حدیث میں ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
ثلاث لم تسلم منہا ھذا ا لامۃ الحسد و الظن والطیرۃ الاانبئکم بالمخرج منہا اذا ظننت فلا تحقق واذا حسدت فلاتبغ واذا تطیرت فامض، رواہ رستہ فی کتاب۱؎ الایمان عن الامام الحسن البصری مرسلا ووصلہ ابن عدی عن ابی ہریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بلفظ اذاحسدتم فلاتبغوا واذا ظنتم فلا تحققوا واذا تطیرتم فامضوا وعلی اﷲ فتوکلوا ۲؎۔
تین خصلتیں اس امت سے نہ جھوٹیں گی، حسد، بدگمانی اور بدشگونی، کیامیں تمھیں ان کا علاج نہ بتادوں، بد گمانی آئے تو اس پر کاربند نہ ہو اور حسد آئے تو محسود پر زیادتی نہ کراور بدشگونی کے باعث کے سے کام رک نہ رہو (اس حدیث کو رستہ نے کتاب الایمان میں امام حسن بصری سے بے ذکر صحابہ سے روایت اور ابن عدی نے متصل ابوہررہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے کہ رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا جب تمھارے دل میں حسد آئے توزیادتی نہ کرو اور بدگمانی آئے تو اسے جما نہ دو اور بدشگونی آئے تو رکو نہیں اور اللہ ہی پر بھروسہ کرو۔ ت)
(۱؎ کنز العمال بحوالہ سۃ فی کتا ب الایمان حدیث ۴۳۷۸۹ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۶ /۲۷ و ۲۸)
(۲؎کنز العمال بحوالہ عد عن ابی ہریرہ حدیث ۷۴۴۱ موسسۃ الرسالہ بیروت ۳ /۴۶۱)
یہ فلاح تقوٰی ہے اس سے آدمی سچا متقی ہوجاتاہے۔ ہم نے اسے فلاح ظاہر بایں معنیں کہا کہ اس میں جو کچھ کرنا نہ کرنا ہے اس کے احکام ظاہر وواضح ہوچکے ہیں
قد تبین الرشد من الغَیِّ ۳؎۔
(بیشک ہدایت ظاہر ہوگئی گمراہی سے۔ ت)
(۳؎ القرآن الکریم ۲/ ۲۵۶)
دوم فلاح باطنی کہ قلب وقالب رذائل سے متخلی اور فضائل سے متجلی کرکے بقایائے شرک خفی دل سے دورکئے جائیں یہاں تک کہ
لا مقصود الا اﷲ
(کوئی مقصود نہیں سوائے اللہ کے۔ ت) پھر
لامشھود الا اللہ
(کوئی نظر میں نہیں سوائے اللہ کے ) پھر
لاموجود الا اللہ
(کوئی وجود ذاتی نہیں رکھتا سوائے اللہ کے )متجلی ہو یعنی اولا ارادہ غیر سے خالی ہو پھر غیر نظر سے معدم ہو پھر حق حقیقت جلوہ فرمائے کہ وجود اسی کے لئے ہے باقی سب ظلال وپرتو، یہ منتہائے فلاح وفلاح احسان ہے۔ فلاح تقوٰی میں تو عذاب سے دور اور جنت کا چین تھا کہ :
فمن زحزح عن النار وادخل الجنۃفقد فاز ۱؎۔
جو جہنم سے بچا کر جنت میں داخل کیا گیا وہ ضرورفلاح کو پہنچا۔
(۱؎ القرآن الکریم ۳ /۱۸۵)
اور فلاح احسان سے اعظم ہے کہ عذاب کا کیا ذکر کسی قسم کا اندیشہ وغم بھی ان کے پاس نہیں آتا۔
الا ان اولیاء اﷲ لاخوف علیہم ولاھم یحزنون ۲؎۔
خبردار! اولیاء اللہ پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (ت)
(۲؎القرآن الکریم ۱۰ /۶۲)
بہرحال اس فلاح کے لئے ضرور پیر ومرشد کی حاجت ہے چاہے قسم اول کی ہو یا دوم کی
اقول اب مرشد بھی دوقسم ہے :
اول عام کہ کلام اللہ وکلام الرسول ائمہ شریعت وطریقت وکلام علمائے دین اہل رشد و ہدایت ہے اسی سلسلہ صحیحہ پر کہ عوام کا ہادی کلام علماء، علماء کا رہنما کلام ائمہ ائمہ کا مرشد کلام رسول ، رسول کا پیشوا کلام اللہ جل وعلا وصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ، فلاح ظاہر ہو یا فلاح باطن اسے اس مرشد سے چارہ نہیں جو اس سے ہے بلا شبہ کافر ہے یا گمراہ اور اس کی عبادت بربادو تباہ۔
دوم خاص کہ بندہ کسی عالم سنی صحیح العقیدہ صحیح الاعمال جامع شرائط بیعت کے ہاتھ میں ہاتھ دے، یہ مرشد خاص جسے پیر وشیخ کہتے ہیں۔ پھر دو قسم ہے:
اول شیخ اتصال (بنائے فوقانی) یعنی جس کے ہاتھ پر بیعت کرنے سے انسان کا سلسلہ حضور پر نور سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم تک متصل ہوجائے اس کےلئے چار شرطیں ہیں:
(۱) شیخ کا سلسلہ باتصال صحیح حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم تک پہنچا ہو، بیچ میں منقطع نہ ہو کہ منقطع کے ذریعہ سے اتصال ناممکن۔ بعض لوگ بلا بیعت محض بزعم وراثت اپنے باپ دادا کے سجادے پر بیٹھ جاتے ہیں یا بیعت تو کی تھی مگر خلافت نہ ملی تھی بلا اذن مرید کرنا شروع کردیتے ہیں یا سلسلہ ہی وہ ہو کہ قطع کردیا گیا اس میں فیض نہ رکھا گیا لوگ براہ ہوس اس میں اذن وخلافت دیتے چلے آتے ہیں۔ یاسلسلہ فی نفسہٖ اچھا تھا مگر بیچ میں کوئی ایسا شخص واقع ہواجو بوجہ انتفائے بعض شرائط قابل بیعت نہ تھا اس سے جو شاخ چلی وہ بیچ میں سے منقطع ہے ان صورتوں میں اس بیعت سے ہر گز اتصال حاصل نہ ہوگا، بیل سے دودھ یا بانجھ سے بچہ مانگے کی مت جداہے۔
(۲) شیخ سنی العقیدہ ہو بدمذہب گمراہ کا سلسلہ شیطان تک پہنچے گا نہ کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم تک آج کل بہت کھلے ہوئے بددینوں بلکہ بے دینو حتی کہ وہابیہ نے کہ سرے سے منکر ودشمن اولیاء ہیں مکاری کے لئے پیری مریدی کا جال پھیلا رکھا ہے۔ ہو شیار خبردار احتیاط احتیاط ؎
اے بسا ابلیس آدم روئے ہست پس بہر دستے نباید داددست
(بہت سے ابلیس انسانی شکلوں میں ہیں پس ہر ہاتھ میں ہاتھ نہیں دینا چاہئے ۔ت )
(۳) عالم ہو اقول علم فقہ اسی کی اپنی ضرورت کے قابل کافی اور لازم کہ عقائد اہلسنت سے پورا واقف کفر واسلام وضلالت وہدایت کے فرق کا خوب عارف ہو ورنہ آج بد مذہب نہیں کل ہوجائے گا ع
فمن لم یعرف الشرفیوما یقع فیہ
( جو شر سے آگاہ نہیں آگاہ نہیں ایک دن اس میں پڑجائیگا۔ ت)
صدہا کلمات وحرکات ہیں جن سے کفر ولازم آتاہے اور جاہل براہ جہالت ان میں پڑ جاتے ہیں، اول تو خبر ہی نہیں ہوتی کہ ان کے قول یافعل سے کفرسرزد ہوا اور بے اطلاع تو بہ ناممکن تو مبتلا کے مبتلا ہی رہے اور اگر کوئی خبر دے تو ایک سلیم الطبع جاہل ڈر بھی جائے تو یہ بھی کرلےمگر وہ جو سجادہ مشیخت پر ہادی ومرشد بنے بیٹھے ہیں ان کی عظمت کہ خود ان کے قلوب میں ہے کب قبول کرنے دے۔
واذا قیل لہ اتق اﷲ اخذتہ العزۃ بالاثم ۱؎۔
جب اس سے کہا جائے اللہ تعالٰی سے ڈر تو اسے اور ضد چڑھتی ہے گناہ کی۔ (ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۲ /۲۰۶)
اور اگر ایسے ہی حق پرست ہوئے اور مانا تو کتنا، اتنا کہ آپ تو بہ کرلیں گے۔ قول وفعل کفر سے جو بیعت فسخ ہوگئی اب کسی کے ہاتھ پر بیعت کریں اور شجرہ اس جدید شیخ کے نام سے دین اگر چہ شیخ اول ہی کا خلیفہ ہو یہ ان کا نفس کیونکر گورا کرے، نہ اسی پر راضی ہوں گے کہ آج سے سلسلہ بند کریں مرید کرنا چھوڑیں لاجرم وہی سلسلہ کہ ٹوٹ چکا جاری رکھیں گے لہذا علم عقائد ہونا لازم ہے۔
(۴) فاسق معلن نہ ہو، اقول اس شرط پر حصول اتصال کا توقف نہیں کہ مجرد وفسق باعث فسخ نہیں مگرپیرکی تعظیم لازم ہے اور فاسق کی توہین واجب ہے۔ دونوں کا اجتماع باطل، تبیین الحقائق امام زیلعی وغیرہ میں دربارہ فاسق ہے :
فی تقدیمۃ للامامۃ تعظیمۃ قد وجب علیہم اھانتہ شرعا ۱؎۔
امامت کے لئے اسے آگے کرنے میں اس کی تعظیم ہے اور شرع میںتو اس کی توہین واجب ہے۔ (ت)
(۱؎ تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق باب الامامۃ الخ المطبعۃ الکبری بولاق مصر ۱ /۱۳۴)
دوم شیخ ایصال کہ شرائط مذکورہ کے ساتھ مفاسد نفس انفس کے فسادات ومکائد شیطان (شیطان کی مکاریاں) ومصائر ہوا (خواہشات کا شکار) سے آگاہ ہو، دوسرے کی تربیت جانتا اور اپنے متوسل پر شفقت تامہ رکھتا ہو کہ اس کے عیوب پر اسے مطلع کرے ان کا علاج بتائے جو مشکلات اس راہ میں پیش آئیں حل فرمائے نہ محض سالک ہو نہ نرا مجذوب، عوارف شریف میں فرمایا : یہ دونوں قابل پیری نہیں۔
اقول: اس لئے کہ اول خود ہنوز راہ میں ہے اور دوسرا طریق تربیت سے غافل، بلکہ مجذوب سالک ہو یا سالک مجذوب، اور اول اولٰی ہے۔
اقول : اس لئے کہ وہ مراد ہے اور یہ مرید، پھر بیعت بھی دو قسم ہے :
اول بیعت برکت کہ صرف تبرک کے لئے داخل سلسلہ ہوجانا آج کل عام بیعتیں یہی ہیں، وہ بھی نیک نیتوں کی، ورنہ بہتوں کی بیعت دنیاوی اغراض فاسدہ کے لئے ہوتی ہے۔ وہ خارج ازبحث ہے۔ اس بیعت کے لئے شیخ اتصال کہ شرائط اربع کا جامع ہو بس ہے۔
اقول: بیکار یہ بھی نہیں، مفید اور بہت مفید، اور دنیاواخرت میں بکارآمد ہے۔ محبوبان خدا کے غلاموں کے دفتر میں نام لکھا جانا ان سے سلسلہ متصل ہوجانا فی نفسہٖ سعادت ہے۔
اولا ان کے خاص غلاموں سا لکان راہ سے اس امر میں مشابہت اور رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من تشبہ بقوم فھو منہم ۲؎۔
جو جس قوم سے مشابہت پیدا کرلے وہ انہی میں سے ہے۔
(۲ سنن ابی داؤد کتا ب اللباس باب فی لبسل الشہرۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۰۳)
(مسند احمد بن حنبل المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۵۰و ۹۲)
سیدناشیخ الشیوخ شہاب الحق والدین سہرودی رضی اللہ تعالٰی عنہ عوارف المعارف شریف میں فرماتے ہیں :
واضح ہو کہ خرقے دو ہیں : خرقہ ارادات و خرقہ تبرک، مشائخ کا مریدوں سے اصل مطالعہ خرقہ ارادت ہے اور خرقہ تبرک کو اس سے مشابہت ہے تو حقیقی مرید کے لئے خرقہ ارادت ہے اور مشابہت چاہنے والوں کے لئے خرقہ تبرک اور جو کسی قوم سے مشابہت چاہے وہ انہی میں ہے۔ (ت)