا گمرا ہ ہوا۔
 (۱؎ القرآن الکریم    ۳۳ /۳۶)
عوارف شریف میں ارشاد فرمایا :
دخولہ فی حکم الشیخ دخولہ فی حکم اﷲ ورسولہ واحیاء سنۃ المبایعۃ ۲؎۔
شیخ کے زیر حکم ہونا اللہ ورسول کے زیر حکم ہونا ہے اور اس بیعت کی سنت کازندہ کرنا۔
 (۲؎ عوارف المعارف   الباب الثانی عشرۃ   مطبعۃ المشہد الحسینی قاہرہ    ص۷۸)
نیزفرمایا :
ولایکون ھذا  الالمرید حصر نفسہ مع الشیخ وانسلخ من ارادۃ نفسہ وفنی فی الشیخ بترک اختیار نفسہ ۳؎۔
یہ نہیں ہوتا مگر اس مرید کے لئے جس نے اپنی جان کو شیخ کی قید کردیا اور اپنے ارادے سے بالکل باہر آیا اپنا ختیار چھوڑ کر شیخ میں فنا ہوگیا۔
 (۳؎عوارف المعارف     الباب الثانی  عشرۃ     مطبعۃ المشہد الحسینی قاہرہ    ص۷۸)
پھر فرمایا :
ویحذر الاعتراض علی الشیوخ فانہ السم القاتل للمرید ین، وقل ان یکون مرید یعترض علی الشیخ بباطنہ فیفلح، ویذکر المرید فی کل ما اشکل علیہ من تصاریف الشیخ قصۃ الخضر علیہ السلام کیف کان یصدر من الخضر قصاریف ینکرھا موسٰی، ثم لما کشف لہ عن معنا ھا بان لموسی وجہ الصواب فی ذٰلک فھکذا ینبغی للمرید ان یعلم ان کل تصرف اشکل علیہ صحتہ من الشیخ عند الشیخ فیہ بیان وبرھان للصحۃ ۱؎۔
پیروں پر اعتراض سے بچے کہ یہ مریدوں کے لئے زہر قاتل ہے۔ کم کوئی مرید ہوگا جو اپنے دل میں شیخ پر کوئی اعتراض کرے پھر فلاح پائے، شیخ کے تصرفات سے جو کچھ اسے صحیح نہ معلوم ہوتے ہوں ان میں خضر علیہ الصلٰوۃ والسلام کے واقعات یاد کرلے کیونکہ ان سے وہ باتیں صادر ہوتی تھیں بظاہر جن پر سخت اعتراض تھا (جیسے مسکینوں کی کشتی میں سوراخ کردینا، بے گناہ بچے کو قتل کردینا) پھر جب وہ اس کی وجہ بتاتے تھے ظاہر ہوجاتا تھاکہ حق یہی ہے تھا جو انھوں نے کہا، یوں ہی مریدکو یقین رکھنا چاہئے کہ شیخ کا جو فعل مجھے صحیح معلوم نہیں ہوتا۔ شیخ کے پاس اس کی صحت پر دلیل قطعی ہے۔
 (۱؎ عوارف المعارف     الباب الثانی عشرہ     مطبعہ المشہد الحسینی قاہرہ    ص۷۹)
اما ابوالقاسم قشیری رسالہ میں فرماتے ہیں : میں نے حضرت ابوعبدالرحمن سلمی کو فرماتے سنا کہ ان سے ان کےشیخ حضرت ابو سہل صعلو کی نے فرمایا :
من قال الاستاذہ لم، لایفلح ابدا ۲؎۔
جوا پنے پیر سے کسی بات میں کیوں کہے گا کبھی فلاح نہ پائے گا۔
نسأل اﷲ العفو والعافیۃ
(اللہ تعالٰی سے ہم معافی اور عافیت ک دعاکرتے ہیں۔ ت)
(۲؎ رسالۃ القشیریۃ  باب حفظ قلوب المشائخ وترک الخلاف علیہم     مصطفی البابی مصر    ص۱۵۰)
جب یہ اقسام معلوم ہولئے تو اب حکم مسئلہ کی طرف چلئے، مطلق فلاح کے لئے مرشد عام کی قطعا ضرورت ہے۔ فلاح تقوٰی ہو یا فلاح احسان مرشد سے جدا ہو کر ہر گز نہیں مل سکتی اگرچہ مرشد خاص رکھتا بلکہ خود مرشد خاص بنتا ہو، اقول (میں کہتاہوں۔ ت) پھر اس سے جدائی دو طرح ہے :

اول صرف عمل میں جیسے کسی کبیرے کا مرتکب یا صغیر ے پر مصر، اور اس سے بدتر ہے وہ جاہل کہ علماء کی طرح رجوع ہی نہ لائے اور اس سے بدتر کہ باوصف جہل ذی رائے بنے، احکام علماء میں اپنی رائے کو دخل دے یا حکم کے خلاف اپنے یہاں کے باطل رواج پر اڑے اور اسے حدیث وفقہ سے بتادیا جائے کہ یہ رواج بے اصل ہے جب بھی اس کوحق کہے، بہر حال یہ لوگ فلاح پر نہیں۔ اور بعض بعض سے زائد ہلاکت میں ہیں مگر صرف ترک عمل کے سبب نہ بے پیرا ہو نہ اس کا پیر شیطان جبکہ اولیاء وعلمائے دین کا سچے دل سے مقتد ہو اگر چہ شامت نفس نافرمانی پر لائے کہ بیعت جس طرح باعتبار پیر خاص دو قسم تھی یوں ہی باعتبار مرشد عام بھی، اگر اس کے حکم پر چلتاہے ، بیعت ارادت رکھتاہے ورنہ بیعت برکت سے خالی نہیں کہ ایمان واعتقاد ت توہے تو گنہ گار سنی اگر کسی پیر جامع شرائط اربعہ کا مرید ہے فبہا اورنہ بوجہ حسن اعتقاد مرشد عام کے منتسبوں میں ہے اگر چہ نافرمانی کے باعث فلاح پر نہیں دوم منکر ہو کہ جدائی مثلا (۱) وہ ابلیس مسخرے کہ علمائے دین پر ہنستے اور ان کے احکام کو لغو سمجھتے ہیں انہی میں وہ جھوٹے مدعیان فقر جو کہتے ہیں کہ عالموں فقیروں کی سدا سے ہوتی آئی ہے یہاں تک کہ بعض خبیثوں صاحب سجادہ بلکہ قطب وقت بننے والوں کو یہ لفظ کہتے سنے گئے کہ عالم کون ہے۔ سب پنڈت ہیں، عالم تو وہ جو انبیائے نبی اسرائیل کے سے معجزے دکھائے (۲)وہ دہرئے ملحد فقیر وولی بننے والے کو کہتے ہیں شریعت راستہ ہے ہم تو پہنچ گئے، ہمیں راستے سے کیا کام، ان خبیثوں کا رد ہمارے رسالے "مقال عرفا باعزار شرع وعلماء" میں ہے،
اما ابوالقاسم قشیری قدس سرہ، رسالہ مبارک میں فرماتے ہیں: ابوعلی الروذباری بغدادی اقام بمصر ومات بہا سنۃ اثنتین وعشرین و ثلثمائۃ صحب الجنید والنوری اظرف المشائخ واعلمھم بالطریقۃ سئل عمن یسمع الملاھی ویقول ھی لی حلال لانی وصلت الی درجۃ لاتوثرفی اختلاف الاحوال فقال نعم قدر وصل ولکن الی سقر۔ ۱؎
یعنی سیدی ابوعلی روذباری رضی اللہ تعالٰی عنہ بغدادی ہیں۔ مصرمیں اقامت فرمائی اور اسی میں ۳۲۲ھ میں وفات پائی، سیرا لطائفۃ جنید و حضرت ابوالحسین احمد نوری رضی اللہ تعالٰی عنہما کے اصحاب سے ہیں، مشائخ میں ان سے زیادہ علم طریقت کسی کو نہ تھا۔ اس جناب میں سوال ہوا کہ ایک شخص مزامیر سنتااورکہتاہے یہ میرے لئے حلال ہیں اس لئے کہ میں ایسے درجے تک پہنچ گیا کہ احوال کا اختلاف مجھ پر کیوں اثرنہیں ڈالتا، فرمایا ہاں پہنچا تو ضرور مگر کہاں تک جہنم تک،
 (۱؎ الرسالۃ القشیریۃ      منہم ابوعلی احمد بن محمد الروذہاری     مصطفی البابی مصر    ص۲۶)
عارف باللہ سیدی عبدالوہاب شعرانی قد س سرہ، کتاب الیواقیت والجواہر فی عقائد الاکابر میں فرماتے ہیں فرماتے ہیں: حضور سید الطائفہ جنید بغدادی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے عرض کی گئی کچھ لوگ کہتے ہیں
ان التکالیف کانت وسیلۃالی الوصول وقد وصلنا
شریعت کے احکام تو وصول کے وسیلہ تھے اور ہم دارصل ہوگئے، فرمایا
صدقوا فی الوصول ولکن الی سقر والذی یسرق ویزنی خیر ممن یعتقد ذٰلک ۲؎
وہ سچ کہتے ہیں، واصل تو ضرور ہوئے مگر جہنم تک، چور اورزانی ایسے عقیدے والوں سے بہتر ہے۔
 (۲؎ الیواقیت والجواہر فی عقائد الاکابر     المبحث السادس والعشرون     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۱ /۲۷۳ و ۲۷۲)
 (۳) وہ جاہل اجہل یا ضال اضل کہ بے پڑھے کتابیں پڑھ کر بزعم خود عالم بن کر ائمہ سے بے نیاز ہو بیٹھے جیسا کہ قرآن وحدیث ابوحنیفہ وشافعی سمجھتے تھے ان کے زعم میں یہ بھی سمجھتے ہیں بلکہ ان سے بھی بہتر کہ انھوں نے قرآن وحدیث کے خلاف حکم دئے، یہ ان کی غلطیاں نکال رہے ہیں، یہ گمراہی بد دین غیر مقلد ہے۔

(۴) اس سے بدتر وہابیت کی اصل علت کہ تقویۃ الایمان پر سر منڈا بیٹھے، ا س کے مقابل قرآن وحدیث پس پشت پھینک دئے اللہ ورسول جل وعلا وصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم تک اس ناپاک کتاب کے طور معاذاللہ مشرک ٹھہریں اور یہ اللہ ورسول کو پیٹھ دے کر اسی کے مسائل پر ایمان لائیں۔

(۵) ان سے بدتر ان میں دیوبندی کہ انھوں نے گنگوہی ونانوتوی وتھانوی اپنے اہبارورہبان کفر کو اسلام بنانے کے لئے اللہ ورسول کو سخت سخت گالیاں قبول کیں۔

(۶) قادیانی (۷) نیچیری (۸) چکڑالوی (۹) روافض (۱۰) خوارج (۱۱) نواصب (۱۲) معتزلہ وغیرہم۔
بالجملہ جملہ مرتدین یا ضالین معاندین دین کہ سب مرشد عا م کے مخالف ومنکر ہیں، یہ اشد ہالک ہیں اور ان سب کا پیر شیطان اگر چہ بظاہر کسی کی بیعت کا نام لیں بلکہ خود پیر وولی وقطب بنیں۔
قال اللہ تعالٰی : استحوذ علیم الشیطن فانسٰھم ذکر اﷲ اولئک حزب الشیطن الا ان حزب الشیطن ھم الخسرونo۱؎
شیطان نے انھیں اپنے گھیرے میں لے کر اللہ تعالٰی کی یاد بھلادی وہی شیطان کے گروہ ہیں سنتا ہے شیطان ہی کے گروہ زیاں کار ہیں۔
 (۱؎ القرآن الکریم    ۵۷ /۱۹)
Flag Counter