دوم کامل رستگاری کہ بے سبقت عذاب دخول جنت ہوا س کے د وپہلو ہیں :
اول وقوع یہ مذہب اہلسنت میں محض مشیت الٰہی پر ہے جسے چاہے ایسی فلاح عطا فرمائے اگر چہ لاکھوں کبائر کا مرتکب ہواور چاہے تو ایک (عہ)گناہ صغیرہ پر گرفت کرلے اگر چہ لاکھوں حسنات رکھتاہو۔
عہ : اگر چہ وہ ایسا کرے گا نہیں۔
لقولہ تعالٰی ویجزی الذین اٰمنوا الحسنیo الذین یجتنبون کبائر الاثم والفواحش الااللمم ان ربک واسع المغفرۃ ۳؎ وقولہ تعالٰی ان تجتنبوا کبائر ماتنھون عنہ تکفر عنکم سیأتکم و ندخلکم مدخلا کریما ۴؎o قولہ تعالٰی ان الحسنت یذھبن السیّاٰت ذٰلک ذکری للذکرین ۵؎o ۱۲ منہ غفرلہ،
ارشاری تعالٰی ہے اور نیکی کرنے والوں کو نہایت اچھا صلہ عطا فرمائے وہ جو گناہوں اور بے حیائیوں سے بچنے ہیں مگر اتنا کہ گناہ کے پاس گئے اور رک گئے، بیشک تمھارے رب کی مغفرت وسیع ہے۔ اور اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے اگر بچتے رہو کبیرہ گناہوں سے جن کی تمھیں ممانعت ہے تو تمھارے اور گناہ ہم بخش دیں گے اور تمھیں عزت کی جگہ داخل کریں گے، اور اللہ تعالٰی کا فرمان ہے بے شک نیکیاں برائیوں کی مٹادیتی ہیں یہ نصیحت ہے نصیحت ماننے والوں کو۔ (ت)
(۳؎ القرآن الکریم ۵۳ /۳۱ و ۳۲)
(۴؎القرآن الکریم ۴ /۳۱)
(۵؎القرآن الکریم ۱۱/ ۱۱۴)
یہ عدل ہے اور وہ فضل :
یغفرلمن یشاء ویعذب من یشاء ۱؎۔
جسے چاہے بخشے اور جسے چاہے عذاب کرے۔ (ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۲ /۲۸۴)
حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی شفاعت سے بے گنتی اہل کبائر ایسی فلاح پائیں گے نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
شفاعتی لاھل الکبائر من امتی ۔ رواہ احمد ۲؎ وابوداؤد والترمذی والنسائی وابن حبان والحاکم والبیہقی وصححہ عن انس بن مالک والترمذی وابن ماجۃ وابن حبان والحاکم عن جابر بن عبداﷲ والطبرانی فی الکبیر عن ابن عباس والخطیب عن کعب بن عجرۃ وعن عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین۔
میری شفاعت میری امت سے کبیرہ گناہوں والوں کے لئے ہے (یہ حدیث احمد وابوداؤد وترمذی ونسائی وبن حبان وحاکم وبیہقی نے انس بن مالک سے روایت کی، اور بیہقی نے کہا یہ حدیث صحیح ہے اور ترمذی وابن ماجہ وابن حبان و حاکم نے جابر بن عبداللہ سے روایت کی، اور طبرانی نے معجم الکبیر میں عبداللہ بن عباس سے اور خطیب نے کعب بن عجرہ سے اور عبداللہ بن عمر سے، رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین۔ ت)
(۲؎ سنن ابی داؤد کتا ب السنۃ فی الشفاعیۃ ۲/ ۲۹۶ و جامع الترمذی ابواب صفۃ القیمۃ ۲ /۶۶)
(سنن ابن ماجہ ابوباب الزہد باب ذکر الشفاعۃ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۳۲۹)
(مسند احمد بن حنبل عن انس دارالکتب الاسلامی بیروت ۳ /۲۱۳)
(شعب ایمان حدیث ۳۱۰، ۳۱۱۱ درالکتب العلمیہ بیروت ۱ /۲۸۷)
(السنن الکبرٰی کتاب الجنایات دارصادر بیروت ۸ /۱۷۰)
(موارد الظمان حدیث ۲۵۹۶ ص۶۴۵ و المعجم الکبیر حدیث ۱۱۴۵۴ ۱۱/ ۱۸۹)
اورفرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم :
خیرت بین الشفاعۃ وبین ان یدخل شطر امتی الجنۃ فاخترت الشفاعۃ لانہا اعم واکفی اترونھا للمؤمنین المتقین لاولکنا للمذنبین المتلوثین الخطائین رواہ الحمد۱؎ بسند صحیح والطبرانی فی الکبیر باسناد جید عن ابن عمر وابن ماجۃ عن ابی موسٰی الاشعری رضی اﷲ تعالٰی عنہم۔
مجھ سے میرے رب نے فرمایا تم کو اختیارہے چاہے شفاعت لے لو چاہے یہ کہ تمھاری آدھی امت بلا عذاب داخل جنت ہو۔ میں نے شفاعت اختیار فرمائی کہ وہ زیادہ عام اور زیادہ کافی ہے کیا اسے ستھرے مومنوں کےلئے سمجھتے ہو۔ نہیں بلکہ وہ گناہگاں آلودہ بزرگاروں سخت خطا کاروں کے لئے ہے۔ (یہ حدیث احمد نے بسند صحیح اورطبرانی نے معجم کبیر میں بہ سند جید عبداللہ بن عمر سے روایت کی، اور ابن ماجہ نے ابن موسٰی اشعری سے رضی اللہ تعالٰی عنہم ۔ ت)
(۱؎ سنن ابن ماجہ ابواب الزہد با ب ذکر الشفاعۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳۲۹)
(مسند احمد بن حنبل عبداللہ بن عمر المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۷۵)
بلکہ وہ بھی ہونگے جن کے گناہ نیکیوں سے بدل دئے جائیں گے۔
قال اللہ تعالٰی : فاولئک یبدل اﷲ سیأاتھم حسنت وکان اﷲ غفورا رحیما ۲؎o
اللہ ان کے گناہوں کونیکیوں سے بدل دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
(۲؎ القرآن الکریم ۲۵ /۷۰)
حدیث میں ہے ایک شخص روز قیامت حاضر لایا جائے گا، ار شاد ہوگا ا س کے چھوٹے چھوٹے گناہ اس پر پیش کرو اور بڑے بڑے ظاہرنہ کرو۔ اس سے کہا جائے گا تو نے فلاں فلاں دن یہ یہ کام کئے وہ مقرہوگا اور اپنے بڑے گناہوں سے ڈررہا ہوگا کہ ارشاد ہوگا اعطوہ مکان کل سیئۃ حسنۃ اسے ہر گناہ کی جگہ ایک نیکی دو۔ اب کہہ اٹھے گا کہ الٰہی! میرے اور بہت سے گناہ ہیں وہ تو سننے میں آئے ہی نہیں، یہ فرما کر حضور انور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اتنا ہنسے کہ آس پاس کے دندان مبارک ظاہر ہوئے
رواہ الترمذی ۱ عن ابن ذر رضی اﷲ تعالٰی عنہ
(ترمذی نے ابوذر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے اسے روایت کیا۔ ت) بالجملہ وقوع کے لئے سوا اسلام اور اللہ ورسول کی رحمت کے اور کوئی شرط نہیں جل وعلاوصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم۔
(۱؎ جامع الترمذی ابواب صفۃ جہنم باب ماجاء ان للنار نفیس الخ امین کمپنی دہلی ۲ /۸۳)
دوم امیدیعنی انسان کے اعمال، افعال، اقول ،احوال ایسے ہوناکہ اگر انہی پر خاتمہ ہو تو کرم الٰہی سے امید واثق ہوکہ بلا عذاب داخل جنت کیا جائے۔ یہی وہ فلاح سے جس کی تلاش کاحکم ہے کہ
سابقوا لی مغفرۃ من ربکم وجنۃ عرضہا کعرض السماء والارض ۲؎۔
جلدی کرو اپنے رب کی مغفرت اور اس کی جنت کی طرف جس کی چوڑان آسمان وزمین کے پھیلاؤ کی مانندہے۔ (ت)
(۲ ؎ القرآن الکریم ۵۷ /۲۱)
اس لئے کہ کسب انسانی اسی سے متعلق یہ پھر دو قسم :
اول فلاح ظاہر، حاشا اس سے وہ مرادنہیں کہ نرے ظاہر دارو کو مطلوب جن کی نظر صرف اعمال جوارح پر مقصور ظاہر احکام شرع سے آراستہ اور معاصی سے منزہ کرلیا اور متقی بن گئے اگر چہ باطل ریا
وعجب وحسد وکینہ وحب مدح وحب جاہ ومحبت دنیا وطلب شہرت وتعظیم امراء وتحقیر مساکین واتباع شہوات ومداہنت۱؎ وکفران ۲؎نعم وحرص، وبخل وطول ۳؎امل وسوئے ظن وعناد حق اوراصرار باطل و مکر وغدر وخیانت وغفلت وقسوت۴؎ وطمع وتملق ۵؎واعتماد خلق ونسیان خالق۶؎ ونسیان موت وجرأت علی اللہ ونفاق واتباع شیطان وبندگی نفس ورغبت بطالت۷؎ وکراہت عمل وقلت خشیت وجزع ۹؎و عدم۱۰؎ خشوع وغضب۱۱؎ لنفس وتساہل۱۲؎ فی اللہ وغیرہا مہلکات۱۳؎
آقات سے گندہ ہورہا ہو جےسے مزبلہ پر زربفت کا خیمہ اوپر زینت اور اندر نجاست پھر کیا یہ باطنی خباثتیں ظاہری صلاح پر قائم رہنے دیں گی،
۱؎ دین میں سستی ۲؎ نعمتوں کی ناشکری ۳؎ لمبی آرزو ۴؎ دل کی سختی ۵؎ چاپلوسی
۶؎ خدا کو بھول جانا ۷؎ باطل کی رغبت ۸؎ ڈر کی کمی ۹؎ بے صبری ۱۰؎ خشوع کا نہ ہونا
۱۱؎ نفس کے لئے ناراض ہونا ۱۲؎ اللہ کے بارے میں سستی کرنا۔ ۱۳؎ ہلاک کرنےوالی آفتیں(ت)
حاشا معاملہ پڑنے دیجئے کون کسی ناگفتنی ہے کہ نہ کہیں گے کون سی ناکردنی ہے کہ اٹھا رکہیں گے اورپھر بدستور صالح عوام کی کیا گنتی آج کل بہت علمائے ظاہر اگر متقی ہیں بھی تو اسی قسم کے
الا من شاء اﷲوقلیل ماھم
(اگر جو اللہ تعالٰی چاہے اور وہ بہت تھوڑے ہیں۔ ت) میں اسے زیادہ مشرح کرتا مگر کیا فائدہ کہ حق تلخ ہوتاہے اسسے نفع پانا اور اپنی اصلاح کی طرف آنا درکنار بتانے والے کے الٹے دشمن ہوجاتے ہیں مگر اتنا ضرور کہوں گا کہ ہزار اوف اس نام علم پر کہ آجکل بہت بے دین مرتدین اللہ ورسول کی جناب میں کیسی کیسی سخت گالیاں بکتے لکھتے اور چھاپتے ہیں ان سے کان پر جوں نہ رینگے، کہیں بے پروائی کہیں آرام خواہی، کہیں نیچری تہذیب کہیں طمع کی تخریب، کہیں ملاقات کا پاس کہیں اس کا ہراس (ڈر)کہ ان مرتدوں کا رد کریں، مسلمانوں کو ان کا کفر بتائیں تو یہ سر ہوجائیں گے اخباروں اشتہاروں میں ہماری مذمتیں گائیں گے، ہزاروں جھوٹے بہتان لگائیں گے کون اپنی عافیت تنگ کرے، ان ناپاک وجوہ کے باعث وہاں خموشی اور خود ان سے اعمال میں خطا بلکہ عقائد میں غلطی ہو ا سے کوئی بتائے تو نہ اب وہ تہذیب نہ آرام طلبی، نہ بے پروائی، نہ سلامت روی ،بلکہ جامے سے باہر ہو کر جس طرح بنے اس کی عداوت میں گرمجوشی حق کا جواب نہ بن آئے تو عنادومکابرہ سے کام لینا حتی کہ کتابوں کی عبارتیں گھڑلیں، جھوٹے حوالے دل سے تراش لیں کہ کہیں اپنی ہی بات بالا رہے۔ عوام کے سامنے شیخی کرکری نہ ہو یا وہ جو وعظ وغیرہ کے زریعے سے مل رہتاہے اس میں کھنڈت نہ پڑے ۔ کیا اس کانام تقوٰی ہے حاش للہ بلکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ ولسم کے بدگویوں کے مقابل وہ خواب خرگوش اور اپنے نفس کی بے جا حمایت میں یہ جوش وخروش، تو یہ کہتاہے کہ اللہ اور رسول کی عظمت سے اپنے نفس کی عظمت دل میں سو اہے۔ اب اسے کیا کہئیے سوااس کی طرف
بیشک ہم اللہ ہی کے لئے میں اور ہم اس کی طرف لوٹنے والے ہمیں اور نہیں طاقت اور نہ قوت مگر ساتھ اللہ بلند ترعظمت والے کے۔ (ت)
بالجملہ اس صورت کہ فلاح سے علاقہ نہیں صاف ہلاک ہے بلکہ فلاح ظاہر یہ کہ دل وبدن دونوں پر جتنے احکام الہیہ میں سب بجالا ئے، نہ کسی کبیرہ کاارتکاب کرے، نہ کسی صغیرہ پر مصر رہے نفس کے خصائل ذمیمہ اگر دفع نہ ہو تو معطل رہیں ، ان پر کاربند نہ ہو، مثلا دل میں بخل ہے تونفس پر جبر کرکے ہاتھ کشادہ رکھے، حسد سے تو محسود کی برائی نا چاہئے۔ علی ھذا القیاس کہ یہ جہاد اکبر ہے اور اس کے بعد مواخذہ نہیں بلکہ اجر عظیم ہے۔